میر کیا سادہ ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب

میر کیا سادہ ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب
میر کیا سادہ ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب

  



ہم بھی کیا سادہ تھے، مشرقی بازو کٹ رہاتھا، شیخ مجیب الرحمن کی مکتی باہنی پاکستان نواز بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کا قتل عام کر رہی تھی، نوجوان اغوا، خواتین کی عصمت دری کی جا رہی تھی، بھارتی فوج کھلم کھلا مداخلت کر رہی تھی اور بقول سینئر دفاعی تجزیہ نگار اکرام سہگل اس نے جنگی قیدیوں کیلئے کیمپ بھی بنا لئے تھے مگر ہم امریکی بحری بیڑے کا انتظار کر رہے تھے، مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، ہماری فوج کو ہتھیار ڈال کر سرنڈر کرنا پڑا مگر امریکی بحری بیڑہ بحراوقیانوس کی لہروں میں مستیاں کرتا آ رہا۔

ہم بھی کیا سادہ ہیں، اب جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وادی کا بھارت سے الحاق کر کے اسے مرکزی حکومت کے تابع فرمان کر دیا ہے، کشمیریوں کی نسل کشی کے ساتھ وہاں ہندو پنڈتوں کی آبادکاری کر کے کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبہ پر عملدرآمد جاری ہے، نوجوانوں کو قتل، کمسن بچوں کو اغوا کر کے برین واشنگ، خواتین کی آبروریزی کی جا رہی ہے، 200 دن سے زیادہ عرصہ سے لاک ڈاؤن، کرفیو جاری ہے، نیٹ، فون، موبائل سروس بند، کشمیری تعلیم، علاج، کاروبار، بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیئے گئے ہیں اور ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس پر پھولے نہیں سما رہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں ثالثی کی یہ پیش کش بھی امریکی بحری بیڑے کے مترادف ہی ہے۔

سوال یہ ہے ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں جبکہ ہم نے پیش کش کے ساتھ ہی اسے ثالث تسلیم کر لیا مگر بھارت نے اب تک اس ثالثی کی پیش کش کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا، ثالثی تب ہوتی ہے جب کسی تنازع کی صورت میں فریقین کسی طاقت کو ثالثی کا حق تفویض کرتے ہیں، زبردستی تنازع حل کرانے کی کوشش مصالحت کہلاتی ہے، دو طاقتوں میں تنازع کی صورت میں جب عالمی امن خطرے میں اور ایٹمی جنگ کا اندیشہ لاحق ہو تو کوئی بڑی طاقت دونوں میں مصالحت کے لئے میدان میں آتی ہے، فریقین کا موقف پہلے الگ الگ سنتی ہے پھر دونوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر اپنی نگرانی میں بات چیت کا آغاز کراتی ہے، دونوں کسی نتیجے پر نہ پہنچیں تو بڑی طاقت خود فیصلہ صادر کرتی ہے اور اس فیصلہ پر عملدرآمد بھی مصالحت کار کی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر امریکی صدر نے اب تک اس حوالے سے پیش کش کی نہ فریقین کے موقف سے آگہی حاصل کی۔

پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیش کش کرنے والے کا عملی کردار یہ ہے کہ وہ ایک فریق یعنی بھارت کے دورے پرگئے، پاکستان آنے کا مگر تکلف نہ کیا، اپنے دورہ کے دوران انہوں نے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی تعریف کی اور قربانیو ں کو سراہا، بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر انہوں نے پھر ثالثی کی پیش کش کی مگر بھارت سے اثبات یا نفی میں جواب نہ مانگا بلکہ اس کے عوض تین ارب ڈالر کی تجارت کا تحفہ دیا، مگر ہم بھی کیا سادہ ہیں کہ اپنی تعریف و توصیف پر بغلیں بجانے لگے اور اصل مسئلہ، حقائق دونوں کو فراموش کر دیا، امریکی صدر کی موجودگی میں شیوسینا کے غنڈوں نے پہلے الہ آباد اور پھر نئی دہلی کو مسلمانوں کی مقتل گاہ بنا دیا مگر ٹرمپ کے منہ سے مذمت کا ایک لفظ نہ نکلا، آفرین ہے ہماری سادگی پر کہ ہم اس پر بھی مطمئن ہیں۔

ٹرمپ اور مودی ذہنی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ مودی کی سوچ پر ہندتوا، جنونیت کا غلبہ ہے اور وہ ہندو قومیت کا داعی ہے جبکہ ٹرمپ امریکی قوم پرست ہیں مسلمانوں کو وہ بھی وفادار امریکی تسلیم نہیں کرتے اگرچہ ان کی شخصیت پر عیسائیت کا غلبہ نہیں ہے، ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری جدوجہد اور قربانیوں کو تسلیم کیا ہے تو وجہ پاکستان یا مسلمانوں سے ہمدردی نہیں امریکہ کا اپنا مفاد ہے کہ اس جنگ کا جتنا فائدہ پاکستان نے اٹھایا اس سے کہیں زیادہ امریکہ کو ہوا، طالبان جن کے ساتھ مذاکرات کے آغاز اور کامیابی میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے، چودہ سال طویل جنگ کے باوجود انہوں نے افغانستان میں امریکی پاؤں نہیں ٹکنے دیئے اگر طالبان کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے مل جاتے تو امریکی فوج کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں محفوظ نہیں رہ سکتی تھی، ٹرمپ اب افغانستان سے انخلاء کا محفوظ راستہ تلاش کر رہے تھے اور اس کے لئے پاکستان نے سرگرم کردار ادا کیا جس پر وہ تعریف پر مجبور ہوئے لیکن صرف تعریف سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، امریکہ جاتے جاتے بھارت کو افغانستان میں اتنا مضبوط کر جائے گا اور اس کے جانے کے بعد پاکستان کے لئے نئی مشکلات کا ا?غاز ہو گا جیسے قبل ازیں امریکہ روس کے افغانستان سے جانے کے بعد ہمیں تنہا چھوڑ گیا تھا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں اب امریکی انخلاء کے بعد ہمیں کیا بھگتنا ہو گا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

مودی نے دورہ ٹرمپ کے دوران مسلمانوں سے جو سلوک روا رکھا وہ ٹرمپ کی بھارت اور مودی کے حوالے سے آنکھیں کھول دینے کو کافی تھا مگر حیرت ناک طور پر ٹرمپ نے ادھر سے آنکھیں میچے رکھیں۔ بات اگرچہ قبل از وقت ہے مگر جو حقائق دیوار پر جلی حروف میں لکھے دکھائی دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مودی بھارت کا گوربا چوف ثابت ہو گا، نفرت، تعصب کی جو آگ مودی نے جلائی بھارت اس میں جل کر راکھ ہو جائے گا، بھارت نہ تو سوویت یونین سے بڑی اقتصادی طاقت ہے نہ فوجی، مگر افغانستان میں مداخلت کے باعث دنیا کے نقشہ پر سوویت یونین کا حدود اربعہ محدود ہو گیا اور سوویت یونین کو سائبیریا کی ریت میں بکھیر کر رکھ دیا، مودی نے جتنے محاذ اپنے ملک کے اندر کھول رکھے ہیں بھارتی معیشت ان کا بوجھ برداشت نہ کر سکے گی اور مودی اپنی خفت مٹانے کے لئے خطے میں ایٹمی جنگ شروع کر سکتا ہے مگر امریکہ بہادر کو جلی حروف سے لکھا یہ سب کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ بلاشبہ بھارت ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے مگر عالمی امن کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے ٹرمپ ثالثی کے بجائے مصالحت کا ڈول ڈال کر دنیا کو تباہی سے بچائیں۔

برسبیل تذکرہ بزرگ سیاستدان چودھری شجاعت نے کشمیر کی خود محتاری کی تجویز دی ہے جو ایک بہت ہی معقول تجویز ہے، آج تک کشمیری اٹوٹ انگ اور شہہ رگ کی چکی میں پستے رہے اگر ان کو خود مختاری دے دی جائے تو آخر کار انہوں نے پاکستان سے ہی ناطہ جوڑنا ہے اس لئے کشمیریوں کو حقیقی حق خودارادیت دینا ہی مسئلہ کا حل ہے۔

مزید : رائے /کالم