وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر78

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر78
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر78

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھولو نے اپنے بھتیجوں کوسکولوں سے اٹھالیا۔ ان میں جھارا اور ناصر بھولو بھی تھے۔بچوں کو اکھاڑوں میں لے جایا گیا اوران کی پہلوانی تعلیم کا آغاز کر دیا گیا۔

1964ء کا آغاز ہو چکا تھا۔ بھولو کو اپنی مبارزت عام کا جواب کسی طرف سے بھی نہ ملا تھا۔بھولو پہلوان 1952ء سے اس کوشش میں تھا کہ کوئی اس سے عالمی رستم کا مقابلہ لڑے ۔آخرایک جاں فزا امید ہوئی تھی کہ جب ویسٹرن اتھلیلٹک کلب آف امریکہ کا ڈائریکٹر مسٹر ٹیڈ تھائی کراچی آیا۔

گاماں پہلوان ان دنوں حیات تھے۔بھولو اور گاماں نے ٹیڈ کو اپنے ہاں بلایا اور بھولو کی طرف سے دنیا بھر کے پہلوانوں کو چیلنج دیا تھا۔بھولو نے اصرار کیا تھا کہ مسٹر ٹیڈ اپنے امریکی شاہ زوروں کو اس کے مقابلہ پر لائیں۔مسٹر ٹیڈ نے ایک بین الاقوامی دنگل کا وعدہ کیا۔ مسٹر ٹیڈ نے واپس جاکر کوئی اطلاع نہ دی تھی۔ بھولو ٹیڈ کے خط کا انتظار کرتا رہا۔ پھر اس نے خود امریکہ کے رستم زماں مسٹر لوتھیز کو خط لکھا اور اسے کشتی کا چیلنج دیا۔ مگر لوتھیز نے بھی کوئی جواب نہ دیا اورکان لپیٹ لیے۔بھولو نے اس وقت کے وزیراعظم پاکستان محمد علی بوگرہ کی وساطت سے بھی یہ چیلنج دہرایا اور کہا وہ امریکی رستم زماں کو اپنی طرف سے ایک لاکھ روپے دیں گے اگر وہ مقابلہ کرنے کے لیے رضا مند ہو جائے۔ پرکشش ترغیب کے باوجود کوئی بات نہ بنی۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر77  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

1960ء کے بعد تو بھولو کی مبارزت عام میں اضافہ ہو گیا۔ کوئی دن ایسا نہ گزرتا جب وہ دنیا بھر کے پہلوانوں کو نہ للکارتا تھا۔ اس سے قبل کہ وہ تھک ہار کر بیٹھ جاتا۔ اس کے فن کو توانا رکھنے کے لیے اہل کراچی نے ایک کام کر دکھایا۔

31مارچ 1964ء کے دن کراچی میں پاکستان ایو ایشن نے ایک عظیم الشان تقریب رکھی اور بھولو پہلوان کو رستم زماں کا خطاب عطا کر دیا۔ مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھ دی کہ بھولو اگر کسی بین الاقوامی پہلوان سے چت ہو گیا تو یہ خطاب ختم ہو جائے گا۔ بھولو کی دستار بندی کراچی انکم ٹیکس کمشنر خواجہ عبدالحمید نے ادا کی۔

یہ تو بھولو پہلوان کے بے قرار دل کو بہلانے کابہانہ تھا۔ مگر اس سے یہ امید بھی تھی کہ شاید دنیا کا کوئی پہلوان اس خطاب سے سیخ پا ہو کر بھولو کے مقابلہ پر اتر آئے۔ بھولو پہلوان کو مشروط رستم زماں کا خطاب ملا تو حریف حلقوں نے پھبتیاں کسنی شروع کر دیں۔بھولو تو پہلے ہی دنیا بھر کے پہلوانوں سے خار کھائے بیٹھا تھا اوپر سے مخالفین نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا۔

پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان اور انڈیا کے پہلوان میں معاندانہ رویہ عود کر آیا۔کئی بھارتی شاہ زور پر پرزے نکالنے لگے اور بھولو کوللکارنے لگے۔بھولو اس سے بڑا خوش ہوا اور جوابی للکارے مارے لیکن بھارتی پہلوان اپنے دعوؤں میں سچے نہ تھے۔ کوئی بھی مقابلہ پر نہ اترا۔1967ء میں بھولو پہلوان45سال کا ہو چکا تھا تو بھارت کے ایک بڑے شاہ زور داراسنگھ نے انٹرویو کے دوران بھولو کو چیلنج کر دیا۔ اس نے کہا۔’’میں ر ستم زماں کے خطاب کے لیے بھولو سے جہاں کہیں لڑنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

بھولو کو یہ خبر ہو گئی۔ اس وقت وہ اکھاڑے میں بیٹھا استراحت کررہا تھا۔ وہ خبر سن کر جوش میں آیا اور سامنے رکھے ایک تین انچ موٹے تختہ پر جوہاتھ مارا تو تختہ دولخت ہوگیا۔

’’میں اس دارے کا دارو بنا کر پی جاؤں گا۔‘‘بھولو دھاڑا۔’’ان ہندوستانی پہلوانوں نے تو چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ ایک دن ایک چیلنج کرتا ہے تو دوسرے دن مکر جاتا ہے۔ ان میں ہمت ہے تو سامنے آکر بات کریں۔‘‘

بھولو نے دارا سنگھ کا چیلنج قبول کیا اور اپنے خاص آدمی فہیم الدین فہمی سے کہا۔’’فہمی،اس کو لکھو کہ دن مقرر کرے، میں مقابلہ کرنے آرہا ہوں۔‘‘فہمی نے بھولو کا پیغام داراسنگھ کو بھجوا دیا۔ اخبارات میں داراسنگھ کے چیلنج کو بڑی شہرت ملی تھی۔ بھولو کا جواب آیا تو داراسنگھ کنی کترا گیا۔ اخباری نمائندوں نے داراسنگھ سے رابطہ کیا اور بھولو کے چیلنج پر ردعمل حاصل کرناچاہا مگر داراسنگھ خاموش ہو گیا۔

بھولو کو ایک امید ہوئی تھی کہ داراسنگھ سے دو دو ہاتھ کرنے کے بعد رستم زماں کے خطاب کو دوام مل جائے گا مگر دارا سنگھ نے امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ بھولو نے فہمی سے کہا کہ وہ اس معاملے میں کچھ کرے۔ فہیم الدین فہمی اوائل عمری سے اس خاندان سے منسلک تھا۔ اس نے بھولو کے دل کی مراد پوری کرنے کا بیڑا اٹھالیا اور دنیا بھر کے پہلوانوں سے خط و کتاب شروع کر دی۔

کوششیں رنگ لائیں اور چند ماہ بعد ہی برطانیہ سے ایسٹرن پروموشن بریڈ فورڈ یارک شائر کے ڈائریکٹر مسٹر ٹومی وہیلن کا جواب آگیا۔وہیلن نے لکھا تھا کہ وہ عنقریب برطانیہ کے تمام شہروں میں کشتی کے مقابلوں کا انعقاد کرارہا ہے جس کے آخر میں رستم زماں کا فیصلہ ہو گا۔ اس نے بھولو سے دریافت کیا کہ وہ کس طرز کی کشتی لڑے گا۔ دیسی یا فری سٹائل۔۔۔اس نے صاف لکھا تھا کہ برطانیہ میں فری سٹائل کا رواج ہے لہٰذا بھولو پہلوان کو بھی فری سٹائل کشتی لڑنی ہو گی۔

فہمی نے خط پڑھ کر سنایا تو بھولو نے جواب میں لکھا۔

’’مسٹر ہیلن سے کہہ دو کہ میں فری سٹائل کشتی لڑوں گا۔اس کے علاوہ میرا حریف جس طرز میں بھی لڑنا چاہے گا میں لڑوں گا۔‘‘

اس کا جواب دو ہفتے بعد ہی آگیا۔ وہیلن نے مقابلوں کی تفصیل لکھی تھی۔

****

بھولو پہلوان کے دل میں مسٹرووہیلن کے خطوط نے امید کا دیا روشن کر دیا تھا۔ اب اس کے حوصلے بڑھ چکے تھے۔ بھولو نے اپنے پروموٹر فہیم الدین فہمی کو تاکید کر دی تھی کہ وہ مسٹر وہیلن کے خطوط کے جواب دینے میں تاخیرنہ کرے۔ فہمی نے ہدایت کے مطابق خط لکھا۔ چندہفتے بعد مسٹر ٹومی وہیلن کا جواب آگیا۔ اس روز بھولو پہلوان اپنے حیدری اکھاڑے میں بیٹھا تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا جب فہمی آیا۔ بھولو کے چہرے پر مسرت رقصاں تھی۔ فہمی نے اندازہ لگایا کہ یقیناً انگلینڈ سے خط آیا ہے۔

’’لے بھئی ذرا دل لگا کر سنا۔‘‘بھولو نے کرتے کی جیب سے خط نکالا۔’’میرا خیال ہے ولائت سے آیا ہے۔‘‘

فہمی نے خط کھولا اور پڑھنے لگا۔ خط کا متن پڑھتے ہوئے اس کے چہرے پر جوار بھاٹا آنے لگا۔

’’بھولو جی!کچھ اچھی خبر نہیں ہے۔‘‘فہمی نے کہا۔’’مسٹر وہیلن نے صاف لکھ دیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شاہ زور آپ سے کشتی نہیں کرنا چاہتا۔ ساری دنیا آپ سے خوفزدہ ہے اس کے باوجود وہ اپنی تگ و دو میں مصروف ہے۔‘‘

بھولو کا روشن چہرہ تاریک ہو گیا۔آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی۔ بڑے دھیمے لہجے میں بولا۔

’’یار یہ اچھی بات نہیں ہے۔ میں تو بڑی امیدیں لگا کر بٹھا تھا۔‘‘پھر یکا یک بھولو پہلوان کے چہرے سے مایوسی کی لہریں مٹنے لگیں اور وہ پاٹ دار آواز میں بولا۔’’میں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ دیکھتا ہوں کہاں تک بھاگتے ہیں۔ اب ان کا ایک ہی علاج ہے۔تم ایسا کرو کہ انہیں لکھو میں ہر اس پہلوان کو پانچ ہزار پاؤنڈ دوں گا جو مجھ سے مقابلہ کرے گا۔ شکست دے کر مجھ سے یہ رقم جیتنے والا ایک ہو یا جتنے بھی۔ جس جس کا دل کرے خود کو آزمالے۔ میں ہر جیتنے والے کو یہ رقم دوں گا۔‘‘

فہمی نے چونک کر دیکھا۔’’مگر یہ رقم کہاں سے دیں گے؟‘‘

’’جہاں سے بھی دوں۔ہر صورت میں دوں گا۔چاہے سارے مکان اور زمینیں ہی کیوں نہ بیچنی پڑیں۔ میں اپنے اعلان سے دستبرار نہیں ہوں گا۔‘‘بھولو نے وحشت ناک نظروں سے فہمی کو دیکھا اور کہا۔’’آخر میں ان تمام زبانوں پر تالے لگانا چاہتا ہوں جو سمجھتے ہیں میں رستم زماں کا حقدار نہیں ہوں۔کوئی مائی کا لعل خود سامنے نہیں آتا مگر باتیں کرنے میں سب شیرہیں۔ میں اب چاہے کنگال کیوں نہ ہو جاؤں ،ان یورپی سورماؤں کو ضرور دیکھوں گا۔‘‘

فہمی نے مسٹر وہیلن کو بھولو کے چیلنج سے فوری طور پر آگاہ کیا اور ساتھ ہی بھولو پہلوان کی ایک تازہ تصویر ارسال کر دی۔ اٹھارہ دن بعد ہی جواب آگیا۔فہمی نے لفافہ چاک کیا تو لیٹر پیڈ پر بھولو پہلوان کی ایک نمایاں تصویر نظر آئی۔ مسٹروہیلن نے بھولو پہلوان کے جذبے کو سراہا تھا اور اپنی ایوی ایشن کے لیپر پیڈ پر بھولو پہلوان کی تصویر چھاپ دی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ بھولو پہلوان کے انعامی چیلنج نے پر امید ماحول پیدا کر دیا ہے اور جرمنی کے انگلو فرنچ ہی ویٹ چیمپئن ہنری پیری نے اسے قبول بھی کرلیا ہے۔ جبکہ شمالی امریکہ کے ہیوی ویٹ چیمپئن رون ریڈ اور ہندوستان کے چیمپئن دارا سنگھ بھی بھولو سے مقابلہ کے خواہش مند ہیں۔

مسٹروہیلن نے بھولو کے چیلنج میں ایک نیا اضافہ بھی کر دیا تھا اور اس کی وضاحت میں لکھا تھا کہ ان مقابلوں میں بھولو پہلوان کا آنا ہی کافی نہیں۔ انہیں اپنے بھائیوں کو ساتھ لانا پڑے گا ۔کیونکہ یہ کشتیاں انگلینڈ کے دس بڑے شہروں میں ہو رہی ہیں۔ لہذا بھولو برادران کی طرف سے بھی پانچ پانچ ہزار پونڈ کی پیشکش کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ مسٹر وہیلن نے انگلینڈ کے دو بڑے اخباروں سنڈے ٹیلیگراف اور اخبار آبزرور کے تراشے بھی بھیجے تھے۔ جن میں بھولو اور بھولو برادران کی طرف سے کشتیوں کے چیلنج اور پیشکش کو نمایاں چھاپا گیا تھا۔ مسٹروہیلن نے آخر میں لکھا تھا کہ عنقریب اس کا بیٹا کرسٹوفروہیلن معاہدے کے کاغذات لے کرآرہا ہے۔

فہمی نے خط پڑھنے کے بعد تشویش کا اظہار کیا۔’’بھولو جی مسٹروہیلن کو اپنی طرف سے انعامی پیشکش نہیں کرنی چاہئے تھی۔ کم از کم مشورہ ہی کرلیتے۔‘‘

بھولو نے وفور جذبات سے کہا۔’’کوئی بات نہیں یار!اس نے سمجھ بوجھ کرہی ایسا کیا ہو گا۔‘‘

’’تو کیا آپ مطمئن ہیں؟‘‘

’’ہاں بھئی،مطمئن کیوں نہ ہوں گا۔ آخر میرے بھائی اس قابل ہیں کہ وہ اس پیشکش کا حق ادا کر سکیں ۔مجھے ان کے فن و طاقت پر پورا اعتماد ہے۔خداان کا حامی و ناصر اور مددگار ہو گا۔ بس تم ایک بار ہمیں انگلینڈ پہنچ جانے دو پھر دیکھنا یہ پانچ ہزار پونڈ کیسے کھرے ہوتے ہیں۔‘‘

بھولو پہلوان نے مسٹروہیلن کے اقدام کو سراہا اور اپنے زوروں میں مشغول ہو گیا۔ اس نے دارالصحت لاہور سے تمام بڑے پہلوانوں اور بھائیوں کو بلالیا۔لاہور سے اسلم پہلوان عرف اچھا پہلوان مستقبل کے شاہ زور زبیر عرف جھارا کو بھی ساتھ لے آیا تھا جو اب سات سال کا ہو چکا تھا۔ حیدری اکھاڑے کراچی میں جھارا اور ناصر بھولو بھی زور کرنے لگے تھے۔ دونوں بچے ابھی سکولوں کی تعلیم حاصل کررہے تھے مگر اب انہیں اکھاڑے کی بھی چاٹ لگ گئی تھی۔حیدری اکھاڑہ اب پھر سے آباد ہو گیا تھا۔

بھولو پہلوان کی انیس سال برس بعد عالمی کشتی آرہی تھی۔ اس کا خواب پورا ہونے کا سمے آگیا تھا۔ وہ جوش و خروش سے زور کرنے لگا۔ تمام بھائی اس کے زوروں میں شامل ہوتے اور اپنی اپنی ریاضت میں دن رات ایک کرنے لگے۔ بھولو پہلوان کے زوروں کی خبریں کراچی کیا سارے پاکستان میں پھیل چکی تھیں۔ ان دنوں یہ خبر عام تھی۔

’’شیر بپھر گیا ہے۔ اب فرنگیوں کی خیر نہیں۔‘‘بھولو عمر عزیز کے45ویں پائیدان پر تھا۔وہ چڑھائی کے جوبن پر تھا۔ انیس برس بیت چکے تھے کسی سے مقابلہ کیے ہوئے مگر آج تک اس کے زوروں میں کمی نہ آئی تھی۔ آخر وہ رستم زماں کا مشروط خطاب حاصل کرچکا تھا اور اس کی لاج رکھنے کے لیے اسے خود کو فٹ رکھنا تھا۔ حیدری اکھاڑے میں بھولو پہلوان کے زوروں کو دیکھنے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔کئی ماہ تک لوگ مفت میں وقت کے رستم زماں کے فن سے فیض یاب ہوتے رہے۔ لوگ بھولو پہلوان کی کسرت دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ زوروں کے دوران بھولو کے جسم پر اکھاڑے کی مٹی کی کئی انچ موٹی تہہ چڑھ جاتی تھی جو پسینہ کی دھاروں کے ساتھ بہتی رہتی مگر اس پر دوسری تہہ پھر جم جاتی تھی۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر79 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں