ریسکیو1122اِن بلوچستان

ریسکیو1122اِن بلوچستان
ریسکیو1122اِن بلوچستان

  

قوموں کی زندگی میں جب بھونچال آتے ہیں تو بڑے بڑے برج گرادیئے جاتے ہیں۔ جنہیں ہم اپنا آخری سہارا سمجھتے ہیں وہی ہمارے لئے پہلا دشمن ثابت ہوتے ہیں۔ قومی کی تعمیر و ترقی وہ افراد کرتے ہیں جنہیں وقت آنے پر نوازنے کی بجائے بلی کا بکرا بنایا جا تاہے۔ اس گنجلک کو سلجھانے کے لئے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں جانا پڑے گا۔ جب بھی کسی حکمران پر وقت آیا تو اُس نے امریکہ ، سعودی عرب اور حتی کہ متحدہ عرب امارات کی طرف دیکھا ۔ یہ وہ ٹرائیکا ہے جو یقینی طور پر مدد گار بھی ثابت ہوئی ہے ۔ جب نوازشریف کو جنرل مشرف بھٹو کے انجام کی طرف لانے لگے تو امریکہ اور سعودی عرب کود پڑے۔ لبنان کا حریری خاندان ضامن بنایا گیا۔ یوں نواز شریف ایک معاہدے کی رو سے سعودی عرب تشریف لے گئے۔ جب جنرل مشرف پر برا وقت آیا ۔ آصف زرداری اور نواز شریف جنرل مشرف کو جنرل جہانگیر کرامت کے انجام کی طرف لے جانے لگے تو امریکہ اور سعودی عرب میدان میں کود پڑے۔ حتی کہ سعودی بادشاہ مرحوم عبداللہ نے جنرل کیانی کو پیغام بھیجا کہ بھائی ۔’’جنرل مشرف کو میں صدر مانتا ہوں ۔ نواز شریف کا محل بھی خالی پڑا ہے ۔ لہذا احتیاط برتی جائے‘‘۔

یوں نواز شریف، آصف زرداری اور دیگر مشرف مخالف عناصر دانت پیستے ہوئے بھی مشرف کا بال بیگا نہیں کرسکے۔ اسی لئے پاکستانی ’’بادشاہوں ‘‘ کو سعودی بادشاہوں سے بہت پیار ہے۔ وہ عوامی امنگوں کے خلاف جا کر بھی آلِ سعود کی مدد کریں گے۔ چاہے اُس کے لئے حوثی قبائل سے موسوم ’’تحریک طالبان پاکستان ‘‘ طرز پر کوئی تنظیم چھوٹا سا بیان داغے گی کہ ’’اگر سعودی عرب نے یمن پر مزید حملے کیے تو ہم حرمین شریفین پر حملہ کریں گے‘‘۔ یوں پاکستانی عوام کی ’’امنگوں ‘‘ کی ترجمانی کرتے ہوئے پاکستانی ’’بادشاہ‘‘حرمین شریفین کو بچانے کی غرض سے فوری طور پر یمن پر دھاوا بول دیں گے۔ بین الاقوامی حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا بھر میں مسلمان ممالک کے حالات ہمیشہ ایسے ہی رہے ہیں۔ امریکہ اور اُس کے شیطانی حلیف مسلمان ممالک میں یہی کارنامے سرانجام دیتے آئے ہیں۔ اندرونی سطح پر ہم دیکھیں تو ہمارے ملک میں غربت ، چور بازاری ، راہزنی ، افراتفری اور تفریق کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ کسی حکمران نے آج تک قوم کے مسائل کو قومی انداز میں حل کرنے کی نہیں ٹھانی۔ ہمیشہ ذاتی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ’’قومی مفاد ‘‘ کا نعرہ لگایا اور جس قدر ہو سکاملک لوٹ لیا۔ لوٹ کھسوٹ کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

کوئی حکمران سنجیدگی سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں۔ کلرک سے لے کر حکمران تک سبھی اپنی کرسی بچانے کے درپے نظر آتے ہیں۔ کرسی کی خاطر ضمیر تک بیج دیئے جاتے ہیں، لیکن قوم کے مسائل وہیں کے وہیں ہیں۔ بچپن سے سنی یہ بات درست لگتی ہے کہ اس ملک کو خد ا ہی چلارہا ہے وگرنہ ہر حکمران اپنے تئیں پوری کرکے جاتا ہے۔ محض معاشرتی سطح پر چند لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کئی Initiativeلیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا عدہ ہے کہ وہ حرکت کرنے والوں کا کام میں برکت ڈالتا ہے۔ کچھ چیدہ چیدہ افراد ایسے ہیں جو انفرادی طور پر ایسے کارنامے سرانجام دے چکے ہیں یا ابھی تک ایسے فریضے سرانجام دے رہے ہیں جو بالاآخر باہمی یگانگت کی طرف جاتے ہیں۔ ایسے اقدامات جو معاشرتی روایات سے کٹ جانے والوں کو قومی دھارے میں لاتے ہیں۔میری زندگی میں ابھی تک جتنے لوگوں کا گزر ہوا ہے سبھی ریسکیو 1122کی تعریف کرتے پائے گئے ہیں۔ خیبر پختونخواہ سے ایک سابق وزیر کا وہ بیان مجھے ابھی تک یاد ہے جو انہوں نے سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے سامنے دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ڈاکٹر رضوان نصیر نے وہ کام کردکھایا ہے جو بڑے بڑے سیاستدان نہیں کرسکے۔

ریسکیو 1122کی صورت میں ڈاکٹر رضوان نصیر نے صوبوں میں یگانگت اور مقامی سطح پر لوگوں میں پیار و محبت کے قومی جذبات پیدا کیے ہیں‘‘۔ ریسکیو 1122جہاں پنجاب بھر میں شہریوں کو ایمرجنسی کیئر کا بنیادی حق فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے وہیں، اس سروس کے معاشرتی نتائج انتہائی مثبت اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں یکتا ہیں۔ اب تک یہ سروس گلگت بلتستان، خیبر پختونخواہ اور آزاد جموں اینڈ کشمیر میں اپنے شہریوں کو ایمرجنسی کیئر کا بنیادی حق فراہم کررہی ہے۔ سندھ ابھی تک وڈیروں کے چنگل سے آزاد نہیں ہو پایا، لیکن بلوچستان کے سرداروں نے بالاآکر وہ کام کردکھایا ہے جو وہ کئی عرصے سے کرنے سے قاصر تھے۔ پچھلے دنوں بلوچستان حکومت کے اعلیٰ سطح وفد نے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی، پاکستان کا دورہ کیا اور ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیرسے ملاقات میں اس امر کیا اظہار کیاکہ بلوچستان حکومت اپنے صوبہ میں ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے۔ ملاقات میں ریسکیورز کی بھرتی،اُن کی پیشہ ورانہ تربیت، آپریشنز،مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن اورکارکردگی کا تجزیہ اور دیگر امور زیرِ بحث لائے گئے۔

وفد میں ڈائریکٹر پرانونشل ڈزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان عطاء اللہ مینگل، ڈائریکٹر پلاننگ محمد اصغر ، ڈائریکٹر (اے اینڈ آر) محمد اسحاق، سی بی ڈی آر ایم ایکسپرٹ بیبرگ خان، ڈی آر ایم ایکسپرٹ حسیب اللہ، ٹرانسپورٹ انچارج شیر محمد، ویئر ہاؤ س انچارج ندا محمد، اور دیگر ارکان شامل تھے۔ ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے حکومتی وفد کو خوش آمدید کہا اوربلوچستان حکومت کے اپنے شہریوں کو ایمرجنسی کی صورت میں ایمرجنسی کیئر جیسے بنیادی حق کی فراہمی کے اقدامات کو سراہا۔ ریسکیو 1122کے کامیاب سفر اور آغاز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 2002میں اپنے مختلف متعلقہ محکموں کے نقائص اور خامیوں کا جائزہ لیا اوراداروں کی ازسرِ نو تعمیر کی تجاویز دیں، لیکن بدقسمتی سے ان اصلاحات کو بروقت نافذ نہیں کیا جاسکا، تاہم یہ وہ حالات تھے جن کے سبب ریسکیو 1122کے ارتقاء کا آغاز ہوا جو ہم نے لاہور میں کم وسائل کے ساتھ پائیلٹ پروجیکٹ کی صورت میں کیااور لاہور کے تمام شہریوں کو بنا کسی تفریق کے ایمرجنسی کی صورت میں ایمرجنسی کیئر کا بنیادی حق فراہم کیا۔

اب ریسکیو 1122پنجاب کے تمام اضلاع کے بعد اب تحصیل کی سطح پر پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122انہی اقدامات کی وجہ سے International Search & Rescue Advisory Group (INSRAG)کی گائیڈ لائنز کے مطابق ملک میں ڈزاسٹر ریسپانس کی صورت میں ابھری ہے ۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے مزید کہا کہ ریسکیو اہلکاروں میں کارکردگی کا جائزہ اور سز ا و جزا کا تصور اس سروس کی کامیابی کی بنیادی وجہ ہے۔ اس موقع پر حکومتی وفد نے اس امر کا اظہار کیاکہ وہ بلوچستان میں بھی اُسی ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور اُسی معیار کو قائم کرنا چاہتے ہیں جو معیار انہوں نے پنجاب میں دیکھا ہے۔ وفد نے کہا کہ ریسکیواہلکاروں کی بھرتی، پیشہ ورانہ تربیت، آپریشنز، مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن کا وہی نظام نافذ کریں گے جو ریسکیو 1122پنجاب میں دیکھا ہے۔ قبل ازیں وفد نے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی، پاکستان میں پیشہ ورانہ تربیت کے مختلف سمولیٹرز کا مشاہد ہ کیا۔رجسٹرار ایمرجنسی سروسز اکیڈمی ڈاکٹر فرحان خالد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹریننگ میاں محمد احسن نے وفد کو 100اونچے ٹاور سے ریسکیو، فائر، ریسکیو، گہرے کنویں سے ریسکیو ، میڈیکل اور دیگر ایمرجنسیز میں ریسکیو کرنے اور ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے متعلق بریفنگ دیں اور عملی تربیت بارے انہیں آگاہی دی۔ بلوچستان وفد نے اس موقع پر ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر سے پیشہ ورانہ تربیت کی باقاعدہ درخواست کی جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے ہرطرح کی پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کا اعادہ کیا۔وفد نے کہا کہ بلوچستان حکومت بہت جلد ریسکیو اہلکاروں کا پہلا بیج پیشہ ورانہ تربیت کے لئے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں بھیجے گی۔ یہ ملکی سطح پر گھٹی ہوئی فضا میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے، جس سے ٹھنڈک محسوس ہورہی ہے۔ میری خواہش ہے سندھ کو بھی آگے آنا چاہیے، کیونکہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمرجنسی کیئر کا بنیادی حق سبھی کا حق ہے۔

مزید : کالم