سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12

  


جب ہند میں شعار اسلام کا رواج ہوتا گیا اور مساجد تعمیر ہوگئیں تو سلطانِ ہند نے دارالسطنت پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنے جری جوانمردوں کو جمع کیا اور اُن بہت سا مال انعام میں دیا۔ 404ھ میں لشکر گراں کے ساتھ اندھیری رات میں اُس نے کوچ کیا۔ خزاں کا موسم تھا۔ جبوبی نسیم چل رہی تھی۔ سفر اچھا معلوم ہوتا تھا۔ مگر جب سلطان سرِحد ہند کے قریب پہنچا تو برف بڑی شدت سے پڑی۔ پہاڑ کے سارے راستے بند ہوگئے پہاڑو وادی سب ہموار ہوگئے گھوڑوں اور اونٹوں کے پاﺅںمیں برف کی سردی کا اتر پہنچتا تھا۔ آدمیوں کے ہاتھ پاﺅں اور چہرہ کا ذکر تو کیا ہے جو شاہراہ تھی وہ مخفی ہوگئی۔ راہ میں جو آگے تھا وہی پیچھے تھا۔ اس لئے لشکر واپس بھی نہ جا سکتا تھا۔ سلطان نے اس عرصہ میں سپاہ کے لئے رسد کا سامان درست کیا اور اپنے بڑے بڑے سپہ سالاروں کو بلایا۔ اس طرح سے جب ساماب جنگ تیار ہوگیا تھا اور اپنے دور دور کے ملکوں کی سپاہیں آکر اکٹھی ہوئیں۔ پھر سلطان نے سفر کیا۔(دو مہینے تک اُس کے گھوڑے اُن ویران جنگلوں میں چلے جن میں مویشی بھی راہ بھول جاتے تھے) اور بڑے بڑے عمیق دریاﺅں کو عبور کیا۔ سلطان قلعہ نندونہ(ناروین)پر پہنچا یہ قلعہ کوہ بال نات پر ہے۔ وہاں کے راجہ کے ندر بھیم نے اپنے سپہ سالاروں اور رئیسوں کے لشکروں کو ایک درہ کوہ میں جمع کیا جس میںدشمنوںکا گزرنا دشوار معلوم ہوتا تھا۔ انہوں نے پتھروں کے پیچھے مورچے جمائے اور ہاتھیوں سے راستوں کو روکا۔ یہاں راجہ جانتا تھا کہ میں مامن کے گنبد میں بیٹھا ہوں۔جب سلطان کو یہ معلوم ہوا کہ راجہ کو اپنے مامن پر یہ غرور ہے تو اُس نے ولیمی سپاہیوں اور افغانی نیزہ اندازوں کو ساتھ لیکر حملہ کیا یہ سپاہی پہاڑوں پر اس طرح چڑھتے جیسے پہاڑی بکری‘اُترتے اس طرح جیسے پانی۔ جیسے چراغ میں بتی تیل کو کھینچتی ہے اور لوہا مقناطیس کو اس طرح مسلمانوں نے ہندوﺅں کو لڑنے کے لئے باہر کھینچا۔ باہر نکلتے ہی سواروں کے ساتھ سے وہ اس طرح مارے گئے جیسے کہ شطرنج میں گھوڑے سے پیادے مارے جاتے ہیں۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب ندر بھیم پاس اور رئیسوں کی کمک پہنچ گئی تو سہ اپنے مورچوں سے باہر نکلا اور پہاڑ سے میدان میں آیا۔ پہاڑ اُس کے پیچھے تھے اور ہاتھی آگے تھے۔ مسلمانوں کے لشکر پر جب ہاتھی چلتے تھے تو وہ مسلمانوں کی نیزہ زنی سے پیچھے ہٹتے تھے۔ ابو عبداللہ طائی نے جو بہادری سے پیشقدمی کی تو اُس کا سر اور جسم زخموں سے چکنا چور ہوگیا۔ سلطان نے اُس کو ہاتھی پر زخموں کی تکلیف کے سبب پٹھایا۔ جس سے یہ معلوم ہونے لگا کہ اس سارے لشکر کا یہی بادشاہ ہے۔ ہندوﺅں کو سب جگہ شکست ہوئی۔ اور بہت سے ہاتھی جو دشمنوں کے لشکر کی پشت و پناہ تھے‘ مسلمانوں کے ہاتھ آئے اور ناردین فتح ہوگیا۔ اس کثرت سے غلام ہاتھ لگے کہ بہت سستے بکنے لگے۔ جو یہاں اپنے دیس میں بڑے آدمی تھے وہ پردیس میں ادنیٰ دوکانداروں کے غلام بنے۔

سلطان نے بعد اس فتح کے دہلی تسخیر کرنے کا ارادہ کیا۔ ارکان دولت نے عرض کیا کہ دہلی کو اس وقت ہم تسخیر کر سکتے ہیں کہ مملکت پنجاب مقیم ہماری قلمرو میں ہو اور آنند پال کے فساد سے بالکل فراغت ہو۔ سلطان کو یہ بات پسند آئی فسخ عزیمت کیا۔ دو لاکھ بندہ و بردہ ہندوستان سے غزنی لایا۔ غزنی اس سال میں بلاد ہند معلوم ہوتی تھی کہ سلطان کے لشکر میں ہر ایک کے پاس کئی کئی غلام تھے۔

403ھ میں التونتاش سپہ سالار اور ارسلان جاذب نے غرجنتان کو فتح کیا۔ یہ ملک دریائے مرغاب پر غور کے متصل واقع ہے۔

ان دنوں میں سلطان نے خلیفہ عباسی بغداد والقادر باللہ کو نامہ لکھا(سلطان محمود غزنوی ٰخلیفہ بغداد کو دعوت نامہ) کہ بلاوخراسان کا اکثر حصّہ میرے تصرف میں ہے‘باقی حصّہ جو حضرت کے غلاموں کے پاس ہے‘وہ بھی مجھے عنایت ہو۔ خلیفہ عباسی کو خط بھیجا کہ ناچار سلطان کی درخواست کو منظور کرلیا مگر پھر دوسری دفعہ اس نے خلیفہ عباسی کو خط بھیجا کہ ثمر قند مجھے عنایت کیجئے اور منشور لکھ کر بھیجئے۔ خلیفہ نے ایلچی کی زبانی کہلا بھیجا کہ معاذ اللہ یہ کام مجھ سے نہ ہوگا اگر میرے حکم کے بغیر ثمرقند کی تسخیر کا ارادہ کرے گا تو ایک عالم کو تیرے خلاف شورش پر آمادہ کردونگا۔ سلطان کو اس جواب سے بڑا رنج ہوا اور خلیفہ کے ایلچی سے کہا کہ تو یہ چاہتا ہے کہ دارالخلافہ پر ہزار ہاتھی چڑھا کر لے جاﺅں اور اُس کو برباد کرکے اُس کی خاک ہاتھیوں کی پیٹھ پر غزنی میں لاﺅں۔ ایلچی یہ سن کر چلا گیا اور کچھ دنوں کے بعد نامہ لایا اور سلطان محمود غزنوی کو دیا کہ امیر المومنین نے یہ جواب لکھا ہے۔ خواجہ ابو نصر زوزنی نے کہ دیوانِ رسالت تھا‘ اس نامہ کو کھولا تو اُس میں دیکھا کہ بسم اللہ الرحمٰن لکھا ہے اور بعد اس کے چند سطروں میں حروفِ مقطعات ال م لکھتے ہیںاور آخر میں الحمداللہ رب العالمین و الصلٰوتہ علی رسول محمد والہ اجمعین تحریر ہے‘باقی کچھ نہیں۔ سب دبیرو منشی حیران تھے کہ یہ کیا جواب ہے۔ تفاسیر میں ان حروف تفسیر دیکھی مگر کچھ نہ معلوم ہوا۔ خواجہ ابو بکر قہستانی نے جرا¾ت کرکے عرض کیا کہ حضور نے جو ہاتھیوں کے پاﺅں کا ڈرادا لکھا تھا اس کا یہ جواب الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل ہے یہ سنتے ہی سلطان کے ہوش اُڑ گئے جب ہوش میں آیا توبہت رویا خلیفہ کے رسول سے معذرت کی نہت تحائف نذر کے لئے بھیجے اور ابو بکر کو خلعت خاص عنایت کیا۔ 