صنعتی اِنقلاب، برطانوی سامراج اور برصغیر میں جمہوریت (آخری قسط)

صنعتی اِنقلاب، برطانوی سامراج اور برصغیر میں جمہوریت (آخری قسط)
صنعتی اِنقلاب، برطانوی سامراج اور برصغیر میں جمہوریت (آخری قسط)

  

یہ تو 1990 سے ایسا ہوا کہ مسلم لیگ جو کسی نہ کسی شکل میں حکمران جماعت رہی (بھٹو صاحب کی پارٹی نے بھی مسلم لیگ کی کوکھ سے ہی جنم لیا تھا)شہری سرمایہ داروں اور تاجروں کے قابو میں آگئی۔ یہ کام بھی فوجیوں نے ہی کیا تھا کہ مسلم لیگ کی اعلیٰ لیڈر شپ جاگیرداروں سے چھین کر ایک شہری پس منظر رکھنے والے صنعتکار کو دے دی گئی۔ اس لیڈر کے دور میں جمہوری عمل شہری طبقے کے گراس روٹ لیول تک پہنچنا شروع ہوا۔ وہ جمہوریت جو 19ویں صدی کی ٹریڈ یونینز سے شروع ہو کر 1919 کے اور 1941 کے لوکل باڈیز کے نظام سے ہوتی ہوئی خطہِ پاکستان کے وڈیرہ شاہی کے چُنگل سے آزاد ہو کر شہری ماحول میں آکر تھوڑی بہت آزاد ہو گئی لیکن یہاں ایک اور خرابی پیدا ہو گئی۔ سرمایہ دار اور تاجر کی جبلت فطری طور پر لالچ اور خودغرضی پر مبنی ہوتی ہے۔ دنیا کے ہر صنعتکار اور سرمایہ دار یہاں تک کہ چھوٹے تاجر کے کاروبار کے پیچھے     Motor force لالچ اور زیادہ سے زیادہ کمانے کا جذبہ ہوتا ہے۔ اِسی لئے اِسلام تجارت کے دھندے کے بارے میں ہمیں خبردار کرتا ہے کیونکہ لالچ جب ہوِس میں بدل جائے تو یہ شیطان کی خصلت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اِنسانیت اور ریاست کے مفاد سے ٹکرا جاتا ہے اور یہاں سے اور قسم کی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

ہمارے ہاں صنعت کار جب سیاستدان بن گیا تو جاگیردار اور وڈیرے بھی صنعت میں آوارد ہوئے کیونکہ پاکستان کی 80فیصد صنعتیں زراعت سے منسلک ہیں بلکہ اکثر نے زراعت کو ہی صنعت بنالیا۔ ایسے جاگیردار جو صنعتکار بھی بن گئے، پاکستانی جمہوریت پر زیادہ اثر انداز ہو گئے۔ چونکہ ہمارا ووٹر ابھی بھی زیادہ تر زرعی روزگار سے منسلک ہے اس لئے وہ ابھی بھی صنعتکار فیوڈلز کے زیرِ اثر ہے یعنی پاکستانی ووٹر کسی نہ کسی خاندان کا Captive-voter ہے۔ اسی Captive-voter کے عنصر نے ہماری ابھرتی جمہوریت کے گلے میں الیکٹ ایبلز کی چھُچھوندر ایسی پھنسائی ہے کہ وہ نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اِن الیکٹیبلزکا Swing vote جس سیاسی جماعت کو چاہے حکومت میں بٹھا دے۔ ان  کے ذریعے سیاست فوجیوں کو تو بہت ہی راس آتی ہے۔ صنعتکار جب سیاستدان بنا تو اُس نے بھی اپنے Captive-voters کا حلقہ پیدا کرنے کی کوشش کی جس میں وہ جزوی طور پر کامیاب ہو سکا۔ چھوٹے تاجروں، صنعتکاروں، وکیلوں اور Service-industry  کے افراد کو اپنا طر فدار بنانے کے لئے اِن لوگوں کو مفادات کے مواقع مہیا کر دئیے۔ 

دنیا کا ہر کاروباری مذہب کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ پاکستانی صنعت کار اور تاجر اس سے مبّرا نہیں ہے۔ اس لئے جب بھی صنعت کار سیاست میں آتا ہے وہ مذہبی طبقوں کی ہر قسم کی       ”خدمت گذاری“کر کے اُنہیں اپنا سپورٹر بنا لیتا ہے۔ اور یوں رائٹ کی سیاست جنم لیتی ہے۔ اَب اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی جمہوریت کی شکل کچھ یوں نکلتی ہے کہ ہمارا ووٹر 3 عناصر کے قبضے میں ہے، جاگیردار،صنعتکار، مذہبی رہنما۔ اِن تینوں عناصر کے پیچھے ایک بہت ہی طاقتور عنصر ہے جو فوج ہے۔ کبھی یہ کھُل کر ہماری سیاست پر قبضہ کر لیتی ہے اور کبھی پیچھے رہ کر اثر انداز ہوتی ہے لیکن یہ Inactive کبھی بھی نہیں رہتی اور موجودہ گلوبل پولیٹکس میں تو یہ کبھی بھی لا تعلق نہیں رہ سکتی۔ میں صرف پاکستانی فوج کی بات نہیں کر رہا۔ اَب فوج دنیا کے ہر ملک کی داخلی اور خارجی سیاست میں چوری چھُپے دخیل رہتی ہے۔ خالص اور پوتر جمہوریت اَب کہیں بھی نہیں ملے گی۔ پاکستانی فوج کو بھی مشورہ ہے کہ وہ اپنا کاروباری چہرہ اِتنا نمایاں نہ کرے کہ محترمہ عائشہ صدیقہ آپ کے کاروباروں پر ایک مکمل کتاب لکھ دیں۔ دنیا کی کوئی فوج ہاوسنگ سوسائٹیاں، بینک،روڈ ٹرانسپورٹ اور کنسٹرکشن میں نہیں جاتی۔ یہ دھندے ذراTricky ہیں۔ اِن میں ”بڑا کچھ“ ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ فوج صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے۔ فوج کا شعبہ ریاست کا بڑا طاقتور ہتھیار بند بازو ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے سکڑ کر ایک محلّے کی طرح بن گئی ہے، مختلف ملکوں کے آپس کے تعلقات میں اِتنی پیچیدگیاں اور اُلجھاؤ ہیں کہ ریاست کا سیاسی بازو اِن گتھیوں کو فوج کی خاموش مدد کے بغیر سُلجھا ہی نہیں سکتا۔ تجارت، خارجہ اُمور، معاشیات، مالیات، اِن سب کا تعلق ملکی سیکوریٹی سے اب اِتنا جُڑا ہوا ہے کہ کوئی بھی سوِل حکومت نہ چاہتے ہوئے بھی ملٹری کے شعبہ سے مشاورت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ امریکہ جیسے ملک میں فوج کی خاموش مشاورت بعض اوقات حکومتِ وقت کے لئے ماننی ضروری ہوتی ہے۔ ابھی کی بات ہے۔ ٹرمپ کو ہٹانے میں اور جوبائڈن جیسے بوڑھے کو پاور میں لانے میں CIA کا یعنی Pentagon کا خاموش ہاتھ تھا۔ حالانکہ ٹرمپ واقعی جیتا ہوا امیدوار تھا۔ لیکن وہ بطور صدر امریکہ کے گلوبل مفادات کے لئے باعثِ نقصان تھا۔ اس پہلو کو CIA ہی سمجھ سکتی تھی۔ پاکستان میں بھی فوج کا خاموش لیکن طاقتور رول رہے گا اوراُسی وقت تک رہے گا جب تک ہمارے منتخب اِدارے الیکٹ ایبلز کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔     (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -