جدہ سے مکہ مدینہ تک!

جدہ سے مکہ مدینہ تک!
 جدہ سے مکہ مدینہ تک!

  



]نوٹ: آج سے ٹھیک بیس سال پہلے اکتوبر 1997ء میں مجھے عُمرے کی سعادت حاصل ہوئی، بہانہ ایک مشاعرہ بنا۔ مَیں نے کوئی رُودادِ سفر آج تک نہیں لکھی گزشتہ چند روز پہلے گھر میں رنگ روغن اور تزئین و آرائش کے سبب سارا سامان الٹ پلٹ ہُوا۔ کتابیں ڈائریاں اتھل پتھل ہوئیں تو اپنے بڑے بیٹے حسن کے نام جدّہ سے لکھے ہوئے دو تین طویل خط ہاتھ لگے، جو پوسٹ نہ ہو سکے تھے، خطوط کی یہ تحریر جیسی شکل میں تھی، جو تھی حاضر ہے۔ناصر زیدی[

پیارے بیٹے حسن!ڈھیروں دعائیں۔:

اچھے سندر بیٹے عدیل، لاڈلے بیٹے ولی اور حسن پیارے! اُمید ہے تم سب ہی اپنی امی کے ساتھ خوش و خرم ہو گے۔ تم دونوں کالج باقاعدہ جا رہے ہو گے، ولی اسکول جا رہا ہوگا۔ تم سب کو مبارک ہو کہ تمہارے پپا نے عمرے کی سعادت حاصل کر لی ہے۔ پہلے عمرہ پھر مشاعرہ۔

27 اکتوبر 1997ء کی صبح جب تم لوگ چلے گئے اسکول کالج کے لئے تو مَیں سوا آٹھ بجے تک منتظر رہا کہ شاید ڈرائیور تمہیں چھوڑ کر آئے تو گاڑی میں ایئرپورٹ تک مجھے بھی لفٹ مل جائے مگر مزید انتظار کئے بغیر مَیں ٹیکسی لے کر بروقت ایئر پورٹ پہنچ گیا۔ جہاز میں بہت اچھی سیٹ ملی بالکل فسٹ کلاس کے پاس گیٹ میں داخل ہوتے ہی مل گئی کہ جو آتا مجھ سے مل کر آگے جاتا۔

احمد فراز صاحب بھی اسی فلائٹ سے کراچی جا رہے تھے کہ انہوں نے بھی وہاں سے ہمارے ساتھ ہی جدہ جانا تھا، وہ کہیں پچھلی نشستوں پر پہلے سے موجود تھے۔ پی ٹی وی کے نوید ظفر بھی تھے، جو صرف کراچی تک کے مسافر تھے۔ سید اصغر علی شاہ صاحب (سابق ایم این اے راولپنڈی، سابق پارلیمانی سیکرٹری[ 77 سال کی عمر میں جواں مردی دکھا رہے تھے کہ جواں عزم تھے، میرے ایک ہاتھ میں بریف کیس اور دوسرے میں ایک عدد کپڑوں وغیرہ کا بیگ تھا، ان دونوں سامانِ سفر میں سے ایک یعنی بریف کیس، اصغر علی شاہ صاحب نے تھام لیا اور جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے جبکہ میں نے کوئی سامان احتیاطاً لگیج میں جمع نہیں کرایا تھا۔ شاہ صاحب کا اصرار تھا ’’حجازِ مقدس کے مسافر ہو، ثواب میں مجھے بھی شامل کر لو تو کیا گناہ ہو؟‘‘ یہ ثواب میں شامل کرنے کا سلسلہ اسلام آباد سے جہاز کی روانگی سے لے کر کراچی کے دو روزہ قیام تک اور پھر جدہ و مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سفر تک جاری رہا۔ ایک اچھی بات معجزانہ طور پر یہ ہوئی کہ کراچی تک اکانومی کلاس میں ہی میرے ہمسفر مشاہد حسین سید (وزیر اطلاعات و نشریات) بھی ہو گئے۔ ان کو ایک چِٹ پر مرزا غالب کا یہ شعر لکھ کر ایئر ہوسٹس کے ہاتھ بھجوایا:

ترِے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان، جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

شعر پڑھ کر انہوں نے خود اپنی سیٹ نمبر 43-B پر مجھے بلوا لیا، وہ اس وقت نوید ظفر سے محوِ گفتگو تھے، نوید ظفر سیٹ چھوڑ کر میری سیٹ پر آگئے اور یوں مجھے مشاہد حسین سید سے کُھل کر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ میں نے بتایا کہ مَیں خانۂ خدا اور روضۂ رسؐول پر حاضری کے لئے جا رہا ہوں اور وہاں دعا کروں گا کہ ’’آپ کے دل میں خدا میرا خیال بھی ڈال دے‘‘ بڑے ہنسے، کہنے لگے ’’مَیں اپنا وعدہ پورا کروں گا‘‘۔وعدے کا معاملہ یہ تھا کہ اسپیچ رائٹر ٹودی پرائم منسٹر کا میراکنٹریکٹ ختم ہو رہا تھا اور میں کنٹریکٹ کی بحالی کے بجائے کسی اور پوسٹ پر جانا چاہتا تھا۔اِس پس منظر میں انہوں نے کہا ’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن میں بطور M.D آپ کو بھجوایا جا سکتا ہے مگر وہاں آپ کے دوست احمد فراز براجمان ہیں‘‘ مَیں نے کہا مَیں یار مار ہرگز نہیں بننا چاہتا، آپ انہیں وہاں برقرار رکھیں۔‘‘ مجھے مشاہد حسین سید کے پہلو میں بیٹھے دیکھ کر احمد فراز صاحب بھی پچھلی سیٹ سے اُٹھ کر میرے پاس آ گئے۔ مشاہد حسین سید نے انہیں دیکھتے ہی کہا’’ فراز صاحب !NBFختم نہیں ہو رہا ،آپ ہی اس کے M.D رہیں گے‘‘ دراصل اُسی روز ’’ڈان‘‘ اخبار میں ایسی ’’کہانی‘‘چھپی تھی جس سے فراز صاحب کو فارغ کئے جانے کا تاثر اُبھرتا تھا اور ادارے کو ’’ڈاؤن سائزنگ‘‘ میں لانے کا پروگرام ظاہر کیا گیا تھا۔۔۔ احمد فراز نے جواباً کہا، وہ تو خیر ہُواسو ہُوا مگر ناصر زیدی کا کیا کر رہے ہیں آپ؟ کہا وہ ابھی تو ملے ہیں، مَیں انشاء اللہ ان کے لئے جلد کچھ کروں گا۔‘‘ پہلے وہ مجھے آفر دے چکے تھے کہ چیف ایڈیٹر ’’ماہِ نو‘‘ لگ جاؤ D.F.P میں 19 ویں گریڈ ہی میں یہ پوسٹ دے دی جائے گی، مَیں نے کہا مگر ’’ماہِ نو‘‘ کا آفس لاہور میں ہے اور اب پھر اسلام آباد سے لاہور کون جائے؟ بقول میر:

کون جائے میر، اب دلّی کی گلیاں چھوڑ کر؟

اسلام آباد میں ہی کسی ادارے میں D.G لگوا دیں۔! اب دیکھو کیا ہوتا ہے؟ وعدہ تو کیا ہے مگر ایک ہاتھ دل پر (ضیاء الحق کی طرح) رکھ کر کیا ہے۔

خانۂ خدا میں حاضر ہوا سب سے پہلی اور آخری دعا تو حسن بیٹے! تمہاری مکمل صحت یابی و تندرستی کی مانگی ۔پھر سب کی صحت و سلامتی، درازی عُمر، اضافۂ علم و فضل، تعلیم، دینی و دنیاوی سر بلندی اور سرخ روئی کی غرض سے سب ہی کچھ مانگا۔ ان سب میں در اصل چالیس افراد شامل تھے جن میں مشاہد حسین سید بھی تھے۔ انشاء اللہ دعا اثر دکھائے گی کہ بقول علامہ اقبال۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھی ہے

بتانے والوں نے بتایا، یہاں جو مانگو گے ملے گا۔دستِ طلب بلند کئے بغیر بھی اور وہ بھی ملے گا، جو تمہارے دل میں ہے

چالیس افراد کے لئے دعا مانگ چکا تو میں خود ان میں شامل نہ تھا۔ پھر سوچا اپنے لئے کچھ نہ مانگنا تکبر یا گستاخی پر محمول نہ کیا جائے چنانچہ پھر دعا کی۔ غلافِ کعبہ پکڑ کے آنسوؤں کی جھڑی کے ساتھ یہ دعا مانگی! یا اللہ! میں بخیر و عافیت وطن واپس پہنچ کر تجھ سے جو بھی جائز دعا مانگوں اس کو قبول کرنے میں دیر نہ لگایا کرنا۔۔۔ گویا ہمیشہ کے لئے ’’قبولیتِ دعا کی دعا مانگ لی۔ بقول شاعر:

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

اُن سب کے لئے بھی جن کے نام میں ایک کاغذ پر لکھ لایا تھا، فرداً فرداً دعا مانگی، یہ چالیس افراد کی بات بڑی آپا نے سُجھائی تھی اور سمجھائی تھی کہ پہلی بار خانہ کعبہ پر نظر پڑتے ہی لالچی نہ بن جانا کہ اپنے لئے دعا ئیں مانگنے لگو۔۔۔ پہلے اپنے عزیزو اقارب، دوستوں اور واقف کاروں کے لئے دعا مانگنا۔ یہ دعائیں چالیس افراد کے لئے ہوں پھر اپنے لئے مانگنا، چنانچہ جن کے نام لکھے ہوئے تھے سب کے لئے نام بہ نام دعا مانگی اور تمہاری امی کے لئے بھی بہت سی دعاؤں کے ساتھ خصوصاً یہ دعا مانگی کہ : ان کے دل کو خدا گداز کرے! کیونکہ اب تو یہ عالم ہے بقولِ غالب:

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

کوئی فون پر یا ویسے ہی میرے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھے تو رسانت سے بھی معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔(جاری ہے)

مزید : کالم