عمران خان اور اسد عمر رنگے ہاتھوں پکڑے گئے

عمران خان اور اسد عمر رنگے ہاتھوں پکڑے گئے
عمران خان اور اسد عمر رنگے ہاتھوں پکڑے گئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کا فیصلہ سٹیٹ بینک کی جانب سے آزادانہ طور پر کیا جاتا ہے ۔ دو بار روپے کی قدر میں کمی کی گئی جس کے حوالے سے انہیں خبروں سے پتا چلا۔ دوسری جانب وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پہلی بار روپے کی قدر میں کمی کی گئی تو اس وقت وزیر اعظم کو اس کا پہلے سے علم تھا۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے متضاد بیانات کے بعد سچا کون ہے اور کون غلط بیانی کر رہا ہے ، اس حوالے سے حکومت کی جانب سے وضاحت کی جانی چاہیے۔

سینئر صحافی و اینکر پرسن ارشد شریف نے اپنے پروگرام میں وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے متضاد بیانات پر بات کی۔ انہوں نے وزیر اعظم کے انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں وہ ڈالر کی قدر میں اضافے کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کے حوالے سے وزیر اعظم نے گزشتہ روز دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ سٹیٹ بینک خود مختار ادارہ ہے انہوں نے اپنے حساب سے ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے خود ہی روپے کی ڈی ویلیو ایشن کی اور خود ہی اسے کنٹرول کیا ، مجھے تو دونوں بار خبروں سے پتا چلا۔

ارشد شریف نے وزیر اعظم کے ڈالر کے حوالے سے بیان پر کہا کہ جب پہلی بار ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا تو اس کا گورنر سٹیٹ بینک، وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کو پتا تھا۔ انہوں نے اسد عمر کی ایک ویڈیو بھی چلائی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ہی روپے کی قدر میں کمی کی جاتی ہے لیکن پہلی بار ڈی ویلیو ایشن ہوئی تو گورنر سٹیٹ بینک نے مروت کے طور پر انہیں آگاہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم تک یہ پیغام پہنچایا تھا کہ ایک دن بعد روپے کی قدر میں کمی ہونے جارہی ہے۔

وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے متضاد بیانات کے بعد یہ کنفیوژن پیدا ہوگیا ہے کہ کیا سٹیٹ بینک اتنا ہی خود مختار ہے کہ حکومت کی بات نہ مانے ۔ یا بڑے فیصلوں سے وزیر اعظم کو لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ یا وزیر اعظم جان بوجھ کر لا علمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ میں سے کون سچ بول رہا ہے اور کون غلط بیانی کر رہا ہے، اس حوالے سے حکومت کی جانب سے وضاحت کی جانی چاہیے۔

مزید : اہم خبریں /قومی