جنات کا غلام۔۔۔اکیسویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔اکیسویں قسط
جنات کا غلام۔۔۔اکیسویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

بیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

رات ہو چکی تھی۔ نماز مغرب پڑھنے کے بعد زنان خانے میں چلا گیا۔ چاچی نماز پڑھنے کے بعد تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ مجھے دیکھا تو اشارے سے اپنے پاس بلا لیا۔ میں انکے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ تسبیح کے دانے ان کی انگلی کی گردش سے آگے آگے سرک رہے تھے‘ زیر لب وہ کچھ پڑھ رہی تھیں‘ مگر انکی آنکھوں میں سرخ ڈورے بہت نمایاں تھے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے خون اور نمکین پانی پتلیوں کے گرد منڈلا رہا ہے۔ چہرے سے رنجیدگی مترشح تھی۔ بوڑھے عارض تھرتھرا رہے تھے۔

میں خاموش نظروں سے انہیں دیکھتا رہا۔ تسبیح مکمل کر چکیں تو میرے اوپر پھونک مار کر بولیں۔

”شاہد پتر تو بھی میرے لئے نصیر جیسا ہے۔ میں نے تجھ میں اور اس میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔“ ان کی آواز میں ارتعاش تھا۔

”چاچی۔ خیریت تو ہے۔ کیا بات ہوئی ہے....“ میں نے چاچی کو کبھی اس قدر دل گرفتہ اور بجھا ہوا نہیں دیکھا تھا۔

”پتر میں تمہیں کیا بتاﺅں۔ کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں۔ میں تو دو کشتیوں کی سوار ہوں۔ ایک طرف تمہارے چاچا جی اور دوسری طرف شاہ جی۔ ایک کی بات مانتی ہوں تو دوسرا ناراض ہوتا ہے۔ ایک طرف سہاگ ہے تو دوسری جانب میرا ایمان.... اور“

”چاچی....“ میں نے بے اختیار ہو کر انکے لبوں پر انگلی رکھ دی۔“ نہیں چاچی.... بالکل نہیں۔ یہ آپ کا ایمان نہیں ہے۔ یہ دین بھی نہیں مذہب بھی.... نہیں چاچی.... ایسا بالکل نہیں سوچنا.... وہ جو دوسری طرف ہے ناں.... تمہارا سہاگ وہ سب سے مقدم ہے۔ یہ جسے آپ دین سمجھتی ہو۔ یہ شیطانی چرخہ ہے جو دکھوں کو کات رہا ہے۔ سچائی کو ادھیڑ رہا ہے چاچی۔ تو مصلے پر بیٹھی ہے۔ ترے ہاتھ میں تسبیح ہے۔ چاچی۔ مانگ۔ اس ذات کبریا سے مانگ چاچی جو ادھر.... تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ ایسا نہیں کرتا اس کا دین یہ نہیں کہتا جو شاہ صاحب کرتے اور دکھاتے ہیں۔“ نہ جانے مجھے کیا ہوا تھا۔ یہ چاچی کی کم علمی‘ معصومیت اور اندھی عقیدت کا دباﺅ تھا کہ میرے اندر کا طوفان اسکی ایک ضرب سے پھوٹ پڑا.... اور پھر میں اپنی زبان کو نہ روک سکا۔ چاچی کے لب کھلے رہ گئے۔ آنکھوں کا پانی خشک ہو گیا اور اسکے بوڑھے عارضوں کا ارتعاش تھم گیا۔

”پتر.... تو کیا کہہ رہا ہے.... یہ شیطانی چرخہ.... اور پھر یہ بابا جی....“

”چاچی.... میں بابا جی کی بات نہیں کر رہا۔ وہ اللہ اور اسکے رسول کا نام لیتے اور ساری ساری رات عبادت کرتے رہتے ہیں۔ میں انہیں نہیں سمجھ سکا چاچی.... مگر یہ جو ہیں اپنے شاہ صاحب۔ ان کے اندر مجھے کھوٹ نظر آتی ہے۔ چاچی وہ جو کہتے ہیں سچ نہیں دکھتا۔ انہوں نے ملک صاحب کی بیٹی کو جن سے آزاد کرا دیا ہے لیکن چاچی ہماری زلیخا کو نارمل کیوں نہیں کر سکے۔ اس لئے.... اس لئے کہ انکے اندر ہوس ہے۔ وہ زلیخا کو اپنی دلہن بنانا چاہتے ہیں اور ہم لوگوں کو اسکی صحت سے ڈرا دھمکا کر خوفزدہ رکھنا چاہتے ہیں.... اور چاچی آپ سمجھتی ہیں کہ زلیخا کے دکھوں کا مداوا صرف شاہ صاحب کر سکتے ہیں.... نہیں چاچی‘ بالکل نہیں.... خدا کے لئے چاچی کچھ کرو.... اور اس مکار شخص کو گھر سے نکال دو.... ورنہ یہ ہمیں برباد کر دے گا.... اور تو اپنی جس زلیخا کے سکھ کے لئے یہ سب کر رہی ہے ناں.... پھر ساری عمر روگ میں گزار دے گی۔“ جذبات سے میری آواز کانپ رہی تھی اور میرا لہجہ بہت تیز ہو گیا تھا۔ چاچی میری حالت دیکھ کر گھبرا گئی۔

”پتر ہوش کر....“ وہ میرا ہاتھ تھام کر سہلانے لگیں۔ اسی لمحہ بڑے ملک صاحب کی آواز سنائی دی۔

”اسکو ہوش نہ دلا رضیہ۔ یہ ٹھیک کہتا ہے۔ ہوش دلانا ہے تو اپنے آپ کو دلا۔ تیرا ضمیر منوں مٹی تلے دبا ہوا ہے۔ شاہد پتر اسے کھود کر باہر نکال رہا ہے.... رضیہ ابھی بھی وقت ہے۔ اپنے آپ کو عقیدتوں کے سراب سے باہر نکال لا....“

پھر تو جیسے برسوں کا پانی چاچی کی آنکھوں سے سیل رواں کی طرح رواں ہو گیا۔ وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگیں۔ ملک صاحب اور میرا دل بھی بھر آیا۔

”ٹھیک ہے۔ میں ہی اندھی ہوں۔ بے رحم اور کم عقل ہوں۔ اپنی بیٹی کی دشمن بن گئی تھی۔ مگر اب میں اسکو جوتے مار کر گھر سے نکال دوں گی....“

”نہیں بالکل نہیں چاچی....“ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔

”تو اب خاموش ہو جا پتر.... میں نے ہی آگ لگائی تھی میں ہی اسے بجھاﺅں گی۔“ چاچی نے اپنے آنسو صاف کئے اور مصلیٰ لپیٹ کر اضطراری حالت میں جوتی پہننے لگیں۔

”چاچی.... اس طرح معاملہ بگڑ جائے گا۔ ہم اس وقت آتش فشاں کے منہ پر بیٹھے ہیں۔“ میں نے سمجھایا۔ ”شاہ صاحب کے پاس پراسرار قوتیں ہیں۔ وہ ہمیں پریشان کر سکتے ہیں۔ زلیخا کو مار ڈالیں گے....“

”یہ ٹھیک کہتا ہے۔ رضیہ سمجھداری سے کام لو....“ ملک صاحب بھی انہیں سمجھانے لگے۔

”چاچی۔ اللہ نے ہماری مدد کی ہے۔ یہ شادی کچھ دنوں کے لئے ملتوی ہو چکی ہے لہٰذا اس التوا کو مزید آگے کر دیں۔ ہمیں اللہ سے دعا کرنی چاہئے۔ وہ ہی ہمیں اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ ہم خود بھی اس ذات کریم کے سہارے سے کچھ کرتے ہیں۔“ میں نے چاچی کو مزید مشورے دئیے اور انہیں سمجھا دیا کہ اگر اب بابا جی سرکار بھی کہیں تو زلیخا کی بیماری کو آڑ بنا کر اس معاملے کو مزید آگے لے جایا جائے۔

ہم اپنے طور پر بہت مطمئن ہو گئے تھے مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہماری آزمائشوں کے ابھی اور بھی امتحان تھے۔ میں کمرے میں سونے چلا گیا تھا۔ ابھی میری آنکھ لگی تھی کہ باہر گولی کی آواز سنائی دی۔ میں دہشت زدہ ہو کر اٹھ پڑا۔ باہر شور برپا تھا۔ میں جھٹ سے باہر نکلا.... راہداری میں نوکر نصیر کو قابو کر رہے تھے۔ اسکے ہاتھ میں بارہ بور کی بندوق تھی اور وہ اس سے چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں انکی طرف بھاگا۔

”کیا ہو رہا ہے یہ....“

”شاہد پتر یہ پاگل ہو گیا ہے....“ چاچی دروازے کے پاس کھڑی تھیں۔ ”اپنے باپ کو قتل کرنا چاہتا ہے یہ....“

”کک۔کیا....“

”ہاں میں قتل کر دوں گا اسے۔ تم سب کو مار ڈالوں گا میں۔ سب کچھ ختم کر دوں گا....“ نصیر بپھرا ہوا تھا، تین نوکروں کے قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ اسی چھینا جھپٹی میں گولی چل گئی تھی۔ یہ تو خدا کا شکر تھا کہ نالی کا رخ باہر باغیچے کی طرف ہو گیا تھا ورنہ اب تک کسی ایک کا خون ہو چکا ہوتا۔

”نصیر میرے بھائی.... ہوش میں آﺅ....“ میں نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے بندوق چھین لی۔ سنگل نالی کی بندوق تھی۔ اس میں ایک ہی کارتوس استعمال ہوتا تھا اور اب یہ خالی ہو چکی تھی۔

”تم بھی انکے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ میں تمہیں بھی مار ڈالوں گا....“ نصیر مجھے گالیاں بکتے ہوئے چلانے لگا۔“ تم سب نے میرے بابا جی سرکار سے کیا ہوا وعدہ توڑا ہے۔ تم سب نے دھوکا کیا ہے۔ میرے شاہ صاحب کو ٹھیس پہنچائی ہے تم لوگوں نے....“ اسکے منہ سے جھاگ بہہ رہی تھی اور آنکھیں کسی طاغوتی انسان کی طرح سرخ ہو کر الٹ رہی تھیں۔ اسکے پورے بدن پر رعشہ طاری تھا۔

”ایسا کچھ نہیں ہوا نصیر.... ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے نوکروں سے کہا۔ ”پیچھے ہٹو تم.... چھوڑ دو اسے.... جاﺅ اور پانی لیکر آﺅ....“ میں نے اس دوران راہداری میں دور تک دیکھا۔ شاہ صاحب دکھائی نہیں دئیے۔ میرے ذہن میں دھماکے ہو رہے تھے کہ نصیر کو یکایک کیا ہو گیا ہے۔ ہم نے تو اسے اپنے منصوبے سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ مجھے شک ہوا کہ ممکن ہے شاہ صاحب کو اس منصوبے کی خبر ہو گئی ہو اور انہوں نے اپنے اندھے عقیدت مند نصیر کو ورغلا لیا ہو۔

میرا شک صحیح ثابت ہوا۔ نوکروں نے نصیر کو چھوڑا تو وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپنے کے بعد بے ہوش کر گر پڑا۔ مجھے میرے وجدان نے احساس دلایا کہ شاہ صاحب نے لازماً اپنے کسی عمل کے ذریعے نصیر کو قابو کر کے اپنے والد کے قتل پر اکسایا ہو گا۔ اگر واقعی ایسی بات تھی اور نصیر انکے کسی ”عمل“ کا شکار ہوا تھا تو اسے ہوش میں لانا بہت مشکل تھا۔ اگر اسے کوئی ہوش میں لا سکتا تھا تو یہ صرف شاہ صاحب ہی تھے.... یا پھر بابا جی سرکار یا ٹاہلی والی سرکار.... مگر اس وقت بابا جی اور ٹاہلی والی سرکار ہمیں میسر نہیں ہو سکتے تھے میں نے سوچا کہ اگر وہ میسر ہوتے بھی تو لازماً وہ شاہ صاحب کی ہی طرف داری کرتے۔

پتر شاہ صاحب کو بلاﺅ۔ اس کو ہوش میں لائیں....“ چاچی نے اپنے لخت جگر کو تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہوتے دیکھا تو ان کی ممتا ایک بار پھر ہارنے لگیں۔

”چاچی۔ انہیں نہیں بلانا۔“ میں نے انکے کان میں سرگوشی کی۔ ”وہ یہی تو چاہتے ہیں۔ انہوں نے نصیر پر جادو کر کے اسکی عقل باندھ دی ہے۔ اس لئے تو یہ اپنے باپ کے خون کا پیاسا ہو گیا تھا۔“

”کچھ کرو.... میں مر جاﺅں گی۔ میرا پتر تڑپ رہا ہے۔ اس کو ہوش میں لاﺅ....“ چاچی اس وقت کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھیں۔ بڑے ملک صاحب بھی اندر سے باہر آ گئے تھے۔ وہ نصیر کو ہوش میں لانے لگے۔ نصیر کی آنکھیں کھلی پڑی تھیں اور پتھرانے لگی تھیں.... میرا دماغ بڑی تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔ معاً میرے ذہن میں جھماکا ہوا ٹاہلی والی سرکار کی بہت سی باتیں میرے ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ انہوں نے مجھے کچھ وظائف عطا کئے تھے۔ میں کوئی عامل کامل تو تھا نہیں۔ لیکن میرا اسلامی علوم پر پختہ یقین تھا۔ یہ آیات ربانی پر مشتمل چند آیات اور اسمائے ربی تھے۔ میں نے فوراً وضو کیا اور پانی لیکر ان وظائف کو پڑھ کر پانی پر دم کیا اور پھر دم شدہ پانی نصیر کے پورے بدن پر چھڑک دیا۔ اللہ کا ہم پر کرم ہو اور کچھ ہی دیر بعد نصیر کی حالت بہتر ہونے لگی اور کچھ ہی دیر بعد وہ ہوش میں آ گیا۔ وہ خالی خالی نظروں سے سب کو دیکھنے لگا.... لیکن ابھی اس کی حالت سنبھلی نہیں تھی۔ اس کا پورا بدن لرز رہا تھا اور آواز میں کپکپاہٹ تھی۔

