جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ بائیسویں قسط

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ بائیسویں قسط
جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ بائیسویں قسط

  

میں نے اپنے جیون میں بہت سے کشٹ جھیلے ،بہت سے ناری طاغوتوں کا سامنا کیا ہے اور یہ وشواش اور گیان ملا ہے مجھے کہ رحمٰن کی رحمتوں اور نورانیوں کے دوسرے پار جہاں ظلمت کی سیاہ تاریکیوں میں دھتکاری ہوئی اور سرکش متکبر مخلوق رہتی ہے وہ انسانوں کو اپنا ازلی دشمن سمجھتی ہے۔اس کا تیقّن ہے کہ اسکو اللہ کی جانب سے پھٹکار ابن آدم کی وجہ سے ملی ہے لہذا سرکشوں کے باپ ابلیس کا آئین یہ کہتا ہے کہ انسانوں کو گمراہ کرنے والے نسل ابلیس کا حق ادا کرتے ہیں اور نت نئے فاسق اور کفرانہ کلمات کی تدوین میں لگے ہوئے اسکے چیلے سیوک چھانٹ چھانٹ کر ایسا علم اور عفریت پیدا کرتے ہیں جو ان کے ہمنوا ،پیروکاروں اور سیوکوں کی رکھشا کے کام آتا ہے۔

گرو پتا کو اس سمے اپنی حیرتوں کے سوا کچھ نہیں سوجھ پا رہاتھا ۔اُدھروہ بالوں سے ڈھکا ہوا وجود بھیڑئے کی غراہٹ لئے پتا گرو کی ڈھال بن گیا تھا۔پتا گرو نے دیدے کھول کر اور پتلیاں سکیڑ کر پورے غور سے دیکھا۔وہ انسان تھا یا بھیڑیا۔دونوں پیروں پر کھڑا تھا۔اسکا چہرہ بھیڑئیے اور انسانوں جیسا تھا لیکن باقی پورا وجود بھیڑیئے جیسا ۔۔۔ گہرے بالوں سے ڈھکا ہوا۔وہ آدم بھیڑیا تھا لیکن مجھے اسکا نام گرگینہ دیوتا بتایا گیا تھا۔ابلیس کے دست ہنر کاری سے بنا ہوا عاملوں کا ایک بھگوان،نیتا،دیوتا ۔۔۔ وہ پرمیشورکا خاص سیوک سمجھا جاتا تھا۔

جناتی، جنات کے رازداں کے قلم سے۔۔۔ اکیسویں قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس نے اپنے دونوں بازو پھیلائے اور پرماتما عفریت کے چھوڑے ہوئے شعلہ بار منکے باڑ کی صورت اسکے سینے سے ٹکرائے تو اس نے فضاؤں کا سینہ چیرتی ہوئی وحشت ناک چیخ ماری ۔سلگتے منکے اسکے سینے سے لگتے ہی بجھ کر پھولوں کی طرح کھلنے لگے ۔اور زمین پر گرتے ہوئے پھول خاک سے ملے تومنکوں کی صورت اختیار کرگئے۔پتا گرو کی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر چمک اٹھیں اور اس نے جلدی سے تمام منکے چُن لئے۔یہ اسکی مالا کے بکھرے موتی تھے ۔

اس دم گرگینہ نے اپنا ہاتھ بڑھایااور پرماتما کو وہیں کھڑے کھڑے دبوچ لیا ’’ تو جانتا ہے کبھی نہیں مرسکے گا پھر بھی کیوں مرنے کی اچھِا کرتا ہے۔تو جانتا ہے تجھے ایک دور تک زندہ رہنا ہوگا پرماتما اور تجھے ہمارے سیوکوں کا خیال رکھنا ہے۔مگر تیری وحشت تجھے سوچنے نہیں دیتی اور ہمین دنیا میں آنا پڑتا ہے۔‘‘ گرگینہ نے اسے گھسیٹ کر گردن سے پکڑ کر اوپر کیا،اپنے آنکھوں کے سامنے اسکا چہرہ لاکر کہا’’ تو کب سدھرے گا؟‘‘

پرماتما کی سرخ انگارہ آنکھیں اُبلنے لگیں ،آواز گلے میں پھنس گئی مگر پھر بھی جب بولا تو اسکی توانا ئیاں اسکا ساتھ دے رہی تھیں’’ میں مرنا چاہتا ہوں لیکن سسک سسک کر زندہ رہنا بڑا مشکل ہوچکا ہے۔اب میں وہ پرماتما نہیں جو بہت لمبا جیون مانگا کرتا تھا ۔میں نے ایک جیون میں کئی صدیوں کا سفر کرلیا ہے ،پرمیشور سے کہو کہ مجھے مکتی دے دیں ،میں اب جب بھی قبرکے استھان سے باہر نکلوں گا،کوئی مجھ سے بچ نہیں سکے گا اور میں ہر کسی کو ماروں گا ۔اس وقت تک ماروں گا ،جب تک کوئی مجھے نہیں ماردیتا۔مکتی میں بڑی آشا ہوتی ہے،مجھے آشا چاہیئے۔میں مرنا چاہتا ہوں‘‘

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ تئیسویں قسط

’’ اچھا تومکتی چاہتا ہے۔پر تو نے تولمبا جیون لینے کا یوگ لیا تھااور وہ تجھے ملا ۔تو پرماتما بن گیا ،پرماتمابننا آسان ہوتا تو آج سنسار میں ہر کوئی پرماتما بنا پھرتا ۔۔۔ ‘‘ گرگینہ نے شعلہ بار نظروں سے دیکھااور اس پر ہنسا’’ آتمابھی بڑی چیز ہوتی اور تیرے جیسے منش پرماتما بننا چاہتے ہیں ۔ہر منش کے من میں بھلے سے چھپا بیٹھا ہے پرماتما کا لوبھ۔۔۔ مگر آتما جس میں ہو وہ پرماتما نہیں بن سکتا ،اور تو۔۔۔۔۔۔ خود کو پرماتماکہتا پھرتاہے۔کہنے اور سمجھنے میں بڑا فرق ہے ،پرماتما‘‘

’’ تو اس میں منش کا کیا دوش ۔ اس کے من میں پرمیشور ،ایشور نے اپنا لوبھ نہ رکھا ہوتا تو وہ کبھی آتما سے پرماتما نہ بننا چاہتا ۔کیوں اس نے منش کو یہ راہ دکھائی۔جب دکھائی ہے تو اسکو پرماتما کہلوانے پر کیوں طعنہ مارتا ہے‘‘وہ بھی نسلوں کا پکا ہٹ دھرم دکھائی دیتا تھا۔بولا اور سانسوں کا تال میل اکھڑنے نہ دیا ۔حالانکہ اسکی بجائے کوئی اور گرگینہ کے پنجوں میں ہوتا تو اب تک سانس بند ہوچکی ہوتی اسکی ۔۔۔اور مرچکا ہوتا۔لیکن وہ جیون شدھی مرنے والا نہیں تھا۔

’’ پرمیشورنے منش کے من میں صرف یہ لوبھ ہی نہیں رکھا ،اسکے کرتوت ایسے ہیں،جس کارن وہ پرماتما جیون مانگتا ہے۔۔۔ تو نے مانگا اور کیوں مانگا،یہ تو جانتا ہے ۔تو جاگیردار تھااور پاپی تھا ۔نہ تو سدھارک تھا نہ دھارمک ،تواپنے پاپوں کا پرائسچت نہیں کرنا چاہتا تھا اور پرجا پر سدا راج کرنا چاہتا تھا۔اور راج کرنے کی تپسیا تو نے کرلی۔اب کیوں مکتی مانگتا ہے پرماتما‘‘ گرگینہ کا کٹیلا لہجہ وحشت اور تمسخر میں ڈوبا ہوا تھا ۔

’’ ہاں مجھے مکتی چاہئے۔اس جیون سے مکتی بھلی ہے اوراب پرماتما ہی بننا چاہتا ہوں ۔شریر میں آتما ہوتو بڑا تنگ کرتی ہے۔مجھے اب آتما والا پرماتما نہیں بننا ‘‘ اس نے دوٹوک بات کی۔

’’ٹھیک ہے میں تجھے مکتی دلا دیتا ہوں ۔لیکن تجھے خود اپنی چتا کو اگنی دینا ہوگی۔ہمارا ایک سیوک جیون کی پرارتھنا کررہا ہے اور اسکا سمے ٹالناہے۔چل اور اسکو اپنا جیون دان کردے ۔‘‘

’’ میں اسکو اپنا جیون کیوں دوں ‘‘ جیسے وہ جانتا تھا کہ اس کے نتیجہ میں کیا ہوگا۔’’ مکتی کے لئے آتما ہتیا کیوں کروں میں ۔کیوں اگنی جلا کر خود کو نشٹ کروں‘‘

گرگینہ نے فلک شگاف قہقہ لگایا’’ تجھے مکتی چاہئے تو پھر ڈر کیوں لگ رہا ہے تجھے۔اگنی اور چتا تو نے پہلی بار تو نہیں دیکھنی ،یہ تیرا پرانا کھیل ہے‘‘

’’ وہ اگنی میں دوجوں کی چتا کو دیاکرتا تھا ۔میں اگر آتما ہتیا کروں گا تو مکتی نہیں پاسکوں گا ‘‘ پرماتمانے صاف گوئی سے کام لیا۔

پتا گرو کو اب کچھ کچھ سمجھ آنے لگا تھا کہ گرگینہ کون ہے اور پرماتما کون۔۔۔وہ دو قدم پیچھے ہٹااور اس دوران گرگینہ نے پرماتما کی گردن چھوڑ دی ۔

پرماتما پر گرگینہ کی شکتی آشکار ہوچکی تھی ۔لیکن وہ اپنی لاج رکھنا چاہتا تھا ۔وہ صدیوں سے اسی فطرت پر جی رہا تھا ۔

’’ میں تجھے وچن دیتا ہوں ۔تو خود اپنی آتما ہتیا کراور تیری مکتی کا سارا بوجھ میں اٹھا لوں گا۔تیری آتما کو نیا جیون سیوئیکار کراؤں گا پرمیشور سے۔یہ گرگینہ کا وچن ہے اور تو جانتا ہے کہ جسے میں وچن دوں اسکو نبھاتا ہوں ‘‘

گرگینہ کی بات سن کر پرماتما نے ایک لمحہ کے لئے سر گرایا۔وہ کچھ سوچنے لگااور پھر چہرے سے گھنگریالے بالوں کو ایک جانب ہٹا کر بولا’’ میں تیار ہوں‘‘

یہ سنتے ہی گرگینہ نے پلٹ کر پتا گرو کی جانب دیکھا ۔ وہ مٹھی میں منکے سمیٹ کر ان کی گنتی کررہا تھا۔

’’گرو۔۔۔‘‘گرگینہ کی غراہٹ آمیز آواز سن کر وہ تن من سے ہڑبڑایااور اسکی مٹھی سے منکے گرنے ہی والے تھے کہ اسنے مٹھی بند کرکے سینے سے بھینچ لی اور پھر یکدم زمین بوس ہوگیا،سر سجدے میں گرادیا اور گرگینہ کی جے جے کار کرنے لگا۔

’’ گرو ،اسکو اپنے ساتھ استھان میں لے جا اور اپنے چیلے سیوک کو اسکا جیون دان کرنے دے، پرماتما کی اگنی جب اسکوراکھ کردے تو اسکو اپنے سیوک گرو پر کیسے وارنا ہے ،تو اسکو خوب جانتا ہے‘‘

پتا گرو نے ہاتھ جوڑے اور سر گرادیا،تھرتھراتی آواز میں بولا ’’ پرمیشور کو سیوک کا پرنام کہنا اے میرے دیوتا۔پر میں نے جو اکیس مردوں کی راکھ اکٹھی کرنی تھی،اسکا اب کیا کروں ‘‘

’’ ان کی اب ضرورت نہیں رہی۔تجھے پرماتمامل گیا ہے اور اسکی جیون ہتیا اور راکھ سے تو چاہے تو اپنے کئی چیلوں کوبچا سکتا ہے۔ گرو تجھ سے ہم پھر کبھی آکر ملیں گے ۔بس تو واپس جا کیونکہ تیرا سیوک آخری سانسیں لے رہا ہے۔سمے کو نہ گنوادینا ۔جلدی واپس جا ‘‘

پتا گرو نے پرماتما کی جانب دیکھا اور اسے اشارہ کیا اور وہ اس کے ساتھ قبر کے استھان کی جانب چل دیا۔راستے میں قبروں سے مردے ہنوز کھڑکھڑاتی ہڈیوں سے باہر نکلنے کے جتن کررہے تھے۔

جاری

مزید : جناتی