وہ پاکستانی جس کا پیدائشی نام قائداعظم ہے، شناختی کارڈ بھی بنوالیا، یہ نام کس نے رکھا اور شناختی کارڈ بنوانے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ جواب جان کر ہر شہری اپنا سرپکڑلے گا

وہ پاکستانی جس کا پیدائشی نام قائداعظم ہے، شناختی کارڈ بھی بنوالیا، یہ نام ...
وہ پاکستانی جس کا پیدائشی نام قائداعظم ہے، شناختی کارڈ بھی بنوالیا، یہ نام کس نے رکھا اور شناختی کارڈ بنوانے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ جواب جان کر ہر شہری اپنا سرپکڑلے گا

  

چترال(مانیٹرنگ ڈیسک) تمام تر اختلافات کے باوجود ہر ایک پاکستانی اس بات پرمتفق ہے کہ ’قائداعظم‘ صرف ایک ہی ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح۔ جن کی عظیم قیادت میں مسلمانانِ ہند نے 7سال کی قلیل مدت میں عظیم الشان پاکستان حاصل کر لیا اور کہیں ایک گولی بھی نہیں چلی۔لیکن اگر ہم کہیں کہ قائداعظم ایک نہیں بلکہ دو ہیں تویقینا آپ غصے میں آ جائیں گے لیکن غصہ کرنے سے پہلے پوری خبر پڑھ لیجیے۔ یہ دوسرا قائداعظم چترال کی وادیوں کا باسی ہے۔ وہ نہ تو کوئی نوسرباز ہے اور نہ ہی مجنون، بلکہ قائداعظم اس کا پیدائشی نام ہے اور اس کے پاس نادرا کا شناختی کارڈ بھی ہے چنانچہ سرکاری طور پر بھی اسے قائداعظم تسلیم کیا جا چکا ہے، کام سے نہ سہی، نام سے ہی سہی۔

پاکستان میں روزانہ کتنی لڑکیاں اپنا حمل ضائع کروادیتی ہیں؟ جواب اتنا زیادہ کہ پاکستانی سوچ بھی نہ سکتے تھے

یہ قائداعظم نامی شخص 1975ءمیں چترال کی وادی رمبر میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ کیلاش برادری کا سربراہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا نام ’قائداعظم‘ رکھ دیا۔ ڈان ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق قائداعظم کا کہنا ہے کہ ”جب میری پیدائش ہوئی تو چترال کی وادیاں اس طرح پاکستان سے جڑی ہوئی نہیں تھیں جتنی آج ہیں۔ کوئی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ باقی ملک سے بالکل کٹا ہوا تھا اور وہاں کے لوگ پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ تاہم جو کچھ تعلیم یافتہ لوگ تھے انہیں معلوم تھا۔ ایک بار میرے ایک استاد نے مجھے نام تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیا اور کہا کہ یہ نام آگے چل کر میرے لیے مشکلات پیدا کرے گا لیکن جب میں نے اس حوالے سے اپنے باپ سے بات کی تو انہوں نے نام تبدیل کروانے کی اجازت نہیں دی۔جب میں نادرا کا شناختی کارڈ بنوانے گیا تو کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور باآسانی میرا کارڈ بن گیا۔“

یہ پاکستانی مَرد اتنا تیار ہوکر، سوٹ چڑھا کر سڑکوں پر موٹرسائیکلیں کیوں چلارہے ہیں؟ وجہ جان کر آپ بھی بے اختیار انہیں داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

قائداعظم نے مزید بتایا کہ ” میں نے اپنے ایک بیٹے کا نام مغلِ اعظم رکھا ہے۔ جب وہ دو سال کا تھا تو بیمار پڑ گیا۔ میں اسے علاج کے لیے پشاور کے ایک ہسپتال میں لے گیا۔ جب رجسٹرار کو میں نے اس کا نام بتایا تو وہ حیران ہونے لگا کہ یہ کیسا نام ہے۔ جب اس نے مجھ سے میرا نام پوچھا تو اس نے قلم رکھ دیا اور ایک پروفیسر ڈاکٹر کو بلا لیا۔ جب میں نے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا تو وہ ہنسنے لگے اور پروفیسر نے عملے کو ہدایت کی کہ وہ میرے بیٹے کی اچھی دیکھ بھال کریں۔ چنانچہ ان ناموں کی بدولت میرے بیٹے کا بہترین علاج ہو گیا۔ایک بار میں کیلاشی ثقافت کی نمائش میں شرکت کے لیے بھارت کے شہر ممبئی گیا۔ جب میں واہگہ بارڈر پر پہنچا اور اپنا پاسپورٹ آفیسر کو دیا تو وہ نام پڑھ کر پہلے حیران ہوا اور پھر ہنسنے لگا۔ اس نے پوچھا کہ کیا میں واقعی قائداعظم ہوں۔ وہاں موجود تمام عملہ بہت خوش تھا اور انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر چائے پلائی اور پھرباقی تمام لوگوں سے پہلے میرے کاغذات پر مہریں لگائیں اور میں بھارت میں داخل ہو گیا۔ میری بیوی بھی مجھے قائداعظم کے نام سے ہی پکارتی ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -