ناکام خارجہ کے نقصانات

ناکام خارجہ کے نقصانات
ناکام خارجہ کے نقصانات

  

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ امریکی دورہ کئی وجو ہات کی بنیاد پر اہم قرار دیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم نرنیدر مودی کی امریکی صدر ٹرمپ کیساتھ پہلی مُلاقات تھی۔ اِس مُلاقات کو ہر طرح سے سُود مند بنانے کے لئے دونوں ممالک کی جانب سے خاص اہتمام کیا گیا تھا۔ اور یہ کہنا مُناسب ہوگا کہ مودی کو خوش کرنے کے لئے کشمیری رہنماءسید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔ بھارت کی ہمنوائی کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ میںمُطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث پاکستانی افراد کو عدالت کے کٹہرےے میں لانے کے لئے بھار ت کی مدد کرے۔ اِس کے علاوہ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وُہ اِس بات کو یقنینی بنائے کہ اُس کی سر زمین کسی بھی صورت میں دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اِس اعلامیہ کی پُر زور مخالفت کی ہے اور اِس اعلامیہ کو خطے کے امن کے لئے خطر ناک قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایسے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے میں کی جانی والی تمام قُربانیوں کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے۔ اور بھارت کو جدید ترین ڈرون فراہم کرنے کا معاہدہ کرکے خطے میں اسلحے کی دوڑ کو مزید بڑھا رہاہے جس سے خطے میں جنگ کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔ امریکہ نے بھارت کو خوش کرنے کے لئے اور پاکستان کو زچ کرنے کے لئے کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دینے کی بجائے کشمیر کو بھارت کا زیر ِ انتظام علاقہ تسلیم کر لیا ہے۔

بھارت اور امریکہ کے سربراہوں کے مشترکہ اعلامیہ سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ امریکہ نے مودی کے دورے کو ہر ممکن طریقے سے خوشگوار بنانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ لیکن افسوس اِس بات کا ہے کہ پاکستان کے سفارت خانے نے خطے میں پاکستان کی اہمیت کو اُجاگر کرنے میں کوئی نمایاں کردار ادا نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے کے دورے پر بھی امریکی صدر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قُربانیوں کا اپنی تقریر میں ذکر تک نہیں کیا اور سعودی عرب کے شاہ سُلمان نے امریکی صدر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی کسی بھی قُربانی کا نام تک نہیں لیا۔جس سے پاکستان کے عوام کی تحقیر اور دِل آزاری ہوئی ہے۔ یہ بات بھی قابِل ذکر ہے کہ پچھلے چند دنوں میں پاکستان کو نان نیٹو اتحادی سٹیٹس کو ختم کرنے کے لئے امریکی صدر نے بل پیش کیا ہے۔ لہذا مذکورہ بالا وجوہات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان امریکہ کے لئے اَب زیادہ اہم مُلک نہیں رہا۔ بھارت کی بھی یہ خواہش تھی کہ امریکہ کو پاکستان سے ہر حربہ اور و سیلہ استعمال کر کے بد ظن کر دیا جائے۔ بھارت امریکہ کو اپنے مُفاد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور افغانستان میںپاکستان کے اثر ورسوخ کو ختم کرنے کئے ہر ممکن طر یقہ استعمال کر رہا ہے۔ بھارت نے اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لئے افغانستان کی حکومت کو بھی اپنی مُٹھی میں لے لیا ہے۔ لہذا وُہ بھی پاکستان کو خطے میں امن کے لئے خطرناک مُلک قرار دیتا ہیں۔ افغانستان کی حکومت کے مُطابق پاکستان افغانستان میں امن کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کیونکہ پاکستان افغانستان میں طالبان کی حکومت کو دیکھنا چاہتا ہے۔ لہذا پاکستان نے طالبان کی فوجی مدد کرنے لئے پاکستان کے علاقوں میں ٹریننگ کیمپ کھو ل رکھے ہیں۔ افغانستان یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ پاکستان افغانستان کی ایک برادر مُسلم کی طور پر ہر ممکن مدد کرنے لئے تیار ہے یا ماضی میں پاکستان نے افغانستاں کی مدد کرنے لئے ہر طرح کے وسائل کو وقف کردیا تھا۔ پاکستان کے جذبہءاخوت کو غلط معنی پہنائے جائے جاتے ہیں بلکہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان اپنے مُفاد میں یہ سب کُچھ کر رہا ہے۔ با الفاظِ دیر، پاکستان افغنستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کا ذمہ دار ہے۔

بھارت نے امریکہ اور افغانستان کے حکومتوں نے مشترکہ طور پر امریکی انتظامیہ کو یقین دلا دیا ہے کہ پاکستان پورے خطے میں دہشت گردی کو روکنے میں نہیں بلکہ دہشت گردی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اِن حالات میں امریکہ کا پاکستان سے بد گُمان ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن اِس منفی پروپیگینڈہ کو روکنے کے لئے ضروری تھا کہ پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز تر کرتا لیکن افسوس کہ بھارت نے ہر طرح سے ہمیں مات دی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے امریکہ کی پوری حمائت حاصل کر لی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو باور کروادیا گیا ہے کہ بھارت امریکی مُفادات کی حفاظت کرنے کے لئے ایک اہم اور قابل ِبھروسہ مُلک ہے۔ بھارت اپنے مُلک میں امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں کو راغب کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا ہے۔ در اصل امریکہ صدر کلنٹن کے ایام ہی سے بھارت کو خطے میں ایک اہم مُلک سمجھاجاتا ہے۔ امریکہ کے لئے وُہ ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ اِس کے علاوہ، بھارت کے پاس وُہ سَب کُچھ میسر ہے جو پاکستان کے پاس نہیں۔ بھارت نے امریکہ کے کان بھر کر ا پنا الُو سیدھا کر لیا ہے۔ لیکن پاکستان کی حکومتین ہمشیہ اِسی خمار میں ڈوبی رہی ہیں کہ امریکہ ہمارے بغیر افغانستان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کسی زمانے میں یہ بات سچ کہی جا سکتی تھی۔ لیکن امریکہ نے پاکستان پر اپنا انحصار کم کرنے کے لئے دوسرے ذرایع کو بھی استعمال کرےنے کی ٹھانی اور بھارت کو اپنا تجارتی اور فوجی پارٹنر

بنانے کی سوچی سمجھی سکیم پر عمل کرکے بھارت سے خاص معاہدہ کیا ہے جس سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ حساس فوجی معلومات شئیر کر سکتے ہیں اور جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کے اڈوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہُواکہ اب امریکہ کو پاکستان کے ہوائی اڈوں کی اَب ضرورت نہیں رہی۔ وُہ بھارت کے اڈے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن چند ایک مصلحتوں کے تحت امریکہ پاکستان سے تمام تعلقات منقطع نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ امریکہ دونوں مُلکوں کے غیردوستانہ تعلقات کو اپنے حق میں زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ یہ وقت بڑا نازک ہے لہذاپاکستان کو اِ ن حالات میں اپنی خارجہ پالیسی بدلنا ہوگی۔ خطے میں بدلتے حالات اِس حقیقت کے مُتقاضی ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -