جدہ سے مکہ مدینہ تک! (2)

جدہ سے مکہ مدینہ تک! (2)
 جدہ سے مکہ مدینہ تک! (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی ریاض خیر آبادی کا مشہور شعر یاد آیا جو شاید مدتوں سے اس موقع کے لئے ذہن میں محفوظ تھا:

کعبہ، سنتے ہیں کہ گھر ہے بڑے داتا کا ریاض

زندگی ہے تو فقیروں کا بھی پھیرا ہوگا

اب اپنا تو پھیرا نہیں، پھیرے ہو گئے۔ پورے سات پھیرے یعنی سات چکر طواف کعبہ کے طور پر ۔۔۔ پھر سات چکر اور بھی ’’طواف النساء‘‘ کے حوالے سے، جن کے بارے میں حسن رضوی کہہ رہا تھا، یہ طواف نہیں کرو گے تو بیوی حرام ہو جائے گی۔ مَیں نے کہا مجھ پر تو پہلے ہی حرام ہے۔۔۔ ان چکروں میں عام آدمی، عام دنیاوی جگہ پر تو چکرا کر رہ جائے ۔لیکن یہ معجزہ بھی اسی سرزمینِ مقدس کا ہے کہ بوڑھے بھی جواں سالوں کی طرح پھیرے لگا رہے تھے۔۔۔ مرد عورتیں بھی۔۔۔ معذور لوگ البتہ کرسی(وہیل چیئر) پر صفا و مروا کے درمیان سعی کررہے تھے یہاں تک پہنچنا ہی بڑا کٹھن کام ہے:

ایں سعادت بہ زورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

عجب روح پرور منظر تھا میری کیفیت میرے اپنے ہی اِس شعر کے مطابق تھی:

طوافِ خانۂ کعبہ تھا اور سوچتا تھا

نجانے کب ہوں دوبارا یہاں مرے پھیرے

احرام جدّہ سے باندھا۔ کراچی سے اس لئے نہیں کہ اصل دعوت نامہ تو مشاعرے کا تھا۔ سعادت عمرے کی یوں ملی کہ ویزہ ہی عمرے کا ملا۔ مشاعرے کا ویزہ نہیں لگ سکتا تھا، نہ لگا۔ کراچی میں دوروزہ قیام کے دوران ایک رات تو قمر علی عباسی کے ہاں گزاری کہ انہوں نے ائیرپورٹ پر اُسی روز یعنی 27اکتوبر 1997ء کو گاڑی بھجوادی تھی اور میں دن 12بجے سے شام پانچ بجے تک ریڈیو کے لئے مختلف پروگرام ریکارڈ کراتا رہا۔ اگلے روز بھی انٹرویو اور کلامِ شاعر بہ زبانِ شاعر اور بزمِ طلباء کے لئے گفتگو کی ریکارڈنگ کی گئی۔ اگلے روز پروگرام کے مطابق ’’ائیرپورٹ ہوٹل ، انٹرنیشنل ‘‘ میں منتقل ہوا۔رات گزاری اور پھر ریڈیو کراچی اور وہاں سے شام 4بجے ہوٹل ’’انٹرنیشنل ائیرپورٹ‘‘ سے 6:30بجے شام جدّہ کے لئے PK-173 سے روانگی ہوئی۔۔۔!سفر کے اس قافلے میں رضوان صدیقی، محمود شام، حمایت علی شاعر، شبنم رُومانی، محسن احسان، امداد نظامی، خاطر غزنوی، مُسرور صابری، وقار حیدری، حسن رضوی، شہزاد احمد، پیرزادہ قاسم، عنایت علی خان، احمد فراز اور یہ ناچیز ناصر زیدی شامل تھے۔ طارق سبز واری کو فون کال آنے پر ائیر پورٹ سے ہی گھر واپس جانا پڑا کہ ان کی والدہ کی طبیعت سخت خراب ہوگئی تھی، بس قسمت میں اس قافلے کے ساتھ بُلاوا نہ تھا۔ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا وہ ان کے دم آخر تک حاضر رہے یہی اُن کا حجِ اکبر تھا!

دل بدست آور کہ حجِ اکبر است

از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است

امداد نظامی اور رضوان صدیقی اپنے اپنے خرچ پر اپنی بزرگ بیویوں کو بھی عمرہ کرانے ہمراہ لائے تھے، آسانی اس عمل میں رہتی ہے کہ پہلے خود تمام مقاماتِ مقدسہ اور آدابِ سفر سے آدمی واقف ہو، پھر ہمسفرِ زیست کو بھی ساتھ لائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ بہر حال یہ سب نصیبوں کی بات ہے، بُلاوا اُدھر سے ہی ہوتا ہے تو کوئی آتا جاتا ہے۔ اس بات کی تصدیق بہت سے عوامل سے ہوئی جو زبانی داستان میں تم سن سکو گے۔ ابھی کہو گے کہ اتنا طویل خط کہاں تک پڑھوں؟

امید ہے عینک تم نے لگوالی ہوگی۔ کراچی سے چلتے وقت جو پروگرام اگلی صبح ریڈیو کراچی سے نشر ہوا۔ یعنی 29/10/97 کو وہ صبح 8:30بجے سے پونے نو بجے تک ’’نگارِ وطن‘‘ پروگرام میں میراانٹرویو تھا جو پروڈیوسر سیما رضا رِدا نے لیا تھا۔ اخباروں میں خبریں چھپ رہی تھیں، ’’ممتاز شعرائے کرام کی جدّہ کے لئے روانگی‘‘۔۔۔ اس لئے بہت سے لوگ پوچھ پاچھ کرریڈیو اسٹیشن پر ملنے آتے رہے، ہر ایک کی خواہش تھی کہ ہمیں بھی کسی خدمت کا موقع دیں۔ گلوکار مجیب عالم کو کیا سوجھی کہ میرے لئے باٹا سے ہوائی چپل 80روپے کا خرید لائے، اب حسن جلیل نے یہ کیا کہ 40روپے اپنے پاس سے مجیب عالم کو ادا کئے کہ ثواب آدھا آدھا بانٹو ، یہ چپل خانۂ کعبہ کے باہر، مسجد الحرام سے باہر تک ارضِ مقدس کو چھوئیں گے۔ مکہ مدینہ کی خاک سے مَس ہوں گے، حالانکہ اب یہاں خاک کا تو نام و نشان بھی نہیں، نہایت عمدہ پختہ سڑکیں ہیں، اب وہ گلیاں شاعری ہی میں رہ گئی ہیں، جو کبھی آنحضورؐ کی گزرگاہ تھیں۔ بہر حال! عقیدت کا معاملہ تھا جس میں کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ کیا کرتا؟ احرام اور بیلٹ وغیرہ قمر علی عباسی پہلے ہی منگواچکے تھے اور بے حد اصرار کے باوجود پیسے نہیں لئے تھے۔ دعوتیں دو دن، صبح، دوپہر، شام حسن جلیل اور مجیب عالم کی میزبانی میں ہوئیں۔ ویسے مستقل میزبان تو بہر حال قمر علی عباسی ہی تھے کہ وہ تو مجھے ہوٹل میں ہی منتقل نہیں ہونے دے رہے تھے۔ غرض مجھے تو یوں لگا جیسے میں مشاعرے کے بہانے عمرے پر نہیں فی الحقیقت حج پر جارہا ہوں۔ حاجیوں کی بھی اس سے زیادہ کیا پذیرائی ہوتی ہوگی؟ میں نے ایک ایک کا نام لے کر سب کے لئے دعا کی، بیٹے!تمہارے لئے، اُس جگہ سے غلافِ کعبہ کو تھاما، جہاں ایرانی عورتیں، مرد، غلاف تھامے گِریہ وزاری کررہے تھے، یہ غلافِ کعبہ کا وہ حصہ تھا، جہاں سے حضرت علیؓ کی پیدائش کے وقت دیوارِ کعبہ شق ہوئی تھی! رو رو کر آنسوؤں کی لڑی بلکہ آنسوؤں کی مسلسل جھڑی کے ساتھ خصوصی دعا کی۔ بے شک بقول مولانا رومی:

بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت

کسے را میسّر نہ شُد ایں سعادت

کسی کو بھی یہ سعادت میسر نہیں ہوئی کہ اس کی ولادت کعبے میں ہو اور شہادت مسجد میں۔

بیٹے! تمہاری پھوپھو یعنی میری بڑی آپا نے ہدایت کی تھی کہ پہلے 40دیگر افراد کے لئے دعا مانگنا، پھر اپنے لئے ذاتی دعا مانگنا، تو حَسن بیٹے! میں نے اپنی ذات کو چالیس کے آخر میں ہی رکھا اور ظاہر ہے چالیس کی تعداد میں سب سے پہلے تم تھے۔ ہاں شائستہ حبیب کا نام اس فہرست میں معجزانہ طور پر خود بخود شامل ہوگیا۔ ہُوا یوں کہ کراچی سے جہاز نے اُڑان بھری تو میں نے اخبارات منگوالئے ایک اخبار مشرق کراچی میں اسی روز شائستہ حبیب کے پروموشن کی خبر تھی یوں ان کا نام اور ان کے شوہر فخر زمان کے نام ذہن میں آگئے اور شائستہ کے والد حبیب کیفوی کا نام بھی۔ یوں یہ تینوں بھی چالیس کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ شائستہ حبیب بیمار ہیں، کینسر میں مبتلا ہیں بہر حال وہ میری دعا میں تھیں۔۔۔ ہاں تو بیٹے! میں بتا رہا تھا کہ 28/10/1997 کی شب 9:20تا9:30 بجے بزمِ طلبا میں میرا ایک انٹرویو نشر ہوا کہ ریڈیو کراچی کے لئے ریکارڈ کرایا تھا پروڈیوسر محمد طفیل تھے۔۔۔ انٹرویوررخسانہ نازعنبرین اور اناؤ نسررخسانہ ناز اللہ دتہ تھیں۔ بہر حال ان دونوں ’’رخساناؤں‘‘ اور دونوں’’ناز‘‘ میں ’’نازنینوں‘‘ والی کوئی بات نہ تھی۔ ہوتی بھی تو تصوّر صرف خانۂ خدا کا تھا اور سفرِ مبارک کا تھا۔ ہمیں کسی سے غرض نہ تھی، اللہ سے لَولگی تھی۔۔۔ گُلوکار مجیب عالم نے خواہش کرکے مجھ سے دونئی نعتیں لیں اور اپنی آواز میں ریڈیو کراچی سے ریکارڈ کرائیں غالباً اگلے روز۔ روانگی کے روز۔ یوں بیٹے ہم اقبال عظیم کا نعتیہ مصرع دوہراتے ہوئے عازمِ سفر ہوئے:

مدینے کا سفر ہے اور ہم نم دیدہ نم دیدہ

مگر یہ بات تو مدینے کے سفر کی ہے جو دھیان میں آئی۔ کراچی سے جدّہ کے لئے روانہ ہوتے وقت جہاز میں اور جدّہ سے کار میں مکہ مکرمہ جاتے ہوئے ریاض خیر آبادی کا وہی شعر ذہن میں گونجتارہا:

کعبہ سنتے ہیں کہ گھر ہے بڑے داتا کا ریاض

زندگی ہے تو فقیروں کا بھی پھیرا ہوگا

جس دن چلنا تھا اُس دن ریڈیو کراچی پر ’’بزمِ طلباء‘‘ کے پروڈیوسر محمد طفیل نے خواہش ظاہر کی کہ جاتے جاتے ایک تقریر ’’اقبال اور شاہین‘‘ کے موضوع پر اور ریکارڈ کرادیں، میں نے کہا چلئے مائیک کے سامنے بٹھا دیجئے اور بتایئے کتنے منٹ بولنا ہے۔ یوں فی البدیہہ متذکرہ موضوع پر دس منٹ گفتگو کی جو طلباء و طالبات علامہ اقبالؒ کے فکر اور ان کے فلسفے اورشاہین کے استعارے سے آگاہ نہیں ہوں گے وہ 10نومبر1997ء کو جان گئے ہوں گے کہ علامہ کا پیغام شاہینوں کے حوالے سے نسلِ نو کے لئے کیا ہے؟ بیٹے! اورباتیں اگلے خط میں۔۔۔ ابھی تو تم اسی بے ربط تحریر کو پڑھ کر ربط خود پیدا کرلو تو کافی ہے، ہاں مشاعرہ کل شب شروع ہو کر صبح 4بجے تک جاری رہا۔ آج جمعہ ہے ناشتہ مشاعرے کے بعد کیا تھا اور پھر کچھ دیر آرام کیا اب دوپہر کا کھانا کسی اور جگہ ہے۔

وہاں جارہا ہوں کہا جاتا ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں کوئی شخص دعوت طعام دے تو کبھی کسی صورت منع نہ کرو بلکہ ضرور شرکت کرو یہ دعوت قسمت والوں کو ملتی ضرور ہے۔عدیل ولی اصفی ظلِ کو دعائیں اپنی امی کو سلام۔۔۔

پس نوشت:یہاں جمعہ کی نماز کے وقت سب دکانیں کھلی چھوڑ کر دکاندار نماز پڑھنے کے لئے دوڑتے، بھاگتے ہیں، نماز پڑھ کے کھلی دکان پر آ بیٹھتے ہیں کوئی چوری چکاری کا ڈر خوف نہیں تاہم سرقلم پھر بھی ہوتے رہتے ہیں۔ جمعے کے بعد دکانیں کھلیں دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ ونڈو شاپنگ کی نیت سے نکلے۔ ایک جیولر کے ہاں ایک عمدہ ’’گولڈن چین‘‘ بہت پسند آئی اور تمہاری امی کے لئے 240 ریال میں خریدلی انہیں پاکستانی روپوں میں خود ڈھال لو۔ تمہارے لئے بھی کچھ نہ کچھ خریدا ہے!

آئندہ خط میں مشاعرے بلکہ مشاعروں کی روداد لکھنی ہے۔ بور تو نہیں ہو گئے؟

ڈھیروں دعائیں تمہارا پپا ناصر زیدی

مزید : کالم