کوئٹہ بم دھماکہ: پاک فوج کے 8 جوانوں اور 7 شہریوں سمیت 15 افراد شہید، 25 افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں: آئی ایس پی آر

قومی

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز کی بس کو نشانہ بناتے ہوئے بم دھماکہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 8 جوان جبکہ 7 عام شہریوں سمیت 15 افراد  شہید ہوگئے ہیں جبکہ اس دھماکے میں 25 افراد زخمی ہوگئے ہیں زخمیوں میں اکثریت کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ، تمام زخمیوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں پشین سٹاپ کے قریب دھماکہ ہو اہےجس میں پاک فوج کے 8 جوانوں سمیت  15 افراد شہید ہوگئے ہیں جبکہ 25 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر )کے مطابق دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنا کر دھماکہ کیا ہے جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ دھماکہ یوم آزادی کی تقاریب کو سبوتازژ کرنے کی کوشش ہے۔ دھماکہ کوئٹہ کے حساس ترین علاقے میں ہوا تھا، جائے دھماکہ کے قریب ایف سی ہاسٹل اور بلوچستان اسمبلی ہے جبکہ اس کے قریب ایک نجی ہسپتال بھی واقع ہے ۔ 

دھماکہ سیکورٹی فورسز کی بس کو  نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا ، دھماکے کے زخمیوں میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔دھماکے کے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے  جبکہ سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔   دھماکے کے نتیجے میں اردگرد  کھڑی 2 گاڑیوں 4 رکشوں اور 6 موٹر سائیکلوں میں آگ لگ گئی ۔جبکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور دھماکے کی جگہ پر صرف ریسیکیو اہلکاروں کو جانے کی اجازت ہے۔دھماکے کے بعد   ریسیکو حکام نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا ۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ جائے حادثہ سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے دے رہے تھے ۔ فائر بریگیڈ کی تین گاڑیوں نے آگ پر قابو پایا ۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے بعد ریسکیو اداروں جائے وقوع پر پہنچ چکے ہیں اور سیکیورٹی فورسز بھی جائے وقوع پر پہنچی چکی ہے، دھماکا بہت بڑا تھا زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ اسپتال میں روزانہ سیکڑوں لوگوں کی تعداد میں لوگ یہاں آتے ہیں، دھماکا زوردار تھا جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے، متاثرہ علاقے میں اہم عمارتیں ہیں اور دھماکے کے بعد گاڑیوں میں آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