’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 8

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 8
’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 8

  



عنصر نے باہر جا کر دیکھا تو ریاست کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر عنصر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ دونوں بچپن سے گہرے دوست تھے۔ وقت کا پہیہ گھوما، عنصر میٹرک کرنے کے بعد سترہ سال کی عمر میں گھر والوں کی مخالفت کے باوجود سنہرے مستقبل کی امید لے کر یونان چلا گیا۔ وہاں جا کر اس نے پڑھائی مکمل کی اور نوکری بھی تلاش کر لی۔ اب وہ واپس آیا تو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کڑیل جوان بن چکا تھا۔ قدرت نے تجسس اس میں کوٹ کوٹ کا بھرا تھا۔

دوسری طرف موٹی تازی جسامت کے مالک ریاست نے گاﺅں کے اکلوتے بازار میں ہی پرچون کی دکان کھول لی۔ دس برس کے طویل عرصے کے بعد دونوں دوست ملے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ عنصر ریاست کو اندر لے گیا۔ چائے پینے کے دوران دونوں ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے رہے۔ ریاست نے دکان پر جانا تھا اس لیے اس نے عنصر سے شام کو دوبارہ اُس کے گھر آنے کی ہامی بھری اور چلا گیا۔ عنصر نے بھی چونکہ شہر کسی کا سامان دینے جانا تھا اِس لیے اُس نے ریاست کے جاتے ہی رخت سفر باندھا اور گاﺅں کو الوداع کہہ دیا۔

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 7 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

سورج ڈُوبنے سے ذرا پہلے عنصر گھر واپس آیا تو اماں اُسی کی منتظر تھیں۔ تھکن سے چُور وہ صحن میں بچھی چارپائی پر ہی دراز ہو گیا۔ اماں اس کیلئے چائے کی پیالی بنا لائیں۔ ابھی وہ چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف تھا کہ حسب وعدہ ریاست آ گیا۔ اماں چائے کی ایک اور پیالی لے آئیں۔ چائے کی چسکیاں لیتے دونوں باتیں کرنے لگے۔

”عنصر ! یونان جا کر تجھے کبھی میری یاد نہیں آئی۔“ریاست نے شکوہ کیا۔

”پردیس جا کر ایسے غائب ہوئے جیسے بندر کے سر سے سینگ۔“

”ہاہاہا.... بندر نہیں گدھے کے سر سے سینگ۔“

عنصر نے اس کی بات سن کر ہنستے ہوئے کہا۔

”وہ دراصل گدھا بیوقوف مشہور ہے نا۔ اس لیے میں نے ذرا عقل مند جانور کی مثال دی۔ ویسے سینگ تو دونوں کے نہیں ہوتے۔ “

ریاست نے اپنی خفت مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

”اچھا چلو چھوڑو اس بات کو۔ ویسے تم ایسی جنس نہیں ہو جسے بھلایا جا سکے۔“

عنصر نے مسکراتے جواب دیا۔

”ڈائیلاگ مت مار۔ اگر اتنی ہی یاد آتی تھی تو واپس آنے میں اتنی دیر کیوں لگائی؟ چاچا اور چاچی بوڑھے ہو چکے ہیں۔ میں کچھ وقت نکال کر آ جاتا تھا ان کے پاس۔ کوئی کام ہوتا تو کر جاتا تھا مگر یار بیٹا تو بیٹا ہی ہوتا ہے۔“

ریاست ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔

”ہاں صحیح کہتے ہو۔ بہت دیر لگا دی لوٹنے میں۔“

عنصر نے گہرا سانس بھرا۔

”لیکن اب میں واپس آ گیا ہوں اس لیے نو ٹینشن۔ اور ہاں اماں اور ابا کا خیال رکھنے کا شکریہ۔“

”شکریہ کے بچے ! دوست ہونے کے ناطے یہ میرا فرض تھا کہ میں تمہاری غیرموجودگی میں اِن کا خیال رکھتا۔“

ریاست نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔

”شکریہ کا بچہ! .... مگر میں تو ماسٹر حمید کا بچہ ہوں۔“

عنصر نے معصومیت سے کہا تو ریاست اور اماں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

”تمہاری یہی باتیں تو مس کرتا تھا۔ خیر اب کیا ہوت جب چڑے چگ گئے کھیت۔“

ریاست نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

”چڑے نہیں چڑیاں ہوتی ہیں جناب۔ سکول کے زمانے سے لے کر اب تک تمہارے محاورے سیدھے نہیں ہوئے۔“

عنصر نے ہنستے ہوئے کہا۔

”اچھا....! میں نے سوچا ہمارے یہاں بندے کام کرتے ہیں اس لیے اسی اصول کے مطابق ہو سکتا ہے ان کے بھی صرف چڑے کام کرتے ہوں گے۔ چڑیاں گھر سنبھالتی ہوں گی۔“

ریاست نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔

ریاست نے بھولپن سے کہا تو اماں اور عنصر پھر ہنس پڑے۔

”کھیتوں سے اپنا بچپن یاد آگیا یار۔ کیا ہی شاندار دن تھے جب ہم وہاں کبڈی کھیلا کرتے تھے۔ گاﺅں کی ایک ایک بات یاد ہے مجھے۔ نہر جہاں ہم نہایا کرتے تھے۔ بابے اللہ دتے کا باغ جہاں ہم چوری چھپے جا کر پھل کھایا کرتے تھے۔“

عنصر نے پرانی یادیں دہراتے ہوئے کہا۔

”اور وہ واقعہ مجھے کبھی نہیں بھولے گا جب تم آم کے درخت پر چڑھے تھے اور پاو¿ں پھسلنے سے پکے ہوئے پھل کی طرح گر گئے تھے۔ہاہاہاہا“

ریاست کی ہنسی قابو سے باہر ہو گئی۔ اُسے یوں ہنستا دیکھ کر عنصر اور اماں کے چہرے پر بھی مسکراہٹ اُبھر آئی۔ تینوں ایک بار پھر مل کر ہنس رہے تھے۔

”ہاں ہاں۔ مجھے بھی یاد ہے اچھی طرح۔ اتنا بھی مت ہنسو۔ میرے بچے کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی درخت سے گر کر۔“

اماں نے عنصر کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔

”اماں اب تو میں فیصلہ کر کے آیا ہوں کہ گاﺅں کا چپہ چپہ گھوموں گا اور جو شرارتیں میں بچپن میں کیا کرتا تھا وہ سب دوبارہ کروں گا۔ بڑی مدت کے بعد میں اپنے من کو آزاد کرنا چاہتا ہوں۔ نہر میں نہانا تو میری سب سے بڑی خواہش ہے۔ بابے اللہ دتے کے باغ میں بھی جاﺅں گا اور وہ نیلی حویلی، گاﺅں کی سب سے خوبصورت جگہ۔ وہ تو یاد ہی نہیں رہی۔ وہاں بھی جاﺅں گا۔ وہاں کی فوٹوگرافی دیکھ کر لوگ یہی سمجھیں گے کہ شاید یہ یونان کی ہی کوئی قدیم جگہ ہے۔“

عنصر پُرجوش لہجے میں بولتا چلا گیا۔

”کیا.... نیلی حویلی ؟“

اماں اور ریاست کے منہ سے بیک وقت نکلا۔

نیلی حویلی کا نام سن کر دونوں چونک اٹھے اور مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے گھیر لی۔

”جی نیلی حویلی۔“

عنصر کو اُن کے بدلے ہوئے لہجے پر حیرانی ہوئی۔

”رات بہت ہو گئی ہے میرے لعل۔“ اماں نے سنجیدگی مگر پیار سے کہا۔

”اور ایسے وقت پر ایسی جگہوں کا نام نہیں لیتے۔“

”اماں ! میں اُس نیلی حویلی کی بات کر رہا ہوں جو ہمارے گاﺅں میں ہے۔ گاﺅں کے سارے لوگ تو وہاں جاتے تھے اور خود میں بلکہ گاﺅں کے دوسرے بچے بھی وہاں جا کر دن بھر کھیلا کرتے تھے۔“

عنصر نے حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔

”وہ گزرے زمانے کی بات ہے بیٹا۔ اب وہاں کوئی نہیں جاتا۔ دس برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے گاﺅں میں پتر۔“

”کیوں اماں ؟ اب یہ مت کہہ دینا کہ وہاں بھوتوں اور چڑیلوں نے قبضہ کر لیا ہے۔“

عنصر نے ہنستے ہوئے سنجیدہ ماحول کو خوشگوار کرنے کی کوشش کی۔

”ہائے میرے اللہ! میں نے ابھی منع کیا تھا کہ اس جگہ کا نام مت لینا۔ بس میں تمہیں کہے دیتی ہوں اس جگہ کا خیال بھی اپنے دل میں مت لانا۔“

اماں نے اس بار قدرے سخت لہجے میں کہا۔

”جی اماں۔ جیسے آپ کہیں۔“

عنصر کو منع کرنے کی وجہ تو سمجھ نہ آئی لیکن اس نے اماں سے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ریاست منہ کھولے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔

”تم تو اپنا منہ بند کرو۔“

عنصر نے ریاست کو کہنی ماری۔ اس کی بات سن کر ریاست جھینپ گیا اور فوری منہ بند کر لیا۔

”میں اب چلتا ہوں عنصر۔“

ریاست اٹھ کھڑا ہوا۔ نیلی حویلی کے ذکر کے بعد ان کی گفتگو کی شیرینی یکسر غائب ہو چکی تھی۔ اسے محسوس ہوا اب گھر جانا ہی بہتر ہے۔

”تمہاری بھابی میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ رات کا کھانا ہم اکٹھے ہی کھاتے ہیںاس لیے مجھے اب دو اجازت .... اللہ حافظ۔“

ریاست نے الوداعی سلام کے لیے اس کی جانب ہاتھ بڑھا دیا۔

”رات کا کھانا تم میرے ساتھ کھا لو۔ میں یقین سے کہتا ہوں بھابی تمہیں کچھ نہیں کہیں گی۔“

عنصر نے سرگوشی کی۔

”بھلا اس نے کیا کہنا ہے۔ اللہ لوک بڈی ہے میری۔“

ریاست نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

”بس وہ رات کا کھانا میرے ساتھ ہی کھاتی ہے چاہے کچھ بھی ہو۔“

”جتنے تم ڈرپوک ہو۔ مجھے تو لگتا ہے تم نے گھر جا کر برتن دھونے ہیں۔“

”ہاں تو برتن دھونا کون سا گناہ ہے۔“

اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو عنصر ہنس پڑا۔

”مجھے پہلے ہی شک تھا۔ تم اپنی بیوی سے بہت ڈرتے ہو۔ چلو تمہیں دروازے تک چھوڑ کے آتا ہوں۔“

ریاست دروازے کی سمت بڑھا تو عنصر بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر ریاست ہاتھ ملانے کے لیے پیچھے مڑا تو عنصر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

”رات کا کھانا کھا کر میں تمہاری طرف آﺅں گا۔“

عنصر نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو ریاست اس کی جانب دیکھنے لگا۔

”اور ہم نیلی حویلی کی طرف جائیں گے۔“

عنصر کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھر آئی۔

”کیا کہہ رہے ہو؟ ....نیلی حویلی کی طرف؟“

ریاست بے اختیار بولا۔

”آواز دھیمی رکھ۔“

عنصر نے آہستگی سے کہا۔

”میں بھی دیکھوں وہاں کون سے بھوت پریت ہیں۔ رات کو تیار رہنا۔“

ریاست نے بے بسی سے عنصر کی طرف دیکھا۔

وہ جانتا تھا عنصر کی گھٹی میں یہ بات بندھی ہے جس کام کو ایک بار کرنے کی وہ ٹھان لے اسے کر کے ہی دَم لیتا ہے۔ دس برس پہلے اسی ضدی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر تو وہ سب کی مخالفت کے باوجود یونان گیا تھا۔

عنصر دروازہ بند کر کے مڑا ہی تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ دروازہ کھولا تو سامنے ماسٹر حمید تھے۔ وہ مغرب کی نماز پڑھ کے گھر لوٹے تھے۔ دونوں میں مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔

”بیٹا شہر جس کام سے گئے تھے کر آئے ہو۔“

ماسٹر حمید نے پوچھا تو عنصر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ رات کا کھانا سب نے مل کر کھایا۔ کھانے کے بعد اماں بستر پر لیٹیں تو عنصر نے انہیں دابنا شروع کر دیا۔

اماں نے بھی جواب میں دعاﺅں کا انبار لگا دیا۔

”میرا پتر ہمیشہ خوش رہ۔ اللہ پاک تیری زندگی لمبی کرے۔ ساری بلاﺅں سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک تیرے نصیب میں چاند جیسی دلہن کرے۔“

”اماں یہ دعا مت دیں۔ چاند ایک ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی میں ایک چاند کے ہوتے ہوئے دوسرے چاند کو کیسے سنبھالوں گا۔“

عنصر کو شرارت سوجھی۔

”کون سا چاند پتر ؟ کہیں یونان میں شادی تو نہیں کر بیٹھا۔“

اس کی بات سن کر اماں کی دعاﺅں کو بریکیں لگ گئیں اور ان کے چہرے پر ایسے تاثرات ابھر آئے جیسے عنصر نے ان کے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا ہو۔

”اماں شادی کرنا کوئی گناہ تونہیں ہے ناں؟“

عنصر نے ان کی حالت دیکھ کر بمشکل اپنی ہنسی پرقابو پاتے ہوئے کہا۔

”ہائے ہائے! میں نے کیا کیا نہیں سوچ رکھا تھا اپنے بچے کی شادی کا۔ نہ مجھے تمہاری بیوی کی بولی سمجھ آئے گی نہ اپنے پوتے، پوتیوں کی۔“

اماں نے افسردہ لہجے میں کہا۔ عنصر اب بھی ان کی باتیں سن کر اپنی ہنسی دبائے بیٹھا تھا۔

”اچھا پتر ایک بات بتا۔ یونانی زبان میں دادی کو کیا کہتے ہیں؟“

اماں نے اتنی معصومیت سے سوال پوچھا کہ عنصر کے ضبط کا دامن ٹوٹ گیا اور وہ کھلکھلا کا ہنس پڑا۔ اسے یوں ہنستا دیکھ کر اماں حیرت سے اس کی جانب دیکھنے لگیں۔

”مذاق کر رہا ہوں میری بھولی اماں۔ میں اِس چاند کی بات کر رہا ہوں جو اِس وقت میرے سامنے ہے۔“

عنصر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”یونان جا کر بھی تیری عادتیں نہیں بدلیں۔ شرارتی کا شرارتی ہے میرا لعل۔“

اماں نے مسکراتے ہوئے اسے تھپکی دی۔

”مجھے اب چاند سی بہو مل جائے پتر۔ میری اب اور کوئی خواہش نہیں ہے۔“

اماں نے آنکھیں بند کیں اور دعائیں دیتیں نیند کی آغوش میں چلی گئیں۔

”چاند جیسی بہو؟“

عنصر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔

”خیال اچھا ہے مگر پتا نہیں وہ چاند کہاں ہے اماں۔“

اس نے مسکرا کر اماں کی پیشانی پر بوسا دیا۔ وہ گہری نیند سو رہی تھیں۔ عنصر ماسٹر حمید کو دبانے گیا لیکن و ہ پہلے ہی تھکن سے چُور سو چکے تھے۔ عنصر نے اپنے کمرے میں جا کر احتیاطاً پینٹ کی جیب میں ٹارچ ڈالی۔ آہستگی سے دروازہ بند کیا اور ریاست کی طرف چل پڑا۔(جاری ہے)

’نیلی حویلی پر چھائے ، آسیب کے سائے ۔۔۔۔ ‘قسط نمبر 9 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /نیلی حویلی