”مجھے کیا ہوا ہے....“ وہ سب کے چہرے دیکھنے لگا۔

چاچی اس کا منہ چومنے لگی۔ ”میرے لال۔ ماں تجھ پر واری.... کچھ نہیں ہوا تجھے۔“

”نہیں ماں....“ وہ کچھ کہتے کہتے رکا اور اسکی نظریں راہداری میں گری پڑی بندوق پر پڑیں۔” یہ بندوق یہاں کیوں پڑی ہے ماں....“

”میں بتاتا ہوں تجھے....“ میں نے کہا ”لیکن ابھی تیری حالت ٹھیک ہے۔“ میں نوکروں کی مدد سے اسے اٹھا کر کمرے میں لے آیا اور بستر پر لٹا دیا۔

”تم بتاتے کیوں نہیں.... مجھے کیا ہوا ہے....“ وہ بار بار مجھے پوچھ رہا تھا اسکے بدن پر ابھی تک لرزہ طاری تھا۔ اور پھر جیسے اسے کچھ یاد آ گیا....

”اوہ میرے خدایا.... میں کیا کرنے جا رہا تھا....“ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور پھر اسکی نظریں ندامت سے جھک گئیں۔

”شاہ صاحب۔ آپ نے اچھا نہیں کیا....“ وہ نظریں گرا کر آہستہ آہستہ کہنے لگا۔ ”یہ اچھا نہیں ہوا....“وہ سر تھام کر رونے لگا۔

”کیا ہوا تھا.... مجھے بتاﺅ....“ میں نے اسے سہارا دیا۔ ”خدا کا شکر ہے کہ تم بہت بڑے گناہ اور جرم سے بچ گئے ہو.... مجھے بتاﺅ شاہ صاحب نے کیا کیا تھا....“

”وہ....“ نصیر کچھ کہتے کہتے رک گیا اور نوکروں کا منہ تکنے لگا۔

”تم باہر جاﺅ....“ نوکر باہر چلے گئے.... تو وہ بولا۔ ”مجھے شاہ صاحب نے کہا تھا کہ تم لوگوں نے‘ بابا جی اور شاہ صاحب کی توہین کی ہے اور انکے خلاف بڑی گندی باتیں کی ہیں۔ شاہ صاحب نے مجھے کہا تھا کہ وہ مجھے بابا جی جیسے بزرگ جنات کو قابو کرنے کے لئے علوم سکھانا چاہتے تھے۔ رشتہ داری کے بعد وہ مجھ پر ہی انحصار کرتے لیکن میرے والد ایسا نہیں چاہتے.... انہوں نے مجھے اور بھی بہت کچھ کہا تھا.... جس سے مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اپنے والد کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا“ اس سے آگے وہ نہ بول سکا۔

میں سناٹے میں آ گیا

”شاہ صاحب نے قتل عمد کی کوشش کی ہے نصیر۔ انہوں نے قتل پر اکسایا ہے۔ اف میرے خدایا۔ یہ کیسا پیر عامل ہے جو اولاد کو اپنے باپ کے قتل پر اکساتا ہے۔“ میں نے سر تھام لیا۔ میرے ذہن میں شاہ صاحب کی عبادتیں ریاضتیں اور نمازیں تازہ ہو گئیں۔ رات کے آخری پہر خدا کے حضور سر جھکا کر ان کی گڑگڑاتی صدائیں گونجنے لگیں۔ مجھے ان کا وہ روپ بھی یاد آ گیا جب قبرستان میں ان کے دھڑ پر کسی انسان کی بجائے درندے کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔

”میں تو کہتا ہوں پولیس کو اطلاع کر دیتے ہیں“ ملک صاحب کہنے لگے ”مجھے شک ہے چودھری کے گھر میں چوری بھی اسی نے کرائی ہے“

”مگر چاچا جی اس طرح تو آگ بھڑک اٹھے گی“ مجھے ریاض شاہ کی شیطانی قوتوں کا بھی خوف تھا۔ اگرچہ اس وقت میرے دل کو اتنی تقویت پہنچ چکی تھی اور میرا ایمان بھی تازہ ہو چکا تھا کہ اگر میں بھی وظائف پڑھتا رہوں تو اس کے سحری اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہوں لیکن میں کوئی عامل نہیں تھا اور نہ ہی عامل بننا چاہتا تھا۔ مجھے ان کی روحانی قوتوں کو پڑھتے ہوئے ایک انجانا سا خوف بھی لاحق ہو رہا تھا۔

”ہمیں کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کا دن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اور کیا کچھ کر سکتا ہے۔ میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں مجھے ایک بزرگ ملے تھے ممکن ہے وہ ہماری کچھ مدد کر دیں“ میں نے جان کر بوجھ کر بابا تیلے شاہ کے بارے زیادہ باتیں نہیں بتائی تھیں۔

ملک صاحب سوچ میں پڑ گئے پھر بولے ”ایسا نہ ہو کہ ہم ایک اور مصیبت میں پڑ جائیں“

”اس کے سوا چارہ بھی تو نہیں“ میں نے نصیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”میں اسے ابتدائی مدد دے کر ہوش میں لے آیا ہوں مگر یہ اس کا علاج نہیں ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ رہ کر میں نے یہ بات جان لی ہے کہ وظائف اور عملیات پر قدرت حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے تب کہیں جا کر ان سے حسب توقع نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ نصیر کا علاج نہ کیا گیا تو یہ بھی زلیخا کی طرح بیمار ہو جائے گا“

چاچی نے سنا تو تڑپ اٹھی ”اللہ نہ کرے پتر“ ممتا کی ماری اپنے بیٹے سے لپٹ گئی ”سوہنے پروردگار میرے لعل کی حفاظت فرما“

”تو نے یہ عمل کس سے سیکھا ہے پتر“ ملک صاحب نے مجھ سے سوال کیا

میں نے انہیں مختصر بتایا کہ کسی بزرگ نے پڑھنے کے لئے دیا تھا۔ میں نے انہیں ٹاہلی والی سرکار کے بارے اس لئے نہیں بتایا کیونکہ وہ انہیں جانتے تھے۔ اگر میں انہیں یہ وظیفہ حاصل کرنے کی داستان سناتا تو ان کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہو جاتے جن کے جواب دینا میرے لئے مشکل ہو جاتا۔

”پتر جی اس وظیفے میں اتنی طاقت ہے تو یہ نصیر ہوش میں آ گیا ہے ناں۔۔۔۔ تو کسی اور کے پاس جانے کی بجائے خود اس کا علاج کیوں نہیں کرتے“

”نہیں چاچا جی۔ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ میری مثال تو اس شخص جیسی ہے جو چند دواﺅں کے نام جانتا ہے اور کسی عام مرض کے لئے دوا تجویز کر سکتا ہے لیکن مکمل علاج نہیں کر سکتا۔ علاج کے لئے کسی ماہر معالج سے ہی رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ عامل کامل وغیرہ ڈاکٹر ہیں جس طرح ایک ڈاکٹر کئی سال تک شب و روز پڑھائی اور تربیت کے بعد علاج معالجہ پر دسترس حاصل کرتا ہے اسی طرح روحانی معالج بننے کے لئے مجاہدے اور چلے کاٹنے پڑتے ہیں۔ میں تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا“

”تم ٹھیک کہتے ہو پتر جی .... لیکن میرا ایمان کہتا ہے کہ اگر ہمارا ایمان پختہ ہے اور کتاب الہٰی سے ہماری محبت بے پناہ ہے تو پھر کوئی بھی شیطانی قوت ہم پر غالب نہیں آ سکتی“ چاچا جی نے میرے دل کی بات چھین لی تھی۔

”آپ صحیح کہتے ہیں“ میں نے ان کی بات کی تائید کی ”ہمارا ایمان مضبوط اور اللہ کا ذکر ہمارے لبوں اور قلبوں پر بہتے پانیوں کی طرح رواں دواں رہے تو یہ جادو ٹونے کی کثافتیں ہمیں کبھی آلودہ نہیں کر سکتیں۔ لیکن چاچا جی یہاں ایک لطیف پردے نے معاملات کو مختلف بنا دیا ہوا ہے۔ یہی معاملہ ہماری عقلوں سے ماورا ہے۔ ایمان کمزور پڑ جائے تو انسان ڈھے جاتا ہے لیکن اگر ایمان کی پختگی برقرار رہے تو انسان گرتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کی مضبوطی کے ساتھ اپنے معاملات کو چلانا ہے۔ کمزور نہیں ہونا ہمیں“

میں نے ان سب سے اجازت لی اور اسی وقت شہر کے لئے حویلی سے نکلنے لگا۔ میں شاہ صاحب سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ ان سے نظریں بچا کر میں جا رہا تھا کہ معاً ان کی آواز نے میرے قدم روک لئے۔ میں نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا

”ادھر آﺅ“ ان کے لہجے میں سختی تھی۔ میں اسی جگہ ٹھہرا رہا۔

”میں کہتا ہوں ادھر آﺅ“ وہ جلال میں بولے

اس بار میں ان کے پاس چلا گیا

”تم کیا سمجھتے ہو میں کچھ نہیں جانتا“ وہ غصے میں کھولتے ہوئے مجھے دھمکی دینے لگے ”تم نے دیکھ لیا نصیر کو کس طرح بے بس کر دیا تھا میں نے .... تم کیا چیز ہو۔ ایک دو لفظ سیکھ لئے خود کو طرم خاں سمجھنے لگے ہو۔ یاد رکھو میں اگر چاہوں تو تمہارے سینے میں انگلی ڈال کر تمہارا دل نکال دوں“ وہ انگشت شہادت میرے دل کے مقام پر چبھونے لگے ”تمہیں بڑا مان ہے ناں خود پر“

میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموش کھڑا رہا۔

”تمہاری ساری ہوا نکال دوں گا“ ان کے اندر کا درندہ میرے سامنے عریاں ہو رہا تھا۔ ”میں اتنی جلدی ہار ماننے والا نہیں ہوں“

”میں آپ کی شکایت باباجی سے کروں گا“ میں نے کہا

وہ قہقہے لگانے لگے ”بابا جی سے کہوں گا .... ارے جاﺅ اور انہیں تلاش کرکے بتاﺅ کہ ریاض شاہ نے تم لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے“ انہوں نے انگلی میری ناک پر رکھی اور زور سے دبا کر بولے ”میرے لعل ۔۔۔۔۔بابا جی میری بات مانتے ہیں .... تم لاکھ ان کی منتیں کرو۔ جب تک میں نہیں چاہوں گا وہ کچھ نہیں کر سکتے ۔اگر نہیں یقین تو اب بابا جی سے ملاقات ہو تو آزما کر دیکھ لینا“

”اچھا دیکھ لوں گا“ میں نے اکھڑے لہجے میں جواب دیا۔ میں ان سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے خدشہ تھا اگر میں الجھ پڑا تو وہ کوئی شیطانی حرکت کر سکتے تھے۔

”اب جاﺅں میں“ میں نے کہا

”جاﺅ .... لیکن اپنے کمرے میں“ وہ مجھے تنبیہ کرتے ہوئے بولے ”اگر تم نے اپنے کمرے سے نکلنے کی کوشش کی تو اس کے بعد جو ہو گا اس کے ذمہ دار تم خود ہو گے .... جاﺅ اور اپنے یار کی تیمارداری کرو“

میں جان گیا تھا کہ انہوں نے لازماً کوئی ایسی پیش بندی کر دی ہو گی کہ میں اب حویلی سے باہر نہ جا سکوں۔ میں واپس اپنے کمرے میں گیا تو نصیر چارپائی پر لیٹا ہوا تھا اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ چاچی ، زلیخا اور ملک صاحب اس کے پاس غمزدہ سے بیٹھے تھے مجھے دیکھا تو ان کے چہروں پر سراسیمگی سی پیدا ہو گئی۔

”تم گئے نہیں“ چاچی بولیں

”میں جانا چاہتا تھا لیکن شاہ صاحب نے روک دیا ہے“ میں نے لاچارگی سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے جواب دیا ”اسے کیا ہوا ہے؟“ میں نصیر کے پاس پہنچا

”تمہارے جاتے ہی اس کی حالت خراب ہو گئی تھی“ ملک صاحب پریشانی کے عالم میں بولے ”اب کیا ہو گا بیٹا“

میں نصیر کے سرہانے بیٹھ گیا

”اللہ ہمارے ساتھ ہے“

”کہاں ہے اللہ ....“ زلیخا آہستگی سے بولی۔ اس کا لہجہ شکووں شکایتوں سے بھرا ہوا تھا۔

”وہ بے کسوں سے دور کیوں ہے“ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے

”اللہ ہمارے ساتھ ہے زلیخا“ میں اس کے قریب گیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے سمجھایا ”زلیخا .... دل چھوٹا نہ کرو .... مایوسی کفر ہے“

وہ خاموش ہو گئی ہمیشہ کی طرح ۔۔۔گو اس کی آنکھوں میں شکوے شکایات حزن و ملال تیرتے رہے۔

میں نصیر کے سرہانے بیٹھ گیا۔ پاس ہی پانی سے بھرا گلاس رکھا تھا۔ میں نے ان تین آیات

٭وَاللّٰہُ خَی±ر’‘ حٰفِظًا وَ ھُوَ اَر±حَمَ الرّٰاحِمِی±ن

٭ َواتَّبَعُو± مَا تَت±لُوا الشَّیٰطِی±نُ سے لَو± کَانُو± یَع±لَمُو±ن ۔

٭حَس±بُنَا اللّٰہُ وَ نِع±مَ ال±وَکِی±ل

کو ایک خاص طریقہ سےپڑھا اور پانی پر پھونک کر نصیر پر چھڑک دیا تو کچھ ہی دیر بعد اس کی حالت سنبھلنے لگی۔ ایک گھنٹے تک میں اس کے سرہانے بیٹھا وظائف پڑھتا رہا۔ اس کی طبیعت کچھ بحال ہو گئی تھی مگر لگتا تھا اس کا خون کسی نے چوس لیا ہے۔ سرخ و سپید رنگت زرد اور مٹیالی ہو گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہی مائل حلقے نمایاں ہو رہے تھے۔ یہی حالت میں نے زلیخا کی بھی دیکھی تھی۔ اس کی حالت قدرے سنبھلی تو میں نے ایک بار پھر حویلی سے نکلنے کی کوشش کی اس بار میں پچھواڑے سے باہر جانا چاہتا تھا۔ میں نے جونہی کمرے سے باہر پاﺅں رکھے‘ نصیر کی کربناک آواز سنائی دی اور جلدی سے واپس لوٹ آیا۔

”او مائی گاڈ“ میں سمجھ گیا تھا۔ شاہ صاحب نے ہمیں اپنے شیطانی جال میں بری طرح پھنسا دیا تھا انہوں نے نصیر کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ جونہی میں اس سے پرے ہٹتا تھا تو اس کی حالت بگڑ جاتی تھی۔ میں جان گیا تھا کہ انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔ میں بے بسی سے کمرے میں چکر لگانے لگا۔ سوائے اللہ کے ہمارا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ ہم سب ایک دوسرے کے منہ تکتے اور دلاسے دیتے رہتے تھے۔ یونہی شام ڈھل گئی۔ اس رات ہم سب ایک ہی کمرے میں بند ہو کر رہ گئے تھے۔ نہ چولہا گرم ہوا نہ کوئی برتن کھٹکا۔ میں کمرے میں نصیر کے پاس ایک چوکیدار کی طرح بیٹھ کر رہ گیا۔

یہ عشا کے قریب کا وقت تھا جب غازی ہمارے کمرے میں آ گیا۔ وہ انسانی روپ میں ہی تھا اور اس کا لہجہ بھی بگڑا ہوا تھا کہنے لگا ”تمہیں شاہ صاحب نے بلایا ہے“

میں نے غازی کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی مگر تاب نظر برداشت نہ کر سکا۔ اس سے قبل اس نے مجھے کبھی تو اور تم کہہ کر مخاطب نہیں کیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں جنات کی روایتی وحشت اور غضب تھا۔ وہ غائب ہو گیا اور میں شاہ صاحب کے کمرے میں چلا گیا۔ کمرہ گھپ اندھیرے میں غرق تھا میں چوکھٹ کے پاس ہی کھڑا ہو گیا

”اندر آ جاﺅ“ بابا جی کی بھاری بھرکم آواز سنائی دی۔

”میں اندھیرے میں داخل ہو گیا اور چند قدم چلنے کے بعد رک گیا۔

”تمہارا خون بڑا گرم ہو رہا ہے“ بابا جی میرے سامنے کھڑے تھے اور ان کی تیز گرم سانسیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ اس وقت وہ اپنے جناتی روپ میں ہی تھے۔ میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں مگر میری ساری حسیات چوکس ہو گئی تھیں۔ دل بھی بے اختیار ہو کر دھڑکنے لگا تھا لیکن اس لمحے بھی میں اپنے اللہ کو نہیں بھولا۔ متلاطم دل کے ساتھ درود شریف پڑھنے لگا۔ اپنے اندر کے جواربھاٹا کو اس سے قرار آ سکتا تھا۔ بابا جی جب جناتی روپ میں آتے تھے تو اسی طرح گھپ اندھیرا کیا جاتا تھا تاکہ ان کے اصلی خدوخال نظر نہ آ سکیں۔

”تم نے ہمارے بیٹے ریاض شاہ کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرکے سب کو ان کے خلاف کر دیا ہے“ باباجی غضب ناک لہجے میں بول رہے تھے

”سرکار .... میں نے کچھ نہیں کیا“ میں نے جرات کرکے لب کھولے۔

”بکواس کرتے ہو ۔ہم سب جانتے ہیں“ وہ دھاڑے تو میرا دل سینے کی دیواریں توڑ کر باہر پھدک جانے لگا۔ کمرے کے درودیوار تھرا اٹھے۔ انہوں نے اپنے لطیف روئی جیسے ہاتھ سے میرے بازو پر تھپڑ مارا اور میں کانپ کر رہ گیا۔

”سرکار! آپ سب کچھ جانتے ہیں اور پھر بھی خاموش ہیں“ میں بولنے سے باز نہیں آیا۔ ”آپ کو ہر بات کی خبر ہے مگر آپ یہ نہیں جان سکے کہ یہ شاہ صاحب اندر سے کتنے گھناﺅنے ہیں۔ یہ پاپی ہیں سرکار۔ انہوں نے آج ایک معصوم اور آپ کے عقیدت مند نوجوان کو اس کے باپ کے قتل پر اکسایا۔ سرکار آپ اگر یہ سب جانتے ہیں تو مجھے بتائیں کیا ہمارا مذہب ہمیں یہ آداب سکھاتا ہے“ میں روہانسا ہو گیا ”اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ شاہ صاحب سیاہ کریں یا سفید‘ ان کا ہر فعل درست ہے تو پھر مجھے یہ کہنے دیجئے کہ آپ کا اسلام اور سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے“ میری بات سن کر بابا جی کی سانسیں تیز ہو گئیں ۔ میں اب ہر طرح کے عذاب کو سینے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو چکا تھا۔ ہر طرح کی فکر اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر میں بولتا رہا ”سرکار! ہم تو آپ جیسی ہستیوں کے عقیدت مند تھے لیکن آپ نے .... ہماری ساری عقیدت کو پشیمانی میں بدل دیا ہے۔ یہ انتقام لے رہے ہیں ہم سب سے۔ مجبور اور بے بس لوگوں کا ایمان خراب کرکے انہیں کمزور بنا کر اپنی اطاعت کرانا کہاں کا اسلام ہے۔ میں نے دیکھا ہے اور سنا ہے آپ اور آپ کے جنات پیروکار پہروں قرآن پاک پڑھتے رہتے ہیں۔ میرے پیارے رسول کی ثنا بیان کرتے ہیں۔ سرکار ۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف آپ کا یہ مقام ہے اور دوسری طرف آپ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں مجبور نظر آ رہے ہیں جو ایمان فروش ہے“

”شاہد .... خاموش ہو جاﺅ“ باباجی دھاڑے ”خاموش ہو جاﺅ تم .... .... “

”ریاض شاہ .... تم نے سنا یہ کیا کہہ رہا ہے“ باباجی گھمبیر آواز میں بولے

”سنا ہے سرکار .... یہ بکواس کرتا ہے صحافی ہے ناں .... زبان بہت چلاتا ہے“ ریاض شاہ بابا جی کا نبض شناس تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ میری حقیقت کشائی نے بابا جی کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے تو اسے صورتحال بدلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ “

”بکواس نہیں کر رہا یہ “ باباجی نے تیز لہجے میں کہا ”تم اپنے ساتھ ہمیں بھی ذلیل کراتے ہو میں نے تم سے کہا تھا کہ ہم تمہاری والدہ کی وجہ سے تمہیں رعایت دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم لوگوں کا ایمان بیچتے پھرو اور ہم تمہیں معاف کر دیں۔ میں تمہیں چھوڑ کر چلا جاﺅں گا“

”سرکار .... میری بات تو سنیں“

”اب سننے کو رہ ہی کیا گیا ہے“ بابا جی بولے ”روشنی جلا دو تم نے معاملات کو جس حد تک خراب کیا ہے اسے اب درست کرنا ہو گا۔ تمہیں میں شروع دن سے یہ بات سمجھا رہا ہوں کہ اگر ایک عامل منتقم مزاج ہو جائے تو اس سے بڑا ظالم انسان کوئی نہیں ہوتا۔ تم نے اپنی ہوس اور انتقام کی خاطر یہ گھناﺅنا کھیل کھیلا ہے“

”میں معافی چاہتا ہوں سرکار“ ریاض شاہ نے لائٹ جلا دی تھی اور پھر میں نے اسے بابا جی کے قدموں میں جھکے دیکھا۔ بابا جی انسانی روپ میں آ چکے تھے۔

”آﺅ میرے بچو .... ادھر میرے پاس آﺅ“ بابا جی نے ہاتھ آگے بڑھا کر میرا ہاتھ تھام لیا اور ریاض شاہ کو پیروں سے ہٹا دیا تھا۔

بائیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزید : کتابیں /جنات کا غلام