وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر76

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر76
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر76

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چند ماہ بعد ہی بھولو برادران بھارت کے طویل دورے کے لیے روانہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ کلا پہلوان پسر بیرا پہلوان،اچھا پہلوان گوجرانوالیہ بھی تھا۔ریل گاڑی پر سفر کا آغاز ہوا۔ پہلوان بمبئی جاکر اترے۔ان کا اُتارا اگری پاڑا کے مقام پر ڈین صاحب کے پاس ہوا۔ وسیع و عریض کوٹھی پہلوانوں کے تصرف میں دے دی گئی تھی۔ مداحو ں کو خبر ہوئی تو بمبئی میں رونقیں جمنے لگیں۔پہلوانوں کے متوالے ان کے دیدار کے لیے امڈنے لگے۔پہلے چند روز تک تھکن اتارنے کے بعد پہلوان کولہا پور روانہ ہوئے جہاں گوگا پہلوان کا ایک چیلنج مقابلہ تھا۔اس سے قبل1956ء میں جب بھولو برادران کولہا پور میں وارد ہوئے تھے تو اندریکر مرہٹہ پہلوان نے بھولو کو للکاراتھا۔

گوگا پہلوان بیس کے پیٹے میں تھا۔ جواں سال،فولادی بدن، آنکھوں میں عقابی چمک، چھوٹی چھوٹی مونچھیں گوگا پہلوان کی مردانہ وجاہت کا پر تو تھیں۔ وہ جتنا خوبرو تھااتنا ہی بڑا فن کار بھی تھا۔ اندریکر نے جونہی بھولو کو للکارا گوگا پہلوان اکھاڑے میں آگیا اور ببلیاں مار مار کر کہنے لگا۔’’اوئے مرہٹے سورما!پہلے میرے ساتھ تو گھل کر دیکھ پھر پہاڑ پر چڑھنے کی بات کرنا۔‘‘

بھولو پہلوان گوگا کی اس تعلّی پر خوش ہوا مگر اس نے مصنوعی خفگی کا اظہار کیا اور اسے پیار سے ڈانٹ کر کہا۔’’گو گے!اس طرح نہیں کرتے۔تیری اس سے جوڑ نہیں بنتی۔‘‘

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر75  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’بھا اس بھوتنی دے بچے نے آپ کو کیوں للکارا ہے؟‘‘گوگا بپھر کر بولا۔

’’تو اس میں غلط کیا ہے۔اس کا حق ہے جس کو مرضی للکارے۔‘‘بھولو نے سمجھایا۔

پھر ٹھیکیداروں نے اندریکر مرہٹہ سے مقابلہ کے لیے بھولو کی بجائے اچھا پہلوان کو مانگ لیا۔اچھا پہلوان نے اندریکر جیسے فن کار کو دو تین پکڑوں کے بعد گرا دیا تھا۔آج وہی اندریکر پھر اکھاڑے میں کھڑا تھا اور گوگا پہلوان اس سے حساب کتاب کرنے آیا تھا۔

اندریکر مرہٹہ نے گذشتہ پانچ سالوں میں خود کو کندن بنا لیا تھافن کی گانیاں گھوٹ گھوٹ کر پیتا رہا تھا۔ایک پل بھی آرام میں نہیں گزارا تھا۔وہ بھولو برادران کو داغدار کرنے کے درپے تھا۔گوگا جب اس سے لگنے کے لیے بڑھا تھا تو اس کی تیزیاں دیکھنے کے لائق تھیں۔اندریکر نے گوگا کوپسوڑی ڈال دی تھی۔ ایک گھنٹہ تک داؤ پیچ ہوتا رہا۔نہ گوگا مرہٹہ شاہ زور کا داؤ کھا رہا تھا اور نہ اندریکر گوگا کے داؤ پر چڑھ رہا تھا۔بالآخر جب ایک گھنٹہ پانچ منٹ ہوئے تو گوگا کو موقع مل ہی گیا۔ اس نے حریف کو تباہ کن ڈھاک مار کر صاف چت کر دیا اور اس کی چھاتی پر سوار ہو گیا۔ اس کشتی میں فتح یاب ہوتے ہی دوسرے دن کولہا پوری عوام نے رستم کولہا پور صادق پہلوان پسرنکا سائیکل والے سے گوگا کا مقابلہ دیکھنے کی فرمائش کر دی۔

اندریکر سے جیت کے بدلے میں گوگا کو دس ہزار روپے نقد کے علاوہ چاندی کا گرز بھی ملا تھا اور کولہا پوری دستار بندی بھی ہوئی تھی۔ صادق پہلوان سے گوگا کی ہتھ جوڑی بھاری معاوضہ پر ہوئی اور آٹھ روز بعد ٹکراؤ کا اعلان ہو گیا مگر بھولو پہلوان کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ گوگا کسی کو بتائے بغیر بمبئی روانہ ہو گیا۔

گوگا پہلوان بمبئی میں اکھاڑے میں زور کرنے نہیں گیا تھا۔ اسے ہندو ناریوں نے اپنی گیسوئے دراز میں گرفتار کرلیا تھا۔ مردانہ وجاہت کا پیکر گوگا جب سے بمبئی آیا تھا اسے بہت سی حسیناؤں نے اپنے جھرمٹ میں لے لیا تھا۔ ادھر گوگا بمبمئی کی نازنینوں کے تیر نظر کا شکار ہوا تھا تو اندھراکی پہلوان پر بھی ایک افتاد پڑ گئی تھی۔ بھارت حکومت نے اکی کے پیچھے ایک سی آئی ڈی خاتون آفیسر لگا دی تھی۔ اس کا نام شوبھا دیوی تھا۔ حسن کا مرقع تھی۔گفتگو کے آداب اور دل لبھانے کے انداز میں مہارت رکھتی تھی۔ اکی توگوگا سے بھی بڑھ کر جواں تھا۔ شوبھا دیوی کا فریفتہ ہو جانا اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ بھارتی محکمہ سراغرسانی کی آفیسر شوبھا دیوی صرف اکی کے لیے مخصوص تھی۔ اکی پہلوان بھائیوں سے الگ تھلگ تو نہیں ہوتا تھا مگر ایک دن وہ بمبئی کی تاریخی یادگاروں کی سیاحت کے لیے چل نکلا تھا۔ شوبھا دیوی اس کے تعاقب میں تھی۔اس نے اکی کو گائیڈ بن کر عمارتوں کی سیر کرائی اور پہلوان کو اپنی گرفت میں جکڑتی چلی گئی۔ اکی صاف اور کھرا تھا۔ اس نے شوبھا کی کیفیت بھانپ لی اور اسے صاف کہہ دیا تھا۔’’شوبھا دیوی جی! میں اس میدان کا بندہ نہیں ہوں۔ میں تو ویسے بھی پردیسی ہوں۔ آج نہیں تو کل چلاجاؤں گا۔ اس لیے کسی چکر میں نہیں پڑوں گا۔‘‘

شوبھا دیوی بولی۔’’پہلوان جی آپ کیا، سارا سنسار ہی پردیسی ہے۔ ہمارے درمیان تو ایک چھوٹی سی سرحد ہے اور آپ اسے ناقابل عبور سمجھتے ہیں۔ میں تو سالوں سے آپ کے سپنے دیکھ رہی ہوں۔ آج میری اچھا پوری ہونے کا سمے آیا ہے۔ پہلوان جی بھگوان کے واسطے مجھے مت دھتکاریئے۔‘‘

’’ناں بھی ناں۔‘‘اکی پہلوان نے معصومیت سے کہا۔’’تم ہندو۔۔۔میں مسلمان۔۔۔ملاپ تو ویسے بھی نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘

’’ملاپ کیوں نہیں ہو سکتا۔‘‘شوبھا دیوی گھمبیر لہجے میں بولی۔’’دین دھرم دل دنیا ۔۔۔پہلوان جی کچھ بھی تو نہیں۔۔۔معاملہ ملاپ کا ہو تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ آپ شاید گھبرا رہے ہوں مگر میں ہی جرات کروں گی۔ اگر آپ رضا مند ہوں تو آپ کے اطمینان کے لیے میں اپنا دھرم چھوڑنے کو تیار ہوں۔‘‘

اکی پہلوان نے چونک کر دیکھا اور بولا۔’’شوبھا دیوی یہ تو بڑی اچھی بات ہے مگر پھر بھی میں کچھ سوچنا چاہوں گا۔‘‘

’’ہاں ضرور سوچیں۔‘‘ شوبھا دیوی نے کہا۔ ’’مگر پہلوان جی ایک بات یادرکھیں۔ میرے من کی کلی مرجھانے نہ پائے۔ اگر آپ نے مجھے قبول نہ کیا تو مر جاؤں گی۔‘‘

اکی پہلوان پریشان ہو گیا۔اس روز کے بعد اس نے تنہا نکلنا چھوڑ دیا مبادا شو بھا دیوی سے ٹاکرا ہو جائے۔اس کے دل میں محبت کی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں مگر وہ اپنے فن اور وطن سے پیار کرتا تھا۔کھلنڈرا سا اکی پہلوان دل کے معاملے میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا جس سے بھولو برادران کی بدنامی کا احتمال ہو۔ ایک شام وہ بڑا خاموش بیٹھا تھا۔بھولو پہلوان نے پریشانی کا سبب دریافت کیا تو اکی پہلوان نے شوبھادیوی کے بارے میں بتادیا۔

بھولو پہلوان سوچ میں پڑ گیا پھر اس نے اکی سے کہا۔’’پھر تم نے کیا سوچا ہے؟‘‘

’’سوچنا کیا ہے بھا!‘‘ اکی پہلوان نے کہا۔’’میں ایسے کاموں سے بچنا چاہتا ہوں۔مگر پھر سوچتا ہوں کہ اس بے چاری کا کیا بنے گا۔‘‘

’’اکی یار!‘‘ بھولو اور اکی کی بہت سی قدریں مشترک تھیں اور دونوں بے تکلف بھی تھے۔’’اگر نانک رہ سکو تو قلندرانہ بات ہے۔ ایک بات یادرکھو کہ ہم یہاں اپنے ملک کے سفیر بن کر آئے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے اس دھرتی پر بڑا نام کمایا ہے۔اگر ہم سے کوئی غلطی ہو گئی تو بڑی شرمندگی ہو گی۔ بس بزرگوں کی عزت کا خیال رکھنا۔‘‘

تیسرے روز ایک دنگل تھا۔ جس کے افتتاح پر شوبھا دیوی نے اکی پہلوان کو پکڑ لیا اور گلہ شکوہ کرنے لگی۔

’’دیوی جی میری جان چھوڑ ہی دیں تو اچھاہے۔‘‘اکی پہلوان نے دل پر جبر کیا اور اسے جھوٹ بول کر بہلا دیا۔’’میں ویسے بھی منگا جاچکا ہوں۔اب ظاہر ہے میں اپنی منگیتر کو چھوڑ کر آپ سے شادی کرنے سے تو رہا۔‘‘

شوبھا دیوی کی آنکھیں بھر آئیں۔’’پہلوان جی!آپ بڑے بے رحم ہیں۔کسی کا دل رکھنا نہیں جانتے۔‘‘

’’بی بی ہمیں اس طرح کی عادتیں ہی نہیں ہیں۔ ‘‘اکی نے صاف صاف کہہ دیا۔’’ہم جس سے منسوب ہو جائیں صرف اسی کا دل رکھتے ہیں۔ پرائی عورتوں سے بات کرنا بھی اچھا نہیں سمجھتے۔‘‘

شوبھا دیوی نے اپنی آنکھیں صاف کیں اوربھڑکی آواز میں بولی۔’’ٹھیک ہے پہلوان جی! میں کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں مارنا چاہتی۔ میں سمجھوں گی کہ میرے نصیب میں آپ کا پیار نہ تھا۔‘‘

شوبھا دیوی یہ کہہ کر چلی گئی۔ پھر ایسی گئی جب تک بھولو برادران ہند یاترا پر رہے شوبھا نے پلٹ کر اکی سے رابطہ نہ کیا۔

ادھر گوگا کا معاملہ بھی یہی تھا۔بمبئی میں بھولو برادران کے اتارے کے بعد ان کی دعوتیں ہوئیں تو بہت سی حسیناؤں کی نظریں گوگے پر ٹھہر گئی تھیں۔ گوگا نے ان بے باک نگاہوں کو درخور اعتناء نہ سمجھا مگر ایک حسین و جمیل دوشیزہ عذرا چوہدری گوگا کے دل کو بھا گئی۔ایک ایسی ہی تقریب میں جب پہلوان اور بمبئی کے شرفاء مدعو تھے۔عذرا اور گوگا کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع مل گیا۔ دونوں میں عہدوپیماں ہونے لگے۔بمبئی سے کولہا پور روانگی سے قبل گوگا عذرا سے ملنے کا وعدہ کرکے گیا تھا۔لہٰذا اس نے جونہی اندریکر پہلوان کو پچھاڑا وہ اگلی صبح واپس بمبئی پہنچ گیا تھا اور سیدھا عذرا کے دوار جا پہنچا۔(جاری ہے)

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر77 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں