میگھا کرکٹ کے جذباتی شائقین سے نالاں!

میگھا کرکٹ کے جذباتی شائقین سے نالاں!

  

 پی ایس ایل کے لئے خصوصی گانا تیار کرنے والی 

خواتین کی کرکٹ ٹیم بنانا میگھا کا انقلابی قدم ہے، فنکاروں کا خراج تحسین

 اداکارہ و گلوکارہ میگھا نے پی ایس ایل کے لئے خصوصی گانا تیار کرلیا ہے گانے کی عکسبندی گوجرانوالہ کرکٹ سٹیڈیم میں کی گئی اس موقع پر وائس چیئرمین پی ایچ اے حافظ ذیشان،ڈاکٹر ضیا،ڈاکٹرطاہرشہزاد،عمران عابد اور دیگر آفیشلز بھی موجود تھے،میگھا کا کہنا ہے کہ ان کا یہ گانا پی ایس ایل کے موقع پر عوام کے لئے تحفہ ہے گانے پر بہت محنت کی ہے امید ہے سب کو پسند آئے گا،گانے کی ڈائریکشن اور میوزک عظیم امین نے دیا ہے جبکہ خضر حیات مون نے لکھاہے کوریو گرافی وقاص علی اور زیشان علی جانو نے کی ہے،پی ایس ایل کا یہ سپیشل سونگ چند روز میں ریلیز کردیاجائے گا ”پاکستان“سے گفتگو کرتے ہوئے میگھا نے بتایا کہ ہمارے ملک میں کرکٹ ایک مقبول کھیل ہے اب یہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی کھیل رہی ہیں ہماری خواتین کی ٹیم نے بھی کئی یادگار میچ جیت کر ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے۔میگھا کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کے تمام میچوں میں کھلاڑیوں اور شائقین کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔میگھا نے مزید بتایا کہ ہمارے ملک میں میچ جیتنے کی صورت میں افاقہ بھی ہو جاتا ہے لیکن اکثر بخار کا پارہ چڑھا ہی رہتا ہے۔یہ بخار اْس وقت اپنی ساری حدیں پار کر جاتا ہے جب پاکستان اور انڈیا کا میچ ہو رہا ہوتا ہے۔یوں تو میچ سے پہلے الیکٹرانک میڈیا پر متواتر یہ نغمہ الاپا جاتا رہتاہے کہ ”تْم جیتو یا ہارو سنو، ہمیں تْم سے پیار ہے“ لیکن میچ ہارنے کی صورت میں وہی الیکٹرانک میڈیا طنز کے تیر برساتا ہے اور قوم جو تبصرے کر رہی ہوتی ہے اْسے اگر کھلاڑی اپنے کانوں سے سْن لیں تو شاید ہمیشہ کے لئے کھیلنے سے توبہ کر لیں۔کھیل تو کھیل ہوتا ہے جس میں ایک ٹیم نے ہارنا ہی ہوتا ہے لیکن ہماری تو یہ ضد ہے کہ ”ہم ہیں پاکستانی، ہم تو جیتیں گے“۔جس دن کرکٹ میچ ہو، اْس دن پوری قوم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ”لسوہڑے“ کی طرح ٹیلی وژن سے چپک رہتی ہے اور پھر ہر بال پر جو تجزیے اور تبصرے ہوتے ہیں اْنہیں سْن کر تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے ہمارے لکھاری تو ”کَکھ“ بھی نہیں پیدائشی تجزیہ نگار تویہ قوم ہے جو میچ کے دوران ”الہامی کیفیات“ میں مبتلاء ہو جاتی ہے۔لوگ میچ والے دن تجزیہ نگار زیادہ بَن جاتے ہیں۔لوگوں نے میچ بھی دیکھنا ہوتا ہے اور بار بار یہ بھی کہنا ہوتا ہے کہ ”میچ فِکس ہے اِس لیے دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں“ البتہ ہمارا کوئی کھلاڑی اگر چوکا یا چھکّا لگائے تو سب سے بلند نعرہ بھی وہی لگاتا ہے۔ نصیحت البتہ وہ بھی سبھی کو یہی کرتا ہے کہ میچ دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہر میچ اور ہر بال ”فِکس“ ہوتا ہے۔کرکٹ ایک بائی چانس گیم ہے۔بیشمارایسے میچزدیکھنے کوملتے ہیں جن میں ٹیمیں جیتتے جیتتے ہارجاتی ہیں۔ اور آخری بال تک میچ میں کچھ بھی ہوسکتاہے۔ میگھانے کہا کہ کرکٹ کا جنوں اس وقت پوری دنیا بالخصوص برِ صغیر ہندو پاک میں ہر وقت اس کے شائقین پر سر چڑھ کر بولتا ہے۔ زن ومرد صغیر و کبیر اس کھیل کے جادوئی اثر سے مسحور ہیں۔ آج کل تو یہ جنوں پی ایس ایل کے پیش ِ نظر پورے جوبن پر ہے۔سلام و کلام اور حال و احوال سے قبل لوگ ایک دوسرے سے کچھ اس طرح کے سوال پوچھتے ہیں کہ سکور کیا ہوا؟ کتنے آوٹ ہوئے؟ فلاں بلے باز نے کتنے رن جوڑے۔وغیرہ وغیرہ۔دلچسپ بات یہ ہے۔کہ یہ جنوں خاص و عام پر یکساں طور پر طاری ہے۔ امیر و غریب،حاکم و محکوم غرض ہر طبقے سے وابستہ اشخاص اس مرض لا دوا میں مبتلا ہیں۔

