سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 11

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 11
سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 11

  


ملتان کی تسخیر میں جو آنند پال نے سلطان محمود غزنوی کے ساتھ بے ادبی کی تھی۔ اُس کے جواب میں سلطان نے ایک لشکرِ عظیم تیار کیا۔ راجہ آنند پال غافل نہ تھا‘وہ بھی مروز یرک اور ذی ہوش تھا۔ اُس نے سارے ہندوستان کے راجاﺅں کے پاس چٹھیاں دوڑائیں‘ایلچی روانہ کئے اور سلطان سے جو خطرہ عظیم ہند پر آیا تھا‘ اُس سے مطلع کیا اور کہلا بھیجا کہ اگر دین کی اہمیّت اور دنیا کی عزت رکھنی ہو تو اس بلا کے ٹالنے میں میرے ساتھ شریک ہو جوﺅ۔ اب تک ہماری دولت وحشمتِ عزت میں کچھ فرق نہیں آیا۔ اگر تم تاخیر کرو گے تو سارے ہندوستان کو سلطان محمود غزنوی تباہ اور خاک سیاہ کردے گا۔ راجاﺅںکے دلوں میں اس تحریر و تقریر نے تاثیر کی اور انہوں نے سمجہ لیا کہ دین دنیا کی سلامتی اسی میں ہے کہ جہاں تک ممکن ہو راجہ آنند پال کی امداد کریں‘ چناچہ اُجین کالنجر قنوج دلی۔ اجمیر گوالیار کے راجاﺅں نے اپنا منتخب لشکر راجہ آنند پال کے پاس پنجاب روانہ کر دیا۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کی صاحب مقدور عورتوں نے اپنے سونے چاندی کے زیورات و جواہر بیچ کر اور مفلس عورتوں نے چرخہ پونی کا تکر کچھ نہ کچھ اپنے خاوندوں کے پاس بھیجا۔ غرض اس لشکر کا وہ ساز و سامان آنند پال نے کیا جو پہلے امیر سبکتگین کے زمانہ میں جے پال نے بھی نہیں کیا تھا۔ پشاور کے صحرا میں یہ لشکر سلطان محمود غزنوی کے لشکر کے قریب آیا۔ چالیس روز تک دونوں لشکر آمنے سامنے خیمہ زن رہے اورکسی نے جنگ پر پیشقدمی نہیں کی۔ہندوﺅں کا لشکر روز برور زیادہ ہوتا جاتا تھا۔ سلطان محمود غزنوی پہلے کی طرح بے خوف و خطر دشمنوں میں نہیں گھس جاتا تھا۔ اُس نے اپنے لشکر کے گرد خندق کھدوائی کہ دشمن نہ گھس آئے۔ پھر اُس نے لڑائی شروع کی۔ ہزار جوان تیر اندازوں نے آگے قدم بڑھایا۔ دشمنوں کو لڑائی کے لئے گرم کیا اور سپاہیانہ حیلے کرکے ان کو لشکر گاہ کے قریب لائے۔ اس کے کہ سلطان محمود غزنوی نے بہت احتیاطیں کی تھیں۔ مگر بیس ہزار گھکر سروپا برہنہ ہاتھوں میں طرح کے ہتھیار لئے سلطان کے لشکر میں خندق سے اُتر کر گھس آئے۔ تلوار و کٹارو تیروں سے گھوڑوں اور سواروں کو مار مار کر نیچے گرانا شروع کیا۔ تھوڑی دیر میں تین چار ہزار مسلمانوں کو مار ڈالا۔ ان گھکرونکی دلیری دیکھ کر سلطان کا ارادہ ہوا کہ آج لڑائی موقوف کرے کہ ناگاہ راجہ آنند پال کو سواری کا ہاتھی نقطہ تفنگ کے شوروغل سے بگڑا اور بت تحاشا پیچھے کو بھاگا۔ اس کی فوج نے سمجھا کہ راجہ بھاگ رہا ہے۔ اس سبب لشکر میں ہلچل مچ گئی اور سپاہ کا منہ پیچھے کو پھر گیا۔

