خالد شمیم کی زندگی خطرے میں ہے: اہلیہ

خالد شمیم کی زندگی خطرے میں ہے: اہلیہ
خالد شمیم کی زندگی خطرے میں ہے: اہلیہ

  

کراچی(یو این پی)متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کیس کے مرکزی ملزم خالد شمیم کی اہلیہ کا دعوی ہے کہ ان کے شوہر کو راولپنڈی کی جیل میں ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ بینا خالد نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں کچھ اہم سوالات اٹھائے اور اس بات کی تردید کی کہ ان کے شوہر کو جون 2015 میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے وقت گرفتار کیا گیا۔انھوں نے دعوی کیا کہ خالد شمیم کو ان کے سامنے 6 جنوری 2011 کو کراچی کے علاقے ملیر ہالٹ سے حراست میں لیا گیا۔بینا خالد کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کی غیر قانونی حراست سے متعلق ایک پٹیشن 12 جنوری 2011 کو سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جبکہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر خالد شمیم کی گمشدگی کی درخواست بھی ماڈل کالونی پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی تھی۔خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کبھی برطانیہ نہیں گئے، لیکن ان پر جھوٹا بیان دینے کے لیے دبا ڈالا گیا۔بینا خالد کے مطابق، 'میرے شوہر پاکستانی شہری ہیں اور وہ گذشتہ 5 سالوں سے پاکستانی حکام کی حراست میں ہیں۔انھوں نے سوال کیا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں قتل کیا گیا، لیکن ان کے قتل کا کیس پاکستان میں کیوں رجسٹر کیا گیا اور ریاست اس کیس میں مدعی کیوں بنی، دوسری جانب کیس کی تحقیقات بھی لندن میں کی جارہی ہیں جبکہ ان کا خاندان بھی یہاں رہائش پذیر ہے۔بینا خالد نے مطالبہ کیا کہ سچائی کو سامنے لانے کے لیے ان کے شوہر کو لندن بھیجا جائے۔انھوں نے الزام لگایا کہ مقامی حکام کی تحقیقات کا مقصد حقیقی مجرموں کو پشت پناہی فراہم کرنا ہے۔دوسری جانب ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان ایم کیو ایم کا حامی اور ووٹر ہے لیکن انھوں نے اس کیس کے سلسلے میں مدد کے لیے پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔بینا خالد نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس معاملے کا نوٹس لے کر انھیں ان کے شوہر سے ملاقات کی اجازت دینے کی بھی اپیل کی۔

مزید :

اسلام آباد -