اس سلسلے میں راقم الحروف کے لئے دماغی لحاظ سے کافی کمزور ایک شخص دلچسپی کا باعث ہے۔ دنیا و مافیھا سے بے نیا ز یہ شخص مقامی کرکٹ شائقین میں سے الگ پہچان رکھتا ہے۔ اور کرکٹ کی دنیا سے وابسطہ ہر چھوٹی بڑی خبر سے نہ صرف بھر واقف ہے۔بلکہ اپنی پسندیدہ ٹیم کے تعلق سے کافی جذباتی بھی ہے۔یوں تو یہ جناب ایک فارسی ضرب المثل”دیوانہ باش تا غمِ تو دیگراں خورند“کاچلتا پھرتا نمونہ ہے۔اور اپنی تمام فکریں اس نے دوسروں کے سرمنڈھ دی ہیں۔ مگر کر کٹ کے حوالے سے وہ ”دیوانہ بکارِ خویش ہوشیار“کا مصداق ہے۔ایک اورنا خواندہ شخص جو اپنی مادری زبان کے علاوہ کسی بھی زبان سے مانوس نہیں ہے،انگریزی اور اردو میں کومنٹری سننا اس کا مشغلہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے انگریزی اور اردو کومنٹری کے اکثر الفاظ ازبر ہیں۔یہاں بر ِ صغیر ِ ہندوپاک میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ جن سے لوگوں کا اس کھیل کے ساتھ والہانہ لگاو ظاہر ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز کے ساتھ والہانہ اور جذباتی لگاو بسا اوقات اس کے مدعا و مقصد پر بھی اثر انداز ہوا کرتا ہے۔ اور اثر پزیر افراد اس کے بنیادی مقصد سے منحرف ہو کر کسی اور سمت چل نکلتے ہیں۔ جہاں تک کوئی بھی کھیل کھیلنے یا دیکھنے کا تعلق ہے۔اسے جسمانی کثرت کے ساتھ ساتھ تفریح کا سامان بھی بہم ہوتا ہے۔جسمانی کثرت کے بے شمار فوائد ہیں جس کا کوئی منکر نہیں ہو سکتا ہے۔ اور تفریح روزمرہ کے بوجھل پن کو زائل کر دیتی ہے۔تفریح کی عدم موجودگی میں اعصا ب شکن پریشانیاں ذہنی تناو کو جنم دیتی ہیں۔ یقینا تفریح جسمانی اور ذہنی خستگی کو دور کرکے پھر سے تر و تازگی لوٹا دیتی ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ کھیل اسی صورت میں ہر دو مثبت فوائد کا حامل ہو سکتا ہے کہ جب کھیل کو محض کھیل سمجھ کر کھیلا یا دیکھا جائے۔ بالفاظ دیگر کھیل براے زندگی ہو نہ زندگی براے کھیل۔لیکن یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔جذباتیت کا کھیل میں اس قدر عمل دخل ہے کہ جیسے دو ٹیموں کے درمیان میچ نہ ہو بلکہ دو قوموں یا ملکوں کے مابین بقا کی جنگ ہو۔لہٰذا جو جیت جائے وہی سکندر!اور جو ہار جائے وہ اس کی مثال اس بادشاہ کی سی ہے کہ جس نے اپنی سلطنت و حکومت جنگ میں گنوائی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جو کھیل نفسیاتی خلفشار اور ذہنی تناوسے نبرد آزما ہونے کا بہترین وسیلہ تھا وہی کھیل کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ شائقین کے لئے مختلف قسم کی پریشانیوں کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ہمارے معاشروں میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے کہ جنہیں بارہا کرکٹ میچ دیکھنا کافی مہنگا پڑا۔بہت سے کرکٹ پریمی تو حرکتِ قلب بند ہونے سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ چند ایک تواسی سبب ہسپتال منتقل ہوگئے۔ پسندیدہ ٹیم کی ہار کے غم میں ہزاروں آنکھیں اشک بارہوئیں۔جنوں کی اس سے بڑھ کر انتہا ء اور کیا ہو سکتی ہے کہ تامل ناڈو کے ایک نوجوان کرکٹ شائق نے بھارتی ٹیم کی فتح یابی کے لئے اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہی زبان کاٹ لی۔اس نے یہ انوکھا بلیدان(قربانی) دیوتا کو خوش کرنے کے لئے دیا تا کہ بھارتی ٹیم آسٹریلیا سے سمی فائنل جیت جائے۔اتنا جنون بھی ٹھیک نہیں ہے۔یاد رہے کہ میگھا نے شوبز خواتین کی کرکٹ ٹیم بنا کر جو سلسلہ شروع کیا تھا اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔میگھا کے اقدام کے بارے میں فنکاراؤں کا کہنا تھا کہ اس سے ہمارے شوق کی تسکین بھی ہو رہی تھی اور ہمیں فٹ رہنے کا موقع بھی مل رہا تھا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رنہا چاہیے تھا۔ باری سٹوڈیوز میں منعقد ہونے والے دوستانہ میچز میں جن فنکاراؤں نے شرکت کی تھی ان میں میگھا کے علاوہ آشا چوہدری،مدھو،لیلیٰ صدیقی،رائمہ خان، عظمیٰ، پنکی اور دیگر شامل تھیں۔میں نے دوستوں کے مشورہ کے بعد کرکٹ میچوں کا سلسلہ شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت ساری فنکارائیں اس میں شامل ہوگئی تھیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -