فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر567

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر567
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر567

  

غالب نے کہا تھا؂

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں

غالب کے زمانے میں بھی پری چہرہ لوگ یقیناًہوتے ہوں گے مگر اس زمانے میں خواتین کے مشہور اور باپردہ رہنے کا رواج تھا۔ اس کے باوجود لوگ ان کی جھلک دیکھ ہی لیا کرتے تھے۔ غالب کو شاید گمان بھی نہ ہوگا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب پری چہرہ لوگوں کی کمی نہ ہوگی اور ہر کوئی ان چہروں کو دیکھ سکے گا۔؂

سہراب مودی نے جب فلم ’’پکار‘‘ کا آغاز کیا تو مغلیہ دور کی اس یادگار کہانی کے لیے انہون نے شہنشاہ جہانگیر کے طو پر اپنے زمانے کے حسین ترین اور باوقار ترین اداکار چندر موہن کا انتخاب کیا اور نور جہاں کے کردار کے لیے ان کی نگاہ انتخاب نسیم بانو پر پری۔ نسیم بانو کو ان کے ماہر پبلسٹی ایم اے مغنی صاحب نے پری چہرہ کا لقب دے کر اس فلم کی پبلسٹی کو ایک نیا رنگ دے دیا۔ ہم اس زمانے میں بہت چھوٹے تھے مگر اتنے بھی نہیں کہ فلم دیکھنے کا شوق نہ رکھتے ہوں۔ ذوق و شوق بھی تھا اور جستجو بھی رہتی تھی کہ اب کون سی فلم نمائش کے لیے بھوپال ٹاکیز میں آئے گی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر566 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہمارا بچپن ریاست بھوپال میں گزارا ہے۔ دارالحکومت بھوپال ایک خوب صورت شہر تھا۔ اس زمانے میں وہاں ایک ہی سنیما گھر تھا۔ سنیما دیکھنا رواج میں شامل نہیں ہوا تھا بلکہ معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اسے ہائی کوپ کہا جاتا تھا ۔ عورتیں تو عورتیں مرد بھی فلمیں دیکھنے کے حق دار نہیں سمجھے جاتے تھے۔ خواتین بڑی مشکلوں سے گھروں سے اجازت لے کر ٹولیوں کی صورت میں سینما جاتی تھیں اور علیحدہ زنانہ کلاس میں بیٹھ کر فلم دیکھا کرتی تھیں۔ اس کلاس میں کرسیوں کی جگہ بنچیں ہوا کرتی تھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ فلم بین اس چھوٹی سی کلاس میں سما جائیں۔ اس کے باوجود رش کا یہ عالم ہوتا تھا کہ کمراہ کھچا کھچ بھرا ہوتا تھا۔ کوئی خاتون بیٹھی ہیں کوئی کھڑی ہیں۔ سب ایک دوسرے سے جڑ کر بیٹھتی تھیں پھر بھی دیوار سے لگ کر فلم دیکھنے والیوں کی کمی نہ تھی۔

ہم جیسا کہ پہلے بتا چکے ہیں کہ کسی کی گود میں یا کسی کے کندھے سے لگ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ اگر نظارہ صاف نہ دکھائی دے تو ادھر ادھر سے گھس گھسا کر خواتین کے پیروں میں جا بیٹھتے تھے اور جہاں بھی موقع ملتا جھانک کر فلم دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے باوجود دیکھنے والوں کے انہماک کا یہ علام تھا کہ ایک ایک منظر اور ایک ایک گانا اور مکالمہ ذہن پر نقش ہو کر رہ جاتا تھا۔ دوسری بار فلم دیکھنا ہر ایک کی قسمت نہ تھی اس لیے پہلی بار ہی میں اسے ’’رٹ‘‘ لیا جاتا تھا اور پھر خواتین گھر واپس جا کر انتہائی تفصیل سے مکالموں کے ساتھ ہر منظر کی زبانی تصویر کشی یوں کرتی تھیں کہ سننے والیوں کو فلم چلتی ہوئی محسوس ہونے لگتی تھی۔ فلم اگر تین گھنٹے میں ختم ہوتی تھی تو زبانی فلم دو چار دن تک چلی جاتی تھی۔

پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ہم نے اس طرح جو پہلی فلم ضداور بھوک ہڑتال کرکے دیکھی تھی وہ اشوک کمار اور لیلا چٹنس کی ’’کنگن‘‘ تھی۔ یہ ہمیں بے حد پسند آئی حالانکہ معاشرتی اور رومانوی کہانی تھی پھر جب ’’بلبل بغداد‘‘ دیکھی تو مہینوں اس کے سحر میں کھوئے رہے۔ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے بلبل بغداد ہی نظر آتی تھی۔ ہم بہت روئے گائے بہت فیل مچایا کہ دوبارہ یہ فلم دیکھنے کا موقع مل جائے مگر نہ ملا۔ البتہ ایک بزرگ عزیز نے یہ تسلی دی کہ میان چھوڑو یہ بلبل و لبل ’’پکار‘‘ آنے والی ہے۔ وہ دیکھیں گے اور ہم تمہیں اپنے ساتھ لے جا کر مردانہ کلاس میں بٹھا کر دکھائیں گے۔ یہ ہمارے کزن یعنی تایا کے بڑے صاحب زادے فاروق علی بیگ تھے جنہیں ’’نقو میاں‘‘ کہا جاتا تھا۔ہم سے پندرہ بیس سال بڑے تھے اس لیے ہم انہیں بھائی صاحب کہا کرتے تھے۔ وہ عمر کے اس فرق کے باوجود ہم سے کافی بے تکلف تھے اور ہماری دل جوئی کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔

بھائی صاحب کے اس وعدے پر ہم کافی عرصہ جئے ’’پکار‘‘ پہلے تو مکمل نہ ہوئی اور جب مکمل ہوگئی تو ہندوستان کے دوسرے شہروں میں اس کی نمائش شروع ہوگئی۔ بھوپال کی باری دیر میں آئی۔ اس تمام عرصے میں ہم بے تابی سے منتظر رہے۔ اخبارات مین فلمی اخباروں اور تصویروں کا گزر نہ تھا۔ چند فلمی پرچے تھے جن تک ہماری رسائی نہ تھی مگر خبریں ساری رکھتے تھے۔ یہ خبریں سینہ گزٹ کے ذریعے زبانی سفر کرتی رہتی تھیں اور موجودہ ٹی وی سے زیادہ ان کا حلقہ اثر تھا کیونکہ آج کل ٹی وی کے کئی چینل ہیں۔ اس وقت یہ زبانی چینل صرف ایک تھا اس لیے اس کی خبریں گھر گھر پہنچ جاتی تھیں۔

ہم نے ایک دن بھائی صاحب کو گھیر لیا’’بھائی صاحب! آپ تو کہتے تھے کہ نور جہاں اور جہانگیر کی فلم ’’پکار‘‘ آئے گی تو دکھائیں گے۔‘‘

’’میاں صبر کرو۔ فلم یہاں آتو لے۔ تب ہی تو دکھائیں گے نا۔ خود سے فلم کی تصویر کھینچ کر تو نہیں دکھا سکتے۔‘‘

’’مگر وہ کب آئے گی۔‘‘

’’بس آئی کہ آئی۔ گوالیار میں تو آگئی ہے۔ بس اب اپنے بھوپال کی باری ہے۔ میاں ہم تو ایک بات جانتے ہیں ایسی فلم نہ کبھی بنی ہے نہ بنے گی۔ مغلیہ بادشاہوں کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے کم بخت نے۔ کہنے کو پارسی ہے مگر کام مسلمانوں والے کرتا ہے۔ اب دیکھ لو۔ جہانگیر اور نور جہاں کے بارے میں فلم بنا ڈالی۔ سنا ہے کہ شاید اصلی جہانگیر اور نور جہاں بھی ایسے شاندار اور خوب صورت نہ ہوں گے۔ جانتے ہو کہ اس کی ہیروئن کون ہے؟‘‘

’’پری چہرہ نسیم۔‘‘ ہم نے جھٹ جواب دیا۔ کافی عرصے سے سن جو رہے تھے ’’اپنے اکو میاں تو دلی سے دیکھ آئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پری چہرہ نسیم کے آگے تو اصلی پریاں بھی شرما جائیں۔ سچ مچ کی پری چہرہ ہے۔‘‘

’’بھائی صاحب۔ صرف اس کا چہرہ پریوں جیسا ہے یا وہ سب کی سب پری ہے؟‘‘

’’میاں رہے نا آخر گھامڑ کے گھامڑ۔ بندہ خدا جس کا چہرہ پری جیسا ہوگا وہ تو ساری کی ساری پری ہوگی۔چہرہ کسی اور کا جسم کسی اور کا کبھی سنا ہے؟‘‘

’’نہیں تو۔‘‘

’’بس تو پھر پری چہرہ نسیم سچ مچ کی پری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کوہ قاف سے راستہ بھول کر ادھر آگئی ہے۔‘‘

ہماری فلمی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اس لیے مان لیا۔

آخر خدا خدا کرکے ’’پکار‘‘ بھوپال میں پہنچ گئی۔ ایسا ہجوم اور بے تابی کہ ٹکٹ ملنا ممکن نہ تھا ہمیں یہ بے قراری کہ ایسا نہ ہو ایک دو ہفتے بعد فلم چلی جائے اور ہم دیکھ نہ سکیں۔ اتنی اجازت اور توفیق نہ تھی کہ سینما گھر جا کر فلم کی تصویریں ہی دیکھ لیتے۔ بس دل ہی د ل میں تلملا کر رہ جاتے تھے۔

بھائی صاحب نے ایک روز بتایا ’’لو میاں کل کا ٹکٹ پکا ہوگیا۔‘‘

’’مگر بھائی صاحب ہمیں اپنے ساتھ لے جانے کے لیے اماں اور آگا میاں سے بات بھی کر لی ہے آپ نے؟‘‘

’’ارے میاں فکر کیوں کرتے ہو۔ ہم نے سارا بندوبست کر لیا مگر دیکھو کسی اور چیلے چانٹے کو نہ بتا دینا ورنہ مشکل ہو جائے گی۔شیطانوں کی اس فوج کو بھلا کون لے جائے گا۔‘‘

’’اللہ قسم بھائی صاحب جو کسی کو بتائیں۔ بس آپ کل صبح پکی بات کر لیجئے۔ دیکھئے۔ اگر مجھے سات نہ لے گئے تو کبھی آپ سے نہیں بولوں گا۔‘‘

’’میرے بھیا! میرے بچے۔ اطمینان رکھو اور اللہ پر بھروسا رکھو۔‘‘

اللہ پر بھروسا کام آیا اور دوسرے دن ہم ’’پکار‘‘ دیکھنے پہنچ گئے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر568 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -