” اپنی ذات سے عشق سچا؟“

” اپنی ذات سے عشق سچا؟“
” اپنی ذات سے عشق سچا؟“

  

گذشتہ سے پیوستہ۔۔

اِس تحریر کو پھر گذشتہ کالم کی دُم ہی کہدوں تو کیا حرج ہے! راقم یہ اعتراف بھی کرتا ہے کہ نہیں جانتا، ”کالم کی دُم“ کی فکاہیہ ترکیب وَضح بھی کس جینئس نے کی۔ لیکن، پہلی بار ، لفظوں کی یہ ترکیب ایک معاصر معروف کالم نگار کے ہاں دیکھی۔ اچھی لگی۔۔۔ دراَصل، وہ اپنا مضمون تمام کر چکے تھے۔ لیکن، ذرا ہٹ کے، اُنہیں اُسی گھڑی کچھ اور بھی کہنا تھا۔ پَس، ”کالم کی دُم“ یوں سامنے آئی۔۔۔ اَلمختصر، ایک نئی بات ۔ انتہائی چھوٹی سی، مگر ےکسر نئی بات گویا۔ من جھوم اُٹھا۔ ۔۔

بَس، ”اپنی ذات سے عشق ہے سچا؟؟؟“ مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 

ہاں، ذہن اپنی جگہ،یہ تجزیہ بھی کر چکا تھا کہ ترکیب منطقی زاویہ سے ضعیف ہے۔ پھر، کسی بھی جسم کی دُم اُسی سے ہوتی ہے، خاص اُسی کے واسطے ہوتی ہے۔ تو ےعنی، آپ نے اپنی بات قلمبند کر دی۔ مگر، قلم کو قلمدان میں رکھتے رکھتے پھر موضوع کے باب میں کمال ایک نکتہ سوجھا۔ اور، قلم کو بند کرتا جاتا ہاتھ تڑپ کے پلٹا، اور آپ نے وہ نکتہ بھی وہیں لکھ ڈالا۔ اور، پہلے لکھ ڈالا کہ ”بات کی پونچھ“ ۔ تو، بات بن بھی جاتی ہے۔۔۔ مگر، ہاتھی پہ چوہے کی پونچھ یا چوہے پر ہاتھی کی دُم چسپاں کر چھوڑنا ، یہ کمال فنکاری پھر کہاں ہے! بڑی بات کے بعد چھوٹا نکتہ یا وائس وَرسا، ہر دو صورت میں مگر صرف انتہائی ذہین قارئین ہی پھر ہر دو بات کا مکمل لطف اٹھا سکتے ہیں۔ باقی میرے جیسے تو گڑبڑا بھی سکتے ہیں۔۔۔ دو مختلف موضوعات پر بیک وقت غورکرنا اور کرتے جانا۔ یہ،انسانی ذہن کے واسطے آسان بھی کہاں ہے! تو کوئی ایک نکتہ پھر زیادہ، اور جلدی بھول جاتا ہے۔ لیکن، تصویر میں دُم اگر اُسی جسم کی بنائی جائے تو بدن کا حسن، اِک ذرا سی شے سے، کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے گویا۔ دیکھنے میں پھر کہاں مور یا گھوڑا یا شیر اور کہاں دُم کٹا مور یا دُم کٹا گھوڑا یا دُم کٹا شیر!

خیر، خالی دُم کی ساخت واَہمیت و اِستعمال وغیرہ پر غور سَرِدَست مُدعا ہی نہیں۔ ابھی تو فقط اِتنا ہی کہنا تھا کہ غیرمعمولی ذہین ایک نوجوان نے راقم کے گذشتہ مضمون میں اُبھرا سوال بغور جانا کہ فقط اپنی ذات سے عشق سچا؟پھر اُنہوں نے راقم کی جانب سے پیش کِیا گیا جواب بھی مکمل دیکھا۔ اَلمختصر، خودپرستی بڑی قربانی کبھی نہیں دیتی، ہمیشہ صرف لیتی ہے۔۔۔ اور، سب سے بڑی قربانی، انسانی جان کی قربانی!!! ہاں مگر، یار لوگ تو اِس جہان میں، اولاد،عقیدہ، محبوب، دھرتی ماں، اِن سب پر قربان ہوسکتے ہیں، ہو جاتے ہیں، اِس وقت بھی، زمین پر کہیں نہ کہیں، ہوتے جاتے ہیں۔ عقیدہ یا وطن کی خاطر، نسل یا محبت کی خاطر۔ مگر، انسان میں تو حتیٰ کہ جان کی قربانی دے جانے کا عَنصر بہرصورت فطری ہے۔ایسے میں کامل خودپرستی کی تُہمت ، بڑی ناانصافی ہے۔ تو، راقم نے اپنے مضمون میں اپنے موقف کے حق میں کچھ باریک اشارے دیے، اور موٹے دلائل بھی کافی پیش کئے۔۔۔

اُنہوں نے سب سطریں دیکھ لیں، بین السطور بھی جھانک لیا۔ اور، اُن کا سَر نفی میں ہِل گیا۔ ”نہیں! سَر اِبنِ صفی ہی کی نگاہ اِس نکتہ پر گہری ہے۔ اِس مقام پر بڑا سچ وہی سامنے رکھ رہے ہیں کہ ہاں،اِک اپنی ذات سے عشق ہے سچا، باقی سب افسانے ہیں۔ (ماں کا وجود بھی، لڑتے مرتے سپاہی کاجذبہ بھی، اِجتماع کی خاطر مر مٹنے والے جینئس کا کردار بھی۔) زیادہ تر، سب افسانے ہی تو ہیں۔ ۔۔اور پھر

مضمون میں پیش کردہ باقی سب دلائل وبراہین بھی کہانیاں گویا۔ اچھی کہانیاں۔ مگر کہانیاں ہی، بس۔ ہاں، کائنات میں انسان کے حوالہ سے سب سے بڑا سچ یہی کہ خودپرست ہے۔ “ تو اُنہوں نے کچھ ایسا سوچا، اور بذریعہ واٹس اَیپ پھر مختصراً لکھ بھیجا: ”کم ہیں ۔ مگر، بہت ہی کم! اِتنے کم کہ جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ بس ”اپنی ذات سے عشق ہے سچا“۔ اور پھر اِس کو جھٹلانے کی غرض سے جتنی بھی مثالیں دی جائیں، سب افسانے!“ تحریر کے آخر میں انسان کی روتی شکل کی سمائیلی موجود تھی۔۔ میں نے ایک بے حد حَساس انسان کا وہ کرب محسوس کِیا، جو انسانی فطرت سے مایوس ہو جانے پر فرد کو کہیں گھیر لیتا ہے۔ پھر تو شاید اِسی کرب کو کم کرنے کی خاطر بھی، تُرنت ہی اُن کا اگلا پیغام آیا: ”کم ہیں۔مگر، ہیں تو(ذات سے کہیں بڑھ کے سوچنے اور کر گذرنے والے ، وہ)!!!“ ساتھ میں انسانی مسکراتی صورت کی سمائیلی تھی۔۔۔ اب میں بھی مسکرادیا۔

پھر میں نے جواب لکھ بھیجا۔ مضمون کی اور بھی وضاحت پیش کر دی۔۔۔ اور، پہلے تو میں نے ایک زاویہ سے اُن سے مکمل اِتفاق ہی کِیا۔ ”بے شک!اَفراد کی حد تک تو کچھ نہ پوچھئے گویا!پھر، بطور جاندار مگر انسان کے خمیر میں کاز کی خاطر قربان ہو جانے کا عَنصر تو ہے، اور دائمی ہے۔ تو پھر، جب تک انسان ہے، یہ عَنصر بھی رہے گا۔ اور پھر یہ بھی تو سچ ہے کہ ہر ایک دو ہزار سال میں ، ایک نہ ایک انسان ، ایسا آ تو جاتا ہے کہ جس میں یہ اِرتقا اَنگیز عَنصر اِتنا نمایاں اور فروزاں ہوتا ہے کہ مانئے وہ اکیلا ہی پھر اَن گنت لوگوں کے دِلوں میں پڑے اَلاﺅ پر چنگاری بن کر اُترتا ہے۔ اور، لوگوں میں اِتنی حرارت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بھڑک بھڑک اُٹھتے ہیں، پھر (تبدیلی اور بہتری کے لئے) قربانی دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہاں، یہ واقعہ تو انسانی تاریخ میں بارہا رُونما ہو بھی چکا ہے۔۔۔ وہ انسان بھی آ تو چکے ہیں کہ جنہوں نے ،اپنے اپنے عہد میں، جیسے پورے عالم کو جگا کے رکھ دیا۔وہ، جنہوں نے لوگوں کو کچھ بڑا مقصدِ حیات دیا۔ اور جن کو پھر لوگ کبھی بھولے بھی نہیں۔

اور، پھر معمولی سطحوں پر تو ایسے مظاہرے ہم دُنیا بھر میں عام دیکھتے ہیں کہ نسلوں قوموں میں اور عقائدونظریات میں ایسے آدمی اُبھرتے رہتے ہیں کہ جو خاص اپنے قبیلہ یا گروہ وغیرہ کو، وقتی طور پہ سہی، گرما کے تو رکھ دیتے ہیں۔۔۔ ایسے مفکرین وقائدین کی تاثیر وشہرت خواہ سینما یا اسپورٹس کے سُپر اسٹارز جیسی عارضی ہو، محض ایک آدھ صدی میں تمام ہی دُھندلی پڑ جانے والی تصویر گویا۔ اُن کی موجودگی یہ مگر ثابت کر دیتی ہے کہ لوگ ہمیشہ کچھ (بہتر اور بڑا) کرنا تو چاہتے ہیں، صرف یہ کہ اُنہیں خود سے بہتر اور بڑے انسان کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔۔۔ خیر، یہ دوپایہ جاندار، انسان واقعی کہیں گہرا ہے!!!

ہاں، اَفراد کا قصہ بھلے جانے دیجئے، کہ ہر فرد خود میں پوشیدہ اعلیٰ ترین جذبات سے خود کام لینے کی اَہلیت ہی کم اَزکم رکھتا ہے۔ پھر، عامی اپنی آتشِ تخلیق سے حقیقی اِستفادہ کرنے کی خاطر خاص انسان کا محتاج تو رہتا ہے۔ ۔۔ بڑا انسان مگر نسلِ انسانی کی کیسی ہمہ جہت ضرورت ہی، اَلمختصر! معاملاتِ حیاتِ انسانی بے پناہ دلچسپ اور بے حد عمیق تو ہیں۔۔۔ ہاں، بے شک!!!“ اب اُن کی جانب سے جواب میں تھمز اَپ کا نشان آیا، تین بار۔ اور پھر اِس نکتہ پر اُن کا حتمی جواب آیا: ”بے شک!“

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ، لکھاری سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔(benaamzaurez@gmail.com)

مزید : بلاگ