رمضان آیا۔۔۔کمائی کر لو

رمضان آیا۔۔۔کمائی کر لو
 رمضان آیا۔۔۔کمائی کر لو

  

رمضان المبارک نیکیوں کامہینہ ہے۔گنتی کے ان چند مبارک دنوں میں شیاطین جکڑ دےئے جاتے ہیں اور فضائیں فیوض و برکات سے مہک اٹھتی ہیں۔سحری اور افطار کے اوقات میں دستر خوانوں کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں۔ہر مسلمان اپنی بساط سے بڑھ کر روزے کے لوازمات کا اہتمام کرتا ہے۔گھریلو اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ماہِ رمضان جونہی قریب آتا ہے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو جاتا ہے، حالانکہ پوری دنیا میں مذہبی تہواروں کے مواقع پر لوگوں کو خریداری کے حوالے سے خصوصی ریلیف دیا جاتا ہے۔دُنیا کے تمام اسلامی ممالک میں بھی اسی طرح کی صورتِ حال نظر آتی ہے اور رمضان کے دنوں میں اشیائے ضروریہ خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں میں غیر معمولی کمی کر دی جاتی ہے ۔کچھ سال پہلے رمضان میں مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ دہلی کا ایک جنرل سٹور جس کا مالک ایک ہندو ہے رمضان کے دِنوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دس فیصد کمی کر دیتا ہے ۔مجھے جب اس کا پتہ چلا تو خوشی بھی ہوئی اور تجسس بھی کہ کیوں نہ اس سٹور کے مالک سے ملاقات کی جائے ۔اپنے ایک دوست کے توسط سے ہم اس سٹور پر گئے اور سٹور کے مالک سے ملاقات کی ۔

سٹور کے مالک نے ہمیں بتایا کہ ان کا خاندان اس سٹور کو کئی نسلوں سے چلا رہا ہے ۔ جب یہ چھوٹی سی دکان تھی تو اس وقت بھی یہ روایت تھی کہ ہمارے بزرگ رمضان کے دِنوں میں مسلمانوں کی سہولت کے لئے کھانے پینے کی چیزوں میں کمی کر دیتے تھے۔ہم نے خاندانی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے اور ہر سال رمضان کے دنوں میں سٹور پر مختلف اشیا طور پر کھانے پینے کی چیزوں میں کمی کر دیتے ہیں ۔

ایک ہندو خاندان کی طرف سے یہ جذبہ یقیناًقابلِ ستائش ہے ۔ ہم سوچنے لگے کہ ہمارے ملک میں جہاں تقریباً ننانوے فیصد سٹورز کے مالک مسلمان ہیں، رمضان کی آمد کے ساتھ ہی قیمتوں میں کمی کی بجائے لوٹ مار شروع کر دیتے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ روزے داروں کی چمڑی تک اتار لی جائے ۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہر سال رمضان کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اربوں روپے کے خصوصی رمضان پیکیج دےئے جاتے ہیں،بلکہ شہروں اور قصبوں میں خصوصی رمضان بازار بھی لگائے جاتے ہیں ،لیکن ان رمضان بازاروں کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہوتی ہے ،قیمتیں کم ہوں تو کوالٹی انتہائی ناقص ہوتی ہے اور کوالٹی بہتر ہو تو قیمتیں خریداروں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں ۔

اس سال بھی رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں اور چند روز پہلے کی قیمتوں میں تقریباً30 سے 40فیصداضافہ دیکھنے کو آ رہا ہے ۔عوام اس صورتِ حال سے سخت پریشان نظر آرہے ہیں اور وہ لوگ جو رمضان کی خریداری کے لئے بازاروں کا رخ کر رہے ہیں سراپا احتجاج ہیں ۔اچھی بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں کا سخت نوٹس لیا ہے اور صوبائی کابینہ کی کمیٹی برائے پرائس کنٹرول کوحکم دیا ہے کہ فوری طور پر سبزی منڈیوں اور مارکیٹوں کا دورہ کریں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے عناصر کی سرکوبی کریں ۔ رمضان کے لئے دی جانے و الی سبسڈی کا صحیح استعمال کیا جائے تاکہ اس کا فائدہ عام اور متوسط گھرانوں کو پہنچے ۔ انتظامی ادارے اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں سخت مانیٹرنگ کریں تاکہ ناجائز منافع خوروں کو بروقت سزا ملے ۔ خاص طور پر افطاری کے اوقات میں مُنہ مانگی قیمتیں وصول کرنے والوں کو پکڑا جائے ۔ قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اشیائے ضررویہ کی کوالٹی کو بھی یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے متعلقہ ادارے فعال کردار ادا کریں۔

مزید :

کالم -