اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر16

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر16
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر16

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وہ یکا یک بولی’’ کبھی نہیں اور بالکل نہیں۔ محبت ایک فضول چیز ہے ۔ اس سے معزز خاندانوں کی کنواریوں کو تو دھوکا دیا جا سکتا ہے ہمیں نہیں ، ہم دوکاندار ہیں دوکاندار کا کام گاہک سے محبت کرنا نہیں ۔ جب کوئی شخص محبت جتاتا ہے تو ہم اُسے پاگل سمجھتی ہیں یا پھر یہ سمجھتی ہیں کہ اس کی گرہ میں مال نہیں رہا۔ ہمیں صرف ایک چیز سے محبت سے اور وہ ہے روپیہ ۔۔۔ ‘‘ اُس نے چاندی کا روپیہ کھنکھناتے ہوئے کہا ۔ ’’ اس روپیہ سے ؟‘‘

’’اور جو لوگ تہمارے مکانوں پر آتے ہیں ؟‘

’’وہ بے وقوف ہوتے ہیں یا اوباش ۔ بعض عجیب الخلقت بھی آتے ہیں، کوئی کہتا ہے تم میرے بن جاؤ ، میں تمہارے لئے بیوی چھوڑ سکتا ہوں ، کوئی ہمیں خار دینے کے لئے خواہ مخواہ بیوی کا ذکر لے آتا ہے ۔ اصل میں اس قسم کے لوگ گاودی ہوتے ہیں۔ جس مرد نے سہروں سے بیاہی ہوئی بیوی کی عزت نہ کی وہ ایک طوائف کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔ ‘‘

’’ بہر حال یہ کام تو بُرا ہی ہے ۔‘‘

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر15پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’کیوں نہیں لیکن اس کی ذمہ دار عورتیں نہیں مرد ہیں ۔۔۔ ظالم مرد خدا کے دشمن ۔‘‘

’’ اس کا کوئی حل ہے ‘‘

’’ ضرور ہے یہاں کوئی تین ساڑھے تین ہزار عورتیں ہوں گے ۔ میر ابس ہو تو بڑے بڑے کنچنوں کی دولت مضبوط کرلوں اور جتنی اس پیشہ کی عورتیں ہیں ان میں برابر بانٹ دوں۔ دولت اتنی ہے کہ عمر بھر کے لئے سب کی کفالت کر سکتی ہے، ان میں سے اسی فیصدی کا نکاح ہوسکتا ہے اور جو معذور ہیں ، ان کے لئے کنچنوں کی دولت ہی سے ریسکیو ہوم RESCUE HOMEکھولے جا سکتے ہیں۔‘‘

’’ کیا اس کے لئے سب تیار ہوں گی ۔‘‘

’’ کیوں نہیں ! حرام کی چکنی روٹی سے آرام کی سوکھی روٹی کہیں بہتر ہے۔‘‘

’’کیا اس طرح فحاشی رُک سکتی ہے؟‘‘

’’یہ تو میں نہیں کہہ سکتی کہ فحاشی رُک سکتی ہے یا نہیں ؟ البتہ چکلہ ضرور ختم ہو سکتا ہے۔‘‘

وہ ہمیں بیشک سے اُٹھا کر خلوت خانے میں لے گئے ۔ ایک چھوٹا س کمرہ تھا لیکن وہ قرینہ سے سجا ہوا ایک طرف صوفہ سیٹ ایک ریڈیو دوسری طرف نواری پلنگ اُس کے اُوپر کی دیوار پر دو بڑے چوکھٹے لٹک رہے تھے، جن میں بہت سی تصویریں ایک ساتھ مڑھی ہوئی تھیں۔ اس کے نیچے بوڑھے اخبار ’’زمیندار ‘‘ کا ایک دلچسپ تصویری ترشہ تھا۔

’’ خان لیاقت علی خان پاک پارلیمنٹ میں قرار داد مقاصد پیش کر رہے ہیں۔‘‘

اس نے کھڑکی کھول دی ہمیں صوبے پر بیٹھنے کے لئے کہا خود پلنگ پر دراز ہوگئی ۔ سامنے ایک قطعہ لٹک رہا تھا۔

ؑ ؑ عصیاں سے کبھی ہم نے کنارا نہ کیا پر تونے دل آزردہ ہمارا نہ کیا

ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر لیکن تیری رحمت نے گوارا نہ کیا

اُس نے زاویہ قائمہ کے انداز میں انگڑائی لیتے ہوئے کہا ’’ مجھے شادی کرنے میں اب بھی کوئی غدر نہیں ۔ لیکن میں شوہر چاہتی ہوں ۔ اگر کوئی شخص مجھے اس امرکا یقین دلا دے کہ وہ عمر بھی مجھے یہ طعنہ نہ دے گا کہ اُس بازار سے آئی ہو تو میں موٹا جھوٹا پہن کر اور روکھی سوکھی کھا کر بھی گزارا کر سکتی ہوں زندگی بھر مکان کی چار دیواری سے باہر میری آواز نہ سنیں گے ۔ لیکن مجھ میں ماضی کا طعنہ سُننے کی ہمت نہیں ۔ جوعورتیں یہاں سے اُٹھ کر مردوں کے ساتھ چلی جاتی ہیں وہ غلط اُمیدوں پر جاتی ہیں۔ انہیں گر ہستن کہلانے کا واقعی شوق ہوتا ہے لیکن جب وہ محسوس کرتی ہیں کہ اب بھی اُن کے وجود پر گالی چڑھی ہوئی ہے تو اُن کی عورت پھر مرجاتی اور طوائف جاگ اُٹھتی ہے ، آخر کار وہ یہیں چلی آتی ہیں۔‘‘

ایک اور سوال کے جواب میں اُس نے کہا ۔ ’’ اب یہاں خاندانی کنچنوں کے مکان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی کوئی دس بیس گھر ہوں گے ، یہ جو آپ بھرا بازار دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب نو ساختہ کنچنیوں کا ہے جنہیں بعض دوسرے اسباب یہاں کھینچ لائے ہیں۔ ‘‘

’’ وہ اسباب کیا ہیں ؟‘‘

’’ یہ ایک بڑی لمبی کہانی ہے ۔ کچھ دن اس بازار میں پھرئیے۔ آپ سب کچھ معلوم کر لیں گے مجھ سے نہ پوچھئے تو بہتر ہے ۔‘‘

تاہم ہمارے اصرار پر اس نے بتایا۔

’’ اس بازار کی آمدنی کے بڑے بڑے اڈے کو ٹھی جانے ہیں۔ ان کوٹھی جانوں میں سب کچھ ہوتا ہے مثلاً جسم بکتے ہیں ، شراب بکتی ہے ، افیون بکتی ہے اور جوا ہوتاہے۔ ‘‘

’’تو کیا یہ قانوناً جرم نہیں؟‘‘

’’جرم ہے ، لیکن قانون ، عورت اور روپیہ کے مقابلہ میں ہیچ ہے۔ ویسے تو کوٹھی خانے قائم کرنا ہی خلافِ قانون ہے ، لیکن ان پر پردہ ڈالنے کے لئے ساز رکھے ہوتے ہیں۔ ‘‘

’’کتنے کوٹھی خانے ہوں گے؟‘‘

’’چھوٹے چھوٹے کوٹھی خانے تو کئی ہیں ، لیکن بڑے چار ہیں۔ ‘‘

ا۔۔۔ کاکوٹھی خانے : ۔ یہ سیالکوٹی چودھری سب سے بڑی کوٹھی خانے کا مالک ہے۔ اس کے پاس دنیوی و جاہت کی ہر شے موجود ہے ۔ تقریباً ایک درجن لڑکیاں ہیں سب شکل و صورت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ اس نامراد کا کہناہے کہ جب تک وہ پانچ لاکھ روپیہ پیدا نہیں کر لے گا اس پیشہ کو چھوڑے گا نہیں۔ اس کا ذاتی خرچ روز کا سو ، سوا سو روپیہ ہے ۔ ہر وقت شراب میں دُھت رہتا ہے۔ اُس کی نائکہ بیوی جس کی شکل ڈراؤنی ہوتی جار ہی ہے اپنے فن میں بڑی ماہر ہے۔ اس کا کام صرف گاہکوں کو لوٹنا ہے جو اجنبی ایک دفعہ پھنس جائے وہ دوبارہ نہیں آتا ، آدمی آدمی کو پہچانتی ہے لیکن ایک نئے پنچھی کے پر کترنے میں اسے کمال حاصل ہے۔ ‘‘

’’ یہ لڑکیاں کہاں سے آتی ہیں؟‘‘

’’ کچھ تو باہر سے خریدی گئی ہے۔ بعض سے چودھری ’’صاحب ‘‘ نے نکاح پڑھایا ہے۔ یہ شخص اپنے حواریوں کی ایک جمعیت لے کر کسی گاؤں میں چلا جاتا ہے ۔وہاں اپنی رئیسی کا رُعب جماتا پھر ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق کوئی نہ کوئی عورت بیاہ لاتا ہے ، خود نامرد ہے ۔ اُس کے پاس جتنی لڑکیاں ہیں سب اُس کے دھوکے کا شکار ہیں۔ وہ ان سے دولت پیدا کرتا ، دوستوں کونذر گردانتا اور عیاش افسروں کو چڑھاوا چڑھاتا ہے۔ بار ہا رائفل کے بے جا استعمال میں پکڑا گیا لیکن ہمیشہ چھوٹ گیا۔ اُس کی رائفل بھی ضبط نہیں ہوتی ۔یہ ان لڑکیاں کو رات بھر کے لئے باہر نہیں بھیجتا صرف ’’بڑوں‘‘ کی کوٹھیوں میں بھیجتا ہے۔ اس کا نرخ بھی گساں ہے۔ ایک شب کی قیمت سوسے اسی تک ، ایک مرحلہ کے بیس 20روپے ، دو روپے بستر کا کرایہ ، دو روپے دلال کے اور خلوت خانے میں جو کچھ لڑکی چھین لے وہ اس پر مستزاد۔‘‘

’’کیا ان لڑکیوں کا جی نہیں اُکتاتا۔۔۔؟‘‘

اس کے پاس جتنی بھی لڑکیاں ہیں اُن کی حالت بڑی قابل رحم ہے لیکن وہ ایک سنگدل قصائی کے قبضہ میں ہیں اور قرونِ وسطیٰ کے قید خانے کی زندگیاں گزار رہی ہیں۔ جس طرح گرہستنوں کا کام محض بچے پید اکرنا ہوتا ہے اسی طرح ان کا کام محض دولت پیدا کرنا ہے اور وہ بھی چودھری اور اس کی نائکہ کے لئے ۔۔۔ ان کے لئے اگر کچھ ہے تو روٹی یا کپڑا ، باقی اُنہیں کھڑکی سے باہر جھانکنے کی بھی اجازت نہیں۔۔۔ اُن کی زندگی ایک پھوڑا ہے ۔۔۔ ایک دفعہ ایک لڑکی نے بھاگنا چاہا ۔پکڑلی گئی پھر جو سلوک اُس سے کیا گیا وہ اثنا ظالمانہ تھا کہ تصور ہی سے روح کانپ اُٹھتی ہے۔ اس بدنصیب کو کئی روز تک بلاناغہ گھنٹہ دوگھنٹے لٹکایا گیا۔۔ ۔ اور مرچوں کی دھونی دی گئی۔۔۔ آخر کئی مردوں کے حوالے کیا گیا خود حُقہ کی نے منہ میں لئے تماشا دیکھتا رہا۔‘‘

’’ کیا اس کو خدا کا خوف نہیں ؟‘‘

اس نے استہزاً ہنستے ہوئے کہا۔ ’’ آپ بھی عجیب لوگ ہیں ۔۔۔ خدا کے خوف کا اس بازار سے کیا تعلق ؟ ہمیشہ قصرِ شہی اور قصرِ عیش خدا کے خوف سے خالی رہے ہیں۔ خدا ہوتا ۔۔۔ ؟ ‘‘ وہ جذباتی ہوگئی ۔’’ تو اس سامنے کو بڑی مسجد کے مینار صدیوں سے ساکت رہتے ؟ اور راوی کا پانی منٹو پارک تک آکر لوٹ جاتا ؟ انسانوں نے خدا کو لوٹ لیا ہے معاذ اللہ ۔‘‘

۲۔۔۔ دوسرا بڑا کوٹھی خانہ۔ اس کا مالک مغویہ عورتوں کی کمائی کھاتا ہے خود جواری ڈھنڈاری ہے جو لڑکیاں گھر سے بھاگ آتی اور ان کے آشنا دغادے جاتے ہیں اس ظالم کے کارندے انہیں پھنسا لاتے اور آہستہ آہستہ پیشہ پر لگا دیتے ہیں۔ اس پر کئی مقدمے چل چکے ہیں لیکن ہمیشہ بری ہوجاتا ہے ابھی حال ہی میں حسن بانو نام کی ایک لڑکی نے اس کے خلاف عدالت میں ایک دردناک بیان دیا تھا۔ خود چونکہ قانون کی نوک پلک جانتا ہے ، اس لئے ضابطہ کے اندررہ کر کاروبار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ شہر کے خوفناک غنڈے ہیں۔ اُس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک رات بھی حوالات میں نہیں رہ سکتا ہے۔ ‘‘ (جاری ہے)

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر17 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اس بازار میں