بٹ خیلہ کے 33 مساجد کے نمائندہ جرگے کا اجلاس

بٹ خیلہ کے 33 مساجد کے نمائندہ جرگے کا اجلاس

بٹ خیلہ (بیورو رپورٹ)بٹ خیلہ کی33مساجد کے نمائندہ جرگے ملاکنڈ انتظامیہ اور ٹی ایم اے کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر دو ماہ کے اندر اندر میاں سلطان بابا قبرستان سے کیبن و تجاوزات ہٹاکرچاردیواری کی تعمیر او ربلدیہ پلازہ سے گودام ختم کر کے یہاں پر سٹی کی 9نیبر ہوڈ کونسلوں کے دفاتر قائم نہ کئے گئے تو عوام راست اقدام پر مجبور ہو جائے گی۔اس سلسلے میں بٹ خیلہ کے علاقوں میزارہ باغونہ صبر شاہ چنار کو ٹووغیرہ کی 33مساجد سے تعلق رکھنے والے نمائندہ جرگے کا اجلاس زیر صدارت ملک حقنواز خان ہوا جس میں عوام نے کثیر تعداد میں شر کت کی اس موقع پر مقررین نے فردوس خان حاجی گل زادہ مسلم خان فضل قادر خان رسول باچہ دلاور خان جان شیرمفتی محمد ارشاد اور امن کمیٹی کے صدر حاجی حبیب الر حمن نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ ایک طرف میاں سلطان بابا کے تاریخی قبرستان کے احا طے میں کیبن قائم ہیں جبکہ دوسری طرف یہ گندگی کے ڈھیر اور جرائم و نشئیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اس کے علاوہ قبروں کو ہموار کر کے زمینپر قبضہ کیا جارہا ہے انھوں نے کہاکہ قبر ستان کو تجاوزات و قبضہ مافیا سے پاک کرنے اور اس کی حفا ظت کیلئے ہیومن رائٹس کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاچکا ہے اس کے علاوہ انتظامیہ سمیت منتخب نمائندوں سے بھی بار بار رابطے کئے جا چکے ہیں مگر متعلقہ محکمے ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں انھوں نے کہا کہ اب ہم اپنے اباو اجداد کی نشانیوں کی مذید بے حر متی بر داشت نہیں کر سکتے آئین و قانون بھی مقبروں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے مگر یہاں اس پر عمل در آامد نہیں ہو رہااس سلسلے میں سیکورٹی فورس بھی رابط کیا جائے گااجلاس میں متفقہ قراردادوں کے ذریعے دوماہ کے اندرقبرستان کی حدود سے کیبن و تجاوزات ختم کرکے حفاظتی چاردیواری کی تعمیر اور بلدیہ کے پلازہ سے گودام ختم کر کے یہاں پر نیبر ہوڈ کونسلوں کے دفاتر قائم کر نے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید : پشاورصفحہ اول


loading...