مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 10

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 10
مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 10

  

یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ محمد رفیع کے بہن بھائی پاکستان میں ،انکے والدین کی قبریں پاکستان میں لیکن بھارت چلے جانے کے بعد وہ پلٹ کر پاکستان کی سرزمین پر نہیں آئے ۔حالانکہ پاکستانیوں نے ٹوٹ کر انہیں چاہا۔انکی سربلندی کے لئے دعائیں کی ۔انکے برادر خورد محمد صدیق رفیع تو باقاعدگی سے ان سے ملنے جاتے اور مہینوں تک انکے ہاں رہتے ۔ماں باپ کی باتیں انہیں سناتے ،بچپن کی یادیں تازہ کرتے ۔ایک آدھ بار والد بھی انکے پاس گئے ۔ لیکن محمد رفیع کو کوئی ایک رات پھر پاکستان میں اپنے ماں باپ کے پاس آکر گزارنے کا موقع نہیں ملا یا پھر انہوں نے موقع لیا ہی نہیں ۔

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 9

شایداسکی ایک وجہ یہ تھی کہ انہیں خوف لاحق ہوگیا تھا ۔بھارت میں انہیں بڑے قومی ایوارڈز مل چکے تھے ،پنڈت نہرو ان کے فین تھے اور اکثر ان سے ملاقاتیں کرتے ۔ وہ ہندووں کے تعصب سے آگاہ تھے ۔وہ خاموش طبع تھے لیکن ہندووں کے مابین رہتے ہوئے وہ بے حد محتاط زندگی گزارتے رہے ۔انہیں کئی بار تعصب کا نشانہ بھی بنایا گیا جس کا ذکر آگے بیان کیا جائے گہ کہ کیسے ایک زمانہ میں برسوں تک لتا منگیشکراور کشورکمار کی ایما پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گانے نہیں گوائے گئے ،بائیکاٹ کیا گیا ۔

ویسے بھی پینسٹھ کی جنگ میں ہندی ترانے گانے پر انہیں بھارت کا بڑا سول ایوارڈ پدما شری ایوارڈ دیا گیا تھا ۔ ہندی مسلمانوں کے حالات کچھ ایسے رہے ہیں کہ وہ ہندوستان کی خدمت کرکے اور ہندووں کے سامنے سرجھکا کر بھی اپنا بھروسہ قائم نہیں رکھ پائے ۔ محمد رفیع کے ساتھ بھی یہی ہوا یا پھر وہ خود ایسے حالات سے بچنے کے لئے عام محفلوں میں پاکستان کا نام لینے سے گریزاں رہتے تھے ۔

محمد صدیق رفیع کے بقول انکے بھائی صرف دو بار پاکستان آسکے تھے۔پہلی بار پاکستان کی سرحد تک پہنچے تھے لیکن سرحدی لکیر عبور کرکے پاکستان کی سرزمین پر قدم نہیں رکھے ۔ان کے والد حیات تھے ۔ان کا ایک پروگرام امرتسر میں تھا ،اسکی انہوں نے اطلاع اپنے اہل خانہ کو پہنچادی کہ فلاں دن میرا امرتسر میں پروگرام ہے اور کوشش کروں گاکہ واہگہ بارڈر تک آپہنچوں ،اس لئے آپ لوگ بھی بارڈر پر آجانا۔ایک دوسرے سے بغلگیر نہ ہوسکے ،سرحدوں کی لکیر پر کھڑے ہوکر ایک دوسرے سے ہاتھ توملالیں گے ،میاں جی کا دیدار ہوجائے گا ۔محمد صدیق رفیع کا کہنا ہے کہ والد نے یہ سنا تو انکی بے قراری بڑھ گئی ۔مجھ سے کہا” صدیق میں تو اب گھڑی دوگھڑی کا مہمان ہوں یا ر۔مجھے رفیع سے ملادو“

محمد صدیق رفیع اپنے دوسرے بہن بھائیوں اور والدہ کو لیکر واہگہ بارڈر پہنچ گئے۔چشم فلک نے اس روز عجیب نظارہ دیکھا ۔سرحدوں کی باریک لکیرپر بھاری دروازے محمد رفیع کی آمد پر کھل گئے ،تنی ہوئیں سنگینوں والی بندوقیں فرط مسرت سے جھک گئیں ۔امن کا ترانہ فضا میں گونجا ۔ادھر رینجرز والوں کو معلوم ہوا کہ یہ گلوکار محمد رفیع کے والد اور اہل خانہ ہیں تو ان کے دل میں محمد رفیع سے محبت اور انسانی جذبہ نے ویزوں کو درخور اعتنا نہ سمجھا ۔

اُدھر انڈین بارڈر فورس کی کمانڈر ایک خاتون تھی ۔اس نے محمد رفیع کو دیکھا تو بڑی خوش ہوئی اور انہیں بتایا کہ وہ ان کی پرستار ہے ۔اس نے محمد رفیع کے لئے بارڈر پر انہیں اپنے کمرے میں بیٹھایا اور پاکستانی رینجرز کو پیغام بھیجا ۔دونوں ملکوں کے سرحدی افسروں کے دل رام ہوئے ۔ادھر سے محمد رفیع کے والدین اور بھائی بہنوں نے سرحد پار کی اور انڈین سرحدی فورس خاتون کے دفتر میں انہیں لے جایا گیا ۔ماں باپ سے برسوں بعد ملاقات نے محمد رفیع کو تڑپا کرر کھ دیا ،ماں باپ اسے کلیجے سے لگا لگا کر چومتے رہے ۔خوشی کے آنسواور ہچکیاں رواں تھیں ۔ماں اور والد نے محمد رفیع کو اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔سرحدوں کے محافظوں کے دل بھی بے ساختہ بلک پڑے۔ محمد رفیع نے جب خاتون افسر کا شکریہ ادا کیا تو اس نے ایک فرمائش کردی ۔

” میں تو اب ایک گانا سنوں گی آپ سے ۔میری اِچھا پوری ہوجائے گی اور میں اس لمحے کو یاد رکھوں گی کہ مہان رفیع کو میں نے خود اپنے سامنے سنا ہے “

” اچھا جی ۔کون سا گانا سناوں “ محمد رفیع نے سادگی اور ادب سے پوچھا۔

” وہی ہچکی والا گانا میں نے پینا سیکھ لیا “ خاتون افسر نے فرمائش کی ” میں یہ گانا سننا چاہوں گی اور اس ہچکی کا راز جاننا چاہوں گی جو آپ نے گانے میں لگائی ہے “

محمد رفیع ہنس پڑے اور سازندوں کو اشارہ کیا۔انہوں نے ہچکی اسی انداز میں لگا کر گانا سنایا تو خاتون سمیت ہر کوئی حیران تھا کہ وہ شخص جس نے کبھی شراب کی بوتل کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھامگر ایک عادی شراب نوش کی طرح ہچکی لگانے میں انہیں قدرت حاصل ہے ۔یہ فلم ”گونج اٹھی شہنائی“ کا گانا تھا جو راجندر کمار پر فلمایا گیا تھا ۔ 1959میں ریلیز ہوئی تھی ۔راجندر کمار نشہ میں ڈوبے ایک بالا خانے میں جاتے ہیں اور وہاں اپنے دوستوں کو محفل سرود میں پاکر جام اٹھاتے اورگانا شروع کردیتے ہیں۔گانے سے پہلے وہ خود بھی ہچکی لگا کر بولتے ہیں اور ان کا دوست بھی ہچکی لگا کر بوتل تھام لیتا ہے اور کہتا ہے ” او میاں بھئی خوب آئے “ محمد رفیع نے انتہائی مہارت اور نشہ میں ڈوبے شرابی کی طرح لہک کر مستی میں لڑکھڑاتی آواز میں گانا گایاتھا ” میں نے پینا سیکھ لیا ۔پاپ کہو یا پُن۔میں نے پینا سیکھ لیا “ محمد رفیع کو اسی کیفیت میں گاتا دیکھ کر دو بڑے دشمنوں کی سرحدوں پرمحبت کا جادو چل گیا تھا اور محمد رفیع اس روز کافی دیر تک والدین کے پاس رہے ۔

اس ملاقات کے بعد بہت جلد ہی انکے والد کا انتقال ہوگیا ۔ابھی پینسٹھ کی جنگ نہیں ہوئی تھی ۔ وہ وقت پر انکے جنازے کو کاندھا نہ دے سکے ،انہیں تار دیا گیا ،اطلاع تو مل گئی لیکن ان کا بروقت پہنچنا مشکل ہوگیا تو چالیسویں پر وہ لاہور آئے تھے ۔ تیسری بار وہ والدہ کے چالیسویں پر پاکستان آئے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئے ۔البتہ بھائیوں سے انکی ملاقاتیں یا تو خانہ خدا میں حج و عمرہ کے وقت یا پھر دوبئی میں ہوتی رہیں ۔(جاری ہے ۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /مقدر کا سکندر