کچھ تو گھبرانے کی اجازت دیں

کچھ تو گھبرانے کی اجازت دیں
کچھ تو گھبرانے کی اجازت دیں

  



تحریر: کاوش میمن

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مونیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 13.25 پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے مطابق مالی سال مہنگائی 12 فیصد رہے گی مالی سال بھی پاکستانی عوام کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام مشکالات کا شکار ہے اور غریب طبقہ تو اس مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے۔

مہنگائی میں اس قدر اضافہ ہورہا ہے کہ لوگ خوکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں حکومت کے وزراء اس بات کو تسلیم کررہے ہیں کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور اس پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے لیکن معلوم نہیں کہ حکومت کب باتیں کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرے گی۔

حال میں وفاقی وزیر شیخ رشید نے بھی اس خدشہ کا اظہار کیا کے ہمیں اپوزیشن سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہے۔ خان صاحب پچھلی حکومت کو اپنا نے کرپٹ ، چور اور ڈاکو کہا لیکن ان چور اور ڈاکوں کے دور میں بھی اتنی مہنگائی نھیں تھی جتنی آج ہے مسلم لیگ ن کے آخری تین سالوں میں مہنگائی پانچ فیصد سے کم تھی اور آج تبدیلی سرکار کی حکومت میں بارہ فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

خان صاحب کو جہاں تقریر کا موقع ملتا ہے وہاں مخالفین پر چڑھائی کرنا نہیں بھولتے ہیں اور جب میڈیا سوال کرتا ہے کہ خان صاحب مہنگائی بڑھ رہی ہے غریب آدمی پریشان ہے اور دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہے تب خان صاحب فرماتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے مشکل وقت ہے گزر جائے گا۔

خان صاحب عوام کہ رہی ہے کہ کچھ تو گھبرانے کی اجازت دیں آپ نے اتنی بڑی بڑی باتیں کی تھیں لیکن آج کسی ایک وعدے پر بھی عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔

مہنگائی عوام کی بنیادی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے عوام اب یہ چور ڈاکو اور مافیا وغیرہ کئی بار تقریروں میں سن چکے ہیں غریب آدمی کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کون چور ہے اور کون ڈاکو ان کو بس دو وقت کی روٹی میسر ہونی چاہیے اور اب وہ آپ سے کارکردگی کی توقع لاگئے بیٹھے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے۔

خان صاحب آپ کہتے ہیں کہ میرا تنخواہ سے گزارا نہیں ہوتا ہے، خان صاحب کھانا رہائش سیکورٹی وغیرہ جیسے اہم معاملات تو آپ کو فری میں میسر ہیں اس کے باوجود آپ کا گزارا نہیں ہورہا سوچیں کہ جس شخص سے دو لاکھ روپے میں گزارا نہیں ہورہا تو غریب عوام کا کیا بنے گا جو دس سے بارہ ہزار کماتا ہے وہ کس طرح اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالے گا ملک کے صدر کو مہنگائی کا علم ہی نہیں ہے اور وہ لاعلمی کا اظہار کرچکے ہیں۔

افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی کئی دفعہ باریاں کے کر آنے والی پارٹیاں بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں پیپلز پارٹی کی مثال لے لیں جو سندھ میں ترقی کی باتیں کرتی ہے لیکن حقیقت میں بلکل مختلف ہے روٹی کپڑا اور مکان کیلئے سندھ کا جیالا اپنے لیڈران کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کب وہ ان کے مسائل حل کریں گے۔

خان صاحب آپ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ریاست مدینہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضہ اللہ تعالٰی عنہ جب اقتدار میں آئے اور کاروبار کیلئے جانے لگے تو انہیں حضرت عمر فاروق رضہ اللہ تعالٰی عنہ نے روک اور کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں آپ بھی کام کریں گے تو ریاست کے معاملات کون دیکھے گا حضرت ابو بکر صدیق رضہ اللہ تعالٰی عنہ بات مان گئے اس وقت کی شوریٰ بیٹھی اور غور شروع ہوا کہ خلیفہ وقت کی تنخواہ بیت المال سے مقرر کردی جائے تاکہ وہ ریاست کے معاملات کو دیکھیں ابو بکر صدیق رضہ اللہ تعالٰی عنہ نے کہا مدینہ میں ایک مزدور کو جتنی اجرت ملتی ہے اتنی ہی میرے لیے مقرر کی جائے ایک صحابی نے کہا کہ آپ کا گزارا کیسے ہوگا ابو بکر صدیق رضہ اللہ تعالٰی عنہ نے کہا جیسے ایک مزدور کا ہوتا ہے اگر میرا گزارا نہ ہوا تو مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا۔خان صاحب ایسے ہوتے ہیں ریاست مدینہ کے حکمران اور جناب آپ کا تو دو لاکھ میں گزارا نہیں ہورہا جبکہ مزدور دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