’’اماّں نامہ‘‘۔۔۔ نِشاط یاسمین خان کا!

’’اماّں نامہ‘‘۔۔۔ نِشاط یاسمین خان کا!
 ’’اماّں نامہ‘‘۔۔۔ نِشاط یاسمین خان کا!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ کیا کتاب ہے جو اِس وقت میرے ہاتھ میں ہے؟۔’’اعمال نامہ‘‘ کے نام سے نواب سر اسماعیل خاں کی آپ بیتی/خود نوشت/جگ بیتی/سرگزشت/ سرنوشت جو بھی اِسے کہیئے اپنی جگہ خوب ہے اور تاریخِ ادب میں ہنوز قائم و دائم ہے۔امرتا پریتم کی انتہائی بولڈ آپ بیتی ’’رسیدی ٹکٹ‘‘ کے علاوہ ’’زندگی نامہ‘‘ کے نام سے اپنی جگہ خوب ہی نہیں، بلکہ بہت ہی خوب ہے۔اِن دونوں کتابوں سے بالکل الگ تھلگ، منفرد ذائقے کی کتاب ’’اماّں نامہ‘‘ پیش ِ نظر ہے۔ یہ محترمہ نشاط یاسمین خان کے مضامین کا دلچسپ، دلکش مجموعہ ہے، جو وحدتِ تاثر کے اعتبار سے آپ بیتی/جگ بیتی کے زُمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔


’’نامہ‘‘ کے لاحقے کے ساتھ ’’محبت نامہ‘‘۔ ’’حیات نامہ‘‘۔ ’’احباب نامہ‘‘۔ ’’سر نامہ‘‘۔’’بیع نامہ‘‘ اور سب سے بڑھ کر ’’اغلاط نامہ‘‘ کی تراکیب خاصی مانوس اور مقبول ہیں۔ان سب کی موجودگی میں ’’اماّں نامہ‘‘ کا اضافہ، اپنی طرف قاری کو بھرپور انداز میں متوجہ کر رہا ہے۔مصنفہ نشاط یاسمین خان ایک ناول نویس اور افسانہ نگار کے طور پر رُوشناسِ خلق ہیں، وہ خواتین کے لئے بعض مخصوص جریدوں میں سے ایک ’’دوشیزہ‘‘ کی انعام یافتہ مصنفہ ہیں۔اُن کے ’’تعارف نامہ‘‘ یا ’’کوائف نامہ‘‘ میں جو اہم معلومات درج ہیں، اُن کے مطابق، اُن کی پہلی مطبوعہ کتاب’’تیسرا کنارا‘‘ ناول کی شکل میں 2007ء میں شائع ہوئی اور پھر اُسی سال دوسری کتاب ’’دُوریاں‘‘ کے عنوان سے افسانوی مجموعے کی شکل میں منظر عام پر آئی۔اب دس سال کے خاصے طویل وقفے کے بعد ناول، افسانہ سے ہٹ کر اپنی نئی صِنف ادب ’’اماّں نامہ‘‘ کے ساتھ واردِ ادب ہیں۔مزاحیہ مضامین یا میرے مطابق آپ بیتی/جگ بیتی کی اِس کتاب میں زیر ترتیب، زیر اشاعت منصوبوں میں ’’ابّا نامہ‘‘ کی آمد کی نوید بھی دی گئی ہے، جو یقیناً’’ اماّں نامہ‘‘ سے زیادہ تہلکہ خیز ثابت ہو گی کہ ’’اماّں نامہ‘‘ پڑھ کر ہی ’’ابّا نامہ‘‘ کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل نہیں:


قیاس کُن زگلُستانِ من بہارِ مَرا
’’م سے مَرد‘‘ کے نام سے آنے والا افسانوی مجموعہ بھی یقیناًدلچسپ ہو گا۔روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں شائع شدہ ’’سو لفظوں کی کہانیاں‘‘ بھی کتابی صورت میں آنے کی منتظر ہے۔نشاط یاسمین خان کے ان سب قلمی، عملی اور علمی کارناموں کو کتابی صُورت میں شاعر علی شاعر اپنے تیز رفتار اشاعتی ادارے ’’رنگِ ادب‘‘ پبلی کیشنز کراچی کے تحت سامنے لا رہے ہیں اور لائے چلے جا رہے ہیں۔! طنز و مزاح لکھنے والوں میں اب تک ننانوے فیصد مرد اہلِ قلم ہی کی اجارہ داری رہی ہے،خواتین اِس طرف آئی ہی نہیں یا آئیں بھی تو کم بہت ہی کم۔اِس لحاظ سے نشاط یاسمین خان کی ’’طنز و مزاح‘‘ کے بینر تلے آمد، ادب کے لئے تازہ ہَوا کے خوشگوار جھونکے کی مانند ہے اس لئے ان کا نام اور کام کھلے دِل سے اور کشادہ بازوؤں سے سواگت کے لائق ہے۔


ایک انتہائی وفا شعار بلکہ ’’پَتی وَرتا‘‘ قسم کی بیوی کی طرح مصنفہ نے اپنی کتاب کا انتساب اپنے ’’میاں صاحب عبدالسعید خان‘‘ کے نام کِیا ہے۔۔۔! کتاب کا پیش لفظ اَور اختتامیہ موصوفہ نے خود لکھا ہے جو فکر انگیز ہے اور قابلِ ستائش بھی کہ انہوں نے بیساکھیوں کے طور پر بڑے سے بڑے طنز و مزاح نگار حضرات کی تحریر کا سہارا نہیں لیا۔آخری سرورق کا فلیپ ناشر کا فلیپ ہے، کہ اُسے بہرحال کچھ نہ کچھ تعریف و توصیف میں لکھنا ہی ہوتا ہے۔ اپنے انگور کون کھَّٹے بتاتا ہے؟ سو شاعر علی شاعر کا ’’اماّں نامہ‘‘ کے لئے بحیثیت مجموعی رَطب اللسان ہونا جائز ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’اگر نشاط یاسمین خان نے اُرد ادب کی صِنف مزاح نگاری کو باقاعدہ اپنا لیا اور تسلسل و تواتر سے مزاح لکھتی رہیں تو وہ پاکستان کی نمائندہ مزاح نگار خاتون بن سکتی ہیں‘‘۔۔۔!


ہم سمجھتے ہیں شاعر علی صاحب نے شاعر ہوتے ہوئے بھی قصیدہ خوانی میں خِست سے کام لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں ’’اماّں نامہ‘‘ کے حوالے سے نشاط یاسمین خان نمائندہ مزاح نگار خاتون بن چکی ہیں۔۔۔اکرم کنجاہی مُدیر سہ ماہی ’’غنیمت‘‘ کراچی ،گجرات نے ناشر کے کہنے پر فرمائشی فلیپ لکھا ہے۔اُن کا کہنا ہے: ’’جملوں کی بُنت، کہاوتوں کا چناؤ، ضرب الامثال کی پیشکش اور برجستہ محاورات کا استعمال، اُن کی تحریر کی اضافی خوبیاں ہیں،جن سے اُردو ادب کا دامن مالا مال ہو گا‘‘۔۔۔ اور آخر میں وہی دُعا جو ’’کلیشے‘‘ بن چکی ہے، مگر اس طرح غلط سلط:
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
ہم بھی اضافی معلومات دیتے چلیں کہ حضرتِ داغ دہلوی نے اپنے شعر کے دوسرے مصرعے میں ’’زورِ قلم‘‘ ہر گز نہیں کہا تھا اُنہوں نے ’’حسنِ رقم‘‘ کہہ رکھا ہے۔ صحیح شعر دراصل یُوں ہے:
خط اُن کا بہت خوب، عبارت بہت اچھی
اللہ کرے حسُنِ رقم اور زیادہ!
اکرم کنجاہی صاحب نے مصنفہ کے اندازِ بیان اور نُدرتِ زبان کا ذکر تو کیا ہے مختصر فلیپ میں کوئی نمونہ نہیں دے سکے وہ ہم دیئے دیتے ہیں: چہرے کی رنگت گوری کرنے والی کریموں کے حوالے سے ماڈرن اسٹائل تحریر:’’ ذرا اپنے صابن اور کریمیں ’’سرینا ولیمز‘‘ اور مشعل اوباما پر آزمائیں، اگر وہ گوری ہو جائیں گی تو جو چور کی سزا وہ ہماری‘‘۔۔۔! کتاب میں ہمیں ایسے محاورے، ضرب الامثال پڑھنے کو ملے کہ چودہ طبق روشن ہو گئے مثلاً:


’’نا تھا نگوڑا، نہ آگے لات نہ پیچھے منات‘‘
اور:’’ بیٹی کو کہو تو بہو کان دھرے‘‘۔۔۔
ایک جگہ گہرا مشاہدہ و تجربہ یُوں ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے: ’’حالانکہ دو لڑکیوں کی ایک کے بعد ایک پیدائش کا سُن کر دادی، پھوپھیوں کے مُنھ تو بہت بَنے، مگر جب میاں، مُٹھی میں ہو تو بَنے ہوئے مُنھ دیکھتا کون ہے؟ بے شک ایک ساتھ سات بیٹیاں پیدا ہو جائیں،اگر میاں، ساس نندوں کی مٹھی میں ہو تو ایک بیٹی کی پیدائش کی سزا کے طور پر اُچھوانی بھی نصیب نہیں ہوتی‘‘۔۔۔! ’’اُچھوانی‘‘ کا مزہ وہی لے سکتے ہیں جو زبان دان ہیں اُردو محاوروں،ضرب المثل، تلمیح و استعاروں سے واقفیت رکھتے ہیں۔یُوں یہ کتاب ہر لحاظ سے خوب ہی خوب ہے،بہت خوب ۔۔۔بہت ہی خوب!
ناصِر زیدی
0301-4096710۔۔۔0332-4423335

مزید :

کالم -