جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 11

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی ...
جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 11

  

15 اکتوبر کو مجلس تحفظ پاکستان کا اجتماع شاہدرہ میں منعقد کرنے کا پروگرام تھا مگر میرے ماڈل ٹاؤن سے نکلنے پر پہرے لگادئیے گئے تھے۔ میں پہلے تو وہاں پر ہی میں مختلف لوگوں سے اس معاملے پر بحث کرتی رہی مگر جب انہوں نے میری ایک نہ سنی تو ان کو گفتگو میں مصروف چھوڑ کر گھر کے اندرونی حصے میں چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد گاڑی کی پچھلی نشست پر جابیٹھی اور اپنے سر کو نسبتاً جھکالیا۔ ڈرائیور کو کہا کہ گاڑی سٹارٹ کرے۔ خدا کا کرنا ایسا ہو اکہ جب وہ چلنے لگا تو ایک آفیسر نے اس سے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا کہ بیگم صاحبہ نے کچھ اشیاء منگوائی ہیں۔ وہ آفیسر مجھے دیکھ ہی نہ سکا اور بھرے لہجے میں کہنے لگا اچھا جاؤ اور اس طرح میں ماڈل ٹاؤن سے باہر نکل گئی مگر شاید میرے نکلنے کے فوراً بعد ہی ماڈل ٹاؤن میں ان لوگوں کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ میں نکلنے میں کامیاب ہوچکی ہوں۔ چنانچہ انہوں نے میری شاہدرہ میں متوقع آمد کے پیش نظر جمع کارکنوں کو بے دردی سے پیٹنا شروع کردیا اور زبردستی تشدد کرکے ہمارے پروگرام کو طاقت کے بل بوتے پر منعقد نہ ہونے دیا۔

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مسلم لیگ کی GDA سے آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لئے گفتگو اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ چنانچہ ان رابطوں کے سبب مسلم لیگ کی طرف سے ظفر علی شاہ نے دبئی میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پی پی پی کی طرف سے محترمہ کے علاوہ مخدوم امین فہیم اور فتح محمد حسنی بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں اصولی طور پر یہ طے پایا کہ اپنی اپنی سیاسی سوچ سے وابستہ رہتے ہوئے ملک و قوم کو آئین اور جمہوریت کی طرف واپس لانے کے لئے مشترکہ جدوجہد کی جانی چاہیے اور ملک کی تمام سیاسی قوتوں کو بحالی جمہوریت کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر مل بیٹھنا چاہیے۔

ظفر علی شاہ نے وطن واپسی کے فوراً بعد مجھے اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو پی پی پی سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا تاکہ میں میاں صاحب کو اس پیشرفت سے آگاہ کرسکوں اور ان کی ہدایات پارٹی کے دیگر اکابرین تک پہنچادوں۔

پارٹی کے عہدیداروں کو GDA سے مذاکرات کے متعلق صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد اکتوبر کے تیسرے ہفتہ میاں صاحب نے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی جس کا یہ مینڈیٹ تھا کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک جمہوری ایجنڈے پر لے کر آئے۔ اس کمیٹی میں راجہ ظفر الحق، سرانجام خان اور ظفر علی شاہ شامل تھے۔ جس دن میاں صاحب نے اس کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا اس دن راجہ ظفر الحق نے چودھری شجاعت سے ملاقات کی تاکہ ان کی تمام منفی سرگرمیوں کے باوجود ان کو ان معاملات میں اعتماد میں لیا جائے اور پارٹی اتحاد کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھا جائے۔

20 اکتوبر کو راجہ ظفر الحق، سرانجام خان، جاوید ہاشمی اور ظفر علی شاہ کی نوابزادہ نصرا للہ مرحوم سے ملاقات ہوئی اور ملک کو درپیش بحران میں سیاسی جماعتوں کے کردار کو محترم کرنے اور مثبت سمت میں پیش قدمی کے حوالے سے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا۔

اگلے دن ہی ہم خیالوں کا اجلاس خورشید قصوری کے گھر ہوا۔ جس میں سیاسی جماعتوں کی مفاہمانہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے اس اتحاد کو مسترد کردیا جو ابھی معرض وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔ اس دن ہی سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ طیارہ کیس میں آیا جس میں میاں صاحب کی عمر قید مزید ختم کردی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ہم خیالوں کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے خلاف بدستور ہرزہ سرائی کی گئی، ہم خیالوں کے لارڈ اور رئیس چوہدری شجاعت، میاں ظہر اور اعجاز الحق تھےْ

بہرحال نواز شریف صاحب نے مجلس عاملہ کے نام ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ موجودہ غیر دستوری حالات کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک مشترکہ ایجنڈا اپنائیں تاکہ قوم کو اس آمریت کی رات کے بعد جمہوریت کی صبح دیکھنا نصیب ہوسکے۔

ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ کے اجلاس بار بار منعقد ہورہے تھے تاکہ ہرامکانی صورت کا بغور جائزہ لے کر کو ئی فیصلہ کیا جاسکے اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحبہ کی ہدایت پر راجہ ظفر الحق صاحب نے چودھری شجاعت سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تاکہ ان کو بھی لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔ نواز شریف صاحب مسلم لیگ کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے امکانی حد تک ہم خیالوں کے اقدامات سے صرف نظر کررہے تھے تاکہ جماعت کسی بھی خلفشار سے محفوظ رہے۔ مگر دوسری طرف مسند اقتدار کے حصول کی دوڑ میں شریک یہ افرا دکسی بھی مفاہمانہ طرز عمل کو خاطرمیں نہیں لارہے تھے بلکہ جب انہوں نے سپریم کورٹ حملہ کیس میں سزا یافتہ افرا دکو توہین عدالت کی سزا مکمل ہونے پر ظہرانہ دیا تو اس میں بھی ان لوگوں کا لب و لہجہ ایسا تھا کہ اب مفاہمت کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ فخریہ لوگوں کو بتارہے تھے کہ آمریت سے ہمارا معاہدہ طے پاگیا ہے اور وہ اب ہم کو اقتدار میں اپنے ساتھ شریک کرلیں گے۔

چھ نومبر کو راجہ ظفر الحق سے ملاقات میں تو چوہدری برادران نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر GDA سے کسی مفاہمت کی کوئی بات مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہوئی تو بدمزگی ہوگی۔ اس جارحانہ طرز عمل کے بعد بھی نواز شریف او راجہ ظفر الحق کی طرف سے پارٹی اتحاد بچانے کی کوششیں ترک نہ کی گئیں بلکہ جب 16 نومبر کو اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا تو سرانجام خان نے خود فون کرکے چودھری شجاعت کو اجلاس میں آنے کی دعوت دی تاکہ اجلاس کے حوالے سے امکانی بدمزگی کو بچایا جاسکے اور مسلم لیگ میں موجود تمام دھڑوں کو فیصلہ سازی میں موقع دیا جاسکے۔

16 نومبر کو مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس میں چوہدری شجاعت وغیرہ نہ آئے۔ اس اجلا س میں 52 ارکان نے شرکت کی اور تمام نے ہی بحالی جمہوریت کے لئے سیاسی جماعتوں سے مفاہمت اور GDAکے ساتھ اسی نکتہ پر اتحاد ہونے کی توثیق کردی۔ چوہدری شجاعت اور اعجاز الحق کے نہ آنے کے باوجود یہ فیصلہ ہوا کہ پریس بریفنگ میں ان افراد کے حوالے سے کوئی تلخ جملہ نہ استعمال کیا جائے گا۔ چنانچہ راجہ ظفر الحق نے چوہدری شجاعت اور اعجاز الحق سے رابطے جاری رکھے۔

20 نومبر کا دن مسلم لیگ میں باقاعدہ پھوٹ ڈالنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے مسرت و شادمانی کا دن تھا۔ صبح 8 بجے ان گنت مسلح افراد نے مسلم لیگ ہاؤس پر قبضہ کرلیا۔ تمام ریکارڈ ارو نواز شریف صاحب کی تصاویر جلادی گئیں۔ ایک لیگی رہنما اور ملازمین کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ بعد میں ہم خیالوں نے سربراہی کرتے ہوئے مسلم لیگ ہاؤس اسلام آباد پر بھی قبضہ کرلیا اور اس تمام سانحہ کے پس پردہ اسرار کو آشکارا کردیا۔ اس صورتحال میں عاملہ کا اجلاس میری رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ GDAسے معاملات طے کرنے کے لئے چھ رکنی کمیٹی قائم کی گئی جس میں سرانجام خان کو مسلم لیگ ہاؤس پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دے دیا گیا۔ ہم نے اتمام حجت کے طور پر اس وقت بھی جاوید ہاشمی، تہمینہ دولتانہ اور سعد رفیق کو چوہدری شجاعت کے گھر بھیجا جہاں دیگر ہم خیال بھی موجود تھے مگر انہوں نے پانچ مطالبات رکھ دئیے بلکہ بہ الفاظ دیگر عاملہ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔

اس صورتحال سے ہم گھبراگئے، ہم پرویزی آمریت کی اس خواہش کو کبھی پورا نہیں ہونے دینا چاہتے تھے مگر سیاسی طاقتیں ایک میز پر اکٹھی نہ بیٹھ سکیں۔ اس لئے اگلے روز ہی مسلم لیگ کا ایک وفد نوابزادہ نصر اللہ مرحوم سے ملاتا کہ اس مفاہمانہ فضا کو حقیقت کے قالب میں ڈھالنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اس ملاقات میں کم و بیش تمام امور طے کرلئے گئے تاکہ آئندہ مشکلات پیش نہ آئیں۔

پارٹی میں خلفشار کو روکنے کے لئے نواز شریف صاحب اور راجہ ظفر الحق ابھی تک تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ راجہ ظفر الحق نے معاملات کو حل کرنے کے لئے ایک 5 رکنی مصالحتی کمیٹی قائم کی جس کے ارکان وسیم سجاد، الہٰی بخش سومرو، گوہر ایوب، سرتاج عزیز اور ممنون حسین تھے۔

26 نومبر کو GDA نے اس بات کا باضابطہ فیصلہ کرلیا کہ مسلم لیگ اور ان کا سفر اب مشترکہ ہوگا چنانچہ تین دسمبر کو GDA کی جگہ اے آر ڈی کا قیام عمل میں آیا اور ایک ضابطہ اخلاق کی منظوری دی گئی اور کہا گیا کہ آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے علاوہ کسی بھی طرح کی ترمیم کو تسلیم نہیں کریں گے۔ خیال رہے کہ اس وقت متحدہ قومی موومنٹ بھی اے آر ڈی کا حصہ تھی۔ میں بھی اس اجلاس میں شامل تھی مگر اچانک پتہ چلا کہ بڑے میاں صاحب کی طبیعت سخت خراب ہے۔ چنانچہ میں فوراً اجلاس کے دوران ہی چلی گئی۔ اسی طرح سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑ اجمہوری اتحاد وجود میں آیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /جبر اور جمہوریت