اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 69

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 69
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 69

  

حضرت خواجہ سلیمانؒ تونسوی نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ مَیں ایک رات تنہا بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص ایک گدھا لایا اور اس کو مجھ سے کچھ فاصلے پر باندھ کر بیٹھ گیا۔ مَیں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔

اس نے جواب دیا ’’مَیں شیطان ہوں اور آپ کے پاس کچھ دیر بیٹھنے کے لئے آیا ہوں۔‘‘

شیطان کی اس بات پر مَیں نے اپنے دل میں دعا کی’’اے مولا!مجھے شیطان کے مکر سے بچا اور اپنی امان میں رکھ۔‘‘

شیطان نے کہا ’’آپ فکر نہ کیجئے۔ خدا نے آپ کو میرے مکر سے بچا کر پہلے ہی اپنی امان میں لے رکھا ہے۔‘‘

پھر شیطان اور میرے درمیان گفت گو ہوتی رہی۔ باتوں باتوں میں اس نے بڑے فخر سے کہا کہ مَیں بھی کبھی خدا کے بہت نزدیک ہوتا تھا۔ مَیں نے کہا ’’ اگر تو اب بھی سچے دل سے حضرت آدمؑ کی قبر پر سجدہ کرے تو امید ہے کہ خدا تجھے پہلا سا رتبہ عطا کردے گا۔‘‘

شیطان نے جواب دیا کہ چونکہ مَیں نے اس وقت خدا کا حکم نہیں مانا تھا۔ اس لئے اب مجھے ایسا کرتے ہوئے شرم آتی ہے‘‘ یہ کہہ کر وہ جانے لگا تو مَیں نے کہا۔ ’’تیرے نزدیک جو بہتر نصیحت ہو وہ مجھے کر۔‘‘شیطان نے کہا ’’ہر شخص کو اپنے سے بہتر سمجھئے۔ آپ کا رتبہ ہمیشہ بڑھتا رہے گا۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 68 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

خواجہ حسن افغانؒ حضرت شیخ بہاؤالدین زکریاؒ کے مریدوں میں سے ہیں، حضرت نظام الدین اولیاؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ صاحب ولایت اور بہت بڑے بزرگ تھے۔ ایک دفعہ کسی کوچے میں سے گزرتے ہوئے ایک مسجد میں پہنچے، موذن نے تکبیر کہی۔ امام آگے بڑھا اور لوگ جماعت میں شریک ہوگئے۔ خواجہ حسنؒ بھی نماز میں شامل ہوگئے۔

جب نماز ختم ہوئی اور لوگ چلے گئے تو یہ امام کے پاس گئے اور کہا’’اے خواجہ! تم نے نماز شروع کی اور مَیں تمہارے ساتھ شامل ہوگیا۔ تم یہاں سے دہلی پہنچے اور وہاں سے غلام خرید کر واپس آئے۔ پھر ان غلاموں کو خراسان لے گئے اور وہاں سے چل کر ملتان آئے اور مَیں تمہارے پیچھے پیچھے سرگرداں پھرتا رہا۔ آخر یہ کیا نماز ہے؟‘‘

*** 

جب شیخ بابا فرید الدینؒ نے مجاہدہ کرنا شروع کیا تو اس بارے میں خواجہ قطب الدینؒ کی خدمت میں عرض کی۔ آپ کو حکم ہوا کہ روزہ رکھو۔چنانچہ آپ نے تین دن تک کوئی شے نہ کھائی۔ تیسرے روز افطار کے وقت ایک شخص چند روٹیاں لے آیا۔ آپ نے اسے غیبی مدد سمجھ کر روزہ کھول لیا مگر آپ کو وہ کھانا ہضم نہ ہوا اور بذریعہ قے خارج ہوگیا۔آپ نے جب حضرت خواجہ قطب الدینؒ کو اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا ’’تین دن کے بعد جو تم نے مرغن کھانا کھایا تھا، خدا کے فضل سے معدہ نے اسے قبول نہ کیا۔ اب جاکر تین دن روزہ پھر رکھو۔ اور غیب سے جو ملے اس سے روزہ افطار کرلینا۔‘‘

چنانچہ تین دن کے روزے کے بعد وقت افطار کچھ بہم نہ پہنچا۔ ایک گھڑی رات گزر گئی تو ضعف غالب ہوا اور نفس حرارت سے جلنے لگا۔ آپ نے دست مبارک زمین کی طرف بڑھایا اور چند سنگریزے اٹھا کر منہ میں ڈال لئے اور وہ شکر بن گئے۔

اچانک آپ کو خیال آیا کہ یہ کوئی فریب نہ ہو لہٰذا انہیں اُگل دیا اور پھر عبادت میں مشغول ہوگئے۔ حتیٰ کہ آدھی رات گزرگئی۔ ضعف اور زیادہ ہوا تو پھر سنگریزے اٹھا کر منہ میں ڈالے وہ بھی شکر بن گئے۔چنانچہ تین دفعہ ایسا ہی ہوا پھر آپ نے جان لیا کہ یہ حق کی طرف سے ہے۔ جب دن ہوا تو یہ ماجرا خواجہ قطب الدینؒ کی خدمت میں بیان کیا۔

آپ نے فرمایا ’’یہ جو کچھ ہوا، غیب سے تھا، تم شکر کی طرح شیریں ہوگئے۔‘‘

اسی روز سے آپ گنج شکر مشہور ہوئے۔ 

**

ایک دفعہ علاقہ پانڈو میں سخت قحط پڑا اور لوگ دانے دانے کو ترسنے لگے۔ اسی علاقہ میں حضرت بلھے شاہؒ آباد تھے۔ آپ نے قحط کا جب یہ حال دیکھا تو لوگوں سے فرمایا ’’میں اپنے ڈیرے کا فرش اونچا کرنا چاہتا ہوں، جو شخص دن بھر مٹی ڈالے گا اسے روزانہ دو آنے اجرت دی جائے گی۔‘‘

اس طرح بہت سے لوگ کام پر لگ گئے۔ آپ ہر شام مصلے کے نیچے ہاتھ ڈالتے اور رقم نکال کر اُجرت ادا کرتے تھے۔ دو مزدوروں کے دل میں بے ایمانی آگئی۔ ان کا خیال تھا کہ شاہ صاحب کے مصلے کے نیچے کافی رقم رکھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے رات کو چوری چھپے مصلے کے نیچے ہاتھ ڈالا مگر وہاں کچھ بھی نہ تھا۔

دوسرے دن حسب معمول وہ کام پر آگئے۔ جب شام ہوئی تو شاہ صاحب نے سب کو دو دو آنے اور ان دونوں کو چار چار آنے دئیے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا ’’یہ بچارے رات کو بھی کھودتے رہے ہیں اس لئے یہ دُگنی مزدوری کے حقدار ہیں۔‘‘

وہ دونوں یہ سن کر سخت شرمندہ ہوئے۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 70 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے