جنات کا غلام۔۔۔ تیتیسویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔ تیتیسویں قسط
جنات کا غلام۔۔۔ تیتیسویں قسط

  

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

بتیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

دروازے کے عین اوپر ایک سبز رنگ کا زیرو کا بلب روشن تھا۔ ادھرآسمان پر گہرا سناٹا اور اندھیارا۔۔۔ اور ادھر سبز روشنی میرے قلب و نظر میں ملجگے اجالے پیدا کر رہی تھی۔ میں نے دیوار سے ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کرکے اپنے اللہ کا ذکر کرنے لگا۔ درود پاکؐ پڑھتا رہا۔ وظائف جو یاد تھے تکرار سے پڑھتا رہا پھر اپنا اسم اعظم پڑھنے لگا چند لفظوں پر مشتمل یہ کلمات بہت ہی زود اثر ہوتے ہیں۔ یہ اسم اعظم جو اسمائے الہٰی سے بنائے جاتے ہیں اگر فٹ بیٹھ جائیں تو سمجھ لیں آپ کے روحانی کمپیوٹر کو وہ پاس ورڈ مل گیا جو کمپیوٹر کے رابطے عرش پر رکھی لوح محفوظ سے جوڑ دیتا ہے۔ استغراق اور انہماک کے ساتھ پڑھنے سے رب ذوالجلال بندے کو اپنی عطا اور رحمت سے نوازتا ہے۔ اس کی مردہ تقدیر میں جان ڈال دیتا ہے گویا تقدیر بدل دیتا ہے۔ یہ صرف میرے اللہ کے اختیار میں ہے اور اللہ سے رابطہ کے لئے اس کا ذکر ہی کافی ہے۔ میں ذکر الہٰی کے خمار میں اس قدر کھو گیا تھا کہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ جاگ رہا ہوں یا سو رہا ہوں۔ میں ساعتوں کے گزرنے سے بے خبر تھا۔ دھیرے دھیرے بے چاپ گزرتے لمحوں نے مجھے قرب الہٰی کے احساس سے مالامال کر دیا تھا۔ میرے قلب و نظر پر چھائی کدورتوں کی میلی چادر ہٹ گئی تھی۔ میں نے اس وقت آنکھیں کھولیں جب مسجد کے موذن نے ہلا جلا کر مجھے بیدار کیا لیکن وہ خمار پھر بھی آنکھوں سے چھلک رہا تھا۔ موذن نے اسے کوئی اور ہی معنی دیا۔ درشت لہجے میں بولا

’’ابے نشہ کرکے اللہ کے گھر پر ڈیرہ کیوں ڈالے پڑا ہے کوئی اور جگہ نہ ملی تھی تجھے‘‘

میں موذن کو بس ایک ٹک دیکھتا رہا۔ اسے غصہ آ گیا

’’گھورتا کیا ہے ابے۔ چل اٹھ بھاگ یہاں سے‘‘

’’مولوی صاحب غصہ کیوں کرتے ہو۔ میں تمہارے گھر پر چوکی لگا کر نہیں بیٹھا۔ یہ میرے اللہ کا گھر ہے۔ اس نے برا نہیں منایا تو کیوں غصہ کرتا ہے‘‘

موذن میرا ٹوٹا ہوا اورخمار آلود لہجہ دیکھ کر تپ گیا۔

’’اپنی ناپاک زبان سے اللہ کا نام لیتا ہے۔ شرم نہیں آتی۔ شکل سے تو پڑھا لکھا لگتا ہے لیکن کرتوت نشیوں جیسے‘‘

’’مولوی صاحب میری زبان پاک ہے ۔تم اپنی زبان کو چیک کراؤ میرے ساتھ مغز ماری نہ کرو اور تالا کھولو‘‘ موذن نے میرے لہجے کی کاٹ کومحسوس کیا کہ یہ کوئی بگڑا ہوا نوجوان ہے۔ اس کے دل میں نہ جانے کیا آیا کہ پھر نہیں بولا اور مجھے گھورنے پر اکتفا کرکے دروازہ کھول کر مسجد میں چلا گیا۔

میں بھی اٹھا۔ لڑکھڑاتا ہوا مسجد میں داخل ہو گیا۔

’’تو اندر آ گیا۔۔۔ نجاست پھیلانا چاہتا ہے۔ چل باہر نکل۔۔۔‘‘ موذن نے مجھے دیکھا تو زور سے میرا بازو پکڑ کر دھکیلنے لگا۔ اکڑاؤ کی وجہ سے مجھ سے سیدھے ہو کر چلنا مشکل تھا۔ موذن نے میری لڑکھڑاتی چال دیکھ کر سمجھا کہ میں نشہ کی حالت میں ہوں۔۔۔ وہ میری باطنی کیفیت نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔

’’مولوی صاحب۔۔۔ میں نشہ میں نہیں ہوں۔۔۔ آپ اندر جائیں اور اذان دیں۔ میں نماز پڑھ کر چلا جاؤں گا۔۔۔‘‘ مسجد کے آداب ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے نرم انداز میں کہا۔

’’نشہ میں نہیں ہے۔۔۔‘‘ موذن نے گھور کر دیکھا۔ ’’ابے تری آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ بہک بہک کر چلنا۔ استغفراللہ۔ اللہ کے گھر میں آ کر جھوٹ بولتے ہو۔۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔۔‘‘ موذن نے میرا بازو نہ چھوڑا اور مجھے باہر دھکیلنے سے باز نہ آیا۔۔۔ اس اثنا میں اندر سے کسی کی گھمبیر آواز آئی۔

’’قادر بخش کس سے جھگڑ رہا ہے۔۔۔‘‘

’’علامہ صاحب ایک نشئی مسجد میں گھس آیا ہے۔۔۔‘‘

’’کیا کہتا ہے۔۔۔‘‘

’’کہتا ہے نماز پڑھنے آیا ہوں۔ لیکن مجھے تو یہ چور لگتا ہے۔ ٹوٹیاں کھول کر اور جوتیاں اٹھا کر بھاگ جائے گا۔۔۔ اس لئے باہر نکال رہا ہوں مگر یہ نکلتا ہی نہیں۔۔۔‘‘

’’قادر بخش اسے اندر آنے دو۔۔۔ نماز سے نہ روکو۔۔۔ اس کی نیت کیا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ تو آ کر اذان دے، وقت ہو رہا ہے۔‘‘ موذن قادر بخش نے مجھے بے بسی سے گھور کر دیکھا مگر جاتے جاتے دانت چبا کر بولا۔ ’’اگر تو نے کوئی گڑبڑ کی تو ترا چم ادھیڑ دوں گا۔‘‘ وہ کھلے ڈیل ڈول والا شخص تھا۔ ہاتھ سخت اور وزنی تھے۔ وہ واقعی میری چمڑی ادھیڑ سکتا تھا۔۔۔ میں اس سے الجھ نہیں سکتا تھا۔ بے وجہ ایک وہم میری ظاہری حالت سے دغا کھا رہا تھا۔۔۔ ویسے اسکی بات صحیح تھی مگر صرف اتنی۔۔۔ میں تو اپنے آپ کے ذکر کا خمار لئے بیٹھا تھا۔ میں نے اسکی بات کا پھر برا نہیں منایا۔ وہ نشئی سمجھتا تھا مجھے اور میں نے قبول کر لیا کہ ہاں میں واقعی نشہ میں ہوں مگر یہ نشہ اسکی سمجھ سے بالاتر تھا۔ میں وضو کر چکا تو اس دوران فجر کی اذان ہو چکی تھی۔ مسجد بہت بڑی نہیں تھی۔ ایک کنال رقبہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ اسکا ایک بڑا ہال تھا۔۔۔ جس طرف غسل خانے تھے اس سے چند قدم کے فاصلہ پر ایک حجرہ کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ گھمبیر آواز ادھر ہی سے سنائی دی تھی۔

میں وضو کر کے مسجد کے ہال میں پہنچا تو وہاں موذن کے علاوہ ایک عمر رسیدہ بزرگ نظر آئے۔ سفید لمبی ریش۔ سر پر سفید عمامہ‘ سفید ململ کا کرتہ اور نیچے تہبند۔ وہ نوافل ادا کر رہے تھے۔ میں نے فجر کی سنتیں ادا کیں اور ایک طرف بیٹھ کر ذکر کرنے لگا۔ نماز کا وقت ہونے پر دس بارہ نمازی حضرات آ گئے۔ اس بزرگ نے امامت کرائی۔ نہایت خشوع و خضوع رقت آمیز انداز میں تلاوت کی۔ نماز کے بعد ان کے دعا کرنے کے انداز نے مجھے مسحور کر دیا۔ نماز کے بعد لوگ چلے گئے۔ مگر میں انہیں دیکھتا رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ انہوں نے ایک آدھ بار مجھے طائرانہ نظروں سے دیکھا تھا۔ موذن بھی دیکھ چکا تھا کہ میں نے نماز پڑھی ہے۔ اسکے چہرے کا تناؤ اور نفرت بھی ختم ہو گئی تھی۔

نماز کے بعد بزرگ وضع شخص قرآن پاک پڑھنے کے لئے بیٹھ گئے۔ میں ان کے قریب ہو گیا۔ مجھے دیکھ کر دھیرے سے بولے۔

’’قادر بخش کا تجربہ اپنا ہے۔ ایک دو بار نشئی مسجد سے ٹوٹیاں اور سٹیل کے لوٹے چوری کر کے لے گئے تھے۔ اس لئے یہ تالا لگا کر جاتا ہے۔۔۔ معاف کرنا بیٹے۔ قادر بخش نے تمہیں بہت کچھ کہہ دیا۔۔۔‘‘ وہ بزرگ بولے۔

’’علامہ صاحب۔ اس میں ان کا کیا قصور۔ میری حالت دیکھ کر انہیں یہی گمان ہونا تھا۔۔۔‘‘ میں نے کہا۔

’’کہاں سے آئے ہو۔۔۔‘‘ انہوں نے پوچھا۔ میں نے مختصر الفاظ میں بتا دیا کہ سواری نہ ملنے کی وجہ سے یہ رات یونہی گزر گئی ہے۔

’’ہوں۔۔۔‘‘ وہ گہرے انداز میں سانس لیکر میری طرف دیکھنے لگے۔

’’اللہ تمہیں اس مشقت اور تکلیف پر صبر اور اجر فرمائے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ قرآن پاک کی سورۃ جن پڑھنے لگے۔ میں کامل توجہ سے تلاوت سننے لگا۔ اس وقت موذن اور صرف میں ہی مسجد میں موجود تھے۔ لیکن نہ جانے مجھے کیوں احساس ہونے لگا کہ تلاوت سننے کے لئے فرشتے اور جنات بھی جوق در جوق یہاں کھنچے چلے آئے ہیں اور مسجد کا ہال اور صحن ان کے خفیف اور لطیف وجود سے بھر چکا ہے۔ ایک گھنٹہ تک میں تلاوت کلام پاک سے محظوظ ہوتا رہا۔ اجالا اب پھیل چکا تھا۔ میں ان سے اجازت لیکر اٹھنے لگا کہ عین اس وقت ایک عورت سات آٹھ سال کے بچے کو سینے سے لگائے بھاگتی ہوئی ان کے پاس آئی۔

’’علامہ صاحب میرے لعل کو بچا لیں۔ اسے پھر دورہ پڑ گیا ہے۔‘‘

بچے کے ہا تھ پیر تشنج کے انداز میں اندر کو مڑے ہوئے تھے۔ چہرہ ایک طرف کو کھچا ہوا تھا اور سانس اٹک اٹک کر آ رہی تھی۔ ہونٹوں کے کناروں سے رالیں بہہ رہی تھیں۔

علامہ صاحب نے بچے کو چٹائی پر لٹانے کے لئے کہا اور آیات قرآن پاک پڑھ کر بچے پر پھونکنے لگے۔

***

علامہ صاحب کی شخصیت سے میں پہلے ہی مرعوب ہو چکا تھا۔ ان کی آنکھوں میں دیکھنا بہت مشکل کام تھا۔ گہری سیاہ اور جگ رتوں سے تھکی ہوئی آنکھیں تھیں ان کی۔ لیکن چہرے پر ایسا اطمینان تھا جو صرف اللہ کے شاکر بندوں کو نصیب ہوتا ہے۔ پہلے وہ زیرِلب کچھ پڑھتے رہے تھے۔ پھر انہوں نے سورہ جن میں سے مخصوص آیات پڑھ کر بچے پر پھونک ماری تھی۔ ایک بار‘ دو بار‘ تین بار۔ بچے کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ علامہ صاحب یہی آیات بار بار پڑھتے رہے۔ کچھ ہی دیر بعد بچے کے تشنج شدہ ہاتھ پاؤں پھڑکنے لگے۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے پانی سے نکالی ہوئی مچھلی پھڑک پھڑک کر آخری دم لیتے ہوئے وقفے وقفے سے پھڑکتی ہے۔ یہ دیکھ کر علامہ صاحب کے ماتھے پر شکنیں پیدا ہوئیں۔

میں کئی روز سے اللہ کے بندوں اور عملیات کرنے والوں کو نہایت قریب سے دیکھ رہا تھا۔ ایک ولی‘ عامل‘ ملنگ‘ مجذوب اور امام مسجد کے درمیان روحانی استقامت کا بنیادی فرق جو محسوس کیا ہے وہ علامہ صاحب کے ہاں دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کسی تعویذ دھاگے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ لگتا تھا بچہ ماں کے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے ڈالے گا۔ اس پر قابض شے نے اس کی رگوں میں اپنے پنجے بری طرح گاڑھ رکھے تھے۔ علامہ صاحب کی جبیں تفکر سے صرف ایک بار آلودہ ہوئی تھی۔ انہوں نے بچے کی حالت اور وظائف کو بے اثر دیکھا تو بچے کی ٹیڑھی میڑھی انگشت شہادت کو اپنے انگوٹھے اور انگشت شہادت میں دبا کر دوبارہ سے آیات قرآنی پڑھنے لگے تھے۔ بچے کو جھٹکے لگنے بند ہو گئے اور وہ آنکھیں جھپکنے لگا۔ خدا کی پناہ۔ اس کی آنکھیں کسی بھیڑئیے کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ اس نے ایک نظر اپنی ماں کی طرف دیکھا پھر دوسری نظر مجھ پر ڈالنے کے بعد علامہ صاحب کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس کے چہرے کے خدوخال بدلنے لگے اور گلے سے غراہٹ پیدا ہونے لگی۔ یوں لگا جیسے بھیڑیا کسی طاقتور جانور کے سامنے بے بس ہو کر متاع عزیز بچانے کے لئے غرا رہا ہو۔

