جماعتیں کب اور کیسے ٹوٹتی ہیں؟

جماعتیں کب اور کیسے ٹوٹتی ہیں؟
جماعتیں کب اور کیسے ٹوٹتی ہیں؟

  

سپریم کورٹ کے حکم پر صدر جنرل پرویز مشرف 2002ء کے انتخابات کرا چکے تھے، مسلم لیگ(ق) اگرچہ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری تھی، تاہم اس کے پاس اتنی اکثریت نہ تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پر حکومت بنا سکے،پیپلزپارٹی بھی اِن حالات میں تعاون کے لئے آمادہ نہ تھی،صدر پرویز مشرف کی ہدایت پر آزاد ارکانِ اسمبلی کے قبلے درست کرائے جا رہے تھے اور اُنہیں یا تو مسلم لیگ(ق) میں شامل کرایا جا رہا تھا یا بطور آزاد امیدوار اس کی حمایت پر آمادہ کیا جا رہا تھا،انہی ایام میں مخدوم امین فہیم اسلام آباد سے کراچی جانے کے لئے ائر پورٹ جا رہے تھے کہ اسلام آباد ہائی وے پر اُنہیں ایک پیغام ملا اور اُن کی گاڑی نے یوٹرن لے کر واپس اسلام آباد کا رُخ کر لیا۔ صدر صاحب دامن کوہ کے واحد ریستوران میں اُن کے منتظر تھے،لیکن اِس ملاقات کو ”اتفاقیہ“ ظاہر کرنے کا منصوبہ تھا، یعنی جناب صدر اتفاق سے دامن کوہ کے ریستوران میں گئے، وہیں تھوڑی دیر بعد حُسن ِ اتفاق سے مخدوم امین فہیم بھی پہنچ گئے۔ایک اتفاق یہ بھی ہوا کہ اسلام آباد کے ایک سینئر فوٹو گرافر بھی وہاں آ گئے انہوں نے دیکھا کہ ریستوران میں جنرل پرویز مشرف اور مخدوم امین فہیم موجود ہیں انہوں نے تصویر بنائی اور اگلے دِن کے ایک انگریزی اخبار میں تصویر کے ذریعے اخبار کے قارئین کو یہ اطلاع ملی کہ دونوں رہنماؤں کی اچانک ملاقات ہوئی ہے،

جس میں اُس وقت کے درپیش حالات پر گفتگو ہوئی،بعد میں یہ راز کھلا کہ مخدوم امین فہیم کو یہ پیش کش کی گئی ہے کہ وہ اگر اپنی پارٹی چھوڑ دیں تو انہیں وزیراعظم بنا دیا جائے گا، محترمہ بے نظیر بھٹو کو یہ پیش کش پہنچائی گئی،لیکن انہوں نے مخدوم صاحب کو اس طرح شریک ِ حکومت ہونے سے روک دیا اور انہوں نے پارٹی سربراہ کے سامنے سر تسلیم ِ خم کر دیا۔ جب یہ طے پا گیا کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی تو پیپلز پارٹی کو دو ٹکڑے کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور راؤ سکندر اقبال اور فیصل صالح حیات کی سربراہی میں دس کے قریب ارکانِ اسمبلی کا ایک گروپ پارٹی سے الگ ہو گیا اور مسلم لیگ(ق) کی حکومت بنوانے کے لئے تعاون پر تیار ہو گیا، یہ گروپ پیٹریاٹ کہلایا، نام اِس لئے اسم بامسمّیٰ تھا کہ پیپلزپارٹی سے الگ ہونے والوں نے یہ تعاون حب الوطنی کے جذبے سے مغلوب ہو کر کیا تھا۔یوں میر ظفر اللہ جمالی وزیراعظم بن گئے،اُنہیں مسلم لیگ (ق) کے ووٹ ملے، پیٹریاٹس کا تعان حاصل ہوا، تمام ہیوی ویٹ آزاد ارکان بشمول عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے انہیں ووٹ دیا،اتنے پاپڑ بیلنے کے بعد بھی وہ ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیراعظم بن سکے۔

اب ایک اور منظر ملاحظہ فرمائیں 2018ء کے سینیٹ الیکشن سے چند ماہ پہلے فیصلہ ہوا کہ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل نہیں ہونی چاہئے، اس مشن کی کامیابی کے لئے بلوچستان کا انتخاب کیا گیا اور نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے اپنے ارکان میدان میں آ گئے اور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی گئی۔نواب صاحب بیرون ملک تھے جب اُنہیں پارٹی کے اندر بغاوت کی اطلاع ملی وہ بھاگم بھاگ واپس آئے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ساتھیوں کو منا لیں گے، لیکن اُنہیں دریائے اضطراب کے پانیوں کی گہرائی اور اس کی لہروں کی تندی کا ٹھیک سے اندازہ نہ تھا، چنانچہ پارٹی قیادت کے فیصلے پر وہ مستعفی ہو گئے۔ پھر منصوبے کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی بنی پرانے چہروں کے ساتھ، نئی حکومت تشکیل پائی، مسلم لیگ کے ارکان نئی پارٹی کی طرف سے شریک ِ حکومت ہو گئے۔ بعد میں سینیٹ کے الیکشن ہوئے تو منصوبہ سو فیصد کامیاب رہا، مسلم لیگ(ن) بلوچستان سے سینیٹ کا الیکشن ہا رگئی، اس کے باوجود سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت تو رہی، لیکن پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے تعاون سے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ بن گئے،2021ء میں اُنہیں یہ اعزاز دوسری مرتبہ حاصل ہوا۔پس منظر میں کیا ہو رہا تھا یہ کہانی تفصیلی ہے اور اِس کالم کا دامن تنگ ہے۔

اب ایک تیسرا منظر ہے،ذرا مختلف، لیکن پرائے منظروں کا بھدّا سا چربہ، حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر جہانگیر ترین کے حامیوں نے ایک گروپ بنا لیا ہے، جس نے قومی اور پنجاب اسمبلی میں اپنے الگ الگ پارلیمانی لیڈر بھی چن لئے ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہیں، لیکن پنجاب کی حکومت چونکہ گروپ کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے اِس لئے وہ ان کا توڑ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں، پاکستان میں سیاسی جماعتیں کس طرح ٹوٹتی، بنتی اور بگڑتی ہیں اس کی دو مثالیں ہم نے اوپر پیش کی ہیں۔ پیپلزپارٹی کو 2002ء میں اس وقت توڑا گیا جب وہ اقتدار سے باہر تھی، لیکن مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان حکومت اُس وقت ختم ہوئی جب وہ وفاق میں بھی حکمران تھی، وفاقی حکومت اپنی بلوچستان حکومت نہ بچا سکی اور اس نے نواب ثناء اللہ زہری کو مستعفی کرانے ہی میں عافیت جانی،جیسا کہ عرض کیا بلوچستان کی حکومت کا خاتمہ تو مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا اصل ہدف سینیٹ کا الیکشن تھا، اب تحریک انصاف کے اندر جہانگیر ترین گروپ سامنے آیا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کے اہداف کیا ہیں کوئی ہیں بھی یا نہیں، جہانگیر ترین کہتے ہیں کہ یہ کوئی فارورڈ بلاک نہیں، باقی لیڈروں کا بھی کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں تو کیا یہ سب کچھ سموک سکرین ہے جس کا مقصد کہیں سے توجہ ہٹانا ہے؟ وزیراعظم سے آپ کو کوئی اختلاف نہیں تو ان کے نامزد وزیراعلیٰ سے آپ کیوں اختلاف کر رہے ہیں؟ شیخ رشید کہتے ہیں کہ یہ گروپ بجٹ پاس کرانے میں تحریک انصاف کا ساتھ دے گا اگر یہ بھی درست ہے تو یہ ساری مشق اور مشقت صرف جہانگیر ترین کو ”انصاف“ دلانے کے لئے کی جا رہی ہے یا اس سے آگے بھی اس کا کوئی ہدف ہے۔

ہمارے خیال میں اس کا مقصد فی الحال یہ بتانا ہے کہ ”ایک راستہ یہ بھی ہے“۔ویسے تاریخ کو نگاہ میں رکھیں تو جماعتیں ٹوٹنے کے وقت ایسے ہی مردان کار سامنے آتے ہیں جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کو فیصل واوڈا نے ایک ایس ایچ او کی مار قرار دیا ہے۔ کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اپنی ہی جماعت کے ارکان اسمبلی کو پولیس کے ذریعے ان کی اوقات میں رکھنے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔ اب تو اس گروپ کے ارکان وزیراعلیٰ سے بھی مل رہے ہیں اور وزیراعلیٰ کے دِل میں بھی ان کی محبت یک دم جاگ گئی ہے، لیکن بجٹ کے بعد پھر وہی بے رخیاں اور وہی الزام تراشیاں ہوں گی۔ فیصل واوڈا اگر اپنی ہی جماعت کے 50ارکان کو، جن میں سے ایک کا جہاز حکومت سازی کا بڑا موثر ہتھیار تھا، ایک ایس ایچ او کی مار قرار دیتے ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس جماعت کے باقی ارکان کتنے پانی میں ہوں گے کیا وہ بھی زیادہ سے زیادہ ایک ڈی ایس پی کی مار تو نہیں؟

مزید :

رائے -کالم -