التیت قلعے کو دیکھ کر یقین نہیں ہوتا تھا کہ کبھی یہ ایک اجاڑ بھوت بنگلا ہوا کرتاتھا۔ مر مت کے بعد صا ف اور نیا لگ رہاتھا

التیت قلعے کو دیکھ کر یقین نہیں ہوتا تھا کہ کبھی یہ ایک اجاڑ بھوت بنگلا ہوا ...
التیت قلعے کو دیکھ کر یقین نہیں ہوتا تھا کہ کبھی یہ ایک اجاڑ بھوت بنگلا ہوا کرتاتھا۔ مر مت کے بعد صا ف اور نیا لگ رہاتھا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:147

التیت میں ایک سادہ سی عمارت کے برامدے کے اوپر ”بروم خون التیت“ کا بورڈ ٹنگا تھا۔ یہ قلعے کا استقبالیہ تھا۔ جاوید نامی ایک نوجوان نے ہمارا استقبال کیا اور ٹکٹ ہمارے ہاتھ میں تھما کر رہنمائی کےلئے ساتھ چل پڑا۔ ایک گلی سے گزر کر قلعے میں پہنچے جہاں ہمیں روکا گیا کہ پہلے کچھ سیاح جو اندر مو جود ہیں وہ باہرآجائیں تو ہمیں قلعہ دکھا یا جائے۔ ہم ایک طرف بنے سنگی بنچ پر بیٹھ گئے۔ اب اس قلعے کو دیکھ کر یقین نہیں ہوتا تھا کہ کبھی یہ ایک اجاڑ بھوت بنگلا ہوا کرتاتھا۔ مر مت کے بعد قلعہ تازہ مونھ دھلے بچے کی طرح صا ف اور نیا لگ رہاتھا۔اپنی باری پر ہم ایک اونچی محراب والے راستے سے اندر دا خل ہوئے۔ اور با غیچے کے قریب سے گزر کر ایک کشادہ زینے سے اوپر پہنچے۔ التیت کا قلعہ بھی گاؤں سے ذرا بلندی پر ایک چٹان کے اوپر قائم ہے۔ قلعے کا دا خلی دروازہ حسب ِ روایت اونچائی پر تھا۔ دروازے سے پہلے سیڑھیاں تھیں جو دشمن سے بچاؤ کےلئے تنگ اور بل دار بنائی گئی تھیں تاکہ دشمن کے سپاہی مل کر ہلّا نہ بول سکیں۔ تزویراتی وجہ سے دروازہ بھی بہت تنگ اور نیچا بنایا گیا تھا۔ اس کا یہ فائدہ تھا کہ ایک وقت میں ایک ہی آدمی اندر دا خل ہو سکتا تھا اور وہ بھی کچھ جھک کر اور اگر وہ دشمن کا سپاہی ہو تو اس کا فائدہ قلعے کے محافظوں کو ہوتا تھا۔سارا قلعہ ”در بزم ِ تو می خیزد افسانہ ز افسانہ‘ ‘ (پیدا تیری محفل میں افسانے سے افسانہ) کی طرح پیچ در پیچ، تنگ و تاریک راہداریوں اورکمرا در کمرا بھول بھلیوں کا مجموعہ ہے ۔ اس طرز تعمیر کا تعلق صرف دفاع سے نہیں بلکہ یہاں کے شدید موسمی حالات سے بھی ہے۔سخت برف باری اور شدید سردموسم میں ایسی ہی نیچی چھتوں والے بند بند اور گھٹے گھٹے کمرے بنائے جا سکتے تھے تاکہ سردی کو باہر اور حرارت کو اندر روکاجا سکے۔کھڑکیاں بھی کم ہی بنائی جاتی تھیں اور وہ بھی اتنی چھوٹی کہ بہ مشکل جھانکی لگائی جا سکے۔ اب ان کمروں میں بجلی کے قمقموں سے ہلکی روشنی رہتی ہے جو تاریکی کو کم کر کے رومان کو جگاتی ہے۔ جا وید نے بتا یا کہ ان کی خواہش تھی کہ پا کستان کے تمام قلعوں کو مرمت کر کے پرانی حالت پر بحال کریں۔ اس نے اس حوالے سے چنیوٹ کے قلعہ ریختی کا ذکر کیا تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ ایسے گم نام قلعے کے وجود سے بھی واقف تھا جس سے چنیوٹ کے لوگ بھی کم ہی واقف ہیں۔ لیکن ان کا یہ خواب اس لیے نا مکمل رہ گیا کہ پنجاب کے افسران اور محکمے قلعوں کی حالت درست کروانے سے پہلے اپنے معاشی حالات درست کروانے میں زیادہ دل چسپی رکھتے تھے۔ (میری رہائش اسی محلے میں ہے جہاں یہ قلعہ واقع ہے ۔ چوں کہ” گڑھ“ سنسکرت میں قلعے کو کہتے ہیں اسی نسبت سے یہ” محلہ گڑھا“ کہلاتا ہے۔ یہ قلعہ کافی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ سوائے ایک دو دیواروں اور چند کمروں کے ۔ سارے قلعے پر مقامی لوگ قابض ہیں جنھوں نے حسب ِ ضرورت پرانی تعمیرات مسمار کر کے نئی اور بھدی تعمیرات کھڑی کر لی ہیں۔ حکومت اور مقامی افسران کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں۔) 

سات کا ہندسہ:

جاوید نے قدیم چوبی ستونوں اور شہ تیروں پر کھدے ہوئے نقوش دکھائے جو غور سے دیکھنے پر انسانی اور حیوانی پیکر نظر آنے لگتے تھے۔دیوتاؤں کے خوف ناک چہرے (تقدیس اور خوف عموما ً ساتھ ساتھ چلتے ہیں)، حا ملہ عورتیں ، مینڈک (یہ تصور شاید چین سے آیا ہوگا جہاں مینڈک خوش حالی کی علامت سمجھا جاتا ہے) اس کے علاوہ بر کت کے لیے مور اور ہندو مت کے ”شُبھ لابھ“ اور جاپانی ”مانجی“(manji) کی طرح کے کچھ طلسماتی نقوش ۔ بھاری شہ تیروں سے بنی چھت 7 تہوں پر مشتمل تھی جس کے بیچوں بیچ ایک کھلا روشن دان یا دُود کَش ۔ 7 کے ہندسے کی اہمیت ، اور اس کے کمالات کہاں نہیں ہیں!7 کو تکمیل اور اکملیت کا ہندسہ کہا جاتا ہے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -