ایگزیکٹ کمپنی جعلی ڈگریوں کا منظم کاروبار کرتی ہے : سابق ملازم رضوان چیمہ

ایگزیکٹ کمپنی جعلی ڈگریوں کا منظم کاروبار کرتی ہے : سابق ملازم رضوان چیمہ
ایگزیکٹ کمپنی جعلی ڈگریوں کا منظم کاروبار کرتی ہے : سابق ملازم رضوان چیمہ

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) جعلی ڈگریوں کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی کے سابق ملازم رضوان چیمہ نے کہا ہے کہ یہ کمپنی جعلی ڈگریوں کا منظم کاروبار کرتی ہے ۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے رضوان چیمہ نے کہا ہے کہ ایگزیکٹ آسانی سے کسی بھی طالب علم کو ڈگری نہیں دیتی تھی بلکہ ان کا منظم نظام موجود ہے جہاں طلباءان سے رابطہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2014 ءمیں وہ ایگزیکٹ اسلام آباد دفتر میں ملازم تھے اور وہاں انہیں حقائق کا علم ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ جو بھی طالب علم ان سے رابطہ کرتا اس کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب اماات کی ایمبیسی کے کلچر ونگ سے جھوٹی کال کی جاتی تھی ۔ طالب علم کو بتایا جاتا تھا کہ ایمبیسی کو ان کی ڈگری موصول ہوئی ہ اور اسے مساوی ڈگری دینے کا کہا جاتا تھا ۔

رضوان چیمہ کا کہنا تھا کہ طالب علم کو ڈگری کے لیے 400 ڈالر فیس دینے سے بات شروع کر کے 10 ہزار ڈالر تک طلب کیا جاتا تھا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈگری لینے کے لیے نہ صرف طلباءکو ڈیڈ لائن دی جاتی تھی بلکہ انہیں فوری طور پر پیسے جمع کروانے کے لیے مجبور بھی کیا جاتا تھا ۔ رضوان چیمہ کا کہنا تھا کہ اگر پیسے جمع کروانے میں تاخیر ہو جاتی تو طلباءکو ان کے ملک میں مقدمہ کا سامنا کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی تھی ۔ یاد رہے رضوان چیمہ مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی ثریا نسیم کے صاحبزادے ہیں ۔ اور ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد انہوں نے بھی میڈیا پر رضوان چیمہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ ان کا بیٹا بھی اس کمپنی سے متعلق حقائق جانتا ہے کیونکہ وہ ان کا ملازم رہ چکا ہے ۔

مزید : اسلام آباد