گلگت ، بلتستان کے شعراء و ادباء لاہور میں!

گلگت ، بلتستان کے شعراء و ادباء لاہور میں!
گلگت ، بلتستان کے شعراء و ادباء لاہور میں!

  

ہم اپنی منڈلی جمائے ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ میں براجمان تھے کہ ایک بڑے خوشگوار سے شخص نے ہم سے ’’شرفِ ہم کلامی‘‘ بخشنے کی اجازت چاہی۔ ہم نے بڑے تپاک سے معانقہ کیا اور کہا تشریف رکھئے! کہنے لگے ’’مَیں اشتیاق احمد یاد ہوں، مگر اکیلا نہیں بارہ تیرہ افراد پر مشتمل ہم لوگ ایک قافلے کی صورت میں گلگت سے لاہور دارد ہوئے ہیں، تاکہ یہاں کے شاعروں ادیبوں سے مل سکیں۔‘‘ مَیں نے کہا ہمارے لاہور میں بھی ایک یاد تخلص کے شاعر موجود ہیں، وہ ہیں مشکور حسین یاد جو اپنی ذات میں انجمن ہیں اور اکیلے بارہ تیرہ پر بھاری ہوتے ہیں۔

جن کا یہ شعر تعلی سہی مگر حقیقت بھی ہے:

ہمارے ہاتھ میں تو اور کچھ نہیں

ہے کچھ تو وہ کمال ہی کمال ہے

بہرحال! آپ لوگ گفتگو کیجئے حسبِ مقدور تبادلہ ء خیال کر سکوں گا۔ ایک ایک کرکے تعارف ہوا تو مَیں نام لکھتا گیا کہ سب کے سب ہی حلقہء اربابِ ذوق گلگت کے عہدیداران و اراکین تھے۔ جمشید خان دکھی، خوشی محمد طارق، غلام عباس نسیم، عبدالحفیظ شاکر، جعفر حسین عاجز، شاہجہان مضطر، ناصر حسین نصیر، احمد سلیم سلیمی، تہذیب حسین برچہ، توصیف حسن توصیف، محمد نظیمِ دِیا اور سینئر صحافی و شاعر اقبال عاصی۔ ان میں سے اکثر کے نام اور کام سے مَیں پہلے سے واقف تھا، خوشی محمد طارق (سابق ڈی ایس پی) بھی ہمارے نیاز مند رہے۔ اسلام آباد آئے تو ایک بار انہیں پی ٹی وی کا مشاعرہ بھی میں نے پڑھوایا کہ نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے اتنا کام میں اپنے پروڈیوسر نذیر عامر مرحوم سے لے لیا کرتا تھا۔ خوشی محمد طارق کا تعلق ضلع استور سے ہے، شعر و شاعری کے علاوہ کالم نگاری سے بھی شغف ہے۔ دو شعری مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔ ایک ’’پلکوں کا سائبان‘‘ اور دوسرا ’’خواب کے زینے‘‘۔ دوسرا مجموعہ مجھ تک نہیں پہنچ سکا، پہلا مجموعہ سارے کا سارا نظر ثانی کے بعد میرے دیباچے سمیت ’’پلکوں کا سائبان‘‘ کے عنوان سے چھپا تھا۔ عنوان بھی مَیں نے ہی تجویز کیا تھا اور اس دور کے چیئرمین اکیڈمی آف لیٹر افتخار عارف سے فلیپ بھی لکھوا دیا تھا۔ لیکن جیسا کہ ہوتا آیا ہے خوشی محمد طارق کا بھی وہی چلن ہے:

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سِوا

خوشی محمد طارق کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

غم کے ماروں کی قبروں پر پھول کی مالائیں مت رکھو!

پہلے کیا کم ہار پڑے ہیں اشکوں کی مالاؤں کے

یہ تمام ادب دوست، ادب نواز شاعر و ادیب کچھ کتابوں کا تحفہ بھی ہمیں پیش کر گئے۔ جن میں حلقہ ء اربابِ ذوق گلگت کے تحت مرتبہ دو عظیم و ضخیم کتب ’’شمالی علاقے کا اردو ادب‘‘ [حصہ نظم] اور ’’گلگت بلتستان کا اردو ادب‘‘ [حصہ نثر] بھی ہیں۔ یہ کتابیں سید مہدی علی شاد وزیر اعلیٰ کی اعانت سے چھپ سکیں۔ان کتب کے ذریعے تمام احباب کے بارے میں کافی کچھ پڑھنے کو ملا۔ احمد سلیم سلیمی نے اپنی تازہ نثری کتاب ’’حدیثِ دل‘‘ اس تحریر کے ساتھ عنایت کی ’’محترم ناصر زیدی صاحب کے ذوقِ مطالعہ کی تسکین کے لئے۔۔۔! معلوم نہیں سلیمی صاحب کی اس ایک کتاب سے میرے ذوقِ مطالعہ کی ’’تسکین‘‘ ہو سکے گی یا نہیں، معلومات میں البتہ اضافہ ہوا۔ وہ ایک اچھے افسانہ نگار ہیں دشتِ آرزو‘‘ اور ’’شکستِ آرزو‘‘ کے نام سے دو مجموعے پہلے ہی چھپ چکے ہیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج گلگت میں اردو کے لکچرار ہیں۔ ’’حدیثِ دل‘‘ میں ’’عشق نامہ‘‘ ،’’آدمی نامہ‘‘، ’’ادب نامہ‘‘، ’’سیاست نامہ‘‘، ’’مزاح نامہ‘‘، ’’رُوداد نامہ‘‘ اور ’’سفرنامہ‘‘ کے عنوانات دامنِ دل کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، مگر ان سب ناموں میں ’’محبت نامہ‘‘ کی گنجائش بہرحال باقی ہے، جو ’’عشق نامہ‘‘ سے قدرے ہٹ کر ایک کیفیت پر مبنی ’’نامہ‘‘ ہو سکتا ہے! جمشید خاں دُکھی کا تعلق گلگت سے ہے۔ شعر و شاعری کالم نگاری تخلیق و تحقیق خاص شعبۂ ادب ہے۔ ایک تالیف ’’لوک ورثہ‘‘ کے اہتمام سے ’’پاکستان کا ثقافتی انسائیکلو پیڈیا۔ ]حصۂ شِنا[ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ’’پروفیسر عثمان علی۔۔۔ ایک نامور مورخ‘‘ بھی چھپ چکی ہے۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے بانی رکن اور آج کل جنرل سیکرٹری ہیں۔جمشید خاں دُکھی کے ایک دو شعر:

تاثیر نہ ہوتی مرے نالوں میں تو مُنصف

پہرہ نہ کبھی یُوں مری گرفتار پہ رکھتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا سُنائیں خوشی کے ہم نغمے؟

دل کی دُنیا بہت دُکھی ہے ابھی

عبدالحفیظ شاکر کا تعلق درس و تدریس سے ہے اردو اورشنا زبان میں شاعری کرتے ہیں، کالم بھی لکھتے ہیں، ان کا ایک اُردو شعری مجموعہ ’’مَیں نہیں ہوں‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ حلقے کے پریس سیکرٹری ہیں، سٹیج ڈرامے اور مزاحیہ خاکے بھی لکھتے ہیں۔ ’’زندگی‘‘ کے عنوان سے 17،18 سو اشعار پر مبنی ایک مجموعہ عنقریب شائع ہو رہا ہے۔ اس صاحبِ فن شاعر کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

مَیں تنگ آیا ہوں، نفرت سے کدورت سے، عداوت سے،

مَیں پی کر زہر۔۔۔، اب خود سے بچھڑنا چاہتا ہوں

گلگت کے ہی جعفر حسین عاجز کی ایک غزل کے دو شعر:

مُدت ہوئی یارو کبھی دلبر نہیں دیکھا

مستی میں چھلکتا ہُوا ساغر نہیں دیکھا

حیرت ہے تمہیں ہاتھ کے کشکول پہ میرے

کیا تم نے محبت کا گداگر نہیں دیکھا

مشہور شاعر بشیر بدر کی مشہور غزل کا مطلع ہے:

کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دل دیکھا،

آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا

اسی زمین میں گلگت میں طرحی مشاعرہ منعقد ہُوا تھا، جس کے متذکرہ بالا دو عدد طرحی شعر ہمیں جعفر حسین عاجز صاحب نے سنائے۔ توصیف حسن توصیف حسن توصیف کے دو شعر یُوں ہیں:

جبھی تو میری آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے

مجھے ہر وقت بس تیری کمی محسوس ہوتی ہے

تری چاہت میں خود کو اس طرح مفلوج پاتا ہوں

مری سوچوں پہ کائی سی جمی محسوس ہوتی ہے

محمد نظیم دِیا نے حلقے کے تمام اراکین کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں متذکرہ عظیم و ضخیم کتب پر ایک ہی جملہ لکھا:

’’سید ناصرِ زیدی کے لئے خلوص و محبت کے ساتھ! حلقہۂ ارباب ذوق گلگت کی جانب سے‘‘

محمد نظیم دِیا کا ایک شعر:

حُسن پر ناز نہ کر حُسن ہے ڈھلتی چھاؤں

عمر کے تیر سے گِر جاؤ گے آہو کی طرح

غلام عباس نسیم حلقے کے فنانس سیکرٹری ہیں۔ بروشسکی اور شنازبانوں میں لکھتے ہیں شاعری اور ڈراما ان کا میدانِ ادب ہے اُن کا ایک اُردو شعر:

مجھے کچھ اس طرح اپنوں نے لوٹا

اکیلا رہ گیا ہوں درجنوں میں

سینئر صحافی اور شاعراقبال عاصی ’’گلگت‘‘ شہر کے حوالے سے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار یوں کرتے ہیں:

سبز وادی کوہساروں کی زمیں

بہتے جھرنوں اور چناروں کی زمیں

ہر بلندی تجھ ہی سے منسوب ہے

چاند سورج اور تاروں کی زمیں

سبزہ زار اور لہلہاتی کھیتیاں

ٹھنڈے چشموں مرغزاروں کی زمیں

ہمارے ان ملاقاتیوں میں شیر باز برچہ کے بھتیجے تہذیب حسین برچہ بھی تھے۔ان کا ایک قطعہ:

پالیا بھید مہاویر بُدھا سے دل کا

اُن کے اندر بھی ترا نقش دکھائی دینا

بھیک جن کو ملی وہ رومی و اقبال بنے

مجھ کو معبود اسی در کی گدائی دینا

ناصر حسین نصیر بھی، شاہجہان مضطر بھی اور فعال رکن اشتیاق احمد یاد بھی موجود تھے، جن کے اشعار میں حاصل نہیں کر سکا۔ اس کی معذرت۔ اشتیاق احمد یاد کا ایک شعر:

کبھی عشق و محبت میں اداکاری نہیں کرنی

بنامِ شاعری ہم نے ریا کاری نہیں کرنی

بہر حال حلقہ ارباب ذوق گلگت، بلتستان کے اس غیر سرکاری وفد کی لاہور آمد، پاک ٹی ہاؤس آمد اور صرف ہم سے تفصیلی تبادلہ خیال یاد گار رہے گا۔ اور شمالی علاقوں سے محبت بھری کتابوں کے تحفے بھی ہمارے ’’ذوقِ مطالعہ کی تسکین‘‘ کا سبب بنے رہیں گے۔!

آخر میں گلگت کے مہمانوں کو سنائی گئی اپنی ایک تازہ ترین غزل کے چند شعر اپنے خوش ذوق قارئین کی نذر:

بہ پیشِ یارمی رقصم، سرِبازارمی رقصم

مجھے تو رقص کرنا ہے بہ استمرار‘ می رقصم

ہے اس کے نام سے دل بستگی اس واسطے اکثر

نہیں ہوتا نہ ہو اس کا مجھے دیدار‘ می رقصم

وہ جس نے مجھ کو شعر و شاعری کی حس عطا کی ہے

اُسی کے واسطے کہتا ہوں میں اشعارمی رقصم

مَیں گھنگرو باندھ کر ناچوں کہ میرا یار ہو راضی

کوئی تدبیر تو آئے بہ روئے کار می رقصم

خبر کوئی کبھی اچھی نہیں ملتی مگر ناصر!

میں پڑھ لیتا ہوں پھر بھی آج کا اخبارمی رقصم

مزید :

کالم -