’’جوڈیشل کمیشن ، کراچی آپریشن اور روزگار سکیم‘‘

’’جوڈیشل کمیشن ، کراچی آپریشن اور روزگار سکیم‘‘
’’جوڈیشل کمیشن ، کراچی آپریشن اور روزگار سکیم‘‘

  

سات ماہ کی جدوجہد کے بعد تحریکِ انصاف نے وہ کچھ حاصل کر لیا جس کا اعلان وزیراعظم نے 14اگست کے لانگ مارچ سے 2دِن قبل ہی کر دیا تھا۔جوڈیشل کمیشن پر دونوں جماعتوں میں معاہدے کی تفصیلات کے مطابق دھاندلی ثابت ہونے پر وزیراعظم خود اسمبلی توڑ دیں گے اور نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ ن لیگ اور تحریکِ انصاف کے مابین اس معاہدے کی کاپی دیگر پارلیمانی جماعتوں کو بھیج دی گئی۔ اے این پی کے رہنما زاہد خان نے اس معاہدے کو حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین ’’مک مکا‘‘ قرار دے دیا۔ معاہدے میں ایم آئی اور آئی ایس آئی سے بھی ’’حسبِ ضرورت‘‘ مدد لینے پر اتفاق ہوا (لیکن کمیشن کے لئے یہ لازم نہیں ہوگا)۔ جوڈیشل کمیشن ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تشکیل دیا جائے گا جبکہ تحقیقات کسی ٹائم فریم کے بغیر سمری ٹرائل کے ذریعے ہوں گی لیکن معاہدے میں یہ تعین نہیں کیا گیا کہ کِن کِن حلقوں کی تحقیقات ہوں گی؟ یہ معاہدہ دونوں جماعتوں کے مابین انڈرسٹینڈنگ کو ظاہر کرتا ہے۔ اسمبلی میں واپسی کا فیصلہ تحریکِ انصاف نے اس جوڈیشل کمیشن کے نوٹیفکیشن سے مشروط کر دیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ نوٹیفکیشن کا اجرا اب زیاد ہ دور نہیں۔وزیراعظم نے منگل کو اس معاہدے کے حوالے سے پارلیمانی پارٹیوں کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا۔خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ قوم ایک ہیجانی کیفیت سے نکلی اورایک نئے لانگ مارچ یا آزادی بس کے عذاب کا فوری خطرہ ٹل گیا۔

ویسے بھی ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ ایک طرف دہشت گردوں کے خلاف ضربِ عضب اور ’’خیبر آپریشن ‘‘ ہے تو دوسری طرف کراچی میں کلین اپ آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر خود ’’مقتدر حلقے‘‘ بھی کسی احتجاج کی’’اجازت ‘‘ نہیں دے سکتے۔ وفاقی حکومت اور فوج مضبوط عزم اور حوصلے کے ساتھ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک سرگرم رہنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں جس میں انشاء اللہ فتح حکومت کی ہوگی، بہادر فوج کی ہوگی اور پاکستان کی ہوگی۔

متحدہ قومی موومنٹ کو سیاسی بقا کے لیے اپنے اندر سے جرائم پیشہ افراد کو نکالنا ہوگا، اپنے مسلح ونگ ختم کرنا ہوں گے۔ نائن زیرو پر چھاپے میں جو خطرناک مجرم گرفتار ہوئے، نیٹو کا جو اسلحہ ملا اور عمیر صدیقی اور صولت مرزا نے جو تہلکہ خیز انکشافات کئے، انہوں نے ایم کیو ایم کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں منی لانڈرنگ ، فاروق عمران قتل کیس،کراچی میں رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر کی جانب سے ایف آئی آر اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے حوالے سے الزامات نے ایم کیو ایم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کی ذمہ دار خود ایم کیو ایم ہے اگراسے سیاست میں باقی رہنا ہے تو سیکیورٹی فورسز سے تعاون کرتے ہوئے اپنی صفوں میں چھپے جرائم پیشہ افراد کو پارٹی سے باہر نکالنا ہوگا، معافی اور رعائت کی اب مزید گنجائش نہیں۔

آج کل اخبارات اور میڈیا چینلز پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے ایک اشتہار سننے اور دیکھنے میں آرہا ہے کہ نوازشریف حکومت جب بھی آئی، مہنگائی میں کمی لائی۔ماضی میں مسلم لیگ (ن) کا دورِ حکومت عوام کی خوشحالی کا آئینہ دار رہا ہے۔ 1991 میں ایسی معاشی اصلاحات آئیں کہ ہمسایہ ملک بھارت کواقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے اس کی نقل کرنا پڑی، جبکہ 1997-99 میں پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن گیا جس کے پاس موٹر وے جیسا شاہکار ہے۔

پچھلے 5ماہ میں پٹرولیم کی مصنوعات میں 40سے 45روپے فی لیٹرکی ریکارڈ کمی ہوئی جبکہ سننے میں آرہا ہے کہ یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات مزید 4سے 5روپے تک سستی ہونے کا امکان ہے۔ 1991 میں نوازشریف دورِ حکومت میں مہنگائی کی شرح 12.7 فیصد سے9.8فیصد اور 1997-99 میں 13.7 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد کی سطح پر آئی جبکہ موجودہ دورِ حکومت میں گزشتہ 10سال میں پہلی مرتبہ مہنگائی کی شرح اپنی کم ترین سطح 3.2 فیصد پر آگئی ہے۔

مہنگائی میں کمی اور معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی گواہی غیر ملکی ذرائع ابلاغ بھی دے رہے ہیں۔ اقتصادی امور پر اتھارٹی سمجھے جانے والی امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف 6ماہ کے احتجاج ، اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باوجود ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ بلوم برگ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی، بیرون ملک سے ترسیل زر میں اضافہ ، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کا مسلسل اضافے کے ساتھ 16ارب ڈالر تک پہنچ جانا، سٹاک میں تیزی سے اضافہ اور پاکستان کی کرنسی کادُنیا کی بہترین مبادلات میں شمار ہونا نوازحکومت کی بڑی کامیابی ہے۔وزیراعظم چند روز قبل سیالکوٹ کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے ایوانِ صنعت و تجارت اور وزیرپانی و بجلی خواجہ محمد آصف کی رہائش گاہ پرمسلم لیگی ورکرز سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کراچی آپریشن کے متعلق کہا کہ آپریشن کسی جماعت کے نہیں بلکہ مجرموں کے خلاف کیا جارہا ہے جسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔وزیراعظم نے ضربِ عضب کے حوالے سے کہا کہ اس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ وزیراعظم نے قوم کو بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی خوشخبری بھی دی کہ ایل این جی سے 3600 میگاواٹ اور چین سے 4000 میگاواٹ بجلی درآمد کر کے ہم اِنشا اللہ 2017ء تک لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے۔

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پنجاب میں 31ارب روپے سے اپنا روزگار سکیم کا افتتاح کیا جو پاکستان کی سب سے بڑی روزگار سکیم ہے۔ سکیم کے تحت شفاف طریقے اور میرٹ پر 50ہزار گاڑیوں کی تقسیم کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ 50ہزار افراد کا مطلب 50ہزار خاندان اور 50ہزار خاندان کا مطلب تقربیاً3لاکھ افرادہیں جو براہِ راست اس سکیم سے مستفید ہوں گے۔ تقریب سے خطاب میں خادمِ اعلیٰ نے کہا کہ 3برس قبل ن لیگ کی حکومت نے10ارب روپے کی مالیت سے نوجوانوں میں 20ہزار گاڑیاں تقسیم کیں جس کا ریکوری ریٹ99.9فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ نے خوش خبری دی کہ جن خوش نصیبوں کا نام نکلا ہے انہیں سروس چارجز ادا نہیں کرنا ہوں گے یہ بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔ اس روزگار سکیم میں سوزوکی ، راوی اور بولان گاڑیاں دی جارہی ہیں جو مارکیٹ سے 95ہزار روپے سستی ہیں۔ تقریب کے شرکاء نے خادمِ اعلیٰ کے اس قدم کو سراہا۔ حکومتِ پنجاب اور پاکستان بناسپتی مینوفیکچر ز ایسوسی ایشن نے بھی عالمی منڈ ی میں پام آئل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو دینے کے لیے گھی اور آئل میں 15روپے فی کلو/لیٹر کمی کردی ہے۔

مزید : کالم