جسم میں موجود طبی آلات کو بجلی فراہم کرنے کیلئے کھائی جانے والی بیٹری

جسم میں موجود طبی آلات کو بجلی فراہم کرنے کیلئے کھائی جانے والی بیٹری
 جسم میں موجود طبی آلات کو بجلی فراہم کرنے کیلئے کھائی جانے والی بیٹری

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)ماہرین نے ایک ایسی بہت چھوٹی بیٹری تیار کرلی ہے جو ہرقسم کے مضر اور زہریلے اجزا سے پاک ہے اور جسم کے اندر جاکر بدن میں مانیٹرنگ کے آلات کو بجلی فراہم کرسکے گی۔اس کھانے والی بیٹری کو بالوں اور جلد میں پائے جانے والے قدرتی رنگ ( میلانن پگمنٹ) سے تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے کینسر اور دیگر مہلک امراض کے علاج میں مدد مل سکے گی اور اس کے سائیڈ افیکٹ بھی بہت کم ہوں گے۔اس بیٹری کو کارنیگی میلون یونیورسٹی کے ماہر کرسٹوفر بیٹنگر نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے تیار کیا ہے۔ کرسٹوفر کہتے ہیں کہ کھائی جانے والی الیکٹرانکس پر ایک عرصے سے کام جاری ہے لیکن اب ہم نے فطری طور پر انسانی جسم میں پائے جانے والے اجزا سے الیکٹرانک سرکٹ بنائے ہیں جو جسم کے لیے مضر ثابت نہیں ہوں گے۔ماہرین نے کیمرے والی گولی بنائی ہے جو جسم میں داخل ہوکر اہم معلومات اور اندرونی تصاویر بھیجتی رہتی ہے اور کام مکمل کرکے جسم سے خارج ہوجاتی ہے لیکن کھائی جانے والی اور جسم میں ازخود گھل کر ختم ہونے والی بیٹریوں میں دوا رکھ کر اسے جسم کے اندر مطلوبہ مقامات تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

بیٹری

مزید :

صفحہ آخر -