ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پرامریکا کا ردعمل فطری ہے، وزیرخارجہ

ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پرامریکا کا ردعمل فطری ہے، وزیرخارجہ
ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پرامریکا کا ردعمل فطری ہے، وزیرخارجہ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پرامریکا کا ردعمل فطری ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ڈینیل پرل کیس کے فیصلے پرامریکا کا ردعمل فطری ہے، وہ معروف صحافی تھے انہیں پہلے تاوان کیلئے اغوا کیا گیا اورپھرقتل کردیا گیا، محکمہ داخلہ نے ملزمان کو90 روزکے لیے حفاظتی طویل میں لے لیا ہے جب کہ حکومت سندھ کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائرکی جائے گی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ شیخ عمرکی سزائے موت کوسات سال قید میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، اپیل کوسندھ ہائی کورٹ نے تسلیم کرکے انسداد دہشت گردی کورٹ حیدرآباد کی طرف سے دی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے تین ملزمان کو بری کیا۔ اس فیصلے سے تشویش پیدا ہوئی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں، پوری قوم نے مل کردہشت گردی کے خلاف ایک طویل لڑائی لڑی اوراسے شکست دی، ڈینیل پرل کیس سے متعلق خبرپوری دنیا میں پھیلی اورپاکستان پرانگلیاں بھی اٹھائی گئیں اورہمیں حدف تنقید بنایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی صحافی ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزم احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کئے جانے پر امریکا نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔امریکا کی پرنسپل ڈپٹی سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور بیورو ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ دہشت گردی سے متاثر افراد کی توہین ہے۔ایلس ویلز کہتی ہیں کہ صحافی کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔

اس کے علاوہ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز نے بھی ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کے فیصلے پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ یہ صحافیوں پر تشدد کے لیے استثنیٰ کی ایک چونکانے والی علامت ہے۔

واضح رہے کہ ڈینیل پرل امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل جنوبی ایشیا ریجن کے بیورو چیف تھے، انہیں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 15 جولائی 2002 کو ملزمان کو سنائی تھی، برطانوی شہریت رکھنے والے ملزم احمد عمر شیخ کوعدالت نے سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -