قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(1)

قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(1)
قاضی حسین احمد کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کے چند دل نواز اور تابناک پہلو(1)

  



نگاہ بلند ، سخن دلنواز ، جان پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے

6جنوری کی صبح،بلکہ صبح سے بھی کچھ پہلے مجھے کویت کی اسلامی تحریک کے ایک رہنما کا تعزیتی پیغام موصول ہوا،جس میں سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب قاضی حسین احمد ؒ کی وفات پر تعزیت کی گئی تو مجھے شبہ ہوا کہ ان صاحب کو شاید مغالطہ ہوا ہے اور یہ مغالطے میں سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر غفور احمد ؒ کی وفات کے حوالے سے جو چند دن پہلے ہوئی تھی،محترم قاضی حسین احمد صاحب کے بارے میں تعزیت کر رہے ہیں، حالانکہ وہ تو اچھے بھلے ہیں، اس لئے کہ محترم قاضی تو ابھی دو تین روز پہلے پروفیسر غفور احمد مرحوم کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے کراچی گئے ہوئے تھے۔یوں بھی انہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران میں دل کی بیماری کے باوجود اپنے آپ کو مختلف دینی اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے اس قدر متحرک اور مصروف رکھا ہوا تھا کہ ان کی بیماری کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا ۔ بعد میں دوسرے ذرائع سے قاضی حسین احمد ؒ کی وفات کی تصدیق ہوئی تو دل و دماغ پر ایک بجلی سی گرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ یوں لگا کہ قاضی حسین احمد نے صرف اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ہی یتیم نہیں چھوڑا، بلکہ ہم سب کو یتیم چھوڑ دیا ۔ Êنا للہ و Êنا Êلیہ راجعون

ایک ہمہ جہت شخصیت : قاضی حسین احمد کی شخصیت ایک ہمہ جہت شخصیت تھی اور ہمہ جہت شخصیت سے ہماری مرادیہ ہے کہ ان کی شخصیت کے ہر پہلو اور ہر جہت میں ایک مکمل شخصیت موجود تھی۔ قاضی حسین احمد 22سال تک جماعت اسلامی پاکستان کے امیر رہے۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے جماعت اسلامی کو، جس کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ وہ صرف متوسط طبقے اور پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت ہے ، ایک ایسی تحریک بنا دیا جس کی دعوت عام لوگوں کے لئے بھی اتنی ہی موثر تھی، جتنی پڑھے لکھے طبقہ کے لئے ۔ انہوں نے دوسری جماعتوں، خصوصاً دینی جماعتوں کے ساتھ فاصلے کم کئے اور اتحاد الامة علی الکتاب و السنة کو اپنا شعار بنایا۔ یہاں تک کہ و ہ اتحاد امت کی علامت بن گئے۔ جہاد افغانستان کے سرپرست اور جہاد کشمیر کے پشتیبان کی حیثیت سے انہوں نے جو تاریخی کردار ادا کیا اس کا اعتراف ان کے بدترین مخالفین کو بھی ہے۔ اس کے علاوہ قاضی حسین احمد حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کے بہت بڑے شیدائی اور ان کی فکر کے ترجمان اور علمبردار بھی تھے۔ وہ اپنی دعوتی اور جہادی زندگی میں کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ فکر اقبال ؒ سے بھی بھرپور رہنمائی لیتے تھے۔ مزید برآں وہ عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین میں بھی ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ غرضیکہ قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی پاکستان سے وابستگی کے بعد اپنی نصف صدی کی دعوتی او رجہادی زندگی میں جس طریقے سے مختلف محاذوں پر سرگرم کردار ادا کیا، اسے دیکھتے ہوئے ان پر یہ شعر صادق آتا ہے:

جمع یک در ذات او گویا جہانے بودہ است

یوسف گم گشتہ ¿ ما کاروا نے بودہ است

قاضی حسین احمد کی دعوتی اور جہادی سرگرمیوں کا احاطہ کرنے کے لئے تو ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے، ہم یہاں اس مضمون میں ان کی دعوتی اور جہادی زندگی کے چند پہلو¶ں کی صرف جھلکیاں پیش کرنے پر اکتفا کریں گے۔

قاضی حسین احمد سے تعارف اور تعلق کی ابتداءاور ان کی خصوصی محبت و شفقت:

قاضی حسین احمد سے میرے تعارف اور تعلق کی ابتداء1984ءمیں اس وقت ہوئی جب مَیں ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے اسلامک شریعہ میں ایم فل کرنے کے بعد ادارہ معارف اسلامی کے ریسرچ سکالر کی حیثیت سے منصورہ (لاہور)آیا تھا ۔ یہ ادارہ جماعت اسلامی کے بانی مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒنے اس رقم سے قائم کیاتھا جو انہیں شاہ فیصل شہید کے نام سے قائم کردہ فیصل فا¶نڈیشن کی طرف سے اسلام کی جلیل القدر خدمات انجام دینے کے سلسلے میں پہلے انعام کے طور پر دی گئی تھی اور اس ادارے کا مقصد مختلف اسلامی علوم و فنون پر ریسرچ و تحقیق او رتصنیف و تالیف کا اہتمام کرنا تھا۔ اس ادارے سے اس وقت بڑی تعداد میں ممتاز علماءو مفکرین اور دانشور وابستہ تھے۔ قاضی حسین احمد اس وقت جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے منصورہ میں مقیم تھے۔ انہی دنوں مجھے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے نائب امیر کی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی تھی، تاکہ مَیں تحریک اسلامی کے مرکز منصورہ (لاہور) میں تحریک آزادی ¿ کشمیر کی نمائندگی کر سکوں۔ یوں قاضی حسین احمد سے منصورہ (لاہور) منتقل ہونے کے بعد پہلے دن ہی سے ذاتی ربط و تعلق اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

قاضی حسین احمد نے میرے منصورہ منتقل ہونے کے چند روز بعد ہی مجھے ایک دن ناشتے پر خصوصی دعوت دی۔ اس موقع پر قاضی حسین احمد جس محبت اور شفقت سے پیش آئے، اسے مَیں کبھی نہیں بھول سکتا، چہرے پر ایک دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ محبت و شفقت کا مجسمہ بنے انہوں نے جس اہتمام سے ناشتہ پیش کیا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ اس ناشتے میں اگرچہ شہد اور مکھن کا بطور خاص اہتمام کیا گیا تھا، لیکن میرے نزدیک قاضی حسین احمد کی محبت و شفقت اور دلنواز مسکراہٹ کی مٹھاس ناشتے میں پیش کئے گئے شہد کی مٹھاس سے کہیں زیادہ بلکہ بہت زیادہ تھی۔ بلاشبہ قاضی حسین احمد کی یہ شفقت و محبت اپنے سب کارکنوں کے لئے ہوا کرتی تھی، لیکن مَیں تحدیث نعمت کے طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ قاضی حسین احمد کے غیر معمولی جذبہ محبت کی وجہ سے مجھے قاضی صاحب کی شفقت و محبت سے کچھ زیادہ ہی حصہ ملا اور پھرمجھے ان کی یہ خصوصی محبت و شفقت ان کی پوری زندگی میں حاصل رہی۔ اسی دوران 1987ءمیں قاضی حسین احمدجماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہو گئے ، پھر انہوں نے جہاد افغانستان کی طرح جہاد کشمیر کی سرپرستی کو بھی اپنی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں میرا ان سے ربط و تعلق بھی فزوں تر ہوتا گیا اور مجھے ان کی شفقت و محبت سے خصوصی طور پر بہرہ یاب ہونے کا موقع ملا ۔ قاضی حسین احمد چونکہ جہاد افغانستان کی طرح جہاد کشمیرسے بھی گہرا قلبی لگا¶ رکھتے تھے۔ اس لئے اس حوالے سے ان سے ربط وتعلق اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ رو زبروز وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ بعد میں جب 1990ءمیں جہاد کشمیر کے آغاز کے بعد مجھے جہاد کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے پہلے مظفر آباد اور پھر اسلام آباد منتقل ہونا پڑا تو قاضی حسین احمد سے روزانہ ملاقاتوں کا سلسلہ تو برقرار نہ رہ سکا ،البتہ مختلف میٹنگوں میں شرکت کے حوالے سے یہ سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا، قاضی حسین احمدکی صاحبزادی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کے مطابق میری منصورہ سے منتقلی کے بعد بھی جب کبھی وہ میرا ذکر کیا کرتے تو ہمیشہ ذکر خیر ہی کرتے۔

جماعت اسلامی کے امیر کی حیثیت سے قاضی حسین احمدکا منفرد کردار: قاضی حسین احمد 1987ءسے 2009ءتک (22سال) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر رہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر کی حیثیت سے انہوں نے جن پہلوﺅں پر خصوصی توجہ دی ، ان میں سے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

اولاً: اس تاثر کو کہ جماعت اسلامی ملک کے متوسط اور تعلیم یافتہ طبقے کی جماعت ہے، ختم کرنے کے لئے جماعت کی دعوت کو عام لوگوں تک پہنچانے کا خصوصی اہتمام کرنا۔

سب سے پہلے انہوں نے اس تاثر کو ختم کرنے کے کوشش کی کہ جماعت اسلامی ملک کے متوسط اور پڑھے لکھے طبقے کی جماعت ہے جس کا عام آدمی کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کی دعوت ایک عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک طرف جہاں اپنی تقریروں اور خطابات میں حدیث بنوی ”خاطبوا الناس علی قدر عقولہم“ کے مطابق ایسا اسلوب اختیار کیا جو عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر نہ ہو، وہاں عام آدمی کے مسائل کا خصوصی اہتمام سے ذکر کرنا بھی شروع کیا۔ اس مقصد کے لئے قاضی حسین احمد نے امیر منتخب ہونے کے فوراً بعد کاروان دعوت و محبت کے نام سے ایک کارواں منظم کر کے پورے ملک کے طول وعرض کا دورہ کیا ۔ کراچی سے خیبر تک اور مکران سے کشمیر تک، اس کارواں کے دوران میں انہوں نے ملک کے عام شہریوں پر یہ واضح کیا کہ جماعت اسلامی، اسلام کے جس نظام کو ملک میں قائم کرنا چاہتی ہے، وہ امن ومحبت کا نظام ہے اور صرف اسی نظام کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ان پروگراموں کو عوام میں مقبول اور مو¿ثر بنانے کے لئے ان میں دینی اور ملی ترانوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ۔     (جاری ہے) ٭

مزید : کالم