جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 14

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی ...
جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 14

  

کلثوم نواز کی سیاست میں انٹری کسی خطرے سے کم نہیں تھی،انکی تقاریر سن کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کسی ڈر خوف کا شکار تھیں۔انہوں نے جنرل مشرف کو ایک ایسے القاب سے مخاطب کرنے کا وطیرہ بنا لیا تھا کہ وہ کوشش کے باوجود کلثوم نواز کے جارحانہ رویہ کے آگے بند نہ باندھ سکے ،انہوں نے جنرل مشرف کی سازشوں کو بے نقاب کرکے رکھ دیا تھا،وہ کیا کہتی ہیں، ذراسنئے ۔ 

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 13 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اسلام کے لئے نیا خطرہ

’’خو د ساختہ حکو مت غیر مسلموں کے ایجنڈے پر بڑے زور و شور سے کام کررہی ہے۔ پہلے ناموس رسالت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کا ناپاک ارادہ کیا، پھر سیکولر سٹیٹ بنانے کا ارادہ کرکے د وقومی نظریہ کا مذاق اڑایا۔ آج کل جس طرح حکومت ہمارے دینی مدارس کے پیچھے پڑکر، غیر ملکی ایجنڈے پر کام کررہی ہے تو میں اس خود ساختہ حکومت کو یہ باور کرانا چاہتی ہوں کہ دینی مدارس اور تبلیغی مراکز ہمارا اثاثہ ہیں۔ یہی تو اسلام کی تبلیغ کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ اگر آج برصغیر میں اسلام نظر آرہا ہے تو یہ دینی مدارس اور اولیاء اللہ کی تبلیغ کا ہی فیض ہے۔ اگر اس حکومت نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہمارے کسی اسلامی ورثے پر ہاتھ ڈالا تو یاد رکھو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یہ تم کہیں وہ وقت بتائے گا جب بچہ بچہ سرپر کفن باندھ کر تمہارے مقابلے کے لئے باہر آجائے گا۔ 

12 اکتوبر، یوم سیاہ کے بعد جس طرح 14 کروڑ عوام کی عزت نفس سے کھیلا گیا، سیاسی قیدیوں کو تھانوں سے نکال کر ٹارچل سیل میں ان پر تشدد کیا گیا اور عوام کے نمائندوں کو جس برے طریقے سے اذیتیں دی گئیں، لگتا تھا کہ وہ اپنے ملک کی کسی جیل میں نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کے ہاتھ لگے ہوئے ہیں۔ یہ کس کا ایجنڈا ہے اور ٹارچل سیل میں کیا ثابت کرنا چاہتے تھے؟ اپنی ناپختہ سوچ کی وجہ سے اس حکومت نے 14 کروڑ عوام کی عزت نفس کو مجروح کیا، خواتین کو تھانوں میں بند کیا، تاجروں کو دفتروں میں گولیوں سے چھلنی کیا، زمینداروں کو مارکیٹ اور منڈی کے چکر لگوا لگوا کر تھکا دیا، رشوت اور سفارش کا نیا دور شروع ہوگیا۔ عوام کی بات حکومت تک پہنچانا گویا چاند پر پہنچنے کے مترادف ہوگئی۔ آمریت نے عوام کے راستے میں دیواریں کھڑی کردیں اور ان کی جائز کاموں تک رسائی بھی ختم ہوگئی۔ یہ اس حکومت کا پچھلے آٹھ مہینوں میں عوام کے لئے تحفہ ہے۔

اللہ کا بڑا کرم ہوا کہ کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہوئی مگر پوچھیں ان زمینداروں سے کہ کپاس کاشت کرکے وہ کتنی مشکلات سے گزررہے ہیں۔ آج ملک میں گندم ہماری حکومت کی محنت کے نتیجہ میں عوام کی ضرورت سے بھی زیادہی ہے، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ زمیندار کی گندم سڑکوں پر پڑی ہے اور حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے نہ تو زمیندار کو گندم کا ریٹ پورا مل رہا ہے اور نہ ہی زمیندار کو سٹو رکرنے کی سہولتیں میسر ہیں۔ باردانہ سفارش اور رشوت کے بغیر نہیں ملتا۔ نواز شریف نے گندم میں پاکستان کی خود کفالت کے خواب کو عملی جامہ پہنایا تھا۔ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی نے ان کی اور میاں شہباز شریف کی محنت پر پانی پھیر دیا۔

ریٹائرڈ جنرل کو بے سود غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں۔ جیسے روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجارہا تھا۔ اسی طرح ملک میں ہر جگہ لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ غریب، غریب سے غریب تر ہورہا ہے اور جنرل کو باہر کے دوروں کی پڑی ہے۔ اس صدی کا یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ ملک کے وزیر خزانہ نے اپنی جیب میں استعفیٰ رکھ کر بجٹ بنایا۔ بجٹ تو نام کا ہے، اصل میں یہ قمو کو معاشی بدحالی میں دھکیلنے کا ایک طے شدہ منصوبہ ہے اور میں مجلس تحفظ پاکستان کے فورم سے یہ قرار داد پیش کرتی ہوں کہ ایسا ناقص بجٹ بنانے پر ناصر ف وزیر خزانہ بلکہ پوری حکومت کو استعفیٰ دے کر اپنی راہ لینی چاہئے۔ قوم کو بہت کچھ دکھایا گیا، دیا کچھ نہیں۔ الٹا ہر روز قوم سے بچا کچھا بھی چھین لینے کی بات ہورہی ہے۔ اب بہت سے اور منی بجٹ آئیں گے۔ خود ساختہ چیف ایگزیکٹو کا حال ہی میں ناکام دروہ یہ ثابت کررہا ہے کہ ملک میں پٹرول اور مہنگا ہوجائے گا۔

12 اکتوبر کی سیاہ رات کو شبخون مارنے والوں نے قوم سے من و سلویٰ لانے کے دعوے کئے لیکن غریب کے منہ سے دو وقت کا نوالہ بھی چھین لیا۔ لاء اینڈ آرڈر تباہ کردیا گیا۔ آج لوگ اپنے آپ کو گھروں میں بھی محفوظ نہیں پارہے۔ ملک میں خوف و ہراس کا یہ عالم ہے کہ شہری چین کی نیند نہیں سوسکتے۔ پرویز مشرف! ذرا بڑے ایوانوں سے نکل کر غریب کی جھونپڑی کی طرف نظر ڈالو اور یہ سوچو کہ 100 روپے دیہاڑی کمانے والاتانگہ بان اور دفتر میں ساڑھے تین ہزار پر کام کرنے والا کلرک مہینے کے تیس دن کس طرح گزارتا ہے۔ اب کچھ کرکے دکھانے کا وقت ہے، معاشی حالت کو بہتر کرنے کا وقت ہے۔ پچھلے آٹھ مہینوں میں ٹی وی اور اخباروں پر قوم کو مکے دکھانے سے مسائل بڑھے ہیں، حل نہیں ہوئے۔ جو ایجنڈا قوم کو پیش کیا تھا اس میں بری طرح ناکام ہوگئے ہو۔ تم نے ناکام تو ہونا ہی تھا کیونکہ تمہارا اصل ایجنڈا دو قومی نظریہ کی تذلیل کرنی تھی، تحفظ ختم نبوتﷺ کے قانون کو بدلنا تھا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کو ختم کرنا تھا اور اب آہستہ آہستہ تمہاری حکومت اسلام کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ تمہارا ٹیلی ویژن کلچر کسی اسلامی ملک کا نہیں ہو سکتا۔ کبھی ٹی وی پر بے حیائی دکھا کر اور کبھی ہاتھوں میں کتے اٹھا کر تم پاکستانی کلچر کی توہین کررہے ہو، آپنے آقاؤں پر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟

تمہارے ایجنڈے کا ایٹم نمبر ایک مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنا ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے نہ صرف تحریک پاکستان میں اپنا خون بہایا بلکہ پچھلے پچاس سال سے یہ مسلم لیگ ہی تو ہے جو کشمیر کاز کے لئے دن رات کام کرتی رہی ہے۔ ہم جہاد کشمیر پر کسی قسم کی سودا بازی قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے دیں گے۔ 12 اکتوبر کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ شاید شبخون کے نتیجے میں بننے والی حکومت دینی مدارس اور مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک میں مارشل لاء لگا، ملک کا کوئی نہ کوئی حصہ ملک سے الگ ہوگیایا اس پر دشمن نے غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ کبھی مشرقی پاکستان کٹا اور کبھی سیاچین گلیشیئر ہاتھ سے گیا۔ عوامی حکومتیں ملک بناتی ہیں اور رات کی تاریکی میں ملک کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے ہمیشہ اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ مگر میں اس دفعہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو یہ باور کرانا چاہتی ہوں کہ اگ اس نے ہر بار کی طرح اس بار بھی اس آمر کی حکومت کو دیکھتے ہوئے ملک کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تو یہ اس کی بھول ہوگی۔

ہم نے دفاع پاکستان کے لئے سروں پر کفن باندھ لئے ہیں۔ مسلم لیگ نے تن تنہا اس ملک کو حاصل کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے 14 کروڑ عوام اس کا دفاع کرنا بھی جانتے ہیں۔ مسلم لیگ اور افواج پاکستان آج بھی ایک ماں کے دو بیٹوں کے نام ہیں۔ صرف ایک ریٹائرڈ شخص کو نکال کر۔ آج خطے میں ایک آمر کی حکومت کو دیکھتے ہوئے واجپائی! سن لو اگر تم نے حملے کا کوئی ناپاک ارادہ کیا تو تمہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔ سینوں پہ بم باندھنے والا جذبہ آج بھی ہمارے خون میں بسا ہوا ہے۔ ایک شخص نے اگر سالمیت پاکستان کو خطرے میں ڈالا ہے تو وہ اکیلا اور تنہا ہے۔ باقی قوم ہر وقت کسی بھی جارحیت کے جواب کے لئے چاک و چوبند ہے۔

میں کروڑوں عوام کی طرف سے یہ قرار داد پیش کررہی ہوں کہ پرویز مشرف! کارگل پر کمیشن بناؤ اور حقائق کو سامنے لاؤ۔ میں ان ماؤں، بیواؤں اور یتیموں کی صدا بن کر تمہارے سامنے کھڑی ہوں جن کے خاوند، بیٹے اور باپ تمہاری ناپختہ سوچ اور ناقص منصوبہ بندی کے نتیجہ میں شہید ہوئے۔تمہیں شہداء کے خون کا حساب دینا ہوگا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ان لوگوں کے انجام سے سبق سیکھو، حیدر علی اور ٹیپو سلطان کا نام تو قیامت تک زندہ رہے گا، مگر ان سے غداری کرنے والوں کا انجام آج تاریخ کے اوراق میں ایک عبرت کے نشان کے طور پر ہے۔

میں 8 جولائی کو اپنے ان بھائیوں کی امداد کے لئے مہم چلارہی ہوں جو خشک سالی کی وجہ سے اپنے دیس میں بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ میں پوری قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ اپنے ان بھائیوں کے لئے دل کھول کر چندہ دیں۔ میں نے ایک اخبار میں ایک بے گورو کفن لاش دیکھی، حالانکہ میں چولستان اور بلوچستان کا دورہ کرکے آئی تھی۔ یہ تصویر اس دورے کے بعد کی ہے۔ ان ناگفتہ بہ حالات کو جو قحط زدگان بھائیوں پر گزررہے ہیں، آنکھوں سے دیکھ کر ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ میں تو حیران ہوں اور داد دیتی ہوں اپنے پریس کو کہ آمریت کے اس دور میں جب کہ ان پر گورنمنٹ نے طرح طرح کی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں، آزادی صحافت سلب کی ہوئی ہے، پھر بھی ایک اخبار نے حط زدہ علاقے میں ایک بے گوروکفن لاش کی تصویر کو صفحہ اول پر لگاکر یہ ثابت کردیا کہ حکومت نے قحط زدگان کے ساتھ کیا حشر کیا ہے۔ پرویز مشرف! کس بات سے شرماتے ہو، عوام کا سامنا کیوں نہیں کرتے، مصیبت زدگان کی امداد کے لئے کیوں نہیں پہنچتے؟ اس لئے کہ یہ کام آمروں کے نہیں ہوتے۔ وہ دکھ درد میں عوام کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے۔ یہ کام تو عوامی نمائندوں کے ہوتے ہیں جن کے دل دن رات اپنی قوم کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کے دکھ درد محسوس کرتے ہیں اور جو اقتدار کو خدا کی طرف سے ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اس شخص کو عوام کا کیا دکھ درد ہوگا جس نے صرف دو لفظوں کے آرڈر کے نتیجے میں 14 کروڑ عوام سے ان کی حکومت چھین لی، ملک سے اس کا آئین چھین لیا، قوم سے ان کے لیڈر کو چھین کر سلاخوں کے پیچھے بند کردیا۔ میں ہر محب وطن سے یہ درخواست کروں گی کہ 8 جولائی کو کاروان تحفظ پاکستان کا ساتھ دے اور جن شہروں سے یہ کارواں گزرے ان سے درخواست کروں گی کہ وہ دل کھول کر قحط زدگان کی مدد کریں۔

عالمی عدالت انصاف میں اٹلانٹک طیارہ کی تباہی کے سلسلہ میں دائر کیا جانے والا مقدمہ سماعت سے پہلے ہی خارج کردیا گیا، قوم مطالبہ کرتی ہے کہ سماعت کا ابتدائی ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے، مقدمہ کی برخاستگی نااہل حکمرانوں اور سفارشی لیگل ٹیم کی نالائقی پر دلالت کرتی ہے۔ آج اٹلانٹک کے شہیدوں کا مقدس لہو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟ نواز شریف کو سازش کے تحت طیارہ کیس میں جھوٹی سزا دلوانے والے عالمی عدالت انصاف میں شہدائے پاکستان کے لئے انصاف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔‘‘ (خطاب: 25جون، 2000ء)

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /جبر اور جمہوریت