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

عبداللہ طائی نے پانچ چھ ہزار عربی سوار اور اوسلان جاذب نے دو ہزار ترکی افغانی خلیجی سپاہ لے کر رات دن انکا تعاقب کیا۔ آٹھ ہزار ہندوﺅں کو بے جان کیا بیس ہاتھیوں کو اور بہت سا مال غنیمت جمع کرکے سلطان کی نذر میں پیش کیا۔ خود سلطان بھی ہندوﺅں کے تعاقب میں گیا اور بھیم نگر کے قلعہ تک پہنچا۔ یہ قلعہ نہایت مستحکم بلند پہاڑ پر ہے۔ اور چاروں اطراف سے پانی سے گھرا ہوا ہے۔ چاروں طرف کے راجہ رﺅساوامرا یہاں کے مندر میں نقود و جوہر انواع نفانس بھینٹ میں دیتے ہیں‘اسی کو عبادت جانتے ہیں اور سعادت اخروی سمجھتے ہیں۔ برسوں سے یہاں طلاونقرہ و جواہر و مرجان کے وہ خزانے جمع ہو رہے تھے کہ بادشاہ کے یہاں بھی نہ ہونگے۔ یہ شہر ہندوﺅں کا مجمع الاصنام کہلاتا تھا۔ اس قلعہ سے ایک میل پر بھیم نگر تھا‘ جس کو اب بھون کہتے ہیں۔ یہ شہر اور نگر کوٹ کانگڑہ ایک ہی معلوم ہوتے ہیں۔ سلطان یہان پہنچا اور لشکرِ جرار سے محاصرہ کیا۔ ایسے مقام پر ہندو بڑت دل کھول کر لڑا کرتے ہیں مگر یہ اتفاق کی بات ہے کہ یہاں کی فوج بھی اُسی لڑائی میں مصروف تھی جس کا اوپر ذکر ہوا ہے قلعہ بہادر سپاہیوں سے خالی تھا۔ بچاریوں نے جب دیکھا کہ ساری پہاڑیاں غارت گروں سے بھری پڑی ہیں اور آگ کے شراروں کی طرح تیر اُن پر پڑ رہے ہیںتو اُن پر خوف طاری ہوا اور انہوں نے جان کی امان چاہی اور دروازے کھول دیئے اور زمین پر اس طرح گرے جیسے کہ ابابیل باز کے آگے یا منہ بجلی سے پیچھے گرتا ہے۔ اس طرح یہ قلعہ آسانی سے فتح ہوگیا اور بحروکان کا حاصل سلطان کو مل گیا۔ابونصر احمد بن محمد والی جرجان کے ساتھ سلطان قلعہ میں داخل ہوا۔ جواہر کو اُس نے خود سمیٹا اور طلاوہنقرہ بیش بہا چیزوں کو اُس کے دو حاجیوں تو تناس اور الغ تگین نے منگوایا۔ اونٹوں پر جتنا خزانہ لاد سکا لادا باقی افسروں نے اپنے دامنوں میں رکھا۔ کہتے ہیں کہ ستر لاکھ مسکوک درہم شاہی تھے اور سونے چاندی کی ساٹھ لاکھ ڈلیاں تھیںجن کا وزن چار سو من تھا۔ سوائے ان کے طرح طرح کے کپڑے سوس کے تھے جن کو بڈھے بڈھے آدمی کہتے تھے کہ ہم نے ایسے نفیس کپڑے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ایک چاندی کا گھر اتنا بڑا تھا جیسا کہ امیروں کا گھر ہوتا ہے تیس گز طول میں اور پچیس گز عرض میںایسا بنا ہوا تھا کہ چاہو اُس کے ٹکڑے کرلو تو چاہو۔ جوڑ لو۔ ایک سائیان و یبائے رومی کا تھا‘ چالیس گز طول میں اور بیس گز عرض میں‘دو سونے اور دو چاندی کی ڈھلی ہوئی چوبوں پر لگایا جاتا تھا۔ سلطان نے ایک نہایت معتبر دیانت مند ملازم کو یہ قلعہ اور اُس کا خزانہ سپرد کیا۔ بعدازاں سلطان محمود غزنی میں آیا۔ شہر کے باہر بارگاہ لگاکر فرش پر جواہر اور درنا سفتہ وزیر مرد والماس و لعل چُنے جو ایسے چمکتے ہوئے معلوم ہوتے تھے جیسے کہ شراب میں برف۔ زمرد کی سبزی تازی برگِ خاکی سبزی کو مات کرتی تھی الماس مقدار اور وزن میں انار کے برابر تھے۔ ممالک غیر کے سفیر اور ترکستان کا بادشاہ طغاں خاں اُن کے دیکھنے کیلئے آئے۔ وہ سب کہتے تھے کہ کبھی اتنی دولت نہ دیکھی نہ کبھی کتابوں میں پڑھی کہ سلاطینِ ایران اور روم نے جمع کی ہو۔ وہ قارون کے خزانہ کو بھی مات کرتی تھی۔ تین روز تک یہ جلسہ رہا‘بڑے بڑے شاہانہ حشن ہوئے اور مستحقین کو بڑی بخشیشیں عطا ہوئی۔401ھ میں سلطان نے غور پر لشکر کشی کی۔ یہ ملک ہرات کے مشرقی پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہاں سوری افغان حکومت کرتے تھے۔ اس وقت محمد بن سوری یہاں فرمانروا تھا‘ وہ دس ہزار سپاہ کی صف بندی کرکے سلطنت سے جنگ آرا¾ ہوا۔ صبح سے دوپہر تک آتشِ جنگ مشتعل رہی۔ طرفین سے لشکروں نے دادِ مردانگی دی۔ جب سلطان محمود غزنوی نے غوریوں کی یہ جدو جہد دیکھی تو اُس نے یہ خدیعت کی کہ اپنے لشکر کو مراجعت کا حکم دیا۔ غوریوں نے یہ گمان کیاکہ سلطان کی سپاہ کو ہزیمت ہوئی تو غوریوں کی سپاہ نے اُس کا تعاقب کیا اور اپنی خندق سے بہت دور نکل گئے۔ پس سلطان نے جو اپنی باگ موڑی تولشکر محمودی نے غوریوں کو قتل کیا اور محمد ابن سوری کو دستگیر کرکے سلطان کے پاس لے گئے۔ اُس نے غایت آزادگی سے زہر آلود نگینے کو چوس کر مجلس سلطان میں اس عالم سے سفر کیا اور ملک سلطان کے ہاتھ آیا تاریخِ یمینی میں لکھا ہے کہ حکام و رعایا غوری نے پہلے اسلام نہیں قبول کیا تھا۔ اب قبول کیا مگر دوسری کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت میں مسلمان ہو گئے تھے۔

سلطان نے پھر ہند کا عزم کیا اور ناراین کیا طرف کوچ کیا۔ اس کے سوار سخت و نرم زمین کو طے کرکے وسطِ ہند میں پہنچے۔اُس نے اُن رئیسوں کو محکوم بنایا جو ابتک محکوم نہیں ہوئے تھے۔ بتوں کو توڑا‘اوباشوں کو بے تیغ کیا اور اپنے مقاصد کو آہستگی کے ساتھ پورا کیا۔ ایک لڑائی ہندوﺅں سے اُس کی ہوئی جس میں وہ فتحیاب ہوا۔ بہت سی غنیمت اور ہاتھی گھوڑے ہاتھ گلے۔ جب ہند کے راجہ نے دیکھا کہ سلطان کے ساتھ لڑنے میں میرے ملک اور رعایا پر یہ تباہی و بربادی آتی ہے تو اُس کو یقین ہوگیاکہ میں اس سے لڑ نہیں سکتا۔ اُس نے اپنے بعض عزیزوں اور امیروں کو سلطان کے پاس بھیجا اور لتجا کی کہ آپ پھر ہندوﺅں پر حملہ نہ کیجیے۔ میں روپیہ حضور کی نذر کرتا رہوں گا اور ہمیشہ آپ کا بہی خواہ رہوں گا۔ پچاس ہاتھی خبیر نفائس ہند کدے ہوئے ہونگے بھیجتا رہوں گا اور دو ہزار سپاہی سلطان نے قبول کرلیا۔ سلطان نے سفیر بھیجا کہ ان شرائط کی تعمیل کو وہ دیکھ لے۔ ہند کے راجہ نے اُن شرائط کو پورا کیا اور ہاتھی بھیجتا رہا۔ یوں امن و امان ایسا ہوگیا کہ ہندوستان اور خراسان میں کاروان آنے جانے لگے۔ ساتویں مہم ناراین کی ایسی ہے کہ اُس کا ذکر طبقاتِ اکبری اور فرشتہ میں نہیں ہے مگر حبیب السیر ور وضتہ الصفا اور یمینی میں ہے۔ حبیب السیر میں نام نہیں لکھا مگر یہ لکھا ہے کہ نگر کوٹ اور غور کی مہم کے درمیان ایک مہم 400ھ میں ہندوستان پر ہوئی۔ اب اس ناراین کے مقام کی تحقیق میں فرنگستانی محققوں نے بڑی موشگافی کی مگر آخر کچھ نہ کر سکے۔

ہند کے راجہ نے جو دو ہزار سواروں کے بھیجنے کا عہد کیا۔ یہ عجیب واقعہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوﺅں کی عادت میں داخل تھا کہ وہ اپنی سخت جانی دشمنوں کی سپاہ میں بھی نوکری کرنے کو موجود ہو جاتے تھے۔

جب ابوالفتح لودھی نے غور کی فتح میں سلطان کو مصروف دیکھا تو پھر سر اٹھایا۔ اس لئے سلطان کو ملتان آنا پڑا۔اُس نے ملاحدہ و قرامطہ کو خوب درست کیا اور ابوالفتح کو قید کرکے غزنی لے گیا۔

اس مہم کا حال طبقات اکبری اور تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے مگر روضتہ الصفا اور حبیب السیر اور یمینی میں نہیں لکھا۔ اس سے بعض فرنگستانی محقیقن نے یہ خیال ہے کہ ساتویں اور آٹھویں مہم ایک ہونگی مگر اس پر بعض نے یہ اعتراض کیا کہ اُس کی حالتیں ایسی مختلف ہیں کہ اُن کا ایک خیال کرنا بھی دشوار ہے۔ سلطان محمود غزنوی کو یہ خیال تھا کہ ہر سال ہندوستان پر ایک جہاد کیا جائے تو اُس سے لازم آتا ہے کہ یہ دو مہمیں سمجھی جائیں۔(جاری ہے)

سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمود غزنوی


loading...