حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت تنزلی کا شکار: ایم ولی 

حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت تنزلی کا شکار: ایم ولی 

  

 سرائے نورنگ(نمائندہ پاکستان)عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت تنزلی کاشکارہے جس وجہ سے عوام دووقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہیں تاہم حکمران جھوٹی تسلیوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں پختونوں کی سرزمین پر اسلام اور کفر کی جنگ نہیں بلکہ  ہمارے وسائل پر قبضے کے لئے اسلام کا نام استعمال کیا جارہا ہے،۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلن میں میں اے این پی کے رہنما مطیع اللہ خان کی رہائش گاہ اور اباخیل میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جلسوں سے خطاب کیا، دیگر مقررین میں ایم پی اے شگفتہ ملک، سابق ایم پی ایز یاسمین ضیا و گل صاحب خان، ممبر صوبائی کونسل ملک ریاض، تیمور باز خان،ضلعی صدر ملک علی سرور خان، جنرل سیکرٹری فرمان اللہ، ممریز خان، محمد شعیب خان، خالد خان، شاہ سوار خان، سبیل زمان، اختر خان، ریاض مروت،  عمران اللہ بیگو خیل، ہمایون خان مروت اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کی سرزمین پر وسائل کی جنگ لڑی جارہی ہے خیبر پختونخوا ضرورت سے دو گنا زائد بجلی پیدا کرتا ہے لیکن یہاں بجلی کی سہولت ہے نہ ہی منافع کی مد میں اربوں روپے ادا کئے جارہے ہیں،8سال سے پختونخوا کو بجلی کی مد میں منافع کی رقم نہیں ملی ہے جبکہ نااہل صوبائی حکمران مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ہم اپنے وسائل پر اسی طرح کا اختیار چاہتے ہیں جیسا پنجاب کو حاصل ہے جو جب چاہتا ہے دیگر صوبوں کو گندم کی فراہمی بند کردیتا ہے، ہمارا صوبہ تیل، گیس اور دیگر معدنیات سے مالا مال ہے لیکن اس کے باوجود پیچھے جارہاہے اور پختون بنیادی ضرورتوں و ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ وسائل پر اختیار کی جنگ باچا خان نے انگریزوں سے لڑی اور آج وہی جنگ ہم ان کے غلاموں اور وفاداروں سے لڑ رہے ہیں،وقت آگیا ہے کہ پختون اپنے حقوق اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لئے بیدار ہوں اور اپنی صفوں میں اتحاد لائیں، عوامی نیشنل پارٹی اپنے وسائل پر اختیار اور پختونوں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔مزید کہاکہ۔پختونوں کی سرزمین پر اسلام اور کفر کی جنگ نہیں بلکہ  ہمارے وسائل پر قبضے کے لئے اسلام کا نام استعمال کیا جارہا ہے، پختون من الحیث القوم مسلمان ہیں تو ان کی سرزمین پر اسلام اور کفر کی جنگ کہاں سے آگئی؟  دراصل اس جنگ کی آڑ میں ہماری مساجد شہید کی گئیں بے گناہ پختونوں کے خون سے اس سرزمین کو رنگین کیا گیا جنہوں نے یہ جنگ مسلط کی وہ جہاد کی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -