چراغِ گولڑہ:نصیرملت

چراغِ گولڑہ:نصیرملت
 چراغِ گولڑہ:نصیرملت

  

پیر سید غلام معین الدین کی وفات کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے پیر سید نصیرالدین نصیر گیلانی کو سجادہ نشینی کی ذمہ داری ملی۔ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی علم وعرفان کے جیّد عالم، شہرہ آفاق نعت گو شاعر، سچے عاشقِ رسولﷺ اور ممتاز روحانی پیشوا تھے جو آسمانِ رشدوہدایت پر آفتاب وماہتاب بن کر چمکے۔ ان کی مذہبی، روحانی، ملی، علمی او رادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پیر سید نصیرالدین نصیرؔ بظاہر ایک فرد، ایک شخصیت تھے مگر حقیقت میں ایک ادارہ، ایک انجمن اور دینی علوم کا ایک منبع ومخزن۔ وہ ایک عظیم صوفی، پیرکامل، مردِ قلندر عظیم قاری، عظیم موسیقار، شاعر، ادیب، نقاد اور خطیب تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ بلاشبہ میردرد کے شعر:

بھرے ہیں تجھ میں لاکھوں ہنر اے مجمع خوبی

ملاقاتی تیرا گویا بھری محفل سے ملتا ہے

کے صحیح مصداق تھے تو بے جانہ ہوگا۔ دنیا میں دو باتیں ہمیشہ فخر کے قابل رہی ہیں، آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ ایک نسب اور دوسرا علم۔ انہیں اعلیٰ نسب سے ہونے کا فخر بھی حاصل تھا اور اللہ نے انہیں علم کی دولت سے بھی مالا مال کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ سجادہ نشینی صرف نسب کی بنیاد پر حاصل کرنا اس منصب کے ساتھ انصاف نہ کرنے کے مترادف ہے۔ علم وفضل اور پیغمبرانہ اخلاق کے بغیر کوئی بھی شخص اس روحانی منصب کا اہل قرار نہیں پاتا‘‘۔ حضرت پیر صاحب نے صرف نسبتوں پر اکتفا کرکے تن آسانی سے راحت وآسائش کی زندگی اختیار نہیں کی بلکہ اکتساب علم وفن کے لئے اپنے تن من دھن کو ہمہ تن مصروف کررکھا۔ ’’پدرم پیر بود‘‘ کے تخیل کو بالائے طاق رکھا۔ پیر ی مریدی کو ذریعہ معاش نہ بنایا۔ قلم کو آلۂ علم سمجھتے ہوئے اس کا خوب استعمال کیا۔

پیر سید نصیرالدین نصیر نے متعدد کتب تصنیف کی ہیں جن کے مطالعے سے دل ودماغ کے دریچے کھلتے چلے جاتے ہیں اور روح کو دائمی سرشاری نصیب ہوتی ہے۔ آپ کی مختلف شعری اور نثری تخلیقات میں آغوشِ حیرت، پیمانِ شب، دیں ہمہ اُوست، امام ابوحنیفہؒ اور ان کا طرزِ استدلال ، نام ونسب، فیضِ نسبت، رنگ نظام ، عرش ناز، راہ ورسم منزل ہا، اعانت واستعانت کی شرعی حیثیت، لفظ اللہ کی تحقیق، آئینہ شریعت میں پیری مریدی کی حیثیت، پیرانِ پیر کی شخصیت، سیرت او رتعلیمات، الجواہر التوحید یہ فی تعلیماتِ غوثیہ، لطمۃ الغیب علی الازالتہُ الریب، کیا ابلیس عالم تھا؟ موازنہ علم وکرامت اور اسلام میں شاعری کی حیثیت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پیر صاحب قادر الکلام شاعر تھے اور شاعری کی جملہ اصناف سخن میں آپ کو فی البدیہہ شعر کہنے کا ملکہ حاصل تھا۔ حمد، نعت، منقبت، قصیدہ، مرثیہ، غزل، رباعی اور دیگر اصناف، نظم پر آپ کو دسترس تھی۔ سات زبانوں میں شاعری پر عبور حاصل تھا جس کی وجہ سے ’’شاعرِ ہفت زبان‘‘ مشہور تھے۔ زبانوں پر مہارت کا یہ عالم تھا کہ پہلی دفعہ عربی اور فارسی ادب کو ’’ماہیا‘‘ کی صنف سے روشناس کروایا۔ ممتاز نقاد ڈاکٹر توصیف تبسم خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’برصغیر میں اب جبکہ فارسی کا رواج کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے فارسی میں شعر لکھنے والے تو کیا فارسی شعر کو سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونیوالے بھی کمیاب ہیں، پیر نصیرالدین نصیر کا دم غنیمت ہے۔ وہ فارسی میں غزل اور بالخصوص رباعی کے جس مقام پر فائز ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر ان کا فارسی کلام فارسی کے معروف کلاسیکل اساتذہ سخن کے کلام میں ملادیا جائے تو اس کو پہچاننا اور الگ کرنا دشوار ہوگا‘‘۔

پیر سید نصیر الدین نصیر عہد حاضر کے چند نمایاں ترین نعت گو شعراء میں بے حد اونچا مقام رکھتے تھے۔ آپ کے نعتیہ کلام میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآن وحدیث کا علم نمایاں ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے نعتیہ کلام کی عالمگیر پذیرائی کو الفاظ کی صورت میں پیش کرنا مشکل ہے۔ نعت کی طرح منقبت لکھنے میں بھی وہ اپنی مثال آپ تھے۔ یوں تو شاعری میں آپ نے ہر صنف میں طبع آزمائی کی مگر خاص طور پر رباعی میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ رباعی ایک مشکل ترین فن ہے اور اس فن کا اظہار مخصوص اوزان ہی میں ممکن ہوتا ہے اسی وجہ سے بڑے بڑے شعراء بھی اس فن کے نزدیک نہیں آتے مگر پیر سید نصیرالدین نصیر اس فن میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ علم وادب کی دنیا میں آپ کی اس دسترس کو فراخدلی سے تسلیم کیا گیا اور آپ کو ثانی حافظ شیرازی کے لقب سے نوازا گیا۔ ایران کی متعدد یونیورسٹیوں میں آپ کی فارسی رباعیات کو نصاب میں شامل کیاگیا ہے۔ فارسی زبان میں پیر صاحب کو جو یدطولیٰ حاصل تھا اس کا تذکرہ معروف شاعر وادیب جناب رئیس امروہوی مرحوم نے کیا خوب کیا ہے ۔ ’’سید نصیرالدین نصیر ایک ممتاز ترین روحانی خانوادے کے چشم وچراغ ہیں۔ ان کی قلندری اور درویشی میں کسے شبہ ہوسکتا ہے۔ صاحبزادہ صاحب کی فارسی رباعیات کا مطالعہ کریں تو عالم ہی دوسرا نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے قلب میں مرزا عبدالقادر بیدل عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی آواز گونچ رہی ہے اور ان کے لہجے میں بیدل ہی بول رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح جناب احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں ’’سید نصیر اس لحاظ سے بھی دادوستائش کے مستحق ہیں کہ فارسی شاعر ہونے کے باوجود انہوں نے فارسی پر اپنی دسترس کو اپنی اردو غزلوں کے شاید ہی کسی شعر پر مسلّط ہونے دیا ہو جبکہ ابتداء میں مرزا غالب تک اس کمزوری میں آ گئے تھے۔ اس لئے ان کی سلاست اور ساتھ ہی بلاغت میرے نزدیک حیرت انگیز بھی ہے اور مسرت بخش بھی‘‘۔

پیر صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپ کو قدرت نے لحن داؤدی سے سرفراز فرمایا تھا۔ آپ جب مجالس میں قرآن پاک کی قرأت کرتے تو سامعین کے دلوں پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی۔ آپ خطیب بھی بہت اعلیٰ تھے۔ آپ کا خطاب انتہائی مدلل ہوا کرتا تھا۔ فنِ خطابت کے ذریعے آپ نے لوگوں کی رہنمائی کی اور دینِ اسلام کے احکامات سامعین تک پہنچاتے رہے۔ یوں آپ نے علم کی اشاعت، اسلام کی ترویج اور خانقاہی نظام کے وارثوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد کرانے میں اپنے فنِ خطابت کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ آپ مصلحت انگیزی کے بجائے اظہارِ حق کے علمبردار تھے اور اظہارِ حق کرنے سے کبھی کوئی مصلحت آپ کو باز نہیں رکھ سکی۔ بلاشبہ پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے بعد گولڑہ شریف کا دوسرا بڑا نام پیر سید نصیرالدین نصیر کا ہے جو کہ اپنے بے شمار خصائل وفضائل کی وجہ سے مریدین اور عقیدت مندوں میں ’’چراغِ گولڑہ‘‘ اور نصیر ملت کے القاب سے مشہور ہوئے۔ اور برصغیر کے صوفیاء عظّام میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ اور حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ کے بعد یہ منفرد اعزاز بھی پیر سید نصیرالدین نصیر کے حصہ میں آیا کہ گولڑہ شریف کی سرزمین حق نصیر یا نصیر کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء دہلی کے سجادہ نشین خواجہ حسن ثانی نظامی نے پیر صاحب کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ’’پیر نصیر الدین نصیر شعروسخن اور تصوف کے حوالے سے بے مثل شخصیت تھے۔ وہ حضرت پیر مہر علی شاہ کے صحیح معنوں میں وارث تھے اور ایک غیر معمولی شخصیت تھے‘‘۔ آپ جیسی ہستیوں کو بجا طور پر عالم اسلام کا عظیم سرمایہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ آپ ساری زندگی اتحاد بین المسلمین کیلئے کوشاں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیر صاحب کا ہر مکتبہ فکر میں احترام پایا جاتا تھا۔ 1992ء میں وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقدہ علماء مشائخ کانفرنس میں سپاہِ صحابہ اور دیوبندی مسلک کے رہنما مولانا ایثار القاسمی نے تقریر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہم پیر صاحب گولڑہ شریف پیر سید نصیر الدین نصیر کی اقتداء میں چلنے کو تیار ہیں، پیر صاحب جیسا حکم فرمائیں گے ہم ویسے کرنے کو تیار ہیں۔ ہمارے لئے گولڑہ شریف حاضری ایک سعادت ہوگی۔ اور جب 13 فروری2009 ء کو پیر صاحب کی وفات ہوئی تو ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ایران کے سفیر ماشاء اللہ شاکری نے کہا کہ آپ کی وفات سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری ملت اسلامیہ ایک عظیم عالم اور مفکر سے محروم ہوگئی۔

پیر نصیرالدّین اپنے جدّامجد قبلہ عالم پیر سید مہرعلی شاہؒ اور حضرت پیر سید غلام محی الدین بابو جی ؒ کی طرح ختم نبوت کے تحفظ کو زندگی کا مقصد قرار دیتے تھے اور الیکٹرانک میڈیا پر قادیانی پروپیگنڈہ کا جواب د ینے کے لئے ختمِ نبوت ٹی وی چینل شروع کرنے والے تھے کہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اسی طرح آپ تصوف اور اسلامی تعلیمات میں درآنیوالی خود ساختہ چیزوں کے خلاف جہاد کررہے تھے اور قرآن وحدیث،صحابہ کرام، اہلبیت عظام ا ور اولیاء کرام کی خالص تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے غوثیہ مہریہ یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لئے آپ نے اسلام آباد میں کروڑوں روپے مالیت کی ذاتی زمین بھی وقف کردی تھی اور یونیورسٹی کا تعمیراتی کام بھی شروع ہوگیا تھا مگر یونیورسٹی مکمل ہونے سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ امید کی جاتی ہے کہ ان کے فرزندان پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی، پیر سید نجم الدین گیلانی اور پیر سید شمس الدین گیلانی ان کے مشن کو مکمل کریں گے۔ آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بقول پیر چورہ شریف ’’بلاشبہ سید نصیر الدین نصیر ان صاحبان کمال میں سے تھے کہ جن کا وجود غنیمت اور دنیا سے جانا کسی قیامت سے کم نہ تھا‘‘۔ پیر صاحب کا سالانہ عرس ہر سال 18-17۔ صفر المظفر کو گولڑہ شریف میں منعقد ہوتا ہے۔

مَیں 5 نومبر کی شام کو کراچی ائرپورٹ کے ڈیپارچر لاؤنج میں اسلام آباد کی فلائٹ پر سوار ہونے کے

مزید : کالم