چینی کمپنی بی وائے ڈی کی ریکارڈ سالانہ آمدنی، ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا

چینی کمپنی بی وائے ڈی کی ریکارڈ سالانہ آمدنی، ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا
چینی کمپنی بی وائے ڈی کی ریکارڈ سالانہ آمدنی، ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا
سورس: BYD

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن)  چینی کار ساز کمپنی بی وائے ڈی (BYD) نے گزشتہ سال اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا، جس کے بعد اس کی مجموعی آمدنی 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی اور اس نے اپنے حریف ٹیسلا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ شینزن میں قائم یہ کمپنی اپنی عالمی توسیع کی رفتار مزید بڑھا رہی ہے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بی وائے ڈی حالیہ برسوں میں چین کی مسابقتی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں سب سے نمایاں کمپنی کے طور پر ابھری ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی ای وی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے۔ کمپنی نے 2024 میں 777.1 ارب یوان (107.2 ارب ڈالر) کی آمدنی حاصل کی جو کہ 2023 کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف گزشتہ سال ٹیسلا کی رپورٹ شدہ 97.7 ارب ڈالر کی آمدنی سے زیادہ ہیں بلکہ بلومبرگ کے 766 ارب یوان کے تخمینے سے بھی بہتر ثابت ہوئے۔ بی وائے ڈی نے 2024 میں 40.3 ارب یوان کا خالص منافع ریکارڈ کیا جو کہ 2023 کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ  اور ایک نیا ریکارڈ ہے۔

کمپنی کے شیئرز کی قیمت بھی رواں ماہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جب اس نے اپنی نئی بیٹری ٹیکنالوجی متعارف کروائی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ صرف پانچ منٹ کی چارجنگ کے بعد گاڑی کو 470 کلومیٹر  تک چلنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ بی وائے ڈی کے مطابق، اس کی نئی بیٹری اور چارجنگ سسٹم کی رفتار 1000 کلو واٹ تک پہنچ چکی ہے، جو ٹیسلا کے سپر چارجرز سے کہیں زیادہ ہے، جو اس وقت 500 کلو واٹ تک کی چارجنگ سپیڈ فراہم کرتے ہیں۔