علامہ صاحب کے چہرے پر اب جلالی آثار پیدا ہونے لگے۔ انہوں نے سورہ جن کی آیات اور آیت الکرسی پڑھ کر اس کی آنکھوں پر پھونک ماری تو بچے کے حلق سے بھیڑئیے کی آخری غراہٹ سنائی دی اور آنکھوں میں جیسے شعلہ سا بلند ہو کر بجھ گیا تھا۔ بچہ نڈھال ہو کر ماں کی گود میں گر گیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں اور چہرہ معمول کی حالت میں آ گیا۔

علامہ صاحب نے قادر بخش کو آواز دی ’’مولانا ٹوٹی سے پانی لے آؤ‘‘ قادر بخش جلدی سے اٹھا اور پلاسٹک کی ایک بوتل میں پانی بھر کر لے آیا۔ علامہ صاحب نے پانی کو دم کیا اور خاتون کو دے کر بولے ’’بچے کو ایک ہفتہ تک بوتل سے پانی پلانا۔ کم ہو جائے تو بسم اللہ پڑھ کر تازہ پانی شامل کر لینا‘‘

خاتون علامہ صاحب کو دعائیں دینے لگی ۔اس نے بچے کو اٹھا کر سینے سے لگایا اور واپس چلی گئی۔ نہ اس نے کوئی نذرانہ دیا نہ علامہ صاحب نے اسے صدقہ اور ہدیہ دینے کے لئے کہا۔ میرے لئے یہ حیرت کی بات تھی ورنہ اب تک تو میں یہی دیکھتا اور سنتا آ رہا تھا۔ تعویذ دھاگے کے نام پر کاروبار منبر پر بیٹھ کر بھی ہو رہا ہے۔ ایک صحافی کی حیثیت میں میرے لئے اس کاروبار کے گھناؤنے پہلو اب پوشیدہ نہیں رہے تھے۔ جنات‘ بھوت‘ پریت‘ کالا جادو، نظر وغیرہ جیسے سحری معاملات کے علاج معالجے اور روحانیت کے درپردہ خانقاہوں میں کاروبار کا چراغ جلانے والے بہت سے چہرے میرے سامنے بے نقاب ہو رہے تھے۔ میں ان تلخ حقائق سے کبھی نظریں نہیں چرا سکتا تھا۔ یہ سب کاروبار اور ڈھکوسلا بھی ہو رہا تھا اور پراسرار دنیا کے راز بھی مجھ پر آشکار ہو رہے تھے۔ لیکن ایک عالم دین کو یوں صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر ایک سحری عمل کا توڑ کرتے دیکھ کر مجھے حیرت آمیز خوشی ہو رہی تھی۔ حیرت تو اس بات پر تھی کہ انہوں نے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا تھا اور خوشی اس بات کی تھی کہ انہوں نے سحری توڑ کے لئے قرآن پاک کی آیات مبارکہ کے علاوہ کوئی ایسی غیر اسلامی حرکت نہیں کی تھی جسے دیکھ کر میرے دل میں چبھن ہوتی۔ میں اپنے دلی جذبات کا علامہ صاحب سے اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا۔

’’حضرت آپ نے اس دکھیاری عورت کے بچے کو ایک عذاب ناک مرض سے بچا لیا ہے۔ حیرت ہے آپ نے اس سے صدقہ خیرات کے نام پر کچھ بھی طلب نہیں کیا‘‘

’’ہوں‘‘ میری بات سن کر وہ گہری سانس بھر کر بولے۔ قبل اس کے وہ کچھ بولتے۔ تین نوجوان اندر داخل ہوئے اور قطار بنا کر علامہ صاحب سے ہاتھ ملا کر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر نہایت عقیدت سے دو تین قدم پیچھے ہو کر بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک نے مٹھائی کا بڑا ڈبہ ان کے قدموں میں رکھ دیا۔

’’بھئی یہ کیوں لے آئے۔ اس کی کیا ضرورت تھی۔ خیرت سے ہو ناں‘‘ علامہ صاحب نے آنے والوں سے پوچھا

’’جی حضرت جی ۔اللہ پاک کا کرم ہے۔ اس کے فیض سے ابا جی کی ضمانت ہو گئی ہے۔ طبیعت خراب تھی اس لئے خود زیارت کے لئے حاضر نہیں ہو سکے حالانکہ ضد کر رہے تھے کہ جب تک حضرت جی کی زیارت نہیں کر لیتے انہیں سکون نہیں ملے گا‘‘

’’اللہ تیرا شکر ہے‘‘ علامہ صاحب جنہیں آنے والے حضرت جی کہہ رہے تھے اب میری طرف متوجہ ہوئے اور نہایت شفقت کے ساتھ بولے ’’میرا اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جس نے اس کے دامن کو تھام لیا وہ طوفانوں سے نکل جاتا ہے۔ مصائب کی تلوار ان کا بال بھی بیکا نہیں کرتی۔ اللہ جل شانہ ہر شے پر قادر ہے۔ اس کی رضا کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس نے وعدہ کیا ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ وہ ذات اعلیٰ مقام فرماتی ہے مجھ سے خلوص دل سے مانگو میں تمہیں عطا کر دوں گا۔ کیا نام ہے آپ کا‘‘ حضرت جی نے اچانک رک کر میرا نام پوچھا ’’شاہد‘‘ میں نے نام بتایا تو بولے ’’سبحان اللہ‘ یعنی محبوب اور عزیز‘ گواہی دینے والا۔ میرے بچے اللہ تمہیں اس نام کی صداقت سے مالا مال کرے اور تمہیں حق گوئی اور حق شناسی کی قوت سے سرفراز کرے۔ ہاں تو میں عرض کر رہا تھا اس کائنات میں جو کچھ ہے رب ذوالجلال کے ’’کن‘‘ کی محتاج ہے۔ ہر حرف میں اس کی عطا اور حکمت ہے۔ اس لئے تو قرآن پاک مطہر و موثر ہے۔ یہ کلام الہٰی ہے۔ اللہ پاک جس زبان میں کلام فرماتا ہے وہ یہی زبان ہے۔ قرآن پاک اعجاز ربی ہے اور جو اس کلام ربی کو سمجھ لیتا ہے اس نے گویا شفا کے دست قدرت کو حاصل کر لیا۔ کلام الہٰی طالب اور مطلوب کو اپنی شفا بخشتا ہے۔ تم نے جو پوچھا وہ میں نے کہہ دیا۔ اللہ کے کلام سے اس بچے کو شفا مل گئی‘ ان کے بے گناہ باپ کی ضمانت ہو گئی۔ اب بھلا میں اس کلام کے نام پر صدقہ خیرات اور نذرانہ کیوں طلب کروں۔ میں وہ والا تاجر نہیں ہوں جو جنس بیچتا ہے۔ تاجر تو ہوں۔ میرا سودا میرے اللہ سے طے ہوتا ہے۔ میرے کاروبار میں نفع ہی نفع ہے۔ میں اس کے کلام سے بدعقیدہ لوگوں کو بھی شفا کے راستہ پر لاتا ہوں تو وہ میری سختیاں دور کر دیتا ہے۔ سنو میاں‘ اللہ کا کلام سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں بیچا جا سکتا۔ اللہ سے یہ کاروبار کرنا اچھی بات ہے۔ یہ دس بیس روپے کا تیل خرید کر دئیے جلانے کا عمل اللہ کی شریعت نہیں ہے۔ یہ عقائد ہو سکتے ہیں۔ میں اور تم کون ہو سکتے ہیں۔ مجھے بتاؤ اللہ کے انبیاءؑ ‘ صحابہ کرامؓ‘ خلفائے کرام‘ آئمہ کرام‘ اولیا کرام میں سے کسی نے اس روایت کی بنیاد رکھی ہے۔ میاں یہ کام ممنوعہ ہے۔ گمراہ مسلمانوں نے نعوذ باللہ قرآن پاک کی مقدس آیات کو غلط کاموں کے لئے استعمال کیا ہے وہ جہنمی ہیں اور جہنم کی آگ میں جلتے رہیں گے۔ یہ عمل باندھنے اور توڑنے والے لوگ ہیں۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے کو کشف حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کی دعا میں تاثیر ہوتی ہے۔ اللہ اپنے محبوب کلام کی مدد سے مانگی گئی دعا رد نہیں کرتا‘‘

حضرت جی کی باتیں میرے دل میں اتر گئیں۔ ایسا لگا جیسے شریعت اور روحانیت کے راستے جدا جدا ہیں مگر منزل ایک ہے۔ ایک قاعدے کی پابند ہے ایک راہ فنا کی مسافر ہے۔ ان باتوں کو سمجھنے کے لئے دماغ سکندری کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ذرا سے غور نے مجھے یہ نکتہ سمجھا دیا تھا کہ اصل روحانیت شریعت کے بطن سے جڑی ہوئی ہے۔

میں جنہیں صرف ایک امام مسجد سمجھ رہا تھا ان کے کاسہ دامن کو اللہ نے روحانیت کی دولت سے بھرا ہوا تھا۔ آنکھوں میں جگ رتوں کے دیپ شب بیدار ہونے کی علامت تھے۔ ساری رات اللہ کا ذکر کرتے رہتے۔ فجر کی نماز کے بعد قرآن پاک کی تعلیم دیتے اور سائلوں کے مسائل سنتے۔ آٹھ نو بجے صبح سے لیکرنماز ظہر تک نیند لیتے اور پھر بیدار ہونے کے بعد مصیبت زدہ لوگوں کی داد رسی کرتے۔ اس کے سوا ان کی کوئی مصروفیت نہیں تھی۔

ان کی تعلیمات دیکھ کر مجھے خود پر ندامت محسوس ہوئی اور دل سے اقبال کے شعر کا یہ مصرعہ نکلا۔ ’’نور سے دور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں‘‘ ایک طرف قرآن بمثل مینارہ نور تھا اور دوسری طرف عملیات کے ظلمت کدے میں کھڑے اپنے دیئے جلانے والے کھڑے نظر آ رہے تھے۔ ایک فطری اور ازلی روشنی اور اجالا اور دوسری طرف بے ثبات چراغ۔ میری مثال بالکل اس شعر کی مانند تھی۔

نور کا طالب ہوں گھبراتا ہوں اس بستی میں

طفلکِ سیماب پا ہوں مکتب ہستی میں

میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ روحانیت کی منزل میری جستجو تھی لیکن میں اس راہ کی بھول بھلیوں میں پڑ گیا تھا اور سیدھے راستے پر جو قرآن دکھاتا اسے نہیں اپنا رہا تھا۔ نہ جانے کیوں۔ ایمان کی کمزوری کی وجہ سے۔ یا پھر دنیا کی لذت نے مجھے اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا۔ دنیا کے گل و گلزار دیکھ کر میں خلد کی تمنا سے عاجز آ گیا تھا۔ دنیا شفق کی لالیوں جیسی بھلی لگ رہی تھی مجھے۔ اس کی نظارگی نے مجھے نیم بسمل کر دیا تھا حالانکہ میں جانتا تھا اگر میں خیال و عمل کی اس پگڈنڈی پر چلتا رہا تو صبح خزاں مجھے راستے میں ہی پکڑ لے گی اور میں عمر رسیدہ برگد کی طرح ادھر کہیں گم ناک راستوں میں بکھر جاؤں گا۔

حضرت جی نظربیں انسان تھے۔ آفرین ہے انہوں نے میرے اندر کے ایک کوڑھ مادہ پرست انسان کو دیکھ لیا لیکن انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا البتہ دو لفظوں میں سب کچھ سمجھا دیا تھا ’’بہتر عمل اور راہبر قرآن پاک ہے‘‘

میں نے ان کے اس ارشاد کو نصیحت سمجھا اور عہد کیا کہ اس پر قائم رہوں گا۔ لیکن میں ابنِ آدم کی اس صف میں کھڑا تھا جو ناصح کی باتوں پر کان نہیں دھرتے۔

دس بجے کے قریب میں ملکوال چلا گیا۔ بڑے ملک صاحب کھیتوں میں گئے ہوئے تھے۔ نصیر اور شاہ صاحب ابھی تک سوئے پڑے تھے۔ چاچی نے مجھے دیکھتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا وہ سخت ناراض تھیں۔

’’کہاں چلا گیا تھا تو ۔۔۔ تیرے لئے دیسی گھی سے حلوہ بنایا تھا۔ دو پہرتیرا انتظار کرتی رہی ہوں‘‘

’’اچھا اب کھا لیتا ہوں چاچی‘‘ چاچی کے ہاتھوں کا بنا ہوا حلوہ نہایت لذیذ ہوتا تھا۔ ویسے بھی بھوک سے نڈھال تھا۔ حلوے کا سن کر پیٹ میں آنتوں نے ندیدوں کی طرح اچھل کود شروع کر دی۔

’’ایک لقمہ بھی نہیں باقی بچا۔ تمہارے حصے کا حلوہ تو غازی کھا گیا ہے‘‘

’’وہ کیوں کھا گیا ۔۔۔ کہاں ہے وہ‘‘

’’رات کو آیا تھا۔ ادھر باورچی خانے میں گھس گیا اور ضد کرکے کھا گیا ۔۔۔۔۔۔ یہ جن کا بچہ بھی بڑا شوہدا ہے‘‘ چاچی غازی کا ذکر کرتے ہوئے ہنسنے لگی۔

’’چاچی غازی کب آیا تھا‘‘ میرے ذہن میں کھلبلی سی مچی

’’یہی کوئی عشا کے بعد کی بات ہے۔ کہتا تھا چاچی آج تو تمہیں دیگ پکانی چاہئے۔ میں نے کہا دیگ بھی پکا دوں گی لیکن پھر کبھی۔ کہنے لگا ہائے چاچی اگر تو آج حلوے کی دیگ پکا کر مجھے دے دیتی تو تیری ساری مرادیں پوری ہو جاتیں۔ ہاں مجھے یاد آیا شاہد پتر ۔۔۔ اگر میں غازی کو حلوے کی دیگ پکا کر دے دوں تو کیا میری ساری مرادین پوری ہو جائیں گی‘‘

’’چھوڑ چاچی ۔۔۔ تو غازی کی باتوں میں آ گئی ہے۔ وہ شرارتی ہے۔ ابھی رات کو وہ مجھے کہہ رہا تھا ۔۔۔‘‘ کچھ کہتے کہتے میں بوکھلا گیا

’’ہیں ۔۔۔ تو رات بھر آیا نہیں تجھے کہاں مل گیا‘‘ چاچی نے میری بات پکڑ لی۔

’’نہیں ۔۔۔ دراصل وہ دو روز پہلے ملا تھا‘‘ میں نے بات بدل ڈالی ’’کہتا تھا میں چاچی کے ہاتھوں سے حلوہ کھانا چاہتا ہوں۔ ممکن ہے اس نے آپ کو لالچ دینے کے لئے یہ کہہ دی ہو کیونکہ وہ بابا جی اور شاہ صاحب کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا‘‘

’’ہاں یہ تو ہے‘‘ چاچی کو جیسے سمجھ آ گئی۔

’’چاچا جی کب تک آ جائیں گے‘‘ میں نے پوچھا

’’اب تک انہیں آ جانا چاہئے‘‘ چاچی نے بتایا۔ اس اثنا میں حویلی کے گیٹ پر کسی نے زور زور سے کنڈی کھٹکھٹائی۔

’’لگتا ہے ملک صاحب آ گئے ہیں‘‘ چاچی نے سر پر چادر سیدھی کی لیکن پھر رک گئیں

’’لیکن وہ کیوں کنڈی کھٹکھٹائیں گے‘‘

’’دے خیر سخیا ۔۔۔ بری امام سرکار کے نام کی خیرات ۔۔۔ دے ملکانی‘‘

باہر سے آنے والی آواز کے ساتھ بھاری گھنگھرو کی چھن چھن سنائی دینے لگی۔ ایسے لگا جیسے بہت سارے بیل اپنے گلے میں لٹکائے ٹل کھٹکھٹاتے ہوئے بھاگ رہے ہیں

’’آئی بابا ۔۔۔ آئی‘‘ چاچی نے فقیر کی صدا سنتے ہی کہا اور جلدی سے اندر سے ایک رنگدار بڑی سی بیل بوٹوں والی چادر اور کچھ روپے مجھے تھما کر بولیں ’’جاؤ انہیں دے آؤ‘‘

مگر یہ سب کیا ہے‘‘ میں ہاتھ میں پکڑے روپے اور چادر کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔ چادر سے مجھے زلیخا کی مہک آ رہی تھی

’’پہلے دے آؤ پھر بتاؤں گی‘‘ وہ آہستہ سے بولیں جیسے انہیں ڈر ہو کوئی سن نہ لے۔ چاچی کی اس رازداری سے میرے کان کھڑے ہو گئے۔

میں حویلی کے دروازے پر گیا۔ باہر چار ملنگ کھڑے تھے۔ انہوں نے ایک بڑی سی سبز چادر کو چاروں کونوں سے پکڑا ہوا تھا۔ ان کی رانوں پر اور کمر پر بڑے بڑے سے پیتل کے گھنگھرو اور زنجیریں بندھی تھیں۔ وہ ہلتے تو گھنگھرو زوردار آواز سے بجنے لگتے۔ مجھے دیکھ کر ملنگ نے چادر آگے کی۔ میں نے روپے اس میں ڈال دئیے۔ ایک کہنہ سال ملنگ نے مجھ سے چادر لے لی اور جاتے جاتے بولا ’’ملک صاحب کو ہمارا سلام بول دینا۔ گٹھالی کے ملنگ آئے تھے نذرانہ پہنچ جائے گا‘‘ میں اندر آ گیا۔

’’دے آئے ۔۔۔ کچھ کہا تو نہیں‘‘ چاچی نے راہداری میں سراسیمہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے ملنگ کا پیغام چاچی کو دے دیا اور پوچھا ’’چاچی یہ کیا معاملہ ہے‘‘

چاچی نے میرے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ’’چپ کر ۔۔۔ ملک صاحب آنے والے ہیں ان سے پوچھ لینا‘‘

ایک گھنٹہ بعد ملک صاحب آ گئے۔ چاچی نے انہیں ملنگوں کی بابت بتا دیا۔ مجھ سے کہنے لگے ’’یہ بری امام صاحب سرکار کے شاگردوں کے مریدوں کا جتھا تھا۔ اس کو یہ لوگ اپنی زبان میں ڈالی کہتے ہیں‘‘

’’ڈالی ۔۔۔ کیا مطلب؟‘‘ ’’یعنی اردو زبان میں جسے شاخ کہتے ہیں‘‘

’’مجھے نہیں پتہ‘‘ ملک صاحب کہنے لگے ’’میں زیادہ نہیں جانتا۔ مجھے صرف معلوم ہے کہ جب میں راولپنڈی سے نورپور شاہاں حضرت شاہ لطیفؒ کے مزار پر حاضری دینے گیا تو مجھے وہاں ان کے بارے میں معلوم ہوا۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ وہاں ایک میرے عزیز دوست کے پیرومرشد رہتے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو معلوم ہوا وہ پشاور گئے ہیں اور ’’ڈالی‘‘ کے ساتھ آئیں گے۔ میرے دوست نے مجھے بتایا ہے کہ ڈالی دراصل کسے کہتے ہیں۔ پشاور میں سرائے جہاں بیگم صاحبہ جو گور گٹھڑی کے نام سے معروف ہے وہاں حضرت بری سرکار کی گھٹالی ہے۔ یہاں بری امامؒ صاحب نے کچھ عرصہ قیام کیا تھا۔ ان کے مریدین نے اس مقام کو محفوظ کر لیا اور وہاں بری امامؒ کے ملنگ اور عقیدت مند سارا سال آتے رہتے ہیں۔ جن دنوں بری امامؒ میں عرس ہوتا ہے اس سے آٹھ نو دن پہلے پشاور میں گھٹالی کے ملنگ اور مرید جلوس نکالتے اور خیرات اکٹھی کرتے ہیں۔ اس جلوس کو بری امام کی ڈالی کہا جاتا ہے۔ سرحد کے کونے کھدروں سے مریدین ’’ڈالی‘‘ میں شریک ہوتے اور آٹھ دن کا پیدل سفر کرکے بری امام کے مزار پر اس وقت پہنچتے ہیں جب عرس کا پہلا سورج طلوع ہوتا ہے۔ ان کے راستے میں آٹھ پڑاؤ ہوتے ہیں۔ اردگرد کے مقامی لوگ اس ڈالی کا استقبال کرتے ہیں۔ ابھی ڈالی کے نورپور شاہاں پہنچنے میں آٹھ دن باقی تھے کہ میں واپس آ گیا۔ میرے دوست نے پیرومرشد کی عدم موجودگی میں مجھے ایک مجذوب سے ملوایا تھا۔ وہ دربار سے باہر ایک جھگی میں بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگے کہ

’’پرچھائیاں تیرا پیچھا نہیں چھوڑیں گی جا پہلے سلام کرکے آ‘‘

میرے دوست نے مجھے سلام کرنے کے آداب سکھائے۔ بری امام صاحب کے روضہ کے قریب ان کے شاگرد اور مریدین بھی دفن ہیں بری امام کے دربار میں پہنچنے سے پہلے ان کی قبور پر جا کر دعا کرنی ہوتی ہے۔ لہٰذا میں دعا کرکے آیا تو مجذوب بابا نے مجھے کہا کہ تم اپنے علاقے کی ڈالی کے ذریعے نذرانہ بھیج دو۔ پرچھائیاں پیچھا چھوڑ دیں گی۔ مجذوب کے ساتھ ایک مرید تھا جس نے میرا مسئلہ سن کر مجھے نذرانے کی رقم اور زلیخا کی استعمال شدہ چادر ارسال کرنے کے لئے کہا۔ ہمارے علاقے کے یہ چاروں ملنگ ہر سال پیدل بری امام صاحب کے مزار پر جاتے ہیں۔ میں نے آتے ہی ان سے درخواست کی تو آج وہ سوغات لے کر چلے گئے۔

’’لیکن چاچا جی ۔۔۔ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد ۔۔۔ ہم نے وعدہ کیا‘‘

’’چپ کر جا پتر‘‘ ملک صاحب نے مجھے قدرے ناگواری سے روک دیا۔ ’’میں اپنی بیٹی کو آگ میں نہیں جھونکنا چاہتا اس کے لئے اب مجھے جہاں سے آسرا ملے گا میں اس کو تھام لوں گا‘‘

’’آپ کا یہی فیصلہ ہے‘‘ میں نے پوچھا

’’ہاں ۔۔۔ میں اس فیصلہ پر پہنچا ہوں کہ اب میں بے شک تباہ و برباد ہو جاؤں میں اس شیطانی جال کو توڑ دوں گا‘‘

’’ٹھیک ہے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں‘‘ میں نے ان کے لہجے میں استقامت دیکھی تو انہیں بابا تیلے شاہ اور حضرت جی سے ملاقات کا ماجرہ سنایا اور کہا ’’چاچا جی وہ دنیاوی طمع میں مبتلا نہیں ہیں۔ حضرت جی اور بابا تیلے شاہ کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہمیں ان سے مدد حاصل کرنی ہو گی‘‘

میری بات سن کر ملک صاحب کے چہرے پر زندگی ہویدا ہونے لگی۔ میرا کاندھا تھام کر بولے

’’تو پھر انتظار کس بات کا۔ ابھی ان کے پاس چلتے ہیں‘‘

میں نے گھڑی دیکھی حضرت جی کے اٹھنے کا وقت ہونے کو تھا ’’ہم ظہر کی نماز ان کے ساتھ پڑھیں گے۔ انشاء اللہ‘‘

چونتیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزید : کتابیں /جنات کا غلام