یَومِ دفاعِ پاکستان اور یَومِ فضائیہ: یَومِ بقائے پاکستان!

یَومِ دفاعِ پاکستان اور یَومِ فضائیہ: یَومِ بقائے پاکستان!
 یَومِ دفاعِ پاکستان اور یَومِ فضائیہ: یَومِ بقائے پاکستان!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یَومِ دفاعِ پاکستان۔ یَومِ بقائے پاکستان۔ یَومِ تحفظِ پاکستان یعنی 6 ستمبر فی الحقیقت ہماری فتح کا دن، بحیثیت قوم ہماری بازیافت کا دن۔۔۔! اس یادگار، پُر وقار موقع پر قارئینِ کرام! یہ جان لیجئے کہ 6ستمبر 1965ء کو ہم پر مُسلّط کی جانے والی جنگ دراصل ہمارے جذبۂ ایمانی اور قُوّتِ انسانی نے جیتی۔۔۔ اِس سترہ روزہ جنگ میں بے جگری سے سینہ سپر رہنے والی افواجِ پاکستان نے ہر محاذ پر دشمن کے دانت کھٹے کردیئے ہماری جَری اور جانباز افواج نے دشمن کے ہر طرح کے ناپاک عزائم کو اپنے بھاری بھرکم بوٹوں تلے روند کے رکھ دیا۔ دشمن کی ہرناپاک خواہش کو خاک میں ملا کے رکھ دیا۔ دشمن کی یہ حسرت، حسرتِ تاتمام ہی رہی کہ وہ پاکستان کے دل لاہور کے مشہورِ زمانہ جمخانہ کلب میں محفلِ ناؤ نوش منعقد کرسکے۔ دیوانے کے اس خواب کو، مجذوب کی اس بڑ کو اللہ کے فضل و کرم اور جرأتِ حیدریؑ سے تہس نہس کردیا گیا اور دشمن کو اپنے ہی زخم چاٹنے پر مجبور کردیا گیا۔ اس ذِلّت آمیز پسپائی کو اس،عبرت ناک شکست کو دشمن آج تک فراموش نہیں کرسکا۔۔۔!


افواجِ پاکستان نے پورے عالم پر آشکارا کردیا کہ جذبۂ ایمانی اور شوقِ شہادت کے آگے سب داؤ پیچ، سب حربے ہیچ ہیں، سب ہتھیار کُند ہیں اور ہر قسم کے توپ و تفنگ، گولہ و بارود کی کثرت رائگاں ہے!
6ستمبر کا دن وہ دن ہے جب بُزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں ’’شہر زندہ دِلانِ لاہور‘‘ پر شب خون مارا، اَفواجِ پاکستان کے اُس وقت کے عظیم سپہ سالار صدر مملکت جنرل محمد ایوب خاں نے اپنے مخصوص رُعب و دبدبے والی گرجدار آواز سے دشمن کو خبردار کیا کہ: ’’دشمن کو نہیں معلوم، اُس نے کِس قوم کو للکارا ہے؟‘‘


ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی اس تاریخی تقریر نے ہر دل و دماغ پر براہ راست اثر کیا اور یک بیک ہوا کے دوش پر ریڈیو پاکستان سے یہ جنگی ترانہ گونجا:
اے دشمن دیں تُونے
کِس قوم کو للکارا!
لے ہم بھی ہیں صَف آرا!
اور پھر اِسی شہر لاہور کے زندہ دِلوں نے، ہر قسم کے خوف و خطر سے بے پرواہ انارکلی بازار کے چوک لوہاری پر کھڑے ہو کر، طیارّوں سے طیارّوں کے ٹکرانے کے مناظر کھلی آنکھوں سے دیکھے،یوں جیسے فضا میں پتنگیں اُڑرہی ہوں، پیچے لڑائے جارہے ہوں۔ دشمن کے طیارّوں کا برق رفتاری سے پیچھا کرتے ہوئے ہمارے ہَوا بازوں، ہمارے شاہینوں کی لپک جھپک اور ذہنی چابک دستی نے لاہور کے شہریوں پر نقشِ و وام جما دیئے۔ دشمن کے طیارّوں کو ہزیمت و پسپائی کا سامنا کرنے پر زندہ دل لاہوریوں کی ’’بوکاٹا‘‘ کی صداؤں کو، چشم و گوش سے دیکھنے سننے والے لاہور میں آج بھی موجود ہیں!اُن میں سے ایک میں بھی ہوں!

قیام پاکستان کے بعد سے استحکامِ پاکستان کے ہر مرحلے پر افواجِ پاکستان کی اَنمِٹ قربانیاں بے مثال ہیں، ایسی قربانیاں جِنہوں نے بہت سے شہ زور جوانوں کو نشانِ حیدر اور تمغا ہائے جرأت وبسالت سے سرفراز کیا!


ہماری بہادر افواج کی یادگار قربانیاں دراصل بابائے قوم، بانئ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے فرمان کے مطابق ہیں۔ بانیِ پاکستان نے فرمایا تھا:
’’پاکستان سدا قائم رہنے کے لئے بنا
ہے کوئی بھی فرد اس کو نابُود
کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا‘‘
چنانچہ ہم نے دیکھا کہ دو تین جنگوں کے بعد اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں سے نبٹنے کے لئے افواجِ پاکستان نے ’’ضَربِ عَضب‘‘ اور ’’رَدّالفساد‘‘ جیسے جان لیوا آپریشنز میں مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔ اپنی بھرپور دِفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کا مکمل مظاہرہ کیا اور مملکتِ خداداد پاکستان کو امن و آشتی کا گہوارا بنانے کے لئے ایک بار پھر اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ مادرِ وطن کے حضور پیش کیا۔ اِن دونوں مشکل آپریشنز میں اب تک رینجرز، فرنٹیئر کور، پولیس اور آرمی کے بہت سے بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، سینکڑوں کی تعداد میں زخمی زیر علاج رہے۔ بے شک کامیابی و کامرانی کی راہیں کبھی آسان نہیں ہوا کرتیں، اک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے اور آگ کے دریا کو عبور کرتے ہوئے کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے بقول منیر نیازی:


اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔۔!
مَیں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
74ہزار کے لگ بھگ سویلین یعنی عام پاکستانی بھی لقمہِ اجل بنے۔ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ نے وطن دشمنوں، غدارّوں، مکارّوں، عیارّوں اور اُن کے سہولت کاروں کا تقریباً خاتمہ کرکے رکھ دیا ہے آپریشن ’’ رَدّالفساد‘‘ بھی بدمعاشوں، بدکرداروں، دہشت گردوں اور سہولت کاروں کا نام و نشان، سرزمین پاک سے یکسر مٹانے کے دَرپے ہے۔ شمالی وزیرستان میں اب تک ہزاروں شِدّت پسند جَہّنمِ واصل کردیئے گئے ہیں، سینکڑوں کمین گاہیں تباہ و برباد کردی گئی ہیں۔ ٹنوں کے حساب سے گولہ و بارود برآمد کرکے 8ہزار کے لگ بھگ گولہ بارود ساز فیکٹریاں نیست و نابُود کردی گئی ہیں۔ خفیہ اداروں کی نشان دہی پر سینکڑوں کامیاب آپریشن کرکے صوبہ پنجاب میں بھی دہشت گردوں کی بیخ کنی کردی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اب نہتے، عام معصوم شہریوں کو بزدلانہ طریقے سے ہدَف بناتے ہیں۔ مگر افواجِ پاکستان اپنے فرائض بڑی بہادری اور جاں فشانی سے ادا کرتی چلی جارہی ہیں۔ ہمارے خوشگوار ’’آج‘‘ کو محفوظ و مامون بنانے کے لئے ہمارے وطن کے نڈر محافظ اپنے ’’کل‘‘ کو مسلسل قربان کئے چلے جارہے ہیں چنانچہ ہمارے جَری جرنیل، جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا محض بات برائے بات نہیں کہ:


دشمن مغرب کا ہو یا مشرق کایہ جان لے کہ اُن کا گولہ بارود اور گولیاں ختم ہو جائیں گی، ہمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی!‘‘۔۔۔بقول امیر مینائی:
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم اَمیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
کشمیر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہونے والی ہولناکیوں سے بھی ہماری افواج بے خبر نہیں، لاتعلق نہیں، چنانچہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم اور بہیمیت کے دل دہلا دینے والے واقعات پر پاکستان میں سب سے پہلا شدید رّدِ عمل ہماری افواج کی طرف سے آیا اور پھر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ انڈونیشیا سے لے کر چیچنیا تک ایران و ملائشیا، ترکی اور پاکستان سمیت مسلمانوں کی اکثریت سراپا احتجاج ہے، ریلیاں نکل رہی ہیں اور روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا جارہا ہے مگر صدائے احتجاج بُلند کرنے کے ساتھ ساتھ فوری عملی اقدامات کی بھی اشد ضرورت ہے۔۔۔ ایک نئی کرب و بلا سامنے ہے:


چھیتی بوڑیں وے طَبیبا نئی تے مَیں مرگئی آں
کہاں ہے اوآئی سی؟ کہاں ہے یو این او؟ اِن تمام نام نہاد اداروں کو اپنا وجود منوانے کا اور کونسا اندوہناک، المناک موقع آئے گا؟عہدِ موجود کا یہ سب سے بڑا ’’ہولو کاسٹ‘‘ ہے۔۔۔ 6ستمبر کے دن کا یہی سب سے بڑا پیغام ہے کہ ہر انسان کا ’’ماٹو‘‘ یہ ہونا چاہئے:
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

مزید :

کالم -