مقدمات کو جلد نمٹانے کیلئے جدید طریقے اختیار کرناہوں گے، چیف جسٹس ہائیکورٹ

    مقدمات کو جلد نمٹانے کیلئے جدید طریقے اختیار کرناہوں گے، چیف جسٹس ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے کہاہے کہ جلد اور معیاری فیصلے وقت کا تقاضہ ہے، سسٹم میں خرابی پیدا کرنے والے کسی بھی شخص کوقطعاً برداشت نہیں کیا جاسکتا،وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جنرل ٹریننگ پروگرام کے تحت گیارہویں تربیتی کورس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے مزیدکہا کہ ہم بہت جلد "ای "کورٹس کی جانب جارہے ہیں،پیپر لیس ورک کی بدولت ججوں، سائلین اور وکلاء کو سہولت ہوگی،ججوں کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر عبور بہت ضروری ہے،روائتی انداز میں اتنی بڑی تعداد میں زیرالتواء مقدمات کے فیصلے نہیں کرسکتے،مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا لیکن جلد بازی میں شفاف ٹرائل کے تقاضوں کو پس پشت نہ ڈالا جائے،ہمارے جج اپنی استعداد کار سے بڑھ کر کام کررہے ہیں لیکن کام کے ساتھ ججز اپنی فزیکل فٹنس کا بھی خیال رکھیں،چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کی تمام بار ایسوسی ایشنز میں نئی سوچ سامنے آئی ہے،بار ایسوسی ایشنز ہڑتال کلچر کا خاتمہ چاہتی ہیں،ججوں کو بھی غیر ضروری تاریخیں دینے سے اجتناب کرنا ہوگا،ججوں کوفیصلے کرتے ہوئے نئے قوانین اور قانونی ترامیم کومدنظررکھنا چاہیے،جج کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر فیصلے کریں،انہوں نے کہا کہ ہمارا جنرل ٹریننگ پروگرام 20-2019 ء تقریباً آدھا مکمل ہو چکا ہے، یہ پروگرام ایک مسلسل تربیتی پروگرام ہے، جس کے تحت ہر جج کو سال میں کم از کم ایک دفعہ ضرور تربیتی کورس مکمل کرنا پڑتا ہے،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے جنرل ٹریننگ پروگرام کو ریسرچ بیسڈ بنایا ہے تاکہ ججوں کے فیصلے مکمل تحقیق پر مشتمل ہوں،قبل ازیں ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر نے تربیتی کورس کے اغراض و مقاصد بیان کئے،تقریب میں رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اشترعباس، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ریحان بشیر اور سیشن جج ہیومن ریسورس ساجد علی اعوان بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر