اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 61

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 61

  

میں نے حکم دیا کہ ناگ داسی نارائینی کو آزاد کر کے اسے اس کی کوٹھری میں پہنچا کر ہوش میں لایا جائے۔ اس وقت پروہت کپالا کے اشارے پر پجاریوں نے بے ہوش ناگ داسی نارائینی کی رسیاں کھول دیں اور اس ے اس کی کوٹھری میں لے گئے جہاں اسے صندل چھڑک کر ہوش میں لانے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ پروہت کپالا میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ میں نے اسے معاف کر دیا اور کہا۔ ’’ میں اب بھی تمہیں یہی کہوں گا کہ میں تمہارے شیش ناگ دیوتا کا انسانی روپ نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی جادو گر ہوں۔ قدرت نے مجھے امانت کے طور پر ایک خفیہ طاقت دے رکھی ہے جس کا تم سب سے ابھی ابھی مشاہدہ کیا ہے۔ ویسے میں اب بھی ایک عام انسان ہوں اور میں نے شیش ناگ کے آگے جو منت مانی ہے اس کے ضمن میں مندر میں اپنی چھ ماہ کی عبادت ضرور پوری کروں گا۔ چنانچہ مجھے یہاں پریشان نہ کیا جائے۔ میری عبادت میں دخل نہ دیا جائے۔ کوئی پجاری میرے قریب آ کر میری پوجا کر نے کی کوشش نہ کرے۔ مجھے یقین ہے تم میرا مطلب سمجھ گئے ہوگے ۔‘‘

پروہت کپالا نے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔

’’ اے عظیم دیوتا ! تم جو چاہتے ہو ویسے ہی ہوگا۔ ہم سب تمہارے خادم پجاری ہیں۔ ‘‘

میں نے پروہت کپالا کو خاص طور پر ہدایت کی کہ اب مند رمیں کسی کو شیش ناگ کے سامنے قربان نہیں کیا جائے گا اور ناگ داسی نارائینی کو خاص طور پر بڑی عزت و احترام کے ساتھ رکھا جائے۔ کپالا نے سرتسلیم خم کر دیا۔ اب میں نے پروہت کپالا کی لالچی رگ کو چھیڑا ۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 60پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ اور تمہارے پاس ہیروں کے ہار کی شکل میں میری ایک امانت ہے۔ اسے فورا میری کوٹھری میں پہنچا دیا جائے۔ ‘‘

پروہت کپالا میری طاقت کے مشاہدے کے بعد مجھے سے اس قدر خوفزہ تھا کہ اس سے ٹھیک طرح سے بات نہیں ہورہی تھی ۔ کہنے لگا۔

’’ عظیم دیوتا ! آپ کی امانت میں ابھی ابھی آپ کی کوٹھری کے استھان پر واپس لاتا ہوں۔‘‘

وہ تین بار میرے آگے سرجھکا کر دوسرے پجاریوں کے ساتھ مندر کے چبوترے کی طرف بڑھا اور میں وہاں سے ہٹ کر مندر کے صحن والے تالاب کے کنارے آگیا۔ مجھے یقین تھا کہ قنطور کی لاش والی ڈبیا تالاب کی تہہ میں رہی ہے اور پر اسرار طاقتوں نے اسے پھر سے زندہ کرنے کا عمل جاری کر دیا ہوگا۔ برفانی ہواؤں کے جھونکے چل رہے تھے مگر مجھے ایک لمحے کے لئے بھی سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ میں دیر تک تالاب کے کنارے پتھروں پر بیٹھا اپنے دوست قنطور کے بارے میں غور کرتا رہا جو سانپ کی شکل میں دو ٹکڑے ہو کر تالاب کی تہہ میں پڑا تھا۔ اب میں نے اپنا یہ معمول بنا لیا کہ تالاب کے کنارے بیٹح کر ہی شیش ناگ کے چھوٹ موٹ عبادت کیا کرتا۔ اس سے میرا مقصد تالاب کی نگرانی کرنا تھی۔ ناگ داسی کو جب یہ علم ہوا کہ میری وجہ سے اس کی جان بچ گئی ہے اور یہ کہ میں نے بڑی زبردست کرامت دکھائی تھی اور میں موت کو شکست دینے والی خفیہ دیوتائی طاقتوں کا مالک ہوں تو وہ میری پہلے سے زیادہ معتقد ہوگئی لیکن میں نے اپنے عاشق مزاج دل کو اس کی سیاہ عنبریں زلفوں کے جال میں اٹکانے سے بچالیا تھا۔ وہ رات کو مجھ سے ملنے میری کوٹھری میں ضرور آتی تھی۔ اسے میرے پاس آنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ اس سے میری دل چسپی صرف ایک حد تک تھی کہ وہ مجھے مندر کے اندر ہونے والی ساری باتیں بتا دیتی تھی۔ چار ماہ گزر چکے تھے ۔ ابھی مجھے دو ماہ وہاں رہنا تھا اور میں وہاں رہتے ہوئے مکار پروہت کپالا کی سازشوں سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اگرچہ وہ مجھ سے خائف ہے مگر جو کچھ مجھے ناگ داسی نارائینی کی زبانی معلوم ہوا وہ یہ تھا کہ پروہت کپالا مجھے زبردست جادو گر سمجھتا ہے۔ میں نے اس کے غرور اور جھوٹی شان کا سر توڑ دیا تھا۔ اسے اس کے پجاریوں کے سامنے شکست دی تھی۔ چنانچہ وہ مجھے اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے اندر ہی اندر سازش میں مصروف تھا۔ اگرچہ بظاہر وہ میرا غلام تھا اور میرے ہر حکم کی تعمیل کرتا تھا۔ میں اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔ صرف اس کی ہر سازش سے باخبر رہنا چاہتا تھا اور یہ کام ناگ داسی نارائینی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہی تھی۔

میرے صرف دو مہینے رہ گئے تھے اور میں یہ عرصہ خاموشی سے گزارنا چاہتا تھا۔ میں دن بھر تالاب کے کنارے یونہی آنکھیں بند کئے بیٹھا رہتا ۔ جیسے عبادت کر رہا ہوں اور شام کو ٹہلنے کے لئے باہر نکل جاتا۔ پہرے دار مجھے دور سے آتا دیکھ کر ادب سے سرجھکا کر کھڑا ہوجاتا۔ میں اسے دیوتاؤں کے انداز میں دعا دیتا اور آگے نکل جاتا۔ یونہی وقت گزرتا چلا گیا۔

قنطور نے مجھے بتایا کہ جب اس کی سانپ کی شکل میں کٹی ہوئی لاش کیلاش پربت کے شیش ناگ مندر والے تالاب میں چھ ماہ تک ڈوبی رہے گی تو چھ ماہ گزرنے پر رات کے بارہ بجے وہ زندہ ہو کر سانپ کی شکل میں تالاب کی سطح پر ابھر آئے گا۔ آخر وہ گھڑی بھی آن پہنچی ، تالاب میں قنطور کی لاش کا آخری دن تھا۔ میں شام تک تالاب کے کنارے بیٹھا عبادت کے بہانے نگرانی کرتا رہا۔ کسی وقت میرے دل میں شک پیدا ہوتا کہ کہیں کسی نے قنطور کی لاش کو تالاب سے نکال نہ لیا ہو۔ پھر یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دے لیتا کہ کسی کو کیا معلوم کہ اس ٹھنڈے یخ گدلے پانی کے اندر ایک لکڑی کی ڈبیا پڑی ہے جس میں ایک سانپ کی کٹی ہوئی لاش رکھی ہے ۔ رات کے پہلے پہر میں میں واپس مندر میں آکر تالاب کے قریب سے گزرا۔ تالاب کے پانی میں پڑے چھ مہینے کی مدت پوری ہوچکی تھی اور اب اسے تین گھنٹے کے بعد آدھی رات کو تالاب میں سے زندہ سانپ کی حالت میں باہر نکل آناتھا۔ میں اپنی کوٹھری میں آکر تخت پر بیٹھ گیا۔ عین آدھی رات کے وقت جبکہ میں تالاب پر جانے کے لئے کوٹھری سے نکلنے ہی والا تھا کہ زمین نے ہلنا شروع کر دیا۔ کیلاش پربت کی پہاڑی وادیوں میں جیسے کسی بہت بڑی چکی کے چلنے کے بھیانک گونجارا ایسی چیخ پھیل گئی۔ میری کوٹھری جھولنے کی طرح جھول رہی تھی۔ یہ زلزلہ تھا۔ کوٹھری کادروازہ تڑاخ کی آواز کے ساتھ ٹوٹ کر گر پڑا۔ میں باہر کی طرف بھگا لیکن زلزلے نے چاروں طرف خوفناک تباہی پھیلانی شروع کردی تھی۔ مندر کے ستون جگر خراش تڑاخوں کے ساتھ ٹوٹ ٹوٹ کر صحن میں گرنے لگے۔ ایک چٹان کا سینہ خوفناک آدھماکے سے شق ہوگیا اور اس کا بہت بڑا ٹکڑا بپا تھا۔ پجاریوں اور ناگ داسیوں کی چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ میں اگرچہ مر نہیں سکتا تھا لیکن میرا جسم پہاڑوں سے لڑھک لڑھک کر آتے ہوئے پتھروں سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتا تھا۔ میں برآمدے میں زمین بوس ستونوں کے درمیان پھنس گیا تھا۔ یہ قیامت خیز زلزلہ تیس سیکنڈ سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہا۔

جب زمین نے ہلنا بند کیا تو میں ستونوں کو پرے ہٹا کر باہر نکلا۔ شیش ناگ کے مندر کے لمبوترے مینار ڈھے چکے تھے۔ صحن میں جگہ جگہ پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے اور چٹانین بکھری ہوئی تھیں۔

میں تالاب کی طرف بھاگا۔ قنطور کے تالاب سے باہر نکلنے کا وقت ہوچکا تھا۔ جب زلزلہ آیا۔ وہ کہاں ہوگا؟ میں یہ دیکھ کر دم بخود ہو کر رہ گیا کہ تالاب پر ایک بہت بڑی چٹان نے گر کر اسے تباہ کر دیا تھا۔ اس کا ایک طرف سے کنارہ پورے کا پورا نیچے تک مسمار ہوگیا تھا اور سارا پانی نیچے وادی میں بہہ گیا تھا۔ میں چٹان کے بیچ میں سے ہو کر خالی تالاب میں کود گیا، تالاب کا پانی غائب تھا۔ اس کی تہہ میں جگہ جگہ کائی اگی ہوئی تھی اور چٹان کے پتھروں کے سنگ ریزے بکھرے پڑے تھے۔ میں دیوانوں کی طرف قنطور کے لاش والی ڈبیا تلاش کرنے لگا لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں آہستہ آہستہ رینگتا ہوا تالاب کے مسمار شدہ کنارے کی طرف آگیا۔ چٹان نے اوپر گر کر اس کنارے کو اوپر سے لیکر نیچے تک پوری کی پوری دیوار کے پشتے کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا اور تالاب کا سارا پانی آن کی آن مین نیچے کھڈ میں گر کر ایک پہاڑی ندی میں شامل ہو کر گم ہوگیا تھا۔ میں مایوسی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا قنطور کی لاش خدا جانے پانی کے ریلے کے ساتھ ہی تالاب سے بہہ کر ندی میں گرنے کے بعد کہاں کی کہاں جا چکی تھی۔

میں نے تالاب سے نکل کر مندر کے گرے ہوئے دروازے کی طرف آگیا۔ جگہ جگہ پجاریوں کی کچلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں۔ مندر کے بڑے ہال کمرے میں شیش ناگ کا بت اپنے چبوترے سے گر کر پاش پاش ہوچکا تھا۔ اس کے ملبے کے نیچے پروہت کپالا اور ناگ داسیوں کی لاشیں کچلی پڑی تھیں۔ ان میں سے ایک ناگ داسی نارائینی کی لاش تھی۔ اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے ، میں تباہ شدہ مندر سے باہر نکل آیا۔

میں تالاب کی ٹوٹی ہوئی ڈھال سے اتر کر نیچے کھڈ میں بہتی پہاڑی ندی کی طرف چلنے لگا۔ اترائی بڑی دشوار گزار تھی۔ میں جھاڑیوں کو پکڑ کر ، پتھروں پر پاؤں ٹکا ٹکا کر نیچے اتر رہا تھا اور جہاں جہاں سے تالاب کا پانی گر کر نیچے بہا تھا وہاں ایک ایک جھاڑی ایک ایک پتھر کو بڑے غور سے دیکھتا جا رہا تھا۔ زلزلے نے یہاں بھی وادی کانقشہ بدل دیا تھا۔ بھاری پتھروں اور چٹانوں کے ٹکڑوں کے نیچے ندی میں گر کر اس کا رخ بدل ڈالا تھا۔ مجھے گھاٹی میں ندی تک آتے کافی وقت لگا۔ پہاڑی ندی کا منہ زور شفاف پانی زلزلے سے گرتے ہوئے بھاری پتھروں کا چکر کاٹ کر نیا راستہ بناتا بڑی تیزی سے آگے نکل رہا تھا۔ میرے دوست قنطور کا کچھ پتہ نہ مل سکا۔ مجھے یقین تھا کہ چھ ماہ کی مدت گزرنے کے بعد وہ پھر سے زندہ ہو کر سانپ بن چکا ہوگا اور اب دوبارہ انسانی شکل میں واپس آنے کی طاقت اس میں پیدا ہوگئی ہو گی لیکن سوال یہ تھا کہ پھر وہ کہاں ہے ! یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ پانی کے تیز بہاؤ کے ساتھ بہہ کر وادیوں میں دور نکل گیا ہو۔

میں پہاڑی ندی کے ساتھ ساتھ چلتا کافی دور نکل گیا۔ چلتے چلتے کئی بار مجھے ایسا لگا جیسے مجھ پر اپنے آپ غنودگی سی طاری ہوگئی ہے۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا جب وقت نے مجھے تاریخ کے دھازے میں آگے کو دھکیلنا ہوتا تھا۔ تو کیا میں تاریخ کے صفحات پر کچھ سال مزید آگے نکل گیا تھا۔ دن کی روشنی اس طرہ پھیلی ہوئی تھی ، بظاہر دیکھنے میں وقت معمول کے مطابق گزر رہا تھا۔ میں نے کوئی خیال نہ کیا ۔ مجھے اپنے قیمتی ہار کا خیال آگیا۔ میں نے اپنی عبا کی جیبوں کو ٹٹولا مجھے اپنے سانپ دوست قنطور کا مہرہ تو مل گیا مگر ہیروں کا ہار موجود نہیں تھا۔ وہ میری کوٹھری میں سرہانے کے نیچے ہی رہ گیا تھا۔ مجھے اس کا افسوس نہ ہوا۔ مہرے کے مل جانے کی بہت خوشی ہوئی۔ کیونکہ اس کی خوشبو میرے دوست قنطور کو میری پاس لا سکتی تھی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -