چوبیسویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی

چوبیسویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی
چوبیسویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی

  

ترجمہ : نظام الدولہ

اس رات تنہائی میں کمرے میں اکیلا بیٹھا کہ میرے تحت الشعور میں جیلر کے الفاظ نے تفاخر کی ہوا بھردی۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ یہ رات تمہارے لئے قید نہیں فخر اور برکت کی رات ہے کیونکہ تم نے گاندھی جی کے پیروکاروں کے ساتھ جیل کاٹ لی ہے۔اگرچہ یہ چند لمحات کی بات تھی لیکن اس تاثر اور خیال نے مجھے مسرت دی کہ میں نے اپنے ملک اور قوم کا بلا خوف وخطرساتھ دیا ہے۔

مجھے ٹھیک سے تو یاد نہیں البتہ اس وقت میں ٹین ایجر ہی ہوں گا جب آغا جی سے کسی بات پر اختلاف ہوگیا اور میں بمبئی سے پونا چلا گیا ۔میرے اور آغا جی کے درمیان کسی قسم کی کوئی بحث یا جھگڑا بھی نہیں ہوا تھا نوجوانی کا عالم تھا۔آغا جی اس روز کسی وجہ سے پریشان تھے اور مجھ پربرہم ہو رہے تھے۔اس لمحے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے ،سوائے اس بات کے کہ مجھے گھر چھوڑکر چلے جانا چاہئے ۔

23ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

آغا جی جب غصہ میں ہوتے تو کوئی ان کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔یہ میرے ساتھ عجیب اتفاق تھا کہ مجھے آغا جی کے غصہ سے تذلیل کا احساس ہوا تھا اور اس بات میں ہی بہتری تھی کہ اس بات کا مزید موقع نہ دیا جائے ۔

اس وقت جنگ عظیم دوئم برپا تھی ۔اس کا اثر ہمارے کاروبار پربھی پڑا۔ان حالات میں گھر کے اخراجات چلانا نہایت مشکل ہوچکا تھا کیونکہ جنگ کی وجہ سے شمال مغربی سرحدی علاقوں سے پھلوں کی سپلائی متاثر ہوچکی تھی۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی اور مال بردار گاڑیاں مفقود تھیں۔ ریل گاڑی کے ڈبوں میں اسلحہ آجارہا تھا ۔

ہمارے پھلوں کے باغات پشاور میں تھے اور انکے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور کاروبار نہیں تھا۔میں آغا جی کے درد کو سمجھ رہا تھا کہ وہ مستقبل کی فکر سے پریشان ہوچکے ہیں ۔ہمارا کنبہ بھی کچھ کم نہیں تھا ۔بیٹے اور بیٹیاں اور دو بہنیں ۔اماں بھی دمہ کا شکار ہوچکی تھیں اور ایوب بھائی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی جس کی وجہ سے وہ مستقلًا بستر پر دراز تھے۔ایوب صاحب گھوڑے سے اس وقت گر گئے تھے جب وہ کشمیر سے تازہ سیب لیکر واپس آرہے تھے۔دونوں پھوپھیاں بھی پشاور سے بمبئی ہمارے ہاں مقیم تھیں ۔وہ یہاں بھی اماں کو اسی طرح تنگ کرتیں جس طرح وہ ماضی میں کیا کرتی تھیں ،اماں اف نہ کرتیں اور بیماری کے باوجود کچن میں گھسی رہتیں۔

میں آغا جی کا بھار بانٹنا چاہتا تھا لیکن کچھ سمجھ نہیں آتی تھی میں کون سا کاروبار کروں جس سے کچھ آمدنی گھر آسکے اور چولہا بجھنے نہ دیا جائے۔اُدھر میری بڑی بہن آپا سکینہ شادی کی عمر کو پہنچ چکی تھی لیکن یکایک حالات نے ایسی کروٹ لی تھی کہ انہیں بیاہنا بھی مشکل نظر آتا تھا اور اماں کو جوان بیٹی کا غم کھائے جارہاتھا۔

سکینہ آپا کی طبیعت میں دادی کی طرح جلال اور سختی تھی۔ان میں نازک اندام عورتوں سی نرم خوئی اور چہرے پر لڑکیوں جیسا بانکپن بھی نہیں تھا جبکہ انکی عمر گزررہی تھی۔وہ اماں کے کاموں پر تنقید کرتیں اور گھر پر حکمرانی کرتی تھیں ۔انکی خواہش تھی پورا گھر اور خاص طور پر اماں انکے اشاروں پر چلیں ۔

میں آغا جی کے معاملات اور احساسات کا اندازہ کرسکتا تھا اور مجھے افسوس بھی تھا کہ مجھے گھر چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے تھالیکن اسکے سوا دوسراچارہ نہیں تھا ۔جس صبح میں نے گھر چھوڑا اس وقت میری جیب میں صرف چالیس روپے تھے۔میں انہیں خیالوں میں بندبوری اسٹیشن سے پونا والی ٹرین میں بیٹھا تھا۔یہ تھرڈ کلاس ڈبہ تھا جہاں مردوزن اور بچہ لوک بھرے ہوئے تھے۔میں پہلی بار ایسے لوگوں کے ساتھ سفرکررہا تھا ۔ میں ان سب کے بیچ خود کو چھپا کر بیٹھا تھا تاکہ کوئی مجھے تھرڈ کلاس بوگی میں سوار ہوا نہ دیکھ لے۔آغا جی نے ہمیشہ اپنی اولاد کو ہر طرح کی آسائشیں دینے کی کوشش کی تھی ۔جب بھی ٹرین پر سفر کرتے وہ فرسٹ کلاس کے ٹکٹ لیتے تھے۔مجھے عزت نفس کی پائمالی کا خوف تھا ۔لیکن میں کیا کرسکتا تھا کیونکہ میرے پاس محدود رقم تھی اور میں نے انہی پیسوں سے گزارا بھی کرنا تھا اور سفر بھی ۔یہ عیاشی تو افورڈ نہیں کرسکتا تھا لہذا دوسرے مسافروں کے بیچ خود کو ڈھانپ کر بیٹھے رہنا ہی غنیمت تھا۔

جب میں پونا کے اسٹیشن پر اترا تو اس وقت بھی خیالات کی یورش سے میں معتدل اور نرم نہیں ہواتھا۔اگر اس لمحے مجھے آغا جی کی کیفیت کا اندازہ درست طور پر ہوجاتا اور دل سے یہ خیال نکل جاتا جس نے مجھے برہم کرکے زندگی کا یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا تھا تو میں واپسی کا ٹکٹ لیکر واپس گھر چلا جاتا ،مجھے اماں کی تکلیف کا اندازہ تھا کہ میری گمشدگی پر انکی حالت کیا ہوگی ۔وہ پاگل ہوجاتیں ۔لیکن یہ میری غیرت کا امتحان تھا ۔میں ثابت کرنا چاہتا تھا کہ آغا جی کے پیسوں اور انکی مدد کے بغیر بھی میں کچھ کرسکتا ہوں ۔

جاری ہے۔ پچیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

میں ہوں دلیپ کمار -