قرض حسن، اخوت اور سود

قرض حسن، اخوت اور سود
قرض حسن، اخوت اور سود
کیپشن: ijaz hassan

  

اس کی آنکھوں سے آنسوو¿ں کے موتی ٹپک رہے تھے۔ جذبات بے قابو تھے۔ غم کی لہر نے اس کے چہرے کوڈھانپ رکھا تھا۔ مناسب شکل و صورت کا نوجوان ہکلا کرگویا ہوا: "سر! میرے والد فوت ہو گئے ہیں۔ میں گھر میں بڑا ہوں، مجھے گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لئے کچھ رقم کی ضرورت ہے"۔ ادھیڑ عمر شخص جوقریبی گاو¿ں کی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتا ہے، اس نے قرض حسن کی رقم سے کریانہ کی دکان کا آغاز کیا۔ چند ماہ میں رقم لوٹا دی۔ اب گزر بسر اچھی ہو رہی ہے۔ بیوہ خاتون نے مکان کی تعمیر کا آغاز کیا۔ تنکے تنکے سے گھونسلہ بنایا۔ رقم کم پڑ گئی۔ وہ بھی فیضیاب ہوئی۔ "میں سود پر رقم لے کر پھنس چکا ہوں، میں اس سودی چکر سے نکلنا چاہتا ہوں ،ہزاروں روپے ادا کر دئیے ،لیکن سود در سود ادائیگی ختم ہونے میں نہیں آتی “۔ ایک سکول ٹیچر کی استدعا تھی: "کٹائی کا موسم آ چکا مجھے سال بھر کی گندم خرید کرنی ہے، پندرہ ہزار روپے درکارہیں"۔ نجی کمپنی کے ملازم کی گزارش تھی۔ سفید پوش بھی فائدہ اٹھا لیتے ہیں ، اکثر غریب لوگ آتے ہیں۔ بیس سے تیس ہزار روپے کے لگ بھگ رقم بطور قرض حسن دی جاتی ہے، جو اکثر 6 سے 12 ماہ میں وصول ہو جاتی ہے۔ شخصی ضمانت یا چیک کے عوض رقم جاری کر دی جاتی ہے۔ ایک سادہ کاغذ پر دستاویزکے مضمون کا پرنٹ لے کر دستخط لئے جاتے ہیں اورشناختی کارڈ کی کاپی وصول کر لی جاتی ہے۔ یہ ایک صاحب دل اور صاحب ثروت کی جاری کردہ خیرہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ شہر میں اک ننھا سا چراغ روشن ہے۔ بیسوں ضرورت مند استفادہ کر رہے ہیں۔

اخوت کے نام سے، ایک بڑا چراغ ڈاکٹر امجد ثاقب نے بھی جلایا ہے۔ اخوت عربی زبان کا لفظ ہے۔ "اخ" عربی زبان میں "بھائی" کو کہتے ہیں۔ "اخوت" گویا "بھائی چارے" کا مترادف ہے۔ مواخات مدینہ اس کی بنیاد ٹھہرتی ہے۔ اخوت امجد ثاقب کی محبت اور لگن کا ثمر ہے۔ امجد ثاقب نے ہاورڈ یونیورسٹی فورم کی کانفرنس میں خطاب کیا، لکھتے ہیں: "جو سب سے پہلا سوال پوچھا گیا وہ اخوت کی Sustainability کے بارے میں تھا۔ کیا ادارہ لمبے عرصے کے لئے قائم رہے گا۔ کل اگر عطیات نہ ملے تو کیا ہوگا؟ میرا یہ جواب تھا کہ اخوت کا وجود دو بنیادی مفروضوں Assumptions پر تعمیرہے۔ پہلے مفروضے کے مطابق ہر معاشرے میں دینے والے موجود ہیں۔ دوسرا مفروضہ یہ کہ ' لینے والے' مدد لینا چاہتے ہیں بھیک نہیں۔ دوسری دلیل یہ کہ جو ادارہ چند ہزار روپوں سے شروع ہوکر 25 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔ اس کی Sustainability کے لئے اور کیا ثبوت درکار ہے۔"

"اخوت کا سفر" میں ڈاکٹر امجد ثاقب ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں: "ایک بار گورنر ہاو¿س،لاہور کی ایک تقریب میں گورنر خالد مقبول نے جناب شوکت عزیز سے اخوت کا تعارف کروایا۔ وہ اس وقت وزیر اعظم تھے 'کیا قرضے بلاسود بھی ہوتے ہیں' انہوں نے حیرت سے پوچھا،'اگر یہ بلاسود ہیں تو آپ اس کا م میں خود کیا کماتے ہیں؟ مجھے لگا وہ ابھی تک کسی غیر ملکی بنک کے ملازم ہیں، جنہیں یہ بھی علم نہیں کہ قرض تو ہوتا ہی وہ ہے جس پر سود نہ لیا جائے۔ جس پر سود لیا جائے، وہ قرض نہیں کاروبارہوتا ہے۔" میری رائے میں یہ کاروباربھی نہیں بلکہ "کلنک" ہے، کیونکہ حدود شریعت سے تجاوزہے۔

شرح سود کے لئے کوئی ضابطہ نہیں۔ ضرورت ہی ضابطہ ہے۔ مجبوری کا مول لگایا جاتا ہے۔ یہ ماہانہ دس فیصد بھی ہو سکتی ہے، پندرہ بھی اور اس سے زیادہ بھی۔ سودخور کا شکنجہ اتنا مضبوط ہواہے کہ مقروض سود کی ادائیگی سے انکار تو دور کی بات قسط میں تاخیر کے بارے میں بھی سوچ نہیں سکتا۔ اگر میں اور آپ "قرض حسن" کی عنایت نہ کریں گے تو سود خور" قرض ہوس" کی روایت قائم کرے گا۔ آپ بھی زندگی میں کسی گرے ہوئے کو سہارا دے دیجئے۔ کسی بوسیدہ دیوار کو کھڑا کر دیجئے۔ کرچی کرچی امیدوں کو جوڑ دیجئے۔ ایک ننھا سا چراغ جلائیے۔ اس چراغ کی روشنی سے ایک گھر روشن ہوگا۔ چند چہرے روشن ہوں گے اور آپ کا دل بھی روشن ہوگا۔ سود کے خلاف جنگ میں "بلا سود قرض حسن" کا صدقہ بہترین ہتھیار ہے۔ یاد رہے قرض حسن سے مراد ایسا قرض ہے جس سے رب کی رضا مطلوب ہو، مال حلال و پاکیزہ ہو اورقرض کے عوض مفاد مقصد نہ ہو۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ملک بھر میں آپ بنکوں سے سود پر قرض لے سکتے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب میں "دی پنجاب پروہیبشن آف پرائیویٹ منی لینڈنگ ایکٹ 2007" نافذ ہے اور نجی طور پر سود خوری خلاف قانون ہے۔ تیسری جانب مریم نواز شریف پرائم منسٹرز یوتھ بزنس لون ،سود کے ساتھ تقسیم کرتی رہی ھیں۔ چوتھی جانب وفاقی شرعی عدالت اور پاکستان سپریم کورٹ سود کے خلاف فیصلہ دے چکیں۔ سوہنے رب! ہم منتظر ہیں کہ علماء، اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت نئے سرے سے حکومت اور بینکرز کو "سود" کی تعریف سمجھائیں۔ چالیس سال کی سابقہ کوشش تسلی بخش نہیں۔ اگروہ اس جدید تحقیق سے اتفاق کریں گے توہم بھی آپ کے قانون پرراضی ہوں گے، بصورت دیگر"سوری"۔ "بائی دی وے"، ہم سنگساری، سزائے موت اور زنا وغیرہ کو بھی "ری ڈیفائن" کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مستقبل میں ہم صلوٰة(نماز)، زکوٰة اورصوم (روزہ) کی اصطلاحات کو بھی اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہیں گے۔ "وی ہوپ یوڈونٹ مائنڈ“۔

مزید :

کالم -