تہلکہ مچانے والے مقبول ترین ناول ۔۔۔قسط نمبر37

تہلکہ مچانے والے مقبول ترین ناول ۔۔۔قسط نمبر37
تہلکہ مچانے والے مقبول ترین ناول ۔۔۔قسط نمبر37

  

استاد فرحان احمد اور جمشےد کی ےاد نے مےرے اندر اےک گہری خاموشی پیدا کردی تھی۔ صالح کو اس کا اچھی طرح اندازہ تھا۔ اس نے مےری توجہ اےک دوسری طرف بٹانے کے لےے کہا:

”تم بھول گئے ہو کہ ہم اصل مےں رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم سے ملنے نکلے تھے۔ تم بےچ مےں بےٹھ گئے۔ اب وہ خود تمھےں ےاد کررہے ہےں۔“

”کےا ابو ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم سے نہےں ملے۔“، انور نے حےرت سے کہا۔

صالح وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگا:

”امت محمدیہ کا ہر وہ شخص جو مےدان حشر سے کامےاب ہوکر آتا ہے اس کے گھر والے اس کا استقبال کرتے ہیں۔پھر دیگر کامیاب لوگوں کے ساتھ اسے رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے جام کوثر پینے کی سعادت ملتی ہے۔اس کے بعد وہ لوگ خوشی خوشی بقول تمھارے والد کے، اس ’جھےل ‘کے کنارے کسی جگہ آبےٹھے ہےں۔ مگر تمھارے والد کو میدان حشر گھومنے کا شوق تھا اس لیے حضور سے ملاقات سے قبل ہی انھےں ان کی درخواست پر دوبارہ میدان حشر میں بھیج دیا گےا۔ لےکن اب حضور نے انھےں خود ہی طلب کرلےا ہے۔“

”خیریت! اس طلبی کی کوئی خاص وجہ؟“، ناعمہ نے پوچھا تو صالح نے جواباً کہا:

تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ، جوزندگی بدل سکتاہے ۔۔۔قسط نمبر38 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

”بات ےہ ہے کہ امتوں کا حساب ہوتے ہوتے اب حضرت نوح کی قوم کا حساب کتاب شروع ہوا ہے۔ مگر ان کی قوم نے اس بات ہی سے انکار کردےا ہے کہ نوح نے ان تک خدا کا کوئی پےغام پہنچاےا تھا۔“

”ےہ کےا بات ہوئی؟ وہ یہ کےسے کہہ سکتے ہےں کہ ان تک خدا کا پےغام نہےں پہنچا؟ ان کو تو دنےا ہی مےں اس جرم مےں غرق کردیا گےا تھا کہ انھوں نے حضرت نوح کے پےغام کو جھٹلاےا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فےصلے کے بعد وہ اس کے سامنے کھڑے ہوکر ےہ کےسے کہہ سکتے ہےں کہ حضرت نوح نے ان تک خدا کا پےغام نہےں پہنچاےا؟“، عارفہ نے حےرانی سے سوال کیا۔

لےلیٰ نے اس کی بات پر مزےد اضافہ کے:

تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ، جوزندگی بدل سکتاہے ۔۔۔قسط نمبر36 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

”اور اگر وہ جھوٹ بولنے کے لےے ڈھٹائی پر اتر ہی آئے ہےں تو قرآن مجےد مےں بےان ہوا تھا کہ اےسے لوگوں کے منہ بند کرکے ان کے ہاتھ پاو¿ں سے گواہی لی جائے گے۔ تو اب وہ ےہ بات کےسے کہہ رہے ہےں؟“

صالح نے انہےں سمجھاتے ہوئے وضاحت کی:

”ےہ بات کہنے والے لوگ حضرت نوح کی وہ قوم نہےں جن پر عذاب آےا تھا۔ ےہ لوگ دراصل حضرت نوح پر ایمان لانے والوں کی اولادمیں سے ہیںجنھوں نے قوم نوح کے غرق ہونے کے بعد دنےا کو آباد کےا تھا۔ مگر ان کی اےک بڑی تعداد وہ تھی جن مےں حضرت نوح کے بعد براہ راست کوئی پےغمبر نہےں آےا۔ ےہ لوگ توحےد و آخرت کی اسی رہنمائی پر گزارہ کرتے رہے جو دراصل حضرت نوح کی تھی.... چاہے اےک طوےل وقت گزرنے کی بنا پر وہ اس کو اس حےثےت مےں نہ جانتے ہوں اور چاہے انھوں نے اس کی شکل کتنی ہی بگاڑ دی ہو.... اسی لےے وہ حضرت نوح کی رہنمائی کے منکر ہوگئے ہےں۔“

 میں نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے صالح کی بات کو مزےد واضح کےا:

”دےکھو بات ےہ ہے کہ انسانےت کا بےشتر حصہ حضرت نوح ہی کی اولاد مےں سے ہے۔ ان مےں سے بہت سے گروہ، خاص کر سامی نسل کے لوگ جو دنےا کے مرکز ےعنی مڈل اےسٹ اور اس کے اطراف مےں آباد رہے، وہ ہےں جن مےں نبوت و رسالت کا مستقل سلسلہ قائم رہا۔ مگر بہت سے گروہوں مےں حضرت نوح کے بعد کوئی پےغمبر نہےں آےا۔ خاص کر حضرت ابراہےم کے بعد تو صورتحال ےہ ہوگئی تھی کہ ان کی نسل سے باہر کوئی پےغمبر آےا ہی نہےں۔ چنانچہ ےہی وہ باقی لوگ ہےں جو اولاد نوح ےا قوم نوح مےں سے ہےں۔ انھےں امتوں کے حساب کتاب کے موقع پر حضرت نوح کی امت کے ساتھ پےش کیا گےا ہے۔ مگر ےہ لوگ براہ راست حضرت نوح کی تعلےمات کو ان کے نام سے اس طرح نہےں جانتے جس طرح اہل کتاب ےا مسلمان جانتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت نوح کے پےغام پہنچانے کا انکار کردےا اور ان کی ےہ بات اےک طرح سے غلط نہےں ہے۔“

صالح نے مےری بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا:

”عبد اللہ نے ٹھےک کہا۔ حقےقت ےہ ہے کہ نوح کی اس قوم تک خدا کا پےغام اصل مےں امت محمدےہ نے پہنچاےا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علےہ وسلم کی امت کے تمام اولےن و آخرےن شہدا کو بلاےا جارہا ہے جنھوں نے پچھلی دنیا میں ان لوگوں پر حق کی گواہی دی تھی۔ آج یہ شہدا بتائےں گے کہ انہوں نے کسی نہ کسی طرح ان لوگوں تک توحےد کا وہ پےغام پہنچادےا تھا جو حضرت نوح کی وراثت تھا اور جو بعد کے ادوار میں ضائع ہوگیا تھا۔ مگر آخری رسول کی بعثت کے بعد تاقےامت اس پےغام کو محفوظ کردیا گےا اور امت مسلمہ نے توحےد کی ےہ امانت اولاد نوح تک پہنچادی تھی۔“

ناعمہ نے مےری طرف دےکھتے ہوئے پوچھا:

”تو پھر انھےں امت محمدےہ کے ساتھ کےوں نہےں پےش کیا گےا؟“

”وہ اسلام قبول کرلےتے تو اےسا ہی ہوتا، مگر انھوں نے اسلام قبول نہےں کیا اور اپنے تحریف شدہ آبائی مذہب پر قائم رہے۔ آج ہر امت چونکہ اپنے رسول کے ساتھ پےش کی جارہی ہے تو اےسے سارے لوگ قوم نوح کے طور پر پےش کیے گئے ہےں کےوں کہ ان کے آبا و اجداد حضرت نوح پر اےمان لائے تھے۔“، مےں نے جواب دےا اور پھر خلاصہ¿ بحث کے طور پر کہا:

”اپنی قوم کے ابتدائی حصے کو پےغام الٰہی خود حضرت نوح نے پہنچاےا اور آخری حصے کو مسلمانوں نے پہنچاےا جو نوح سمےت تمام رسولوں کے پےغام توحےد و آخرت کے امےن تھے۔“

”چلو بھئی اب بلاےا جارہا ہے۔“، صالح مجھ سے مخاطب ہوکر بولا۔

اس کے ساتھ ہی ہم دونوں اٹھ کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔

جاری ہے

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے

(ابویحییٰ کی تصنیف ”جب زندگی شروع ہوگی“ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

)

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -