فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر566

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر566
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر566

  

اس تحریر کا ایک اہم مقصد لوگوں کو اور آنے والی نسلوں کو اس دور کے (اپنی یادداشت کے مطابق) واقعات اورشخصیات سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ محض حافظے کی جادوگری ہے کبھی ادھر ادھر سے مدد اور رہنمائی بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن بیشتر اپنی یادوں پر گزارا ہے اسی لیے غلطیاں بھی دانستہ یا نادانستہ سر زد ہوتی رہتی ہیں۔ پڑھنے والے نشان دہی کرتے رہتے ہیں۔ ہماری معلومات میں اضافہ اور ہماری اصلاح کرتے رہتے ہیں۔

لیکن ا س داستان میں ہم نے ایک بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ تذکرہ صرف واقعات ، شخصیات ، ان کے کارناموں اور ہمارے تاثرات تک ہی محدود رہے۔ یہ بڑے ہنر مند، گنی اور قابل احترام ہستیاں ہیں۔ اپنے اپنے میدانوں کے شہسوار اور اپنے اپنے شعبوں کے آفتاب و ماہتاب ہیں۔ انہوں نے بڑے کارہائے نمایا سر انجام دیے ہیں۔ فن کار ایک عام انسان سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ غیر معمولی خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ قدرت انہیں ایسی خوبیوں سے نوازتی ہے جو ہر ایک انسان کے نصیب میں نہیں ہوتیں۔ یہ فن کار لوگ ہیں۔ اپنے ہنر کے بادشاہ، شہزادے اور شہزادیاں۔ انہیں ایک عام انسان کے معیار پر جانچنا مناسب ہی نہیں بلکہ نا انصافی ہے۔ یہ ایک عام انسان سے بلند ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اربوں افراد کی اس دنیامیں ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اپنے ملک یا برصغیر میں ہی دیکھ لیجئے۔ جن ادبی و فلمی ہستیوں کا تذکرہ آپ کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے ان جیسے کتنے لوگ برصغیر میں گزرے ہیں؟ لگ بھگ ڈیڑھ دو ارب کی کثیر آبادی میں کتنے سہگل، مہدی، حسن، نور جہاں، دلیپ کمار، محبوب خان، نوشاد اور ان جیسے لوگ پیدا ہوئے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ان مخصوص لوگوں کو عام معیار پر جانچنا قرین انصاف نہ ہوگا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر565 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک اور پہلو جس کا خاص التزام رکھا جاتا ہے یہ ہے کہ ان کی ذاتی بشری کمزوریوں اور خاندانی نسب کو منفی انداز میں پیش نہ کیا جائے کیونکہ اپنی فن کارانہ عظمت کے باعث یہ ان سے سے ماورا اور بلند تر ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہمارے دنیائے موسیقی کے مایہ ناز فن کار پیشہ ور گانے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور فن کاراؤں کی آمد ایک زمانے تک پیشہ ور خاندانوں سے ہی ہوتی رہی ہے۔ یہ ناگزیر اور قدرتی امر تھا۔ جس معاشرے میں گانا اور ناچنا معیوب سمجھا جائے اور خواتین کا اداکاری کے میدان میں آنا قابل اعتراض اور باعث شرم تصور کیا جاتا ہو وہاں شریف خاندانوں کے اعلیٰ نسب لوگ ان شعبوں میں بلا کیسے جلوہ گر ہو سکتے ہیں؟ ان نادر روزگار ہستیوں کو ان کے خاندانی نسب کے حوالے سے کم تر خیال کرنا بھی ایک غلطی اور خود فریبی ہوگی۔ ہمیں صرف ان کے فن پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کروڑوں افراد کو جو خوشیاں، سکون، تفریح اور لطف عطا کیا ہے کیا وہ کافی نہیں ہے؟

ہمیں ایسے خطوط موصول ہوتے رہتے ہیں کہ فلاں فن کار کا تعلق پیشہ ور گھرانے سے تھا مگر ہم اسے گول کر گئے یا پھر ان کے بیان کردہ حقائق کے پیش نظر انہیں شریف گھرانوں سے منسوب کر بیٹھے حالانکہ جاننے والے ان کا خاندانی پس منظر بہ خوبی جانتے ہیں تو پھر ہم ان کی پردہ پوشی کیوں کرتے ہیں۔

ایسا ہی ایک خط ہمیں پچھلے دنوں پشاور سے انور اعجاز خان صاحب نے ارسال کیا ہے۔ خط کے مندرجات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انور اعجاز صاحب ایک جہاندیدہ، صاحب ذوق اور صاحب علم قاری ہیں۔ ہم نے گزشتہ داستانوں میں چند نامور گلوکاراؤں کا ذکر کیا تھا۔ ان کے خط کے کچھ حصے پیش خدمت ہیں؟

انہوں نے گلوکاراؤں کے خاندانی پس منظر کے بارے میں وہ معلومات فراہم کی ہیں جن سے ہم واقف ہیں چند واقعات بھی تحریر کیے اور لکھا ہے۔

’’میرا ذاتی خیال ہے کہ جو کوئی بھی کسی گلوکارہ، اداکارہ یا اسی قبیل کے کسی فنکار کا تذکرہ بیان کرے تو صحیح اور حقیقت حال بیان کرے۔ ان کا ذاتی’’اپنے منہ میاں مٹھو‘‘ والا بیان نہ لکھے بلکہ پردہ نشینوں کا اصل کردار ہی بین کرے۔ جو لوگ ان فنکاراؤں اور ان کے فن سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ ان کی ذاتی زندگی، کردار، خاندان اور پیشے وغیرہ سے بھی خوف واقف ہوتے ہیں۔‘‘

انور اعجاز خان صاحب کے اعتراض کا جواب خود ان کے خط کی آخری سطور میں موجود ہے جو لوگ ان تفصیلات سے واقفیت رکھتے ہیں ان کے لیے ان کا بیان غیر ضروری ہوگا لیکن جو لوگ نا واقف ہیں اور انہوں نے اپنے محبوب فن کاروں کے بت اپنے زہنوں کے مندروں میں سجا رکھے ہیں کیا ضروری ہے کہ ان کو یہ غیر ضروری باتیں بتا کر ان کے شیشے کے بنائے ہوئے تصورات پر سنگ زنی کی جائے۔ ویسے بھی وہ ان ہستیوں کو محض ان کے فن کے حوالے سے جانتے ہیں پہچانتے ہیں ان کے خاندانی پس منظر میں دلچسپی نہیں رکھتے پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ برصغیر کے ممتاز اور نامور فن کاروں، فن کاراؤں، ہنر مندوں اور تخلیق کاروں میں کتنی تعداد انہی خاندانی حسب نسب رکھنے والوں کی ہے۔ اگر ان خاندانوں اور پیشہ وروں کو خارج کر دیا جائے تو برصغیر کی ثقافت اور فنون لطیفہ میں باقی کیا رہ جائے گا؟ اس خطے میں بے شمار اعلیٰ نسب لوگ موجود ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا کیونکہ انہوں نے خلق خدا کو وہ خوشی، لطف و انبساط، فرحت اور تفریح فراہم نہیں کی جس کے لیے فنکار اور فن کارائیں نا قابل فراموش حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ کسی فنکار یا فنکارہ کا حوالہ اس کا فن ہوتا ہے نہ کہ خاندان؟

خط کے اگلے حصے میں انہوں نے کافی معلومات افزا باتیں لکھی ہیں۔

’’آپ درست فرما رہے ہیں کہ چالیس کی دہائی میں آل انڈیا ریڈیو پر متحدہ ہندوستان کے صاحبان علم و فن اور عالی دماغ لکھاری اور شرفا اکٹھے ہوگئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ اس میں اس وقت کے کنٹرولر جنرل سید احمد شاہ بخاری (پطرس) کا بھی ہاتھ ہے۔ پشاور کے مشہور بخاری برادران کا آل انڈیا ریڈیو اور پھر ریڈیو پاکستان کی بنیاد اور ساکھ بنانے اورشہرت قائم کرنے میں سب سے زیادہ عمل دخل رہا ہے۔ چالیس کی دہائی میں پشاور جیسے دور افتادہ اسٹیشن پر بھی سجاد سرور نیازی، قاضی سعید، فارغ بخاری، محسن احسان، خاطر غزنوی، حمید نسیم، پرتھوی راج کپور، الطاف گوہر اور ندیم قاسمی جیسے نامور اصحاب موجود تھے جو بعد میں فن اور ادب کی دنیا میں آفتاب و ماہتاب ہوئے۔

یہ بھی یاد دلا دوں کہ محترمہ شمشاد بیگم کو متعارف کرانے میں سجاد سرور نیازی کا ہاتھ ہے جو مشہور گلوکاراؤں ناہید نیازی اور نجمہ نیازی کے والد گرامی تھے۔ ان دنوں پشاور میں اردو گانے والوں کا کال تھا(اور اب بھی ہے) اس لیے دوسرے شہروں سے اچھا اور صاف اردو گانے والوں اور نئے فنکاروں کو تلاش کرکے پشاور ریڈیو سے پیش کیا جاتا تھا۔

شمشاد بیگم کا سب سے پہلا پروگرام آل انڈیا ریڈیو پشاور سے پیش کیا گیا تھا۔ موصوفہ کی مشہور نعت؂

آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی سے

پشاور ریڈیو سے ہی نشر کی گئی تھی جس کی دھن اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر سجاد سرور نیازی مرحوم نے بنائی تھی۔ پرتھوی راج نے بھی سب سے پہلے پشاور ریڈیو اسٹیشن سے ہی صدا کاری کی تھی۔ مشہور عالم شہنشائی نواز استاد بسم اللہ خاں نے بھی سب سے پہلا پروگرام پشاور ریڈیو سے ہی پیش کیا تھا۔ موصوف چند سال قبل بھارتی ہائی کمیشن میں بھارت کے یوم آزادی کا پروگرام کرنے آئے۔ انہوں نے شرط رکھی کہ وہ بھارتی ہائی کمیشن کے علاوہ صرف ریڈیو پاکستان پشاور پر پروگرام پیش کریں گے اور ضرور کریں گے چنانچہ انہوں نے پشاور اسٹیشن پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔‘‘

انور اعجاز خاں نے محترمہ شمشاد بیگم اور مایہ ناز سارنگی نواز بسم اللہ خاں کا تذکرہ کتنے جذب و احترام سے کیا ہے۔ بسم اللہ خاں جیسا سارنگی نواز برصغیر میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔ رہی شمشاد بیگم تو ان محترمہ کی آواز کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے مگر انور اعجاز خاں نے ان دونوں فن کاروں کے خاندانی پس منظر کا حوالہ نہیں دیا؟ اس لیے کہ عطر وہ ہے جس کی خوشبو خود اس کی خوبی بیان کر دے نہ کہ عطار اس کی خوبیاں بیان کرے۔

سچ تو یہ ہے کہ برصغیر کے نامی گرامی فن کاروں اور فن کاراؤں میں سے عالی نسب ہستیوں کو چن چن کر الگ کر دیا جائے تو حاصل جمع کیا رہ جائے گا؟ ہمیں صرف فن کاروں کے فن سے تعلق رکھناچاہئے کہ اسی حوالے سے وہ جانے جاتے ہیں اور اسی حوالے سے ان کا تذکرہ بیان کیا جاتا ہے۔ اہل فن ایک علیحدہ خاندان اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا شجرہ نسب ہی ان کا فن ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر567 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -