اسلام کا پیغام امن اور وادی کشمیر

اسلام کا پیغام امن اور وادی کشمیر
 اسلام کا پیغام امن اور وادی کشمیر

  

امن و سکون ، سکھ اور چین تو بہت دور کی بات ہے، دنیا تو امن کے نام سے بھی آشنائی نہیں رکھتی تھی۔ نہ ہی امن کے مطلب سے واقف تھی۔ ہر طرف ظلم و جور کا دور دورہ تھا۔ تلوار چلتی۔ چلتی ہی رہتی، مہینوں نہیں، برسوں بیت جاتے، نیزے و تلوار کی دھار خون آشام رہتی۔انسانی خون پانی کی طرح بہتا تھا۔ پاؤں میں پہنی جوتی کی بھی کچھ قدر ہوتی ہے، عورت کا مرتبہ و مقام تو پاؤں کی جوتی سے بھی کہیں کم تر تھا۔لق و دق صحرا،ایک مسافر چلتا ہوا تھک گیا۔ دل نے چاہا ذرا آرام کر لوں، کمر سیدھی ہو جائے تو سستا کر پھر منزل کی راہ لوں، ایک درخت کا سایہ دیکھا، اپنا سامان زمین پر رکھا،گلے میں لٹکی تلوار اتاری، اسے درخت کی ٹہنی کے ساتھ لٹکایا،بازو سے سر کے نیچے ٹیک لگائی، کمر کو سکون ملا، لیٹتے ہی نیند آ گئی، اسی اثناء میں اس کا ایک دشمن ادھر آ نکلا۔ دشمن تو تھا ہی، خون میں جوش آیا ، انتقام کی آگ بھڑکی، فوراً درخت کی ٹہنی سے لٹکی تلوار اتاری،سوتے ہوئے شخص کو جگایا، تلوار سونت کر بولا، اب بتا تجھے مجھ سے کون بچائے گا۔ وہ شخص نیند سے بیدار ہوا، اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بڑے اطمینان اور سکون سے بولا اب مجھے میرا رب ہی بچائے گا۔ آواز میں مکمل سکون تھا، لہجہ پُر اعتماد تھا،اس ایک جملے سے دشمن پر ایسی ہیبت طاری ہوئی، تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی، سوئے آدمی نے لپک کر تلوار اٹھا لی۔ ہاتھ میں تھامی، بولا اب تو بتاتجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ دشمن تھر تھر کانپنے لگا، مسافر بولا جا میں نے تجھے معاف کیا۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، مَیں اللہ کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ دنیا میں ا من کا پیغام دینے اور امن قائم کرنے آیا ہوں۔ مسلمان اسی محمدﷺ کو ماننے والے ہیں اور امن کے پیغام ہی کو عام کرتے ہیں:

مزدکی ہو کہ افرنگی سب ہوس خام میں ہے

امن عالم تو فقط دامن اسلام میں ہے

آج دنیا کی دیگر قوموں نے اسلام کے پیغام امن کو دشمنی کا نام دیا ہے اور مسلمانوں کے ماتھے پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک ہر داڑھی والا،اللہ سے ڈرنے والا، دوسروں کو امن اور اسلام کی دعوت دینے والا دہشت گرد ہے،قابل گرفت ہے۔ انہیں خبر نہیں کہ اسلام کے تو معنی ہی سلامتی کے ہیں۔ ایمان لفظ بھی امن سے نکلا ہے۔مسلمان دنیا میں سلامتی کا پیغامبر ہے۔ مومن امن و آشتی کا سفیر ہے۔ دنیا والوں نے کہا ’’جیو اور جینے دو‘‘۔۔۔ مسلمان کا پیغام ہے’’ جینے دو اور جیو‘‘۔۔۔ پہلے دوسرے کو جینے کی سہولتیں دو تاکہ تم بھی سکون سے جی سکو۔ کیونکہ صرف اپنے لئے ہی سکون کے سامان مہیا کرتے رہنا خود غرضی کی علامت ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: اپنے گھر کی دیوار بھی اونچی نہ بناؤ، کہیں پڑوسی کی ہوا اور دھوپ نہ رک جائے۔مسلمان اسی نبیؐ کے نام لیوا ہیں اور پوری دنیا میں پیغام امن کو عام کرتے ہیں، لیکن دنیا والو! تم نے انہی امن کے سفیروں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے۔ آج وادی کشمیر خون آشام ہے،مقبوضہ کشمیر کے باسی کیا چاہتے ہیں؟ آزادی اور صرف آزادی ۔۔۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں۔ یہ وہ نہتے مسلمان ہیں جن کی آزادی پر تم نے پہرے بٹھا دئیے ہیں۔ جو آزادی کا مطالبہ کرے اس کے جواب میں بندوق کی گولی کے سوا کچھ نہیں۔گائے کو ماں اور سانپ کو رام کہنے والو! خود سوچو، تم نے پچھلے ستر برسوں میں کتنی عورتوں کے گھر اجاڑے، کتنی دوشیزاؤں کے گھر برباد کئے،کتنے بچوں کو یتیم کیا،کتنے نونہالوں سے روٹی کا ٹکڑا تک چھین لیا،کتنے نوجوانوں پر گولیاں برسائیں، کتنے نوخیز جوانوں کی چمکتی آنکھوں پر بندوق کی نالی سے چھرے برسائے اور صرف آزادی کے مطالبے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے بینائی چھین لی۔ وادئ کشمیر اسی حوالے سے خون آشام ہے۔ دن رات خون بہہ رہا ہے۔ ساری دنیا خود کو مہذب کہلاتی ہے، لیکن کسی کو کشمیر میں بہنے والے خون کی خبر نہیں۔اے گائے کو ماتا اور سانپ کو دیوتا کہنے والو! یاد رکھو مسلمان وہ قوم ہیں جوگائے کو کھاتے ہیں اور سانپ کو ہلاک کرتے ہیں۔ تمہارا دیوتا مسلمان کو دیکھتے ہی اپنے بل میں چھپ کر جان بچاتا ہے۔ مسلمان وہ جری قوم ہے جس نے محمد بن قاسم کو جنم دیا۔ جس نے خطہ عرب سے نکل کر برصغیر پاک و ہند میں اپنی عظمت کے پرچم کو بلند کیا۔یاد رکھو اگر تم نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر اپنی تلواروں کو اسی طرح کھلا رکھا تومسلمانوں کی مائیں بانجھ نہیں۔ وہ اب بھی محمد بن قاسم جیسے سپوتوں کو جنم دینا جانتی ہیں:

دیار ہند کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھراجسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کر ے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

1965ء کے ماضی کے دریچوں کو کھولو،دیکھو، میجر عزیز بھٹی شہید، طفیل شہید کی روحیں تمہیں تک رہی ہیں۔پکار رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر کی وادی کو خالی کر دو، اسی میں تمہارا بھلا ہے،اسی سے امن آئے گا، اگر آشتی چاہتے ہو تو مقبوضہ کشمیر کی وادی میں خون کا کھیل ختم کرو۔ اے اہنساکا دم بھرنے والو! کیا تمہیں بلکتے روتے بچوں کی آوازیں سنائی نہیں دیتیں جو تمہارے ظلم و جور کا روزانہ شکار ہوتے ہیں۔ کیا تمہیں ان لوگوں کی آہوں، سسکیوں پر ترس نہیں آتا جن کی آنکھوں میں تم تاک تاک کر نشانے لگاتے ہو اور ان کو بینائی سے محروم کرتے ہو۔ تم پنڈت جواہر لال نہرو کی آتما کو کیا جواب دو گے جس نے اقوام متحدہ میں جا کر امن کی بھیک مانگی تھی اور جنت نظیر کشمیر میں رائے شماری کا وعدہ کیا تھا۔ہمیں معلوم ہے تم وہ وعدہ بھولے نہیں، لیکن تم نے قصداً آنکھیں بند کرلی ہیں، اپنے کانوں پر پہرے بٹھا لئے ہیں،تم دنیا میں ظلم و بربریت کی علامت ہو۔ مقبوضہ کشمیر کو کب تک رنگین کرو گے۔ کتنا ظلم کرو گے۔ظلم آخر مٹ کر رہے گا، لیکن یاد رکھو تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

مزید : کالم