410ھ میں ہندوستان کی فتوحات کا فتح نامہ خلیفہ القادر باللہ عباسی کے پاس سلطان محمود غزنوی نے بھیجا اور ایک سنگ (جو ہندوستان میں سلطان کوملا تھا اور اُس کی یہ خاصیّت تھی کہ زخم پر اُس کو لگائے تو فوراًاچھا ہو جاتا تھا)تحفہ بھیجا۔ خلیفہ نے ایک مجلسِ عظیم کو جمع کیا اور منیر پر بیٹھ کر بآواز بلند فتح نامہ کو اہل مجلس کے روبرو پڑھا۔ ان فتوحات کے سننے سے مسلمانوں کو عید کی سی خوشی ہوئی اور 412ھ میں علماو صلحا و اہل اسلام کی جماعت نے متفق ہوکر سلطان سے عرض کیا کہ بیت الحرام کی راہ اعراب و قرمطیون سے مسدود ہو رہی ہے اُن کے خوف سے اور خلفاءعباسیہ کے ضعف سے مسلمان حج سے محروم رہتے ہیں۔ سلطان نے اس عرض پر محمد نا صحی کہ قاضی القصناتہ ممالک محروسہ کا تھا‘ امیر حجاج بنا کے اور تیس ہزار زر سرخ دیکر روانہ کیا کہ اعراب کو راہ قافلہ سے پرے ہٹا دیں۔ بہت سے مسلمان قاضی صاحب کے ساتھ ہوئے۔ جب یہ قافلہ بادیہ فید میں پہنچا تو عربوں نے اُسے روکا۔ قاضی صاحب پانچ ہزار دینار اُن کو دیتے تھے مگر احمد بن علی شیخ اعراب معترض ہوا جس کو ایک تیر انداز نے مار ڈالا۔اعراب بھاگ گئے تو اُس سال حج خوب ہوا۔ جب ولایت خوارزم مامون کے بعد اُس کے بیٹے ابو علی کو ملی تو اُس نے سلطان محمود غزنوی کی بہن سے نکاح کیا اور اس رشتہ بندی سے سلطان کے ساتھ سچّی دوستی ہوگئی۔ جب مامون کی حکومت ختم ہوئی تو اُس کا جانشین ابوالعباس مامون ہوا۔ اُس نے سلطان محمود غزنوی کے ساتھ خلوص عقیدت ظاہر کرکے اجازت چاہی کہ اُس کی بہن سے جو اُس کے بھائی کی بیوی تھی‘خطبہ نکاح پڑھائے۔ سلطان نے اجازت دیدی اور اس طرح محبت کی بنیاد مستحکم ہوگئی۔ ابوالعباس مامون کہ آخر ایام میں سلطان نے اس کے پاس ایلچی بھیجا اور درخواست کی کہ ولایتِ خوارزم میں خبطہ اُس کے نام پڑھایا جائے۔ ابوالعباس مامون نے اپنے اعیان دولت سے مشورہ کیا تو اکثر نے یہ کہا کہ جب تک آپ کا ملک دوسرے کی شرکت سے خالی ہے‘ہم کمرِ خدمت باندھے ہوئے موجود ہیں اور اگر آپ کسی اور کے محکوم ہوتے ہیں تو ہم تلواریں لیے کھڑے ہیں‘آپ کو معزول کرینگے اور کسی اور کو تخت پر بٹھائیں گے۔ سلطان کا ایلچی یہ صورت حال دیکھ کر چلا گیا۔ اعیانِ خوارزم شاہی نے یہ کہہ دیا مگر پھر وہ سلطان کے اقوال کے رد کرنے سے پشمان ہوئے اور نیال تگین جو صاحب جیش خوارزم اور سر دفتر اہل جسارت و خسارت تھا‘مہم کے واسطے تیار ہوا۔ایک دن وہ اوباش کے گروہ کے ساتھ خدمت ابوالعباس مامون میں گیا۔ اندر سے خبر آئی کہ اُس کا انتقال ہوگیا کسی شخص کو اس ہولناک واقعہ کی اطلاع نہ ہوئی۔ اس کے بعد پسر ابوالعباس کو تخت پر بٹھایا۔ یہ خوارزمی گروہ خوب جانتا تھا کہ سلطان اس کا انتقام ہم سے لے گا‘ اس لئے سب نے مل کر قسم کھائی کہ اگر سلطان محمود غزنوی انتقام کے درپے ہو تو اتفاق کرکے اُس سے خوب لڑیں۔ جب سلطان محمود غزنوی کو اس عذر کی خبر ہوئی تو صلاح مشورہ کرکے وہ سپاہ کو آراستہ کرکے خوارزم کی طرف چلا۔ سلطان نے محمودطائی کو مقدمتہ الجیش بنا کے بھیجا۔ یہ لشکر صبح کی نماز پڑھ رہا تھا کہ خمارتاش خوار زمیونکے سپہ سلار نے غزنویوں پر چھاپا مارا بہت سے لوگ قتل کیے اور لشکر کو بھگا دیا۔ سلطان نے پھر اپنے خاص غلاموں کا لشکر بھیجا۔ اُس نے خوارزموں کو شکست کی خمار تاش کو گرفتار کیا اور اُس کو سلطان کی خدمت میں لائے۔جب سلطان قلعہ ہزار سپہ پاس پہنچا تو ایک سخت لڑائی سبح سے دوپہر تک ہوئی تو شام بہت سے آدمی سلطان کے ہاتھوں اور گھوڑوں نے پامال کئے‘ پانچ ہزار آدمی قید ہوئے اور باقی بھاگ گئے نیال تگین کشتی میں بیٹھ کر جیحوں سے عبور کرنا جاہتا تھا کہ ایک شخص نے اُس کو کشتی میں باندھ لیا اور سلطان کے پاس لے آیا۔ سلطان نے ابوالعباس مامون کی قبر کے پاس سولیاں کھڑی کیں ان پر نیال تگین اور اُس کے ساتھیوں کو چڑھایا اور مامون کی قبر پر یہ کندہ کرا دیا کہ”ہذاا قبر مامون ابن مامون“یعنی(بغی علیہ حشمہ و اجر علی دمہ خلسہ فقبض الیہ الشلُطَانُ یمین الدولتہ والمین الملتہ حتیٰ اقبض منھم و صلبھم علے الجذوع عبرتہ للناظرین وایتہ للعلمین) خوارزم کی حکومت میر حاجب کبیر التونتاش کو دی‘قیدیوں کی غزنی بھجوایا پھر سب کا قصور معاف کرکے چھوڑ دیا۔

سلطان نے سنا تھانیسر کے ملک میں ہاتھی بڑے قوی ہیکل ہوتے ہیں اور اُن کو میدان جنگ میں لڑنا خوب آتا ہے۔ تھانیسر کے حکمران کو ان ہاتھیوں پر بڑا غرور تھا۔ سو سلطان فوج جرار کو لیکر گیا۔ اُس کو ایسے جنگل میں اوّل گزرنا پڑا کہ جس میں سوائے چرند پرند اور حیوانوں کے انسانوں نے اب تک قدم نہ رکھا تھا۔ گھوڑے کا سم اُس پر نہ پڑا تھا۔ اس میں دانہ پانی نہ تھا۔ اوّل سلطان ہی نے اس جنگل کو طے کیا۔ تھانسیر کے نیچے ایک ندی صاف پانی کی بہتی تھی‘اُس کی تہ میں پتھر تھے اور اُس کے کنارے ناہموار اور تیر کی طرح نوکدار تھے۔ سلطان اس ندی پر وہاں پہنچا جہاں وہ درہ کوہ میں ملتی تھی وہاں دشمنوں نے ہاتھیوں پیچھے قیام کیا تھا‘اُن کے پاس بہت پیادے اور سوار تھے۔ سلطان نے یہاں یہ حکمت اختیار کی کہ اپنے لشکر کود و پایاب مقاموں سے ندی کے پار اُتارا اور دشموں پر دونوں طرف سے حملہ کیا۔ جب ان لشکروں میں آپس میں قریب آکر لڑائی بھڑائی ہونے لگی تو سلطان نے اپنے لشکر کو اس درہ کوہ سے جس مین ندی بڑے زور سے پھڑ رہی تھی‘ندی کے کنارے پر کھڑے ہوکر حملہ کرنے کا حکم دیا کہ گھاٹیوں میں جو شمن چھپے ہوئے ہیں اُن کو قتل کریں ۔ شام تک سخت لڑائی ہوئی دشمن بھاگے‘ہاتھی چھوڑ گئے‘جو سلطان کے پاس پکڑے آئے جن ان سے بڑے بڑے ہاتھی سلطان نے اپنے پاس رکھے۔ اس قدر ہندو مارے گئے کہ اُن کے خون سے ندی کے پانی کا ایسا رنگ بدل گیا کہ کوئی اُسے پیتا نہ تھا۔ رات ہوگئی ورنہ دشمن اور ہلاک ہوتے۔ یہ بیان تاریخ یمینی سے لکھا ہے۔ تاریخ فرشتہ میں اس مہم کو یوں بیان کیا ہے کہ محمود غزنوی کا ارادہ تھا کہ تھانسیر کو فتح کیجیے وہ ان دنوں بت پرستوں کا ایسا ہی معبد تھا جیسا کہ بلاتشبیہ مکہ خدا پرستوں کا۔ جب سلطان پنجاب میں آیا اس سبب سے کہ آنند پال سے جو شرائط و معاہدے ہو چکے تھے۔ اُن کا پاس تھا کہ اُنہیں کوئی فرق نہ آئے اور اس کا علاقہ لشکر سے پامال نہ ہو۔ اس لئے سلطان نے آنند پال کو لکھا کہ ہمارا ارادہ تھانسیر کا ہے۔ تم کو جاہیئے کہ اپنے معتمد آدمیوں کو ہمارے لشکر کے ہمراہ روانہ کردو کہ ا ثنار میں وہ اپنے علاقوں کو بتاتے جائیں تاکہ لشکر سے اُن کو گزند نہ پہنچا۔ آنند پال نے اس بات کو غنیمت سمجھا۔ سامان رسد وغیرہ مں ہمہ تن مصروف ہوا کل تاجروں اور بنیے بقالوں کو حکم دے دیا کہ لشکر سلطانی کے لئے غلہ جمع کرو اور کل اپنے ماتحتوں کو تاکید کی کہ لشکر سلطانی کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہونے پائے۔ دو ہزار سوار اپنے بھائی کے ساتھ سلطان کے خدمت میں بھیجے اور ایک عرضی لکھی کہ تھانسیر ہمارا معبد ہے اگر حضور وہاں کی رعایا پر خراج اور محصول مقرر کریں تو بہتر ہے اگر حضور میری درخواست منظور فرمائیں گے تو میں بھی پچاس ہاتھی سالانہ کروں گا۔ سلطان نے اس پر حکم لکھا کہ بُت پرستی کی بیخ کئی کرنا اور شرع اسلام کا رواج دینا کام ہے۔ جب دلّی کے راجا کو یہ خبر پ پنہچی تو اُس نے اور راجاﺅں کو لکھا کہ سلطان محمود غزنوی لشکرِ نامعذود سے تھانسیر کی طرف متوجہ ہوا۔ اگر اس سیل کا بند نہ باندھو گے تو وہ سب پر پانی پھیر کر خاک میں ملائے گا۔ محمود غزنوی بھیجا کہ وہاں پیروں کے تلے ہمیشہ روندا جائے۔ غنیمت بے حساب ہاتھ آئی۔ ایک یاقوت ملا‘ جس کا وزن ساٹھ تولہ تھا۔

سلطان نے 405ھ میں کشمیر کا ارادہ کیا۔ قلعہ لوہ کوٹ تک آیا‘ یہ قلعہ نہایت مستحکم تھا۔ سلطان نے اس کا محاصرہ کیا۔جب اس محاصرہ پر مدت گزر گئی اور کشمیر کو کمک اور اطراف سے بھی پنہچ گئی جاڑے اور برف کی بھی شدت ہوئی تو سلطان نے محاصرہ چھوڑا غزنی کی راہ ملی۔اس سفر میں لشکر اُس صحرا میں پہنچا جہاں پانی کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا تھا ایک خلق پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئی۔ یہ پہلی دفعہ تھی کہ ہندوستان کے حملوں میں لشکرِ اسلام کو اس طرح کا صدمہ پہنچا کہ سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں‘بہت سی مشقتیں اٹھائی پڑیں اور کوئی مقصد حاسل نہ ہوا۔ غزنی سلطان بے نیل و مرام واپس آگیا۔

پنجاب تو مدتوں سے اہل اسلام کے قدموں میں تھا۔ اب سلطان محمود غزنوی کے ارادوں کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کیسے بُلند اور فراغ ہوگئے۔ کہ اُس نے یہ اولوالعزمی کی کہ وسطِ ہند کا دروازہ اہلِ اسلام کی فتح و نصرت کیلئے کھولے۔ اُس نے ایک لشکرِ جرار جمع کیا۔ ایک مو¾رخ لکھتا ہے کہ ایک لاکھ سوار اور بیس ہزار پیادے تھے۔ تاریخِ یمینی میں لکھا ہے کہ بیس ہزار سوار ماورار النہر اس کے پاس تھے۔ فقط جہاد کے ارادہ سے وہ آئے تھے۔ سلطان کی اس فرزانگی کو دیکھیے کہ اُس نے سپاہی ثمرقند اور بخارا‘ان ملکوں کے لئے جو ابھی فتح ہوئے تھے‘ یہ تد بیر نہایت معقول تھی اگر ہمراہ نہ لیتا تو وہ کب اس کے پیچھے بیٹھتے۔ ضرور ایسا دنگا فساد پیچھے مچاتے کہ سلطان کو آگے بڑھنا دشوار ہو جاتا پھر اس سپاہ فراوان کو ہمراہ لیکر وہ سات دریاﺅں سے اُن مقامات پر اُترا جہاں اُن کے پاٹ کم تھے۔ اس مہم میں سلطان جس راہ سے قنوج آیا گیا‘مو¾رخوں نے مختلف طرح سے بیان کیا ہے مگر تاریخ یمینی کے موافق اس سفر کا حال بیان کرتے ہیں۔ لشکر کو لیکر اوّل کشمیر میں آیا۔ کشمیر اور غزنی کے درمیان ایسے گھنے جنگل تھے کہ اُن میں ہوا کا گزر بھی دشوار تھا۔ اُن میں جانور نغہ سرائی اور شوروغل مچاتے تھے۔ سلطان کے بیس ہزار ماوراءلنہری سپاہی اس لئے آگئے تھے کہ وہ اُن کو کہیں جہاد میں بھیج کر غازی و شہید بنادے۔ سلطا ن نے اس لشکر کو ہمراہ لیکر قنوج کا ارادہ کیا۔

غزنی اور قنوج کے درمیان گھوڑوں اور اونٹوں کی تین مہینہ کی راہ تھی۔ سلطان نے رات دن کرنا شروع کیا۔ وہ دریائے سندھ سے اُترا۔ پھر جہلم‘راوی‘بیاس‘ستلج سے عبور کیا۔ یہ دریا ایسے عمیق ہیں کہ ان میں ہاتھی ڈوب جاتے ہیں۔ اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ اونٹوں اور گھوڑوں پر کیا گزری ہوگی جن ملکوں سے سلطان کا گزر ہوا وہاں کے خاکموں نے اُس کی اطاعت اختیار کی اور اپنے سفیر بھیجے۔ سیلی یا جانکی بن شاہی بن یمنی حاکم درہ ہائے کشمیر نے سلطان کو یہ جانا کہ وہ کوئی خدا کافر ستادہ ہے‘اس کے پاس حاضر ہوا‘راہ نمائی کا ذمہ لیا اور ایک جنگل سے دوسرے جنگل میں لے گیا۔آدھی رات کو کوچ کا نقارہ بجتا اور دوپہر کے بعد تک منزل طے ہوتی۔ 20رجب409کو یہ لشکر جمنا پار اُترا۔ راہ میں سلطان کو ایسے بلند قلعے نظر آئے کہ اُن کے دیکھنے کیلئے گردن پیٹھ سے لگ جاتی تھی۔ اب وہ قلعہ برن میں پہنچا(یہ بلند شہر کا پرانا نام ہے)راجہ ہردت کے ملک میں یہ قلعہ تھا۔ جب اُس نے سنا کہ لشکرِ جرار نے حملہ کیا‘ اس نے تاب مقاومت نہ دیکھی وہ دس ہزار آدمیوں سمیت سلطان کی خدمت میں آیا ان سب نے دین اسلام قبول کیا اور بُت پرستی کو ترک کیا۔(جاری ہے)

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 13 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...