”پاک وہند میں نعتیہ ادب“ پرسیمینار

گذشتہ دنوں عالمی رابطہ ادب اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام اور پروفیسر حافظ عمار خان ناصر کی میزبانی مےں برصغیر پاک و ہند کے نعتیہ اد ب کے عنوان پر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ مےں ایک سیمینار منعقد ہوا جس سے عالمی رابطہ ادب اسلامی کے مرکزی قائدین ، نامور علمی وادبی شخصیات مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ نے شرکت کرتے ہوئے نعتیہ ادب کے عنوان پر اپنے مقالہ جات پیش کئے ۔ اس موقع پر علمی وادبی شخصیت مولانا زاہدالراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نعتیہ ادب اور شاعری کے دوپہلو ہیں۔ ایک نعتیہ شاعری وہ ہے جو غزوئہ احزاب کے بعد دفاعی شاعری کی صورت مےں سامنے آئی جس کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ اس غزوئہ کے بعد کفر ہتھیار سے نہیں زبان سے جنگ لڑے گا۔ اس وقت بھی اسلام کفر کی زد میں تھا اور آج بھی اسلام اور عقائد و نظریات کفر کی زبان و میڈیا وار کی زد میں ہے جس کے لئے اسلامی ادیبوں اور شاعروں کو ادبی میدان مےں نکل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور دوسری نعتیہ شاعری حضورﷺ کے ساتھ اپنے عقیدت و محبت کا اظہار کرنا ہے۔
عالمی رابطہ ادب اسلامی کے مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے کہا کہ غزوئہ خندق کے بعد گویاکہ” رابطہ ادب اسلامی“ کا باضابطہ آغاز ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نعت خوانی اور نعت گوئی مےں اسلامی آداب واحکام کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمودالحسن عارف نے اُردو شاعری مےں نعتیہ ادب کا ارتقاءکے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا اُردو زبان نے جتنے بڑے شاعروادیب پیش کئے ہیں عربی زبان کے علاوہ کوئی اور زبان پیدا نہیں کرسکی۔اُردو زبان نے عربی اور فارسی زبان کا اثر قبول کیا ہے ۔ لفظ نعت اب صرف حضورﷺ کی ذاتِ اقدس تک محدود ہوگیا ہے۔ پروفیسر مولانا محمد یوسف خان نے محدث ، مفسر اور مفتی حضرات کی نعتیہ شاعری کے عنوان پر مقالہ پیش کرتے ہوئے برصغیر پاک و ہند کی معروف شخصیات مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیعؒ ، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا مفتی محمد جمیلؒ اور مولانا محمد موسیٰؒ روحانی بازی کی عربی اُردو میں کہا گیا نعتیہ کلام کے اوصاف اور اُس کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نعتیہ کلام میں حضورﷺ کے ساتھ بے پناہ عقیدت و محبت کا اظہار ملتا ہے۔
پروفیسر حافظ سمیع اللہ فراز نے نعت گوئی کے عنوان پرمقالہ پیش کرتے ہوئے کہا نعت نگاری اور نعت گوئی میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ نعت گوئی میں گانے کی طرز اختیار نہ کی جائے جس کا معاشرے مےں عام رواج ہوتاجارہا ہے۔ نعت حضورﷺ کے ساتھ اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرناہے۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام علی نے مولانا نعیم صدیقی کی نعتیہ شاعری اور سیرت نگاری پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر ارشد علی نے مولانا احمد رضا خان کے نعتیہ کلام پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر عابدندیم نے راجہ رشید کے نعتیہ ادب پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ راجہ رشید کے نعتیہ ادب پر 50سے زائد کتب منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ راجہ رشید نے قرآن وحدیث کی روشنی مےں نعت گوئی کی ہے اور نعت گوئی کے علاوہ کوئی غزل، گیت اور شعر نہیں کہا۔ یہ راجہ رشید کی حضور ﷺ سے بہترین عقیدت و محبت کا اظہار ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نعیم احمد نے اپنے مقالہ میں کہا کہ حضرت حسان ابن ثابت ؓ کی نعت اور اشعار ،نعتیہ ادب اور اُردو نعت کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ میںاور بالخصوص خواتین اور بچوں مےںاسلامی ادب کے فروغ کے لئے علمائ، اساتذہ، شاعروں اور ادیبوں کو اپنا